پنجاب اسمبلی میں نئے سپیکر کے انتخابات کے لیے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے رات گئے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے اجلاس آج شام ساڑھے سات بجے بلا لیا تھا۔
اس سے قبل اس اجلاس کو 16 تاریخ تک ملتوی کر دیا گیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ 3 اپریل کے اجلاس میں ہونے والی توڑ پھوڑ جی وجہ سے اسمبلی میں مرمت کا کام کرنا ضروری تھا۔
تاہم آج صبح پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کے احکامات پر نہیں ہو گا بلکہ 16 اپریل ہی کو ہو گا۔
ترجمان سپیکر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر زین علی بھٹی کا کہنا تھا کہ آفیشل لیٹر جب تک جاری نہیں ہوتا تب تک پہلا آرڈر برقرار رہے گا۔
خیال رہے کہ رات گئے ڈپٹی سپیکر کی جانب سے جاری کیا جانے والا آرڈر آفیشل لیٹر پر نہیں لکھا گیا تھا بلکہ اس پر تاریخ ہاتھ سے لکھی گئی تھی۔
سپیکر پرویز الٰہی کی جانب سے نئے آرڈرز آنے کے بعد پنجاب اسمبلی ممبران میں اس حوالے سے کنفیوژن پائی جاتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی ممبر پنجاب اسمبلی عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دانستاً یہ صورتحال بنائی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق چیف منسٹر کا انتخاب آج ہی ہو جانا چاہیے اور ڈپٹی سپیکر نے اسی کے لیے اجلاس طلب کیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ سپیکر پرویز الٰہی دانستاً اس کو روکنا چاہتے ہیں۔
عظمٰی بخاری کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے نمبر پورے نہیں ہیں جس وجہ سے وہ مزید وقت لینا چاہ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’کل پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ میں ان کے 65 ممبران موجود نہیں تھے تو اب انھیں نظر آ رہا ہے کہ اب اگر الیکشن ہوا تو یہ ہار جائیں گے۔‘
اس حوالے سے غیر سرکاری تنظیم پیلڈیٹ کے سرپراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قاعدے کے مطابق اس صورتحال میں اتھارٹی سپیکر کے پاس ہے اور ان کا حکم مانا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تک کہ جب سپیکر خود اپنی اتھارٹی ڈپٹی سپیکر کو منتقل نہیں کرتا، ایسے فیصلے کرنے کی اتھارٹی سپیکر ہی کے پاس رہتی ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق اجلاس کی طلبی کا صحیح طریقہ بھی یہی ہے کہ اس کے لیے جو بھی نوٹیفیکیشن جاری ہو وہ سرکاری طور پر اسمبلی سیکریٹیریٹ کی جانب سے جاری کیا جائے تاکہ اس نوعیت کی ٹیکنیکل کنفیوژن پیدا ہی نہ ہو۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ اس صورتحال میں سپیکر کا مؤقف درست نظر آتا ہے کہ جب تک سرکاری طور پر نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوتا اس وقت پرانا نوٹیفیکشن برقرار رہتا ہے۔