آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. ’جب تک اسٹیبلشمنٹ معاملات طے کرتی رہے گی وزیراعظم کوئی بھی ہو، کیا فرق پڑتا ہے‘

  2. عمران خان نے ساڑھے تین برس میں کیا تبدیل کیا؟

    عمران خان کی حکومت کو ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ اب وزیراعظم عمران خان کو پارلیمنٹ میں تحریکِ عدم اعتماد کا سامنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تو یہ نظر آتا ہے کہ اپوزیشن نے مطلوبہ نمبر حاصل کر لیے ہیں۔ اس وجہ سے عمران خان کی حکومت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہم نے جائزہ لیا ہے کہ عمران خان نے ایک وزیراعظم کی حیثیت سے گزشتہ ساڑھے تین برس میں پاکستان کو کیسے تبدیل کیا۔

  3. خیبر پختونخوا: بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی زبردست کامیابی

    مرکز میں جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو عدم اعتماد کا سامنا ہے وہیں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ جبکہ مذہبی جماعتیں دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کوئی خاطر خواہ کارکردی کا مظاہرہ نہیں کر پائیں۔

  4. ملک کی غیر یقینی سیاسی صورتحال میں ڈیڑھ ارب ڈالر بیرونی سرمایہ کاری کا اخراج

    مارچ کے مہینے میں پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں جب پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد ملک میں سیاسی غیر یقینی کی فضا میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے معیشت منفی اثرات کے دباؤ کا شکار ہے۔

    پاکستان کی حالیہ سیاسی صورتحال کا اثر ملک کی سٹاک مارکیٹ اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ گذشتہ کئی ہفتوں سے مندی کے رجحان کا شکار ہے اور اس میں سرمایہ کاری کرنے والے مقامی اور بیرون ملک پاکستانی مزید سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں تو دوسری جانب غیر ملکی سرمایہ کار بھی مارکیٹ سے پیسہ نکال رہے ہیں۔

  5. اسٹیبلشمنٹ نے عدم اعتماد، استعفیٰ یا پھر قبل از وقت انتخابات کے آپشنز دیے: عمران خان

    پنجاب کی سیاست میں تیزی سے بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دیا گیا ایک انٹرویو بھی نشر ہونے کے کئی گھنٹے بعد بھی میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔

    اس انٹرویو میں جہاں عمران خان نے تحریکِ عدم اعتماد کے حوالے سے دیگر کئی اہم باتیں کیں اور اپوزیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا وہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انھیں موجودہ سیاسی صورتحال میں تین آپشنز دیے گئے جن میں عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا، مستعفی ہونا یا پھرعدم اعتماد کی تحریک کی واپسی کی صورت میں قبل از وقت الیکشن کروانا شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے اور ان میں سے ان کے لیے قابلِ قبول آپشن صرف قبل از وقت الیکشن ہے۔

  6. پرویز الٰہی جیت کے لیے پرعزم

  7. مستعفی ہونے والے وزیراعلٰی پنجاب کا خصوصی انٹرویو سنیے

  8. عثمان بزدار گورنر کو دوبارہ استعفیٰ بھیجیں: مسلم لیگ ن کا مطالبہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے قبل مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستعفی ہونے والے وزیراعلٰی گورنر کو اپنا استعفیٰ بھیجیں تاکہ بعد میں کسی قسم کا کوئی آئینی بحران پیدا نہ ہو۔

    خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ نے جمعے کو رات گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عثمان بزدار کا جو استعفیٰ منظور کیا گیا ہے وہ وزیراعظم کے نام لکھا گیا ہے جبکہ آئینی طور پر وہ گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے پابند ہیں۔

    سعد رفیق نے مطالبہ کیا کہ عثمان بزدار سنیچر کی شام پانچ بجے سے قبل اپنا استعفیٰ گورنر کو دوبارہ بھیجیں جو اس کی منظوری دیں تاکہ کسی قسم کی آئینی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔

    خیال رہے کہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے عثمان بزدار کا استعفیٰ یکم اپریل کو منظور کیا گیا ہے جبکہ عثمان بزدار نے 28 مارچ کو یہ استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو ارسال کیا تھا۔

  9. پاکستان کی تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی صورتحال پر بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد پر ووٹنگ کے عمل میں تو ایک ہی دن بچا ہے لیکن سینیچر کو توجہ کا مرکز پنجاب کا صوبہ ہے جہاں کی اسمبلی اپنے نئے قائدِ ایوان کا انتخاب کر رہی ہے۔

    پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد مستعفی ہو گئے تھے اور ان کی جگہ تحریکِ انصاف نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے پرویز الٰہی کو وزارتِ اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

    ادھر متحدہ اپوزیشن نے اس عہدے کے لیے اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف حمزہ شہباز کا انتخاب کیا ہے۔