آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف: ’آئیں ہم سب آئین اور قانون کی حفاظت اور پاسداری کے لیے یکجا ہو جائیں‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما شہباز شریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں عمران خان پر ایک بار پھر کڑی تنقید کی ہے۔

    شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’اقتدار کی ہوس نے نیازی اور اس کے بچے کھچے حواریوں کو ذہنی طور پر مکمل مفلوج کر دیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا: ’تحریک انصاف کے کچھ ساتھیوں کا آئین اور قانون کے دفاع میں نیازی کے خلاف کھڑا ہونا خوش آئند ہے۔‘

    ’آئیں ہم سب آئین اور قانون کی حفاظت اور پاسداری کے لیے یکجا ہو جائیں۔‘

  2. آرٹیکل 89 فائر وال ہے جسے عدلیہ نہیں پھلانگ سکتی

    تحریکِ انصاف کے وکیل بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے کے بعد صدر مملکت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل شروع کیے۔

    انھوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کیا ہے۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ وہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے دلائل کا آغاز کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے اور یہ آرٹیکل وہ فائر وال ہے جسے عدالت پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

  3. پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کے دلائل مکمل

    تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کے عدالت میں دلائل مکمل ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ’اللہ سب پر راضی رہے، اس ملک کا واحد حل انتخابات ہیں۔‘

  4. ’وہ فیصلہ کریں گے جو عوام کے مفاد میں ہو‘

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کریں گے جو عوام کے مفاد میں ہو اور اسے ماننا سب پر لازم ہو گا۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے یہ بھی کہا کہ ’قرآن کریم میں واضح ہے کہ حق سے پھرنے والا تباہ ہو جاتا ہے۔‘

  5. ’سپیکر مرضی سے اجلاس میں نہ آئے تو اسے غیر حاضر نہیں کہا جا سکتا‘

    بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی سپیکر بطور سپیکر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔

    ’اسد قیصر کے خلاف تین اپریل کو مرتضی جاوید عباسی نے تحریک عدم اعتماد کا نوٹس دیا۔ سپیکر نے تحریک عدم اعتماد کا نوٹس آنے پر ہی اجلاس کی صدارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

    جس پر عدالت نے کہا کہ ’سپیکر مرضی سے اجلاس میں نہ آئے تو اسے غیر حاضر نہیں کہا جا سکتا۔‘

    جس پر بابر اعوان نے کہا کہ رولز میں لکھا ہے سپیکر کسی بھی وجہ سے نہ ہو تو ڈپٹی سپیکر اجلاس کی صدارت کریں گے۔

    بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ پارلیمان کے اپنے رولز ہیں وہ کوئی قانونی چارہ جوئی کا ادارہ نہیں۔

    ’ایک ایم این اے نے ٹی وی پر بیٹھ کر کہا کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی اور ممبرز خریدے ہیں، جس ادارے کے اندر یہ ایکسرسائز ہو رہی ہو وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے۔‘

  6. بریکنگ, وقت کی قلت ہے، بس ہاں یا نہ میں جواب دیں‘

    چیف جسٹس آف پاکستان نے بابر اعوان سے کہا کہ ’ہمارے پاس وقت کی قلت ہے، ایک ہی جملے میں بات کر دیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دیگر ممالک کے آئین کی طرف نہیں جائیں گے اور آئین پاکستان کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔‘

    جسٹس بندیال نے بابر اعوان کو مخاطب کر کے کہا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں ووٹنگ کروانے کے علاوہ بھی تحریک عدم اعتماد نمٹائی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سپیکر کو رولنگ مسترد کرنے کا اختیار ہے یا نہیں۔‘

    جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ کیا ڈپٹی سپیکر بھی سپیکر کے اختیارات استتعمال کر سکتا ہے۔

    اس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’میں تفصیل سے جوِاب دوں گا۔‘ تاہم جسٹس اعجازالاحسن نے انھیں کہا کہ ’نہیں آپ بس ہاں یا ناں میں جواب دیں۔

    اس موقع پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے ’آپ تو نہ میں بھی جواب دے سکتے ہیں۔‘

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ججوں کے ان ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ لگا۔

  7. ’کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹایا جا سکتا ہے؟‘

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 94 کے تحت صدر، وزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں۔

    بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ کہاں لکھا ہے کہ سپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی۔‘

    جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹانا جا سکتا ہے؟

  8. پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شہریوں کا چیف جسٹس سے ’نظریہ ضرورت‘ دفن کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کھلا خط لکھا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم جناب عمر عطا بندیال سوری کے تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی قانونی حیثیت کے معاملے میں آئین اور قانون پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

    خط کے مصنفین نے گذشتہ حکومت کے مجوزہ فیصلوں کو قوم کی فلاح وبہبود اور یگانگت کے لیے ایک خطرہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی پائے جانے کی صورت میں ذمہ دران کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے فیصلوں کا سدباب کیا جا سکے۔

    خط میں ایک جوڈیشنل کمیشن کے قیام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تا کہ سابقہ حکومت کے خلاف بیرونی سازش کے الزامات کے حوالے سے ثبوت و شواہد کی جانچ پڑتال کی جا سکے۔

    خط میں واضح کیا گیا ہے کہ غیر ثابت شدہ الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمانی عمل کو معطل اور اراکین پارلیمنٹ کے حق رائے شماری کو سلب نہیں کیا جا سکتا۔

    خط پر دستخط کرنے والوں میں ماہرین تعلیم، وائس چانسلرز، صحافی اور انسانی حقوق کے علمبردار جس میں ایچ ای سی کے چیرر برسن طارق بنوری، ماہرین تعلیم سلیمہ ہاشمی، ڈاکٹر عائشہ رزاق، رضا رومی، ڈاکٹر عمار علی جان، پروفیسر فتح مری، ڈاکٹر اشتیاق احمد، انسانی حقوق کے کارکنوں جناب حارث خلیق، کرامت علی، پیٹر جیکب، عامر رانا، نعیم مرزا، عدنان رفیق، عارف آذاد، ممتاز صحافی ناصر زیدی، عاصمہ شیرازی، عامر غوری، محسن بیگ، ضیغم خان، اقبال خٹک، عدنان کاکڑ، عدنان رحمت، سبوخ سید، ماہر قانون اکرم راجہ اور دیگر شامل ہیں.

    خط میں کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان معا شرے کے تمام طبقات کے درمیان ایک مقدس معاہدہ اور کروڑوں شہریوں کے مشترکہ مفادات کا عکاسی ہے اور آئین وقانون کی مکمل اور غیر مشروط پابندی ایک پرامن، مہذب اور خوشحال معاشرے کے قیام اور تسلسلکے لیے ناگزیر ہے جبکہ اس سے اجتناب نقش امن اور معاشرے میں افراتفری کا موجب بنتا ہے.

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آج آئین کے تقدس کے حوالے سے جو بھی کرے گا وہ ہماری قومی زندگی اور مستقبل کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ ہماری آئندہ نسل کی عزت و آبرہ اور خوشحالی کا دارومدار صرف آئین کی بالادستی اور ایسی سیاست کے فروغ میں ہے جس میں باہمی احترام اور شائستگی کے اجزا شامل ہوں۔

    خط کنندگان نے اس امید کا اظہار کیا کہ جج صاحبان کی آئین سے غیر متزلزل وابستگی اور انصاف سے والہانہ لگاؤ قوم کو اس کٹھن وقت سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

  9. تحریک انصاف کی پنجاب میں اپنے ہی ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک

    پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب اسمبلی میں اپنے ہی ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کرا دی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے۔

  10. حمزہ شہباز: ’تحریک انصاف اور پرویز الہی کا گٹھ جوڑ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے‘

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازع پر حمزہ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے ملک کو بنانا رپبلک بنا کر رکھ دیا ہے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے جو تماشہ لگایا جا رہا ہے وہ سارا پاکستان دیکھ رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو اپنے اقدامات کے نتائج کا بخوبی پتا ہونا چاہیے۔

    حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے احکامات کو بھی نہیں مانا جا رہا، تحریک انصاف اور پرویز الہی کا گٹھ جوڑ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔

    حمزہ شہباز کے مطابق پنجاب کے منتخب نمائندوں کا حق ہے کہ وہ اپنا قائد ایوان منتخب کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کے حق پر پہلے وفاق میں ڈاکا ڈالا گیا اب پنجاب میں کارروائی کی تیاری ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ کسی بھی غیر آئینی، چور دروازے اور دھونس پر مبنی اقدام سے باز رہا جائے۔

  11. وزیراعلی پنجاب کے انتخاب پر تنازع: ’قاعدے کے مطابق اتھارٹی سپیکر کے پاس ہے اور ان کا حکم مانا جائے گا‘, عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور

    پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخابات کے لیے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے رات گئے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے اجلاس آج شام ساڑھے سات بجے بلا لیا تھا۔

    اس سے قبل اس اجلاس کو 16 تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ 3 اپریل کے اجلاس میں ہونے والی توڑ پھوڑ جی وجہ سے اسمبلی میں مرمت کا کام کرنا ضروری تھا۔

    تاہم آج صبح پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کے احکامات پر نہیں ہو گا بلکہ 16 اپریل ہی کو ہو گا۔

    ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا تھا کہ آفیشل لیٹر جب تک جاری نہیں ہوتا تب تک پہلا آرڈر برقرار رہے گا۔

    خیال رہے کہ رات گئے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے جاری کیا جانے والا آرڈر آفیشل لیٹر پر نہیں لکھا گیا تھا بلکہ اس پر تاریخ ہاتھ سے لکھی گئی تھی۔

    سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے نئے آرڈرز آنے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران میں اس حوالے سے کنفیوژن پائی جاتی ہے۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی ممبر پنجاب اسمبلی عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانستاً یہ صورتحال بنائی جا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق چیف منسٹر کا انتخاب آج ہی ہو جانا چاہیے اور ڈپٹی سپیکر نے اسی کے لیے اجلاس طلب کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ سپیکر پرویز الٰہی دانستاً اس کو روکنا چاہتے ہیں۔

    عظمٰی بخاری کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے نمبر پورے نہیں ہیں جس وجہ سے وہ مزید وقت لینا چاہ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’کل پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں ان کے 65 ممبران موجود نہیں تھے تو اب انھیں نظر آ رہا ہے کہ اب اگر الیکشن ہوا تو یہ ہار جائیں گے۔‘

    اس حوالے سے غیر سرکاری تنظیم پیلڈیٹ کے سرپراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قاعدے کے مطابق اس صورتحال میں اتھارٹی سپیکر کے پاس ہے اور ان کا حکم مانا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک کہ جب سپیکر خود اپنی اتھارٹی ڈپٹی سپیکر کو منتقل نہیں کرتا، ایسے فیصلے کرنے کی اتھارٹی سپیکر ہی کے پاس رہتی ہے۔

    احمد بلال محبوب کے مطابق اجلاس کی طلبی کا صحیح طریقہ بھی یہی ہے کہ اس کے لیے جو بھی نوٹیفیکیشن جاری ہو وہ سرکاری طور پر اسمبلی سیکریٹیریٹ کی جانب سے جاری کیا جائے تاکہ اس نوعیت کی ٹیکنیکل کنفیوژن پیدا ہی نہ ہو۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سپیکر کا مؤقف درست نظر آتا ہے کہ جب تک سرکاری طور پر نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا اس وقت پرانا نوٹیفیکشن برقرار رہتا ہے۔

  12. عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی: چیف جسٹس

    تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے تین اپریل کے حکمنامے میں امن و امان کے خدشے کا اظہار کیا تھا، دوسری اہم چیز عدالتی حکم میں غیرآئینی اقدامات سے روکنا تھی۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی اور ہم سپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے بابر اعوان سے کہا کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہ وگا، ان تمام واقعات کو انفرادی شخصیات سے کیسے لنک کریں گے۔

    چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ایک بج گیا ہے کیس ختم کرنا چاہتے ہیں، دو دن ایک سائڈ کے وکلا نے لے لیے ہیں۔

  13. بابر اعوان: ’حکومت نے کسی کو غدار نہیں کہا، وزیراعظم صاحب نے احتیاط برتی‘

    دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہر شہری کا ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازم ہے اور یہ آئین کا تقاضا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ ریاست کے ساتھ وفادار نہ ہونے والے اراکین کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

    جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ’حکومت نے کسی کو غدار نہیں کہا، وزیراعظم صاحب نے احتیاط برتی۔‘

    جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انھیں معلوم نہیں کون ملوث ہے؟

    جس پر بابر اعوان نے کہا کہ ’وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے۔ وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لیے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے۔‘

  14. بریکنگ, وزیراعلی پنجاب کا انتخاب: پنجاب اسمبلی کو سیل کر دیا گیا

    پنجاب اسمبلی میں اجلاس بلوانے کے حوالے سے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان اختلاف پایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری اور ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

    ڈپٹی سپیکر کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتظامیہ تعاون نہیں کررہی لیکن ایک دو گھنٹوں میں صورتحال مزید کلیئر ہوجائے گی۔

    یاد رہے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے طلب کیا ہے۔

    تاہم دوسری جانب ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16اپریل کو ہی ہوگا۔

  15. اٹارنی جنرل کے تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کے دلائل پر اعتراض

    تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی مراسلے میں چار چیزیں سامنے آئیں لیکن آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت وہ زیادہ تفصیلات نہیں دے سکتے۔

    بابر اعوان نے بتایا کہ دفتر خارجہ نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی اور کابینہ کی میٹنگ میں متعلقہ ڈی جی نے اس پر بریفننگ دی تھی۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ جس پر بابر اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاؤں گا۔

    بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک بریف بنا کر لائے ہیں، جسے وہ ان کیمرا سماعت میں دکھا سکتے ہیں۔

    اٹارنی جنرل نے تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خارجہ پالیسی کا معاملہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ یہ بات ایک سیاسی پارٹی کی جانب سے نہ آئے۔‘

    اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی خارجہ پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے۔‘

    عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کر دی۔

  16. عثمان بزدار کی فرح خان پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید

  17. 22 کروڑ عوام کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ پر ہیں: مریم اورنگزیب

    مسلم لیگ نواز کی رہنا مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 22 کروڑ عوام کی نظریں اس وقت سپریم کورٹ پر ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں فرح گجر چیف منسٹر تھیں اور سب سے پیسے کھا کر تبادلے کرواتی تھیں۔

    انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ تمام احکامات بنی گالہ سے آتے تھے اور بکسے بھر بھر کے بنی گالہ جاتے تھے اور وہ خود باہر نہیں گئیں عمران خان نے انھیں باہر بھیجا ہے۔

  18. بابر اعوان کے ڈیش ڈیش پر کمرۂ عدالت میں قہقہے

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ وہ مراسلے میں کہی گئی بات اشاروں میں عدالت کو بتا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں کہا گیا کہ ’فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے اور تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بابر اعوان کی اس بات پر کمرہ عدالت میں قہقہے لگے

    جسٹس جمال خان مندو خیل نےتحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان سے کہا کہ جو دلائل آپ دے رہے ہیں وہ سپیکر کے وکیل کو دینے چاہییں

  19. ’سپیکر کی رولنگ میں محض الزامات ہیں‘

    چیف جسٹس نے بابر اعوان کے دلائل کے دوران کہا کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ میں بظاہر الزامات ہیں کوئی فائنڈنگ نہیں۔

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کیا سپیکر حقائق سامنے لائے بغیر اس طرح کی رولنگ دے سکتا ہے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ بھی بتائیں کہ کیا سپیکر آرٹیکل 95 سے باہر جا کر ایسی رولنگ دے سکتا ہے جو ایجنڈے پر نہیں۔‘

    چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ’یہی وہ آئینی نکتہ ہے جس پر عدالت نے فیصلہ دینا ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ کا دفاع لازمی کریں لیکن ٹھوس مواد پر۔ سپیکر کی رولنگ میں محض الزامات ہیں۔‘

    اس موقع پر چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’نینشل سیکورٹی کونسل اجلاس کے منٹس کدھر ہیں، ڈپٹی سپیکر نے کس مواد پر اختیار استعمال کیا،عدالت کے سامنے حقائق کی بات کریں۔‘

  20. ’فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی‘

    پاکستان کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے عدالت جاننا چاہتی ہے کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی،

    عدالت کا کہنا تھا کہ اسے یہ دیکھنا ہے کہ کیا سپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی فیکٹ پر جا سکے۔

    چیف جسٹس نے بابر اعوان سے سوال کیا کہ اگر ایک آئینی طریقہ ہے جس کو بالکل سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ آپ نے یہ بھی بتانا ہے۔