آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. ایک ڈالر کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند سطح 187 روپے سے تجاوز کر گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے اور جمعرات کے روز انٹر بنک میں ایک ڈالر کی قیمت 187 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

    بدھ کے روز ایک ڈالر کی قیمت 186.13 روپے پر بند ہوئی تھی جو انٹر بنک میں کاروبار کے آغاز پر ہی تقریباً ایک روپے اضافے کے ساتھ 187.10 تک جا پہنچی۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق ملک میں جاری سیاسی بحران نے ایک حد تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر منفی اثر ڈالا ہے اور روپیہ کافی حد تک یہ جھٹکا برداشت کر چکا ہے۔

    کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ’لگتا ہے کہ روپے کی قیمت میں کمی کو آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت گرایا جا رہا ہے۔‘

    جنرل سیکرٹری ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ملک میں عملاً کوئی حکومت نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں روپے کی قدر کو گرا کر شاید آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کیا جا رہا ہے تاکہ جب پروگرام پر دوبار ہ مذاکرات بحال ہوں تو پاکستان بہت ساری شرائط پوری کر چکا ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ ڈالر کی رسد و طلب میں ایسا کوئی بڑا فرق نہیں پیدا ہوا کہ اچانک ڈالر کی قیمت اتنی زیادہ بڑھنا شروع ہو جائے۔

  2. سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ دیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, نعیم بخاری: سپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا تو کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل جاری ہیں جس دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے استفسار کیا کہ کیا سپیکر کا عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے؟

    جس پر نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ اگر سپیکر پوائنٹ آف آرڈر مسترد کر دیتا تو کیا عدالت تب بھی مداخلت کرتی؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کیا زیرالتوا تحریک عدم اعتماد پوائنٹ آف آرڈر پر مسترد ہو سکتی ہے؟

    جس پر نعیم بخاری نے دلائل دیے کہ پوائنٹ آف آرڈر پر سپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے، انھوں نے کہا پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں لیکن سپیکر کا اختیار ضرور ہے۔

    نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ نئے انتخابات کا اعلان ہو چکا، اب معاملہ عوام کے پاس ہے سپریم کورٹ کو اب یہ معاملہ نہیں دیکھنا چاہییے۔

  4. بریکنگ, نعیم بخاری: پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جا سکتا ہے

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔

    صدر اور وزیرِ اعظم کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اب سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع ہو گئے ہیں۔

    نعیم بخاری نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’میں علی ظفر کے دلائل بھی آڈاپٹ کروں گا اور مزید اپنے دلائل بھی دوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سوال ہوا تھا کہ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا۔ پوائنٹ آف آرڈر تحریک عدم اعتماد سمیت ہر موقع پر لیا جا سکتا ہے۔

    جس پر جسٹس مظہر عالم نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کے پاس رولنگ کا مواد کیا تھا؟

    جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ مجھے گزارشات کو فریز کرنے دیں، عدالت کے سوالات کا جواب دوں گا۔

    جس پر جسٹس مظہر عالم نے کہا ’ہم بھی آپ کو سننے کے لیے بے تاب ہیں۔‘

    اس موقع جسٹس جمال خان مندوخیل نے نعیم بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کافی فریش لگ رہے ہیں۔

  5. بریکنگ, ’وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی‘, جسٹس اعجاز الاحسن

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل جاری۔۔۔

    امتیاز صدیقی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

    اس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا ان میں آبزرویشنز ہیں۔ ’عدالت فیصلوں میں دی گئی آبزرویشنز کی پابند نہیں۔‘

    امتیاز صدیقی نے جواب دیا کہ ڈپٹی سپیکر نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر انحصار کیا اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس کوئی مٹیریل دستیاب تھا جس کی بنیاد پر رولنگ دی؟ کیا ڈپٹی سپیکر کی رولنگ نیک نیتی پر مبنی تھی؟ ڈپٹی اسپیکر کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے منٹس کب رکھے گئے؟‘

    امتیاز صدیقی نے کہا ’ڈپٹی سپیکر کے معاملے پر مجھے نہیں معلوم۔‘

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو آپ کو نہیں معلوم اس پر بات نہ کریں۔ ’آپ کے مطابق ڈپٹی سپیکر کے پاس ووٹنگ کے دن مواد موجود تھا جس پر رولنگ دی۔ وزیراعظم نے آرٹیکل 58 کی حدود کو توڑا اس کے کیا نتائج ہوں گے؟ ڈپٹی سپیکر کو 28 مارچ کو ووٹنگ پر کوئی مسئلہ نہیں تھا، ووٹنگ کے دن رولنگ آئی۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سپیکر نے تحریک عدم اعتماد 28 مارچ کو کیوں مسترد نہیں کی؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی تحلیل نہ ہوتی تو ایوان ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ختم کر سکتا تھا اور وزیراعظم نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسمبلی تحلیل کی۔

    یوں وزیر اعظم کی وکیل کے دلائل ختم ہوئے اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے وکیل نعیم بخاری کے دلائل شروع ہوگئے ہیں۔

  6. بریکنگ, ’ملکی سالمیت کو خطرہ ہو تو سپیکر قانون سے ہٹ کر ملک کو بچائے گا‘, وزیر اعظم کے وکیل کا موقف

    سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت سے متعلق مزید اپ ڈیٹس۔۔۔۔۔

    صدر کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل جاری ہیں۔

    امتیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ ایوان کی کارروائی عدلیہ کے اختیار سے باہر ہے۔ ’عدالت پارلیمان کو اپنا گند خود صاف کرنے کا کہے۔‘

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی کال دے کر 90 دن کے لیے ملک کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ’وزیراعظم صدر کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں۔‘

    جسٹس اعجاز الاحسن کا اپنے ریمارکس میں کہنا ہے کہ اگر مخلوط حکومت بنتی ہے تو کیا ممکن ہے کہ سب سے بڑی جماعت کو دیوار سے لگا دیا جائے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا کہ لیو گرانٹ ہونے کے بعد رولنگ نہیں آ سکتی، درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے رولنگ آ سکتی تھی، چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی سے استفسار کیا کہ اس معاملے پر آپ کیا کہیں گے؟

    جس کے جواب میں وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر کی صدارت پر اعتراض نہیں کیا تھا، ڈپٹی سپیکر نے اپنے ذہن کے مطابق جو بہتر سمجھا وہ فیصلہ کیا، انھوں نے کہا کہ پارلیمان کے اجلاس میں ڈپٹی سپیکر نے جو فیصلہ دیا اس پر وہ عدالت کو جوابدہ نہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون یہی ہے کہ پارلیمانی کارروائی کے استحقاق کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ ’عدالت جائزہ لے گی کہ کس حد تک کارروائی کو استحقاق حاصل ہے۔‘

    امتیاز صدیقی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سپیکر کو اگر معلوم ہو کہ بیرونی فنڈنگ ہوئی یا ملکی سالمیت کو خطرہ ہے تو وہ قانون سے ہٹ کر بھی ملک کو بچائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سپیکر نے اپنے حلف کے مطابق بہتر فیصلہ کیا، اور سپیکر کا فیصلہ پارلیمنٹ کا اندرونی معاملہ ہے۔

    انھوں نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آرٹیل 69 کو آرٹیکل 127 سے ملاکر پڑھیں تو پارلیمانی کارروئی کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ سپریم کورٹ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمنٹ کی کاروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

    جس پر جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ جن فیصلوں کا حوالہ دیا گیا سپریم کورٹ ان پر عمل کرنے کی پابند نہیں۔

  7. شاہ محمود قریشی: پاکستانی سفیر کی واپسی اچانک نہیں ہوئی

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا ہے کہ پاکستانی سفیر کی امریکہ سے واپسی اچانک نہیں ہوئی بلکہ انھوں نے اپنی مدت پوری کی اور واپس آئے۔

    انھوں نے سوال کیا کہ ’آپ نے کیسے اخذ کر لیا کہ یہ ایک ڈرامہ تھا۔ دفتر خارجہ ڈرامہ نہیں کرتا۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن ملک کو ایک آئینی بحران کی جانب دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ’ہمیں پانچ سال پورے کرنے کا حق تھا مگر اپوزیشن کو ہضم نہیں ہو رہا تھا۔‘

  8. بریکنگ, ’الیکشن کرانے پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، عدالت نے قومی مفاد کو دیکھنا ہے‘

    صدر کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی کے دلائل شروع ہوئے۔

    سماعت کے دوران ریمارکس میں چیف جسٹس بندیال کا کہنا ہے کہ بظاہر آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی۔ انھوں نے استفسار کیا کہ اگر کسی دوسرے کے پاس اکثریت ہے تو حکومت الیکشن کا اعلان کردیں۔

    انھوں نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے پر قوم کے اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، ہر بار الیکشن سے قوم کا اربوں کا نقصان ہوگا۔

    چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ قومی مفاد ہے۔

    وزیر اعظم کے وکیل امتیاز صدیقی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ماضی میں بھی پارلیمان کی کاروائی میں مداخلت نہیں کی اور عدالت کے سامنے معاملہ ہاؤس کی کاروائی کا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت نے قومی مفاد کو دیکھنا ہے۔‘

  9. ’ایک اور متنازع الیکشن سے انارکی پھیلے گی‘

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے مزید کہا کہ ایک اور متنازع الیکشن سے انارکی پھیلے گی۔

    وہ مزید کہتی ہیں کہ ’ہم نے بارہا کہا ہے ہمیں انتخابی قوانین میں ترامیم چاہییں۔ سویلین ڈکٹیٹرشپ ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام اقدامات کو ریورس کیا جائے۔ ’پارٹی لیڈرشپ فیصلہ کرے گی کہ فیصلے کے بعد آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا۔‘

    شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا حق ہے کہ اسمبلیاں بحال ہوں۔ ’الیکشن کی ترامیم کرنی ہیں۔ نہیں چاہتے کہ ملک میں انتشار ہو۔ آئین کے مطابق الیکشن ریفارمز ہوں۔‘

  10. ’جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائیں‘

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز خط اور بیرونی سازش کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن قائم کر کے تحقیقات کرائی جائیں۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اراکین قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کرتے تو انھیں مبینہ دھمکی آمیز خط کے حوالے سے مطمئن کیا جاتا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اپوزیشن کے اہم لوگوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کو جعلی کہا۔ وزیر اعظم نے قومی سلامتی کا اجلاس طلب کیا۔ اس کے سامنے وہ رابطہ رکھا گیا۔

    ’تبادلہ خیال ہوا، مختلف ممبران نے اسے دیکھا اور پرکھا۔ انھوں نے دو فیصلے کیے: ایک فیصلہ یہ کہ فی الفور دفتر خارجہ احتجاج کرے واشنگٹن اور اسلام آباد میں۔ دوسرا پارلیمان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں۔

    ’اپوزیشن نے پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہیں کی، وہ مناسب فورم تھا۔ انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی۔‘

    شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ’ڈپٹی سپیکر نے انکار نہیں کیا۔ نئی صورتحال سامنے آئی ہے اس کا جائزہ لیں گے۔ انھوں نے صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے تحریک کو ڈس الاؤ کیا۔ انھوں نے کہا سیاسی مداخلت کے جو حقائق ہیں وہ حکومت کی تبدیلی کی کوشش کو ثابت کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے تجویز دی کہ معاملے کے حل کے لیے ایک طریقہ جوڈیشل کمیشن کا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے سات نکات بیان کیے اور کہا ’کون ملا، کس سے ملا، کہاں ملا، یہ حقائق قوم کے سامنے کون رکھے گا۔ یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔‘

  11. بریکنگ, چیف جسٹس: ’آپ کیوں نہیں بتاتے کہ کیا آئینی بحران ہے؟ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا ہے تو آئینی بحران کہاں ہے؟‘

    صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کے دلائل جاری ہیں جس دوران انھوں نے جونیجو کیس فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو ختم کیا گیا تو عدالت نے جونیجو کی حکومت کے خاتمہ کو غیر آینی قرار دیا۔ ’عدالت نے اسمبلی کے خاتمہ کے بعد اقدامات کو نہیں چھیڑا۔‘

    جس کے جواب میں جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے معاملہ عدم اعتماد کا ہے، عدم اعتماد کے بعد رولنگ آئی۔ اس ایشو کو ایڈریس کریں۔

    علی ظفر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہاں بھی اسمبلی تحلیل کرکے الیکشن کا اعلان کر دیا گیا۔

    جس کے بعد چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کیوں نہیں بتاتے کہ کیا آئینی بحران ہے؟ سب کچھ آئین کے مطابق ہو رہا ہے تو آئینی بحران کہاں ہے؟‘

    جس کے جواب میں علی ظفر نے کہا کہ ’میری بھی یہی گزارش ہے کہ ملک میں کوئی آئینی بحران نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ الیکشن کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی اقدام بدنیتی نہیں تھا۔

    اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’اسمبلی کی اکثریت تحلیل نہ چاہے تو کیا وزیراعظم صدر کو سفارش کر سکتے ہیں؟‘

    جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ’منحرف اراکین کے باوجود تحریک انصاف اکثریت جماعت ہے، اگر اکثریتی جماعت سسٹم سے آؤٹ ہو جائے تو کیا ہوگا؟‘

    علی ظفر نے کہا وہ بطور صدر کے وکیل سیاسی معاملے کا جواب نہیں دے سکتے۔

    اس کے ساتھ ہی صدر کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

  12. بریکنگ, عدالت: معاملہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا ہے، کہیں تو لائن کھینچنا پڑے گی

    سپریم کورٹ میں سپیکر رولنگ پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہاں معاملہ حلف لینے کا نہیں رولنگ کا ہے‘ اور ’کہیں تو لائن کھینچنا پڑے گی۔‘

    صدر مملک کے وکیل کے دلائل کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال پوچھا کہ ’کیا وزیراعظم پوری قوم کے نمائندے نہیں ہیں؟‘

    اس پر وکیل صدر مملکت علی ظفر نے بتایا کہ ’وزیراعظم بلاشبہ عوام کے نمائندے ہیں۔‘

    جسٹس مظہر عالم نے دریافت کیا کہ ’کیا پارلیمنٹ میں آئین کی خلاف ورزی ہوتی رہے اسے تحفظ ہوگا؟ کیا عدالت آئین کی محافظ نہیں ہے؟ پارلیمنٹ کارروائی سے کوئی متاثر ہو تو دادرسی کیسے ہوگی؟ کیا دادرسی نہ ہو تو عدالت خاموش بیٹھی رہے؟

    اس پر علی ظفر نے کہا کہ آئین کا تحفظ بھی آئین کے مطابق ہی ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پارلیمان ناکام ہو جائے تو معاملہ عوام کے پاس ہی جاتا ہے۔ ’آئین کے تحفظ کیلئے اس کے ہر آرٹیکل کو مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’اگر زیادتی کسی ایک ممبر کے بجائے پورے ایوان سے ہو تو کیا ہوگا؟‘ اس پر علی ظفر نے کہا ’اگر ججز کے آپس میں اختلاف ہو تو کیا پارلیمنٹ مداخلت کر سکتی ہے؟ جیسے پارلیمنٹ مداخلت نہیں کرسکتی ویسے عدلیہ بھی نہیں کرسکتی‘

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’کیا وفاقی حکومت کی تشکیل کا عمل پارلیمان کا اندرونی معاملہ ہے؟‘

    علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ حکومت کی تشکیل اور اسمبلی کی تحلیل کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ عدم اعتماد پر اگر ووٹنگ ہوجاتی تو معلوم ہوتا کہ وزیراعظم کون ہوگا؟ تو علی ظفر نے کہا وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد دونوں کا جائزہ عدالت نہیں لے سکتی۔

    چیف جسٹس بندیال نے ریمارکس دیے ’علی ظفر صاحب آپ نے جس فیصلہ کا حوالہ دیا ہے وہ حلف سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہاں معاملہ حلف لینے کا نہیں رولنگ کا ہے۔‘

    چیف جسٹس بندیال نے ریمارکس دیے کہ ’کہیں تو لائن کھینچنا پڑے گی۔‘

  13. فواد چوہدری: ’دھمکیوں پر ملک نہیں چل سکتا‘

    سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’رات کو مولانا صاحب اور بلاول نے دھمکی دی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر سارے اداروں نے دھمکیوں پر چلنا ہے تو اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔‘

  14. بریکنگ, چیف جسٹس: پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے، معاملہ ہائیکورٹ لے کر جائیں

    از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ہدایات دی کہ پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ لے جایا جائے۔

    اس دوران پاکستان مسلم لیگ نون کے اعظم نذیر تارڑ پنجاب اسمبلی کی صورت حال کے بارے میں عدالت کو آگاہ کر رہے ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رات کو نجی ہوٹل میں تمام ایم پی ایز نے حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنا دیا اور سابق گورنر آج حمزہ شہباز سے باغ جناح میں حلف لیں گے۔

    احمد اویس کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز نے بیوروکریٹس کی میٹنگ بھی آج بلا لی ہے۔ انھوں نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آئین ان لوگوں کے لیے انتہائی معمولی سی بات ہے۔

    جس کے جواب میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ وہ پنجاب کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب کا معاملہ ہائیکورٹ میں لے کر جائیں۔

    جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ کل پنجاب اسمبلی کے دروازے سیل کر دیے گئے تھے، ’کیا اسمبلی کو اس طرح سیل کیا جا سکتا ہے؟‘

    جس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ قومی اسمبلی کے کیس سے توجہ نہیں ہٹانا چاہتے۔

    چیف جسٹس نے اعظم نذیر تارڑ اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو روسٹرم سے ہٹا دیا ہے جس کے بعد صدر مملکت عارف علوی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے دلائل شروع ہو گئے ہیں۔

  15. ’امید ہے نظریہ ضرورت کو مستقل طور پر دفن کر دیا جائے گا‘

    رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے آج نظریہ ضرورت کو مستقل طور پر دفن کر دیا جائے گا۔

    سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ امید ہے اعلی عدلیہ ’آئین پر جو بغاوت ہوئی اس کو ہٹائیں گے اور اسمبلی اپنے وقار کے ساتھ بیٹھے گی۔

    ’ہم الیکشن لاز میں ترمیم کر کے آگے بڑھیں گے۔ پنجاب اسمبلی میں گھناؤنا مذاق کیا گیا ہے، پی ٹی آئی کی گرتی ہوئی ساکھ نے وہاں خاردار تاریں لگائیں۔ ڈپٹی سپیکر کو بھی روک دیا گیا۔

    ’آئینی حقوق کو سلب نہ کیا جائے۔ ہمیں آج انصاف چاہیے۔ یہ میری، آپ کی جنگ نہیں۔ یہ پاکستان کے آئین کی جنگ ہے۔ تمام ملک اتوار سے معطل ہے۔ امید ہے نظریہ ضرورت کو مستقل طور پر دفن کر دیا جائے گا۔ ایوان کا تقدس پامال کیا گیا۔‘

    وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں بتائیں کیا ہمارے تمام ارکان غدار ہیں؟ کون بانٹ رہا ہے غداری کے پرچے۔ ان سے کہیں شواہد لے کر آئیں۔ اسمبلی بحال کریں۔ ہم بھی دیکھیں گے ہم غدار ہے کون وفادار ہے۔ واضح ہے تحریک انصاف نے بہت پہلے انصاف کا دامن چھوڑ دیا تھا، اگر کبھی تھا بھی۔ پوری حکومت کو ای سی ایل پر ڈالا جائے۔‘

    اس موقع پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ آدھے منٹ میں آئین توڑا گیا اور اس کی بحالی کے لیے پانچ دن سے منتظر ہیں۔

  16. بریکنگ, سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع

    سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع ہوچکی ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

    ان کے علاوہ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر اور تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان بھی عدالت عظمی میں موجود ہیں۔

  17. سپریم کورٹ میں سپیکر کی رولنگ پر از خود نوٹس کی سماعت کچھ دیر میں

    سپریم کورٹ میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کیے جانے کی رولنگ پر ازخود نوٹس کی سماعت اب سے کچھ دیر میں دوبارہ شروع ہوگی۔

    چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ میں شامل ہیں۔

    آج ڈپٹی سپیکر کے وکیل اور اٹارنی جنرل اپنے دلائل دیں گے۔ گذشتہ دنوں اپوزیشن جماعتوں، پی ٹی آئی اور صدر کے وکلا نے دلائل دیے تھے۔

    بدھ کو چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ یہ کیس آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی سے متعلق ہے اور جہاں آئین کی خلاف ورزی ہو سپریم کورٹ مداخلت کر سکتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی اور جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی۔

    چیف جسٹس نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ’ہماری کوشش ہے معاملہ کو جلد مکمل کیا جائے۔‘

  18. ’آرمی کی سب سے زیادہ سپورٹ اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے‘

    سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ مبینہ غیر ملکی سازش کے معاملے پر عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ’ایک پیج پر ہیں۔‘

    انڈین ویب سائٹ دی پرنٹ سے گفتگو کے دوران جب ان سے کہا گیا کہ عمران خان اور جنرل باجوہ کی باتوں میں بظاہر تضاد دیکھنے میں آیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’آرمی چیف ہوں یا وزیر اعظم، ہم تمام مغرب اور امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ’سوال جواب کے دوران آرمی چیف نے بھی وہی باتیں کیں۔۔۔ ہماری خواہش ہے کہ اچھے تعلقات ہوں مگر ہمیں ایک خودمختار ملک کے طور پر دیکھا جائے۔‘

    انھوں نے نیوٹریلٹی سے متعلق بیانات پر وضاحت دی کہ اگر فوجی قیادت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ ان کا کوئی سیاسی کردار نہیں ہونا چاہیے تو وہ اس کا خیرمقدم کریں گے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’آرمی کی سب سے زیادہ سپورٹ اب بھی پی ٹی آئی کے ساتھ ہے۔۔۔ آرمی مڈل کلاس کا سب سے بڑا گروہ ہے اور پی ٹی آئی مڈل کلاس کی جماعت ہے۔‘

  19. ’متنازع فیصلہ آیا تو خوف ہے اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن متنازع ہوں گے‘

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس سیاسی مقاصد کے لیے بلایا تھا اور اسی اجلاس کی بنیاد پر انھوں نے ’غیر ملکی سازش کا کارڈ‘ کھیلا۔

    گذشتہ روز جیو نیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ سے گفتگو کے دوران بلاول کا کہنا تھا کہ ’عمران خان بھاگتے بھاگتے آئین بھی توڑ کر بھاگ گئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر سپیکر کی رولنگ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ متنازع ہوا اور آئین کے حق میں نہ آیا تو انھیں خوف ہے کہ اس سے اعلیٰ عدلیہ، پارلیمان، اسٹیبلشمنٹ اور آنے والے الیکشن متنازع ہوں گے۔

    بلاول نے زور دیا کہ صاف اور شفاف انتخابات سے ہی ملک اس سیاسی و آئینی بحران سے نکل پائے گا۔

    وہ پوچھتے ہیں کہ ’اگر عدالتی فیصلہ عمران کے لیے فیس سیونگ ہوا تو سوال ہوگا کہ کیا عمران خان آئین سے زیادہ اہم ہے؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’امید ہے اعلیٰ عدلیہ ملک کو آئینی بحران سے اس طریقے سے نکالیں گے کہ جمہوریت بحال ہوگی اور سارے ادارے جو 2018 کی سلیکشن کی وجہ سے متنازع ہوئے وہ اس آئینی، جمہوری اور عدالتی طریقہ کار کے ذریعے غیر متنازع رہیں گے۔‘

  20. عمران خان کے خلاف ’غیر ملکی سازش‘ یا الیکشن کی تیاری؟