آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. وقفے کے بعد سپریم کورٹ میں سماعت شروع, سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کیس

  2. ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں قومی اسملبی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے جس میں اٹارنی جنرل اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

    اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’ایک بات تو واضح نظر آ رہی ہے کہ رولنگ غلط ہے۔ ‏اب اگلا قدم کیا ہو گا؟‘

    واضح رہے کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس باقی چاروں ججز سے مشاورت کے بعد دیے۔

    جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’میں رولنگ کا دفاع نہیں کر رہا، میرا خدشہ نئے انتخابات کے حوالے سے ہے۔‘

    اٹارنی جنرل کی اس بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’قومی مفاد کو بھی ہم نے دیکھنا ہے۔‘

    اس دوران جسٹس جمال نے کہا کہ ’عدالت نے حالات و نتائج کو دیکھ کر نہیں بلکہ آئین کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہے،

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ کل کو کوئی سپیکر آئے گا وہ اپنی مرضی کرے گا۔ عدالت یہ نہیں دیکھنا کہ کون آئے گا اور کون نہیں آئے گا۔‘

  3. ’اعلیٰ عدلیہ ان کیمرہ کارروائی میں شہادتوں کا جائزہ لے‘

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو اِن کیمرا اجلاس میں وہ مواد اور شہادتیں دکھانا ہوں گی جس کی بنیاد پر سپیکر نے یہ فیصلہ کیا۔

    وہ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران کہتے ہیں کہ ’پارلیمنٹ میں جعلی ووٹ پڑ جائیں تو بھی سپریم کورٹ نے کہا ہم مداخلت نہیں کرسکتے۔ وزیر اعظم کا اسمبلی توڑنے کا اختیار سپیکر کی رولنگ سے الگ ہے۔

    ’سپیکر کی رولنگ صحیح ہے یا غلط، اس کے لیے وہ مواد، شہادتیں دیکھنا ہوں گی۔ پہلی شرط یہ ہوگی کہ جج صاحبان وہ مواد دیکھیں اگر آپ رولنگ کو غلط قرار دینا چاہتے ہیں تو اس سے قبل ایک اِن کیمرا اجلاس ہونا چاہیے جس میں شہادتوں کا جائزہ لیا جائے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر پارلیمنٹ میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بات چیت شروع ہوجائے تو یہ عجیب بات ہوگی۔‘

    فواد چوہدری تسلیم کرتے ہیں کہ ’چند ہفتوں کے بحران کے نتیجے میں معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔‘

  4. سپیکر نے تحریک منظور کرنے کی رولنگ دیدی تو بات ختم ہوگئی، چیف جسٹس

    دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سپیکر نے تحریک منظور کرنے کی رولنگ دیدی تو بات ختم ہوگئی لیکن سپیکر کے وکیل کا کہنا ہے کہ رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

    جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تو کیس ختم ہوگیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ’اسمبلی کی تحلیل اصل مسئلہ ہے اس پر آپکو سننا چاہتے ہیں۔ دیکھنا ہے اسمبلی تحلیل اور سپیکر رولنگ میں کتنے ٹائم کا فرق ہے۔‘

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تحریک عدم اعتماد نمٹانے کے بعد ہی اسمبلی تحلیل ہوئی۔

  5. بریکنگ, ’تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی کوئی بنیاد بتانا ضروری نہیں‘, اٹارنی جنرل

    عدالت میں از خود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے۔ فی الحال اٹارنی جنرل خالد خاوید دلائل پیش کر رہے ہیں۔۔۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کے لیے 20 فیصد یعنی 68 ارکان کا ہونا ضروری نہیں۔ ’اگر 68 ارکان تحریک منظور اور اس سے زیادہ مسترد کریں تو کیا ہوگا؟‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ اگر 172 ارکان تحریک پیش کرنے کی منظوری دیں تو وزیراعظم فارغ ہوجائے گا۔

    اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسمبلی میں کورم پورا کرنے کے لیے 86 ارکان کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’تحریک پیش کرنے کی منظوری کے وقت اکثریت ثابت کرنا ضروری ہے۔‘

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’تحریک عدم اعتماد پر لیو گوانٹ کرتے ہوئے کوئی بنیاد بتانا ہوتی ہے؟‘

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کی کوئی بنیاد بتانا ضروری نہیں۔

    ’تحریک پیش کرتے وقت تمام 172 لوگ سامنے آجائیں گے۔ تحریک پیش کرنے اور ووٹنگ میں تین سے سات دن کا فرق بغیر وجہ نہیں۔ سات دن میں وزیراعظم اپنے ناراض ارکان کو منا سکتا ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ 20 فیصد ممبران نے جب تحریک پیش کر دی تو بحث کرانا چاہیے تھی۔ ’وزیر اعظم کو سب پتا ہوتا ہے وہ جاتے ارکان سے پوچھتے وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’فواد چوہدری 28 مارچ کو اعتراض کرتے تو کیا تحریک پیش کرنے سے پہلے مسترد ہوسکتی تھی؟‘

    اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ تحریک پیش ہونے کے وقت بھی مسترد ہو سکتی تھی۔ ’تحریک عدم اعتماد قانونی طور پر پیش کرنے کی منظوری نہیں ہوئی۔‘

    جسٹس مظہر عالم نے سوال پوچھا کہ ’سپیکر نے قرار دے دیا کہ تحریک منظور ہوگئی۔ آپ کیسے چیلنج کر سکتے ہیں؟‘

    اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ ’سپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہوسکتی تو کیس ہی ختم ہو گیا۔‘

  6. ’یہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کی سازش ہے‘, اپوزیشن کا مشترکہ بیان

    پاکستان کی متحدہ اپوزیشن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمعے کو ملک بھر میں یوم تحفظ آئین پاکستان منایا جائے گا، صوبائی دارالحکومتوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی اور تحفظ آئین پاکستان وکلا کنونشن منعقد کیا جائے گا۔

    اس بیان میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین پر حملہ کرنے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انھیں مثالی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کر سکے۔ ’اجلاس نے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور عمران نیازی حکومت کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کو آئین شکنی کے ذریعے مسترد کرنے اور رائے شماری نہ ہونے دینے کو آئین اور پارلیمنٹ پر برترین حملہ قرار دیا۔‘

    اس میں الزام لگایا ہے کہ یہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے اور ڈکٹیٹر شپ مسلط کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔

    ’متحدہ اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں سپیکر کے غیر آئینی رویہ کی مذمت کی اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں جس طرح جمہوری مینڈیٹ کو روندا جا رہا ہے، یہ وفاق پاکستان کے لئے انتہائی خطرناک روش اور اقدام ہے۔‘

  7. بریکنگ, ’پارلیمانی کارروائی کو مکمل عدالتی استثنیٰ نہیں‘, اٹارنی جنرل

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید کے دلائل جاری ہیں۔۔۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو مکمل استثنیٰ نہیں۔ ’نہیں سمجھتا کہ کوئی فائر وال ہے، پارلیمانی کارروائی کا کس حد تک جائزہ لیا جا سکتا ہے اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔‘

    انھوں نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر سپیکر کم ووٹ لینے والے کے وزیراعظم بننے کا اعلان کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔

    اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ ’عدم اعتماد کی تحریک کی منظوری ایوان نے دینا ہوتی ہے۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا حق آئین نے دیا ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ ’سپیکر ایوان کا نگران ہے۔ سپیکر صرف اپنی ذاتی تسکین کے لیے نہیں بیٹھتا۔‘

    انھوں نے مزیر کہا کہ ’سپیکر ایسا تو نہیں کر سکتا کہ اپنی رائے دے اور باقی ممبران کو گُڈ بائے کہہ دے۔‘

  8. ’عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے‘, سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دلائل شروع

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا کہ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد لیو گرانٹ ہوئی۔ چیف جسٹس کے سوال پر کہ لیو کون گرانٹ کرتا ہے، ان کا جواب تھا ہاؤس۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا یہ آپ کا آخری کیس ہے؟ اٹارنی جنرل نے بتایا ’اگر آپ کی خواہش ہے تو مجھے منظور ہے۔‘

    جسٹس جمال خان نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں آپ اگلے کیس میں بھی دلائل دیں۔‘

    اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی تفصیل کھلی عدالت میں نہیں دے سکوں گا۔ انھوں نے کہا کہ ’عدالت کسی کی وفاداری پر سوال اٹھائے بغیر بھی فیصلہ کر سکتی ہے۔‘

    ’قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر بریفننگ دی گئی، قومی سلامتی کمیٹی پر ان کیمرہ سماعت میں بریفنگ دینے پر تیار ہوں۔‘

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ’وزیر اعظم سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں اس لیے اسمبلی توڑنے کا اختیار بھی انھی کے پاس ہے۔ اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے وزیراعظم کو وجوہات بتانا ضروری نہیں۔ صدر سفارش پر فیصلہ نہ کریں تو 48 گھنٹے بعد اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔‘

    اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ ’حکومت کی تشکیل ایوان میں کی جاتی ہے۔ آئین ارکان کی نہیں ایوان کی پانچ سالہ معیاد کی بات کرتا ہے۔ برطانیہ میں اسمبلی تحلیل کرنے کا وزیر اعظم کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے۔ ہمارے آئین میں وزیر اعظم کا اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن موجود ہے۔‘

    وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’تحریک عدم اعتماد پر ووٹ ڈالنا کسی رکن کا بنیادی حق نہیں تھا۔ ووٹ ڈالنے کا حق آئین اور اسمبلی رولز سے مشروط ہے۔ سپیکر کسی رکن کو معطل کرے تو وہ بحالی کے لیے عدالت نہیں آ سکتا۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’آپ کہنا چاہتے ہیں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ رولز سے مشروط ہے؟‘

    اس پر اٹارنی جنرل کا جواب تھا کہ ’تحریک عدم اعتماد سمیت تمام کارروائی رولز کے مطابق ہی ہوتی ہے۔‘

  9. تحریکِ عدم اعتماد: کیا حالیہ سیاسی اور آئینی بحران سے عمران خان کو فائدہ پہنچا ہے؟

  10. ’جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے لیا جا سکتا ہے؟‘, جسٹس اعجاز الاحسن

    ‏سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری نے عدم اعتماد کی آئینی حیثیت پر رولنگ مانگی۔ ’ایوان میں عوام کے منتخب ارکان موجود تھے۔ ڈپٹی سپیکر نے ان کے خلاف رولنگ دے دی۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کے خلاف رولنگ دینا پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں؟‘

    جسٹس اعجاز الااحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ اگر اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو متاثرہ ارکان کے پاس داد رسی کو طریقہ کار کیا تھا۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ ’کیا ارکان نئی عدم اعتماد لا سکتے تھے؟‘

    نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ سپیکر نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی توثیق کی۔

    چیف جسٹس بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ رولز کے مطابق پوائنٹ آف آرڈر پر دوسری سائیڈ کو بات کرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے، آپشن کے باوجود ہیئرنگ کا موقع نہیں دیا گیا۔

    نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے اندر جو بھی ہو اسے آئینی تحفظ حاصل ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔ ’ہمارا موقف ہے کہ رولنگ کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔‘

    نعیم بخاری نے کہا کہ ایوان کے پاس رولنگ مسترد کرنے کا اختیار تھا لیکن نہیں کیا گیا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ’کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں اٹھائے گئے نکات پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں تھے؟‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آسمان گِرا جب اسمبلی تحلیل ہوئی۔ اس پر نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ عدالت اسمبلی تحلیل کرنے کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جس رولنگ کی بنیاد پر اسمبلی تحلیل ہوئی اسے چھوڑ کر باقی چیزوں کا جائزہ کیسے لیا جا سکتا ہے۔

    نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں۔

  11. شاہد آفریدی: نگراں وزیر اعظم بننے کا کوئی ارادہ نہیں

    پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی سے گذشتہ روز نیا ناظم آباد گراؤنڈ میں میڈیا کی جانب سے پوچھا گیا کہ نگراں وزیراعظم کی سیٹ خالی ہے، اس پر ان کا کیا خیال ہے۔

    جواب میں شاہد آفریدی نے کہا ان کا ایسا ’کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے یہاں اس بات پر زور دیا کہ ہر منتخب حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اسلام ہمیں انصاف اور برابری کا درس دیتا ہے لیکن جسٹس انڈیکس رول آف لا کےمطابق انصاف کی فراہمی میں پاکستان 130 ویں نمبر پر ہے۔

    ’ہمیں دیکھنا ہوگا آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اللہ ہمارے مُلک پر رحم فرمائے اور انصاف کا بول بالا ہو۔‘

  12. بریکنگ, ’ایسا لگتا ہے ڈپٹی سپیکر کو لکھا ہوا ملا کہ یہ پڑھ دو‘, جسٹس جمال خان مندوخیل

    ‏سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی برائے کے منٹس عدالت میں پیش کیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’جو دستاویز پیش کی ہے وہ شاید اصلی والی نہیں ہے۔‘

    جسٹس منیب اختر نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے کچھ ارکان سپیکر کی رولنگ سے مطمئن ہوتے کچھ نہ ہوتے۔ ’تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ آئین کا تقاضا ہے۔‘

    جسٹس مظہر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے ڈپٹی سپیکر کو لکھا ہوا ملا کہ یہ پڑھ دو۔‘

    ’ڈپٹی سپیکر نے رولنگ کے اختتام سے پہلے سپیکر اسد قیصر کا نام پڑھا۔‘

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری نے عدم اعتماد کی آئینی حیثیت پر رولنگ مانگی۔ ’ایوان میں عوام کے منتخب ارکان موجود تھے۔ ڈپٹی سپیکر نے ان کے خلاف رولنگ دے دی۔‘

    انھوں نے ریمارکس دیے کہ ’کیا عوامی نمائندوں کی مرضی کے خلاف رولنگ دینا پارلیمانی کارروائی سے باہر نہیں؟‘

  13. ’جھوٹ کی بنیاد پر اسمبلی کو تحلیل کیا گیا‘, خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سب پر غداری کا جھوٹا الزام لگایا مگر انھیں تب یہ خیال نہیں آیا تھا کہ جب یہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اتحادیوں کو منانا چاہتے تھے۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اتحادیوں کو منانے کی کوشش کرتے رہے، عدم اعتماد سے بچنے کے لیے اُن کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے۔ اس وقت آپ کو خیال نہ آیا کہ یہ غدار ہیں۔‘

    ’اسمبلی کی جھوٹ کی بنیاد پر تحلیل کیا گیا۔ اس ملک میں محب الوطنی پر کیا صرف آپ کی اجارہ داری ہے۔‘

    خواجہ آصف نے عمران خان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ نے امریکہ سے واپسی پر کہا کہ مجھے اتنی خوشی 92 کا ورلڈ کپ جیتنے پر نہیں ہوئی تھی۔‘

    ’عوام کے اجتماعی شعور کی توہین نہ کریں۔ یہ جھوٹ کے سہارے حکمرانی اب نہیں چلے گی۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ان کی جماعت ’الیکشن کے لیے تیار ہے۔‘

    ’عمران خان کو سلیکٹ کیا گیا تھا۔ ایک وعدہ بتائیں جو انھوں نے پورا کیا ہو۔ یہ جھوٹا شخص ہے۔ انھوں نے آئین سے کھلواڑ کیا ہے۔ ہم سب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ امید ہے یہ پاکستان کے حق میں اور قانونی شکنی کے خلاف آئے گا۔‘

  14. بریکنگ, جو دستاویز پیش کی ہے وہ شاید اصلی والی نہیں، نعیم بخاری

    ‏سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی برائے کے منٹس عدالت میں پیش کیے ہیں جس کے بعد سماعت جاری ہے۔

    جسٹس مظہر عالم نے منٹس کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارروائی بڑی مشکل سے دو یا تین منٹ کی تھی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پوائنٹ آف آرڈر پر اپوزیشن کو موقع نہیں ملنا چاہیے تھا۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ رولنگ ڈپٹی سپیکر نے دی، رولنگ پر دستخط سپیکر کے ہیں، رولنگ پر ڈپٹی سپیکر کے دستخط کدھر ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے منٹس میں ڈپٹی سپیکر کی موجودگی ظاہر نہیں ہوتی جبکہ ڈپٹی سپیکر اجلاس میں موجود تھے۔

    اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ جو دستاویز پیش کی ہے وہ شاید اصلی والی نہیں ہے۔

  15. بریکنگ, نعیم بخاری نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے منٹس عدالت میں پیش کردیے, نعیم بخاری: ’لگتا ہے وزیر خارجہ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے‘

    ‏سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل نعیم بخاری نے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی برائے کے منٹس عدالت میں پیش کردیے ہیں۔

    جسٹس جمال خان نے اپنے ریمارکس میں ان سے استفسار کیا ہے کہ سپیکر کی تحریک مسترد کرنے کا اختیار قانون میں کہاں لکھا ہے؟ ہم پوائنٹ آف آرڈر کی تعریف سمجھنا چاہتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب عدم اعتماد کی تحریک آجائے تو کیا نیا پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا جاسکتا ہے؟

    جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا اٹھایا گیا پوائنٹ آف آرڈر ایجنڈے میں شامل تھا۔

    جس کے جواب میں نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ پوائنٹ آف آرڈر پر کسی بھی وقت بات ہوسکتی ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ آئینی تقاضا ہے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا ووٹنگ کے آئینی حقوق کو رولز کے ذریعے غیر موثر کیا جاسکتا ہے؟

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس میٹنگ میں موجود تھے یا نہیں؟

    جس کے جواب میں نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ نوٹس بھجوایا گیا تھا۔

    عدالت نے پھر سے استفسار کیا کہ نوٹس تو چلا گیا، ’ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ قومی سلامتی میٹنگ میں موجود تھے یا نہیں؟‘

    نعیم بخاری نے جواب دیا کہ لگتا ہے کہ وزیر خارجہ اس میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایڈوائزر قومی سلامتی معید یوسف کا نام بھی اس میں موجود نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں 57 ارکان کے نام تھے۔ ’اراکین اسمبلی کے نوٹس میں خط کے مندرجات آ گئے تھے۔‘

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر رولنگ کی بجائے اپوزیشن سے جواب نہیں لینا چاہیے تھا؟

    اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ پوائنٹ آف آرڈر پر بحث نہیں ہوتی۔

  16. ’پارلیمانی کمیٹی کو بریفننگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں‘, چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل جاری ہیں جس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے چند سوالات پوچھے ہیں۔

    نعیم بخاری کی جانب سے وقفہ سوالات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    نعیم بخاری نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن اراکین نے کہا سوال نہیں پوچھنے صرف ووٹنگ کرائیں، اس شور شرابے میں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو خط پر بریفننگ دی گئی، کمیٹی کو بتایا گیا کہ عدم اعتماد ناکام ہوئی تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کے مطابق پارلیمانی کمیٹی قومی سلامتی میں 11 لوگ شریک ہوئے تھے۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ’پارلیمانی کمیٹی کو بریفننگ کس نے دی تھی؟‘

    چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ ’پارلیمانی کمیٹی کو بریفننگ دینے والوں کے نام میٹنگ منٹس میں شامل نہیں ہیں۔‘

  17. بریکنگ, ’کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کے لیے پیش ہونا نہیں؟‘, جسٹس جمال خان مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت اور ڈپٹی سپیکر کے وکیل کے دلائل سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل جاری ہیں جس دوران جسٹس اعجازالاحسن نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ ’موشن اور تحریک کے لفظ میں کیا فرق ہے؟‘

    نعیم بخاری نے جواب دیا کہ موشن اور تحریک کے الفاظ ایک ہی اصطلاح میں استعمال ہوتے ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ آرٹیکل 95 کا آئینی مینڈیٹ ہے۔

    انھوں نے نعیم بخاری سے مندرجہ ذیل سوالات کیے: ’کیا ڈپٹی سپیکر آئینی مینڈیٹ سے انحراف کر سکتا ہے؟ کیا ایجنڈے میں تحریک عدم اعتماد ہونے کا مطلب ووٹنگ کے لیے پیش ہونا نہیں؟‘

    انھوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے علاوہ پارلیمان کی کسی کارروائی کا طریقہ آئین میں درج نہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے نعیم بخاری سے مزید سوالات پوچھے: ’کیا اسمبلی رولز کا سہارا لے کر آئینی عمل کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا سپیکر آئینی عمل سے انحراف کر سکتا ہے؟ کیا آئینی عمل سے انحراف پر کوئی کارروائی ہو سکتی ہے؟‘

  18. ’عمران خان ایبسلوٹلی ناٹ نہیں، ایبسلوٹلی فراڈ ہیں‘

    اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر نے لکھے ہوئے فیصلے سے عمران خان کو غیر آئینی سٹے آرڈر دینے کی کوشش کی۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ملک کو معاشی نقصان انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ ’عمران نیازی کی معاشی تباہی، غربت، بے روزگاری نے پاکستان کو ایسا ملک بنا دیا جس میں نااہلی، کرپشن کی بنیاد پر پاکستان دہائیوں پیچھے جا چکے ہیں۔ ان کی مثال ہٹلر سے مختلف نہیں۔ وہ ہٹلر نازی تھا یہ عمران نیازی ہے۔‘

    شہباز شریف مزید کہتے ہیں کہ ’جس طرح غداری اور بغاوت کے الزامات لگائے گئے وہ قابل مذمت ہے۔‘

    ’پوری قوم کا مطالبہ ہے نیشنل سکیورٹی کونسل میں جو فیصلے ہوئے انھیں قوم کے سامنے لایا جائے۔۔۔ اپوزیشن ارکان کو غدار کہا گیا معاشرے میں زہر گھولا گیا۔ الیکشن میں جانا ہے تو ہمیں یہ قبول نہیں۔ عمران خان ایبسلوٹلی ناٹ نہیں ایبسلوٹلی فراڈ ہیں۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو بچانا ہے شفاف الیکشن یقینی بنانا ہوگا اور پارلیمان کی عزمت کو بحال کرنا ہوگا۔

    انھوں نے پنجاب اسمبلی میں خاردار تاروں اور پولیس کی تعیناتی کے ذریعے اجلاس روکنے کی کوششوں کی مذمت کی۔

    ’یقین ہے ججز آئین پاکستان کا تحفظ کریں گے۔ پنجاب میں کون سا خط تھا، متحدہ اپوزیشن نے حمزہ شہباز کو 199 ووٹ دیے۔‘

  19. بریکنگ, نعیم بخاری: تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    وقفے کے بعد سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل جاری ہیں جس دوران جسٹس مظہر عالم میاں خیل جی نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ رولنگ سپیکر پر اسد قیصر کے دستخط ہیں۔

    جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ وہ آج بھی سپیکر قومی اسمبلی ہیں۔

    نعیم بخاری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ مسترد نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ عدالت بھی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرکے بعد میں خارج کرتی ہے۔

    نعیم بخاری نے دلائل میں مزید کہا کہ اسمبلی کارروائی شروع ہوتے ہی فواد چوہدری نے پوائنٹ آف آرڈر مانگ لیا تھا۔ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شروع ہوجاتی تو پوائنٹ آف آرڈر نہیں لیا جا سکتا تھا۔

  20. سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔