آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. پرویز الٰہی وزیر اعلی بنے تو آئینی مدت پوری کریں گے، مونس الٰہی

    مسلم لیگ ق رہنما مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ پنجاب میں وزیر اعلی کے انتخاب کےلیے پرویز الہی کے پاس تحریک انصاف کے ایم پی ایز کو ملا کر 189 کا نمبر موجود ہے جب کہ 186 کا نمبر درکار ہے۔

    مسلم لیگ ق رہنما مونس الٰہی جیو نیوز کے پروگرام آپس کی بات میں گفتگو کر رہے تھے۔

    مونس نے کہا کہ ’اگر پرویز الٰہی وزیر اعلی بن گئے تو وہ آئینی مدت پوری کریں گے، خیبر پختونخوا اسمبلی بھی اپنی مدت پوری کرے گی اور ڈیڑھ سال بعد صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوں گے۔‘

    تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن سے بات چیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اعتماد کا فقدان تھا کیوں کہ ’پروہز الٰہی اور چوہدری شجاعت نے ہمیشہ مجھے کہا کہ شریفوں پر کبھی اعتبار نہیں کرنا اور یہی بات میں نے ان سے کی۔‘

    ’اس فیصلے میں پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے بھی اچھا کردار ادا کیا جنھوں نے اس حماقت سے روکا۔‘

    مونس نے دعوی کیا کہ ن لیگ کے ایک سینیئر رہنما نے چار پانچ دن پہلے بھی آفر کی۔

    ایک سوال کے جواب میں مونس نے کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ زیادتی ہوئی لیکن عمران خان نے نہیں ، کسی اور نے کی‘۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان معاملہ حل ہو جائے گا۔

  2. عمران خان کا کپتان سے ’جنرل‘ تک کا سفر: محمد حنیف کا کالم

  3. اپوزیشن سپریم کورٹ کو دھمکیاں دے رہی ہے، فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپوزیشن اجلاس کے بعد ردعمل میں کہا ہے کہ مشترکہ اپوزیشن سپریم کورٹ کو دھمکیاں دے رہی ہے۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ ’رات کے اس پہر اپوزیشن سپریم کورٹ کو دھمکیاں دے رہی ہے۔‘

    ’اگر یہاں فیصلے دھونس، دھاندلی اور بدمعاشی سے حاصل کرنے ہیں تو پھر خانہ جنگی ہو گی۔‘

    دوسری جانب تحریک انصاف رہنما ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’فضل الرحمن نے سپریم کورٹ کو واضح دھمکی دے دی کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آیا تو اس کو نہیں مانا جائے گا بلکہ اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔‘

  4. ڈپٹی سپیکر کی رولنگ: سپریم کورٹ مقدمے کے لیے کافی نہیں، عوام کے پاس جائیں گے، اپوزیشن

    پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی اقدام قرار دے کر اس کی فی الفور تنسیخ کی جائے۔

    اسلام آباد میں متحدہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد دیگر رہنماوں کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’صرف سپریم کورٹ کی عدالت ہمارے مقدمے کے لیے کافی نہیں، ہم براہ راست عوام کے پاس جائیں گے۔‘

    انھوں نے اعلان کیا کہ جمعے کے روز یوم تحفظ آئین، یوم نجات اور یوم تشکر منایا جائے گا۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کا مطالبہ ہمارا ہی تھا، عجیب بات ہے جب اکثریت آپ کے خلاف ہوئی تو خط یاد آ گیا۔ خط آنے کے بعد آپ ایم کیو ایم سے ملے۔ کیا آپ نے اپنے اتحادی کو خط پر اعتماد میں لیا؟‘

    انھوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’ایم کیو ایم کی جانب سے اپوزیشن سے اتفاق کے بعد بھی حکومتی وفد ان سے ملا۔ کیا اس وقت بھی ان سے خط کا تذکرہ کیا گیا؟‘

    ’پنجاب میں کون سا خط آیا ہے؟ وہاں بھی آئین کو، قوائد و ضوابط کو پامال کیا گیا۔ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر یہ بدترین آمریت ہے۔‘

    اپوزیشن کی جانب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ ’خط کے بارے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اراکین اپنی پوزیشن واضح کریں۔ ان کے ابہام سے غیر جانبداری کا دعوی مشکوک ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں۔‘

  5. مریم نواز کو عمران خان کی ذات پر کچھ نہیں ملا تو فرح ڈھونڈ لی: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے مریم نواز کی جانب سے کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اللہ کی شان ہے کہ مریم نواز کمیشن اور کِک بیکس پر بیان دے رہی ہیں، عمران خان کی ذات پر کچھ نہیں ملا تو فرح ڈھونڈ لی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے یہ کریں کے اپنے صوبائی اسمبلی کے رکن سے پوچھیں جن کی وہ بہو ہیں پھر یہ بتائیں کہ آپ تین چار سال سے الیکشن کا انتظار کر رہی تھیں کہ آئیں تو فرح پر الزام لگانا ہے۔‘

  6. ’مجھے پورا یقین ہے کہ حمزہ دردِ دل رکھنے والا ہے، یہ پنجاب کے عوام کی خدمت کرے گا‘: مریم نواز

    اپوزیشن کی جانب سے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ علامتی اجلاس کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ حمزہ دردِ دل رکھنے والا ہے، یہ پنجاب کے عوام کی خدمت کرے گا۔‘

    انھوں نے ایک مرتبہ پھر فرح خان پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’عوام کو بزدار جیسا وزیراعلٰی ملا، جس کو چلاتی فرح تھی جس کے تانے بانے بنی گالہ سے ملتے ہیں اور اس کے شواہد جلد سامنے آ جائیں گے۔‘

    انھوں نے پنجاب حکومت پر بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب کے مینڈیٹ پر ڈاکا پڑا تو عوام کو کیا ملا، پچھلے رمضان میں عوام کو دو دو کلو چینی کے لیے بھکاری بنا دیا گیا تھا۔

    ’یہ نہ صرف ووٹ چور تھے، بلکہ انھوں نے پنجاب کا آٹا، چینی، گیس، بجلی اور ترقی چوری کی۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’آج پورے پنجاب میں ترقی ہوئی ہے تو فرح گجر کے گاؤں میں ہوئی ہے، جس عورت کا حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے وہ تقرریاں، پوسٹنگ ٹرانسفر کیسے کر رہی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج میرا سر شرم سے جھک گیا جس طرح پنجاب اسمبلی کو تالا لگایا گیا، مجوراً پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوٹل میں کرنا پڑا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے آمروں کے دور میں دیکھا تھا کہ ایوانِ نمائندگان میں آمر اپنے نمائندے بٹھاتے تھے جو اسمبلی کی کارروائی چلاتے تھے، آج پرویز الٰہی نے اپنا دفتر ایسی ہی آمرانہ کارروائی کے لیے پیش کر دیا۔‘

    انھوں نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج بہت افسوس ہوا چوہدری ظہور الٰہی کی ایک ساکھ تھی، ان کی بھی کوئی سیاسی و خاندانی روایات تھیں، پرویز الٰہی سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ آپ نے کیوں عمران خان کا ساتھ دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ یہ کھیل تم ہار چکے ہو۔‘

  7. عمران خان کی حکومت کی ناکامیاں اور کامیابیاں

    اگست 2018 میں تحریک انصاف چیئرمین عمران خان نے پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس دن غالبا کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ تقریبا ساڑھے تین سال بعد اسی ایوان میں جن افراد کے ووٹوں کی مدد سے انھوں نے اقتدار سنبھالا وہی لوگ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے حزب اختلاف سے ہاتھ ملا لیں گے اور وزیر اعظم اپنی ہی حکومت ختم کرنے کا قدم اٹھائیں گے۔

    اس وقت پاکستان کی عوام کی ایک بڑی تعداد پر امید تھی کہ وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان اپنے متعدد وعدوں اور دعووں کو عملی جامہ پہنائیں گے جن کے تحت پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ، احتساب اور بیرون ملک سے کرپشن کے پیسے کی واپسی، بیرونی قرضوں میں کمی، اداروں خصوصا پولیس کی اصلاحات، جنوبی پنجاب صوبے، وزیر اعظم ہاوس میں یونیورسٹی کا قیام، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھروں کے ساتھ ساتھ ملک میں معاشی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز ہونا تھا۔

    یہ تمام وعدے تو پورے نہیں ہو سکے اور خود وزیر اعظم عمران خان اور ان کے وفاقی وزرا نے بھی کئی بار اعتراف کیا کہ الیکشن سے پہلے کے تمام وعدے وفا نہیں ہو سکےجس کی مختلف وجوہات بھی گنوائی جاتی ہیں۔

  8. آپ کی کہانی اور سوال: پاکستان میں جاری بحران کے آپ کی زندگی پر اثرات

    پاکستان میں قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہونے کے بعد ملک ایک بحران کا شکار ہے۔ اس سے آپ کی زندگی کیسے متاثر ہو رہی ہے؟ اپنی کہانی یا اس بحران سے متعلق اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو ہمیں بھیجیں۔

    آپ نیچے دیے گئے فارم کے ذریعے ہمیں اپنے مشاہدات و تجربات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ ہمارا کوئی ساتھی شاید جلد ہی آپ سے رابطہ کرے اور ہم کوشش کریں گے کہ اپنی ویب سائٹ پر آپ کی کہانی شائع کریں۔

  9. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کے 199 اپوزیشن ارکان کی حمزہ شہباز کی حمایت

    پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسمبلی کی عمارت ’سیل‘ ہونے کے بعد لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے علامتی اجلاس منعقد کیا گیا۔

    ہوٹل میں موجود ہماری نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق گنتی کے بعد 199 اراکین نے حمزہ شہباز کی حمایت کی۔ خیال رہے کہ پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے 186 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ حمزہ شہبار شریف وزارت اعلیٰ کے لیے متحدہ اپوزیشن کے اور صوبائی اسمبلی کے سپیکر پرویز الہی حکومت کی طرف سے وزارت اعلیٰ کے لیے نامز دکیے گئے تھے۔

    اس اجلاس میں مریم نواز سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی شریک ہوئے۔

    تاہم اس اجلاس کی قانونی حیثیت پر سب کا اتفاق نہیں اور یہ بحث کا موضوع ہے۔

    پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور حکومت کی طرف سے وزیرِ اعلٰی کے امیدوار پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’حمزہ صاحب مبارک ہو فیلیٹیز ہوٹل کے وزیرِ اعلٰی بننے پر مبارک ہو۔‘

  10. ’ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، چھوٹے صوبوں کے لیے کیا پیغام ہے؟‘

    پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے 200 رکنِ صوبائی اسمبلی سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود اپنا حق حکمرانی لینے کے لیے دھکے کھا رہے ہیں۔

    آئین پامال ہو رہا ہے، ایک شخص جو اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ہے پنجاب اسمبلی پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے۔

    ریاست خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، چھوٹے صوبوں کے لیے کیا پیغام ہے؟

  11. پنجاب اسمبلی کا ابھی ہونے والا اجلاس علامتی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی اجلاس ہے: مریم

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’پنجاب اسمبلی کا ابھی ہونے والا اجلاس علامتی نہیں بلکہ آئینی اور قانونی اجلاس ہے اور مسلم لیگ ن اپنی اکثریت ثابت کرنے جا رہی ہے انشااللہ۔‘

    جبکہ ہماری نمائند ترہب اصغر کے مطابق پیپلز پارٹی کی شازیہ عابد اس اجلاس کی صدارت کر رہی ہیں، یہ پینل آف چیئر بھی ہیں۔

  12. بریکنگ, وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب: پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن ارکان کا علامتی اجلاس مقامی ہوٹل میں

    لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے علامتی اجلاس کچھ دیر میں شروع ہو گا۔

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی حمزہ شہباز کی حمایت کے لیے کچھ ہی دیر میں مقامی ہوٹل پہنچ رہی ہیں۔

    ان کے ہمراہ پرویز رشید، حمزہ شہباز اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنما بس میں آ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس گذشتہ کئی روز سے تنازع کا شکار ہو چکا ہے۔

    تاہم اس کے بعد پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں اسے 16 اپریل تک کے لیے مؤخر کیا گیا تھا۔

    تاہم ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست مزاری نے اجلاس چھ تاریخ کو بلانے کے لیے گذشتہ روز رات گئے ایک تحریری حکمنامہ جاری کیا، تاہم آج سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے ان سے تمام اختیارات واپس لینے کا حکم جاری کیا تھا۔

    خیال رہے کہ آج دوپہر چیف جسٹس نے پنجاب اسمبلی کی موجود صورتحال کے بارے میں کہا تھا کہ ’سسٹم تعاون نہ کر رہا ہو تو آئینی عہدیدار اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر چاہیں تو اجلاس باغ جناح میں بھی بلا سکتے ہیں۔‘

  13. قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد کیا صوبائی اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کر سکتی ہیں؟

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر تین اپریل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے کئی طرح کی سیاسی، آئینی و قانونی مباحث کا آغاز کر دیا ہے۔

    جہاں ایک جانب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے تو دوسری جانب قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے پر بھی آئینی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی تھی اور آئینی ماہرین کے مطابق جب کسی وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آ جائے تو وہ اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار کھو دیتا ہے۔

  14. نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی: سپیکر نے عمران خان اور شہباز شریف سے پارلیمانی کمیٹی کے ارکان کے نام مانگ لیے

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے نگران وزیراعظم کی تعیناتی کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے لیے وزیرِ اعظم اور اپوزیشن لیڈر سے نام طلب کر لیے ہیں۔

    سپیکر قومی اسمبلی نے عبوری وزیراعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف کو خطوط ارسال کیے ہیں۔

  15. حمزہ کے پاس واضح اکثریت ہے ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے پنجاب اسمبلی جاؤں گی: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف وزیراعلٰی کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت میں اواری ہوٹل شام سات بجے جائیں گی۔

    انھوں نے کہا کہ ’مریم نواز شریف وزیر اعلٰی پنجاب کے امیدوار حمزہ شہباز اور ان کے حامی ارکان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گی۔‘

  16. صدر جتنی مشاورت کر رہے ہیں، سب عدالتی احکامات اور قانون کی خلاف وزری ہے: شہباز شریف

    اپوزیشن رہنما شہبازشریف نے نگران وزیر اعظم کے معاملے پر صدر کے خط پر جواب دیتے ہوئے نگران وزیرِاعظم کے لیے مشاورت سے انکار کیا ہے۔

    شہباز شریف نے اپنے جواب میں صدر کو کہا کہ ’آپ نے مجھے دو خط لکھے ہیں جس میں نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام بھی دیا ہے تاہم سپریم کورٹ نے اس سارے معاملے پر ازخود نوٹس لے رکھا ہے۔

    شہباز شریف نے اپنے جواب میں مؤقف اپنایا کہ ’آپ معاملے پر جاری سپریم کورٹ کےحکم امتناع کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    ’آپ جتنی مشاورت کر رہے ہیں یہ سب عدالتی احکامات اور قانون کی خلاف وزری ہے لہٰذا میں اس مشاورت کا حصہ نہیں بن سکتا ہے۔‘

  17. ’سمجھ سے باہر ہے کہ پرویز الٰہی جیسا سیاسی شخص ہاری ہوئی بازی کیوں کھیلے گا؟: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل تو اب ختم انشا اللہ، لیکن پرویز الٰہی صاحب کو اس کے جرائم کا حصہ دار نہیں بننا چاہیے۔

    انھوں نے کہا کہ ’جبکہ وہ جانتے ہیں کہ عمران کے یہ ہتھکنڈے اب زیادہ دن نہیں چلیں گے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک سیاسی شخص ہاری ہوئی بازی کیوں کھیلے گا؟‘

  18. ظلم کی انتہا دیکھیں اسمبلی اراکین کے لیے ہی اسمبلی کے دروازے بند کر دیے گئے: رانا مشہود

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور رکنِ صوبائی اسمبلی رانا مشہود احمد خان کا کہنا ہے کہ ’متحدہ اپوزیشن کی جانب سے اراکین اسمبلی سمیع اللہ، طاہر خلیل سندھو، پیر اشرف رسول، مہر اعجاز، خواجہ سلمان رفیق اور مرزا جاوید پنجاب اسمبلی کے باہر سپیکر چودھری پرویز الٰہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے لیے موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’مگر ظلم کی انتہا دیکھیں اسمبلی اراکین کے لیے ہی اسمبلی کے دروازے بند کر دیے گئے۔ دو افسران کو گیٹ پر تحریک عدم اعتماد جمع کرنے کے لیے بھیج دیا جبکہ سیکرٹری اور دیگر عملہ اسمبلی میں موجود ہیں۔

    ’ہم ایسی جابرانہ سوچ کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

  19. ’ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اجلاس بلایا تھا، انھیں غیر فعال کر دیا گیا‘

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو غیر فغال کرنے کے نوٹیفیکیشن پر ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آئین اور قانون کو جوتی پر رکھتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی ہر قاعدہ قانون کو روند رہے ہیں تاکہ وہ وزیر اعلٰی کے چناؤ میں اپنی شکست کو کامیابی میں ڈھال سکیں گے۔

    ’ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی جنھوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر اجلاس بلایا تھا انھیں غیر فعال کر دیا گیا ہے۔‘

  20. بیرون ملک سے مبینہ مداخلت پر پی ٹی آئی کی سندھ اسمبلی میں مذمتی قرارداد

    پاکستان کے خلاف مبینہ بیرون ملک مداخلت پر پی ٹی آئی اراکین نے سندھ اسمبلی نے مذمتی قرارداد جمع کروائی ہے۔

    یہ قرار داد حلیم عادل شیخ ،خرم شیر زمان ، بلال غفار ،شہزاد قریشی سمیت دیگر ارکان نے جمع کرائی۔

    قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ’بیرون ملک سازش کا حصہ بننے والے ارکان کیخلاف ایوان کاروائی کرے۔‘

    قرار دار میں مزید کہا گیا کہ ’بیرون ملک کی مداخلت سے حکومتیں گرانا جمہوریت کے منافی ہے۔ اور یہ معاملہ انتہائی حساس اور ملک کی سالمیت کا ہے۔‘