آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. حکمراں جماعت کے نمبر پورے نہیں اسی لیے وہ مزید وقت لینا چاہ رہے ہیں: عظمیٰ بخاری

    پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخابات کے لیے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے رات گئے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے اجلاس آج شام ساڑھے سات بجے بلا لیا تھا۔

    اس سے قبل اس اجلاس کو 16 تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ 3 اپریل کے اجلاس میں ہونے والی توڑ پھوڑ جی وجہ سے اسمبلی میں مرمت کا کام کرنا ضروری تھا۔

    تاہم آج صبح پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کے احکامات پر نہیں ہو گا بلکہ 16 اپریل ہی کو ہو گا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا تھا کہ آفیشل لیٹر جب تک جاری نہیں ہوتا تب تک پہلا آرڈر برقرار رہے گا۔

    خیال رہے کہ رات گئے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے جاری کیا جانے والا آرڈر آفیشل لیٹر پر نہیں لکھا گیا تھا بلکہ اس پر تاریخ ہاتھ سے لکھی گئی تھی۔

    سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے نئے آرڈرز آنے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران میں اس حوالے سے کنفیوژن پائی جاتی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی ممبر پنجاب اسمبلی عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانستاً یہ صورتحال بنائی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق چیف منسٹر کا انتخاب آج ہی ہو جانا چاہیے اور ڈپٹی سپیکر نے اسی کے لیے اجلاس طلب کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ سپیکر پرویز الٰہی دانستاً اس کو روکنا چاہتے ہیں۔

    عظمٰی بخاری کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے نمبر پورے نہیں ہیں جس وجہ سے وہ مزید وقت لینا چاہ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’کل پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں ان کے 65 ممبران موجود نہیں تھے تو اب انھیں نظر آ رہا ہے کہ اب اگر الیکشن ہوا تو یہ ہار جائیں گے۔‘

  2. ’کیا سپیکر عدم اعتماد کی آئینی شق کو تباہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے؟‘

    سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بابر اعوان کے دلائل کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا سپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ایک ایجنڈے سے ہٹ کر رولنگ دے اور کیا سپیکر عدم اعتماد کی آئینی شق کو تباہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا سپیکر آئینی تقاضے کو ایک طرف رکھ سکتا ہے؟

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ وہ افواہوں اور الزامات کی طرف نہیں جائیں گے۔

    بابر اعوان کو مخاطب کر کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’آپ ہمیں لمبی کہانیاں نہ سنائیں اور ہمیں راستوں کا نہ بتائیں، راستے ہم خود ڈھونڈ لیں گے، ہمیں بتائیں سپیکر نے کس بنیاد پر تحت رولنگ دی۔

  3. چیف جسٹس: ’سپیکر نے رولنگ کیوں دی، ہمیں اس نقطے پر دلائل دیں‘

    تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کا پہلا حصہ تحریک عدم اعتماد سے قبل کا، دوسرا حصہ سپیکر کی رولنگ سے متعلق جبکہ تیسرا حصہ رولنگ کے بعد کا ہے۔

    بابر اعوان نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کے بارے میں نعیم بخاری دلائل دیں گے۔

    بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دلائل ایم این سی سے متعلق ہوں گے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم این سی کیا ہوتا ہے؟

    بابر اعوان نے بتایا کہ ایم این سی ’موشن آف نو کانفیڈینسس‘ کا مخفف ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب ملٹی نیشنل کارپوریشن بھی بن سکتا ہے۔

    چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

    چیف جسٹس نے بابر اعوان کو کہا کہ ’ہمیں بتائیں سپیکر نے رولنگ کیوں دی، ہمیں اس نقطے پر دلائل دیں۔‘

  4. مولانا فضل الرحمان نے متحدہ اپوزیشن کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے متحدہ اپوزیشن کا ہنگامی اجلاس آج 2:30 پر طلب کیا ہے۔

    اجلاس میں ایم کیو ایم، جمہوری وطن پارٹی اور باپ پارٹی بھی شرکت کریں گی۔

  5. بابر اعوان: ’یقین ہے کہ اس مقدمے میں کوئی نکتہ نظر انداز نہیں ہو گا‘

    تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت بچانے آئے ہیں لیکن ایک ایسی سیاسی جماعت جس کی مرکز، صوبے، کشمیر اور گلگت میں حکومت ہے، یہ کہتے ہیں اس کو نظر انداز کر دیں۔

    بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم، تحریک لبیک، پی ٹی ایم، جماعت اسلامی، راہ حق پارٹی اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی پارلیمان کا حصہ ہیں لیکن کیس میں فریق نہیں۔

    بابر اعوان نے کہا کہ انھیں ’یقین ہے کہ اس مقدمے میں کوئی نکتہ نظر انداز نہیں ہو گا۔‘

  6. بابر اعوان: ’اپوزیشن چاہتی ہے عدالت ان کے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے‘

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کے دلائل جاری ہیں۔

    بابر اعوان نے کہا ہے کہ ازخودنوٹس کی ہمیشہ عدالت کے اندر اور باہر حمایت کی ہے اور عدالت کا مشکور ہوں کہ قوم پر مہربانی کرتے ہوئے نوٹس لیا۔

    بابر اعوان نے کہا کہ شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا اور درخواست گزار جماعتیں چاہتی ہیں کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے۔

    ’عدالت کو کہا گیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ بدنیتی پر مبنی اور غیرآئینی ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ عدالت ان کے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے۔‘

  7. چیف جسٹس: ’ہم یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں‘

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔

    اس موقع پر نون لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے پنجاب اسمبلی کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ ’لاہور میں حالات کشیدہ ہیں۔ اسمبلی کا عملہ ڈپٹی سپیکر کا حکم نہیں مان رہا۔‘

    ’ڈپٹی سپیکر نے آج شام کو اجلاس بلایا تھا لیکن لگتا ہے آج بھی وزیر اعلی کا الیکشن نہیں ہو سکے گا۔‘

    اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم بہت اہم کیس سن رہے ہیں اور کوشش ہے کہ مقدمے کو آج نمٹایا جائے۔

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ عدالت پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ہم فیصلہ نہیں کر رہے لیکن ہم یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

  8. صدرِ مملکت کا 90 دن میں عام انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو خط

    ایوانِ صدر کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خط لکھا گیا ہے جس میں الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن کے اندر الیکشن کرانے کے لیے تاریخ دینے کا کہا گیا ہے۔

    خط میں لکھا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 48 5(اے) اور آرٹیکل 224 (2) کے تحت صدر مملکت عام انتخابات کرانے کی تاریخ مقرر کریں گے۔

    خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے اسمبلی کی تحلیل کے 90 دن کے اندر اندر انتخابات کرانا ہوتے ہیں اور عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن کمیشن سے مشاورت ضروری ہے۔

  9. بریکنگ, سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت شروع

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو چکی ہے اور تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان دلائل دے رہے ہیں۔

    بابر اعوان اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے علاوہ پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور فواد چوہدری بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما نیئر بخاری، فرحت اللہ بابر اور ن لیگی رہنما دانیال عزیز، زبیر احمد بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

    کمرہ عدالت میں وکلا اور صحافیوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔

  10. ڈپٹی سپیکر رولنگ پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس کی سماعت شروع

    ڈپٹی سپیکر رولنگ پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس کی سماعت شروع ہو چکی ہے اور سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

  11. پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ہی ہوگا، ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری - اجلاس 16 اپریل کو ہو گا، ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا معاملہ ابھی تک کنفیوژن کا شکار ہے اور اس حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے طلب کیا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے نجی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی اجلاس آج ہی ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ وکلا سے مشاورت کے بعد اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی آج ہی ہوگا۔ یاد رہے قائد ایوان کے لیے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز آمنے سامنے ہیں۔

    دوسری جانب ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16اپریل کو ہی ہوگا۔

    ان کا کہنا ہے کہ آفیشل لیٹر جب تک جاری نہیں ہوتا اس وقت تک پہلا آرڈر برقرار رہے گا۔

    انھوں نے گذشتہ ہونے والے اجلاس میں توڑ پھوڑ کی مرمت کا کام بھی دیا ہے۔

  12. یہ کہانی سنانی بند کر دیں کہ یہ مراسلہ جعلی ہے: اسد عمر

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما اسد عمر نے مسلم لیگ نواز کی رہنما مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہانی سنانی بند کر دیں کہ یہ مراسلہ جعلی ہے۔

    اسد عمر کا کہنا ہے کہ سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیرِاعظم عمران خان نے اپنی حکومت ختم کرکے بہت دانش مندانہ فیصلہ کیا کہ جب اتنی خراب صورتحال بن جائے تو بہتر ہے عوام کے پاس جایا جائے کہ کس کا بیانیہ درست ہے اور کون غلط بیانی کر رہا ہے۔

  13. ہم ڈالر کو 115 پر چھوڑ کر گئے تھے جو اب 186 پر پہنچ چکا ہے، محمد زبیر

    مسلم لیگ کے رہنما محمد زبیر نے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف پر تنقید کرتے ہویے کہا ہے کہ یہ کس چیز کا جشن منا رہے ہیں؟ ہم ڈالر کو 115 پر چھوڑ کر گئے تھے جو اب 186 پر پہنچ چکا ہے، ان کے دورِ حکومت میں 60 لاکھ نوکری پیشہ لوگ بے روزگار ہو چکے ہی اور دو کروڑ غربت کے نیچے چلے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے تحریکِ انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے 22 ارب کا قرضہ لیا ہے جو ملکی تایرخ کا سب سے زیادہ قرض ہے۔

    محمد زبیر کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے آج انصاف ہو گا اور اپوزیشن کے حق میں ہو گا۔

  14. امید ہے سپریم کورٹ پاکستان کے آئین کی بالادستی کو بحال کرے گی: احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے سپریم کورٹ پاکستان کے آئین کی بالادستی کو بحال کرے گی۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اگر ایک امریکی اہلکار پاکستان کے خلاف مداخلت کر رہا تھا تو اسے ایک ہفتے بعد وی آئی پی کیسے بنایا گیا؟

    انھوں نے میڈیا سے گفتگو میں وزیِر اعظم عمران خان پر امریکہ سے تعلقات خراب کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

  15. پنجاب کے دو خاندان جن کی سیاسی رقابت اور معاشرتی موافقت ساتھ ساتھ چلتی ہے

    گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے

    یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں

    جمہوریت، شہری آزادیوں اور انسانوں کے درمیان برابری کے خواب دیکھنے والے فیض احمد فیض نے جانے کس بچھڑنے والے کو اس انداز میں مخاطب کیا ہوگا۔ لیکن قریب دو دہائی قبل بچھڑنے والے دو سیاسی خاندانوں کی آج کی ملاقات بھی کچھ اسی انداز کی لگتی ہے۔

    گجرات کے چوہدری برادران کے بزرگ زمیندار ہوتے ہوئے بھی میدان سیاست کے شاہ سوار تھے۔ پاکستانی سیاست کے پرانے رمز شناس محمد نواز رضا کی مانیں تو سچ یہ ہے کہ ایوب خان کی دست برد سے آزاد ہونے کے بعد مسلم لیگ کا اگر کوئی والی وارث تھا تو وہ چوہدری ظہور الٰہی ہی تھے۔

    اس کے مقابلے میں جاتی امرا والے شریف خاندان کے بزرگ صنعت و تجارت کی دنیا کے تاجدار تھے لیکن ان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

    پس منظر کے اس اختلاف کے باوجود یہ بھی کیا دلچسپ اتفاق ہے کہ دونوں خاندانوں کی اگلی نسل سیاست میں آئی۔ صرف اتنا نہیں ہے، اس نسل میں اپنے سیاسی سفر کی ابتدا بھی ایک ساتھ کی۔ پھر جیسا فیض صاحب نے کہا، جدائی نے ان میں فاصلے پیدا کیے۔

    چوہدری ظہور الٰہی ستمبر سنہ 1981 میں قاتل کی گولی کا نشانہ بنے۔

    اس واقعے کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد پاکستان کی قومی سیاست نے انگڑائی لی۔ سنہ 1977 کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد دو بلدیاتی انتخابات ہو چکے تھے جب کہ سنہ 1985 میں پہلے غیر جماعتی عام انتخابات ہوئے۔ یہی انتخابات ہیں جو صرف پنجاب ہی نہیں پورے ملک کی سیاست میں ایک نئے دور کی ابتدا ثابت ہوئے۔

    یہ انتخابات تھے جن کے ذریعے پاکستان کی سیاست میں چند نئے چہرے بھی متعارف ہوئے۔

    انتخابات میں جیسا کہ ہوتا ہے، بہت سے پرانے اور آزمودہ کار سیاست دان ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر منتخب ہو کر اسمبلیوں میں آگئے۔ مخدوم زادہ حسن محمود ہوں، ملک اللہ یار یا ان ہی کی طرح کے دیگر سرد و گرم چشیدہ لوگ، دنیا انھیں جانتی تھی اور یہ دنیا کو جانتے تھے۔

    اسی لیے تجربہ کار لوگوں کا خیال تھا کہ پنجاب کے اقتدار کی پگ ان ہی میں سے کسی کے سر سجے گی۔

    یہ قرین حقیقت تھا لیکن اسی انتخاب کے نتیجے میں ان پرانے تجربہ کار سیاست دانوں کے جُھرمٹ میں کچھ نئے ستارے بھی طلوع ہوئے تھے جن میں سے دو کا تعلق گجرات سے تھا۔ یعنی چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی۔

    اس بارے میں مزید پڑھیے فاروق عادل کی اس تحریر میں >>

  16. پنجاب میں وزیراعلیٰ کی کرسی کے لیے دلچسپ مقابلہ، جیت کس کی ہو گی؟

    جہاں وفاق میں اس وقت اپوزیشن اتحاد کو واضح برتری حاصل ہے، پنجاب میں اب بھی کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اس کی ایک وجہ پنجاب میں کئی گروپس کا ابھرنا ہے جنھوں نے باضابطہ طور پر کسی کی حمایت کا اعلان نہیں کیا تھا۔

    اس بنیاد پر آغاز میں چوہدری پرویز الہی کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ الیکشن میں ’نمبر گیم‘ پوری کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوں گے یا پھر وفاق کی طرح انھیں بھی اپنے حق میں ووٹوں کے نمبر پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔

    تو پنجاب میں جیت کس کی ہو گی؟ اس بارے میں مـزید پڑھیے >>

  17. وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب: پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام کو طلب کر لیا گیا

    پنجاب کے وزیر اعلی کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس بدھ کی شام طلب کر لیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ منگل کے دن پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک موخر کر دیا تھا۔

    منگل کی رات کو ڈپٹی سپیکر کے دستخط شدہ دستاویز کے مطابق انھوں نے اپنا پرانا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس چھ اپریل کو طلب کیا ہے۔

    اس اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس شام ساڑھے سات بجے ہو گا جس میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت پنجاب کے وزیر اعلی کا انتخاب بھی ہو گا۔

    واضح رہے کہ منگل کو سپریم کورٹ میں ملک کی سیاسی صورت حال پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل سے سوال کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں بدھ کے روز ووٹنگ ہو گی یا نہیں جس پر ان کو جواب دیا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی اجلاس بدھ کو منعقد ہو گا۔

  18. سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر رولنگ کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت دن 11:30 پر شروع ہو گی

    پاکستان کی سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر رولنگ کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت آج تیسرے دن 11:30 پر شروع ہو گی۔

    یاد رہے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال مندوخیل پر مبنی پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

    گذشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ ایک اہم کیس ہے اور اس کی وجہ سے نگران حکومت کا معاملہ لٹکا ہوا ہے اور عدالت کوشش کرے گی کہ بدھ کے روز اس حوالے سے کوئی فیصلہ سنا دیا جائے۔

    اس کیس میں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں ارو آج بابر اعوان اور اٹارنی جنرل خالد جاوید اپنے اختتامی دلائل دیں گے جس کے بعد اس کیس کا فیصلہ متوقع ہے۔

  19. خالد جاوید: ’جیالے‘ خاندان سے تعلق رکھنے والے اٹارنی جنرل کا آخری لیکن اہم مقدمہ

  20. بلاول ’ہمیں عمران خان سے غداری یا محبِ وطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے‘

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے اگر واقعی ہم (اپوزیشن) کسی بیرونی سازش کا حصہ ہے توانھیں چاہیے کہ مجھے گرفتار کرکے اور میرا ٹرائل شروع کرتے۔‘

    پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی معمولی الزام نہیں ہے اور ہم اسے عدم اعتماد سے الگ کرکے دیکھ رہے ہیں کیونکہ عدم اعتماد پر ووٹنگ ایک جمہوری عمل ہے اور اسے ہر حال میں مکمل ہونا ہے۔۔۔ مگر یہ جو غداری کا الزام ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کی وضاحت دی جائے اور اس کے لیے ہم عمران خان کو اتھارٹی نہیں سمجھتے۔‘

    ’اگر یہ اتنا ہی سنگین مسئلہ تھا تو صرف اسی دن کیوں سامنے آیا جب عمران نے اپنی اکثریت کھو دی اور اس پہلے کیوں نہیں سامنے لائے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’اگر پاکستان پر اتنا سنگین حملہ ہو رہا تھا تو یقیناً اس بارے میں ڈپلومیٹک کیونیکیشن ہو گی، وزارتِ خارجہ نے باہر کے ملکوں سے نا سہی آپس میں خط و کتابت تو کی ہو گی اور اگر وزارتِ خارجہ نہیں تو وزارتِ دفاع نے خط و کتابت کی ہو گی۔۔۔ ان تینوں کی جانب سے کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی تو ہماری انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے رپورٹس تو ضرور ہوں گی۔۔۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہے اس لیے عمران خان جھوٹ بول رہے ہیں اور ہم جھوٹ برداشت نہیں کرتے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں عمران خان سے غداری یا محبِ وطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں چاہیے۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’جس وقت سارے ادارے نیوٹرل ہونا چاہ رہے تھے اس وقت عمران نے اپنی سیاست کے لیے نیشنل سکیورٹی کے فارم کو استعمال کیا گیا اور ہمارے اداروں کو جان بوجھ کر سیاست میں گھسیٹا۔۔لہذا جب تک وضاحت نہیں آ جاتی ہم سختی سے احتجاج کریں گے۔‘