بلاول:’امید ہے سپریم کورٹ آئین اور جمہوریت کا ساتھ دے گی‘
بلاول بھٹور زردای کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آئین اور جمہوریت کا ساتھ دے گی۔
پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو آئینی بحران پیدا کیا ہے اس سے نکلنے کے لیے پیپلز پارٹی کی نظر میں ایک ہی آئینی راستہ ہے کہ عدالت انصاف کرے گی اور ووٹ آف نوکانفیڈنس جہاں سے رکا وہیں سے شروع ہو گا اور یہی جمہوری اور آئینی حل ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’2018 میں عمران خان کی سیلیکشن کے نتیجے میں پاکستان کے سارے ادارے متنازع ہو گئے ہیں اور اس دھاندلی کی وجہ سے ایسا پولرآئزیشن کا سلسلہ شروع ہوا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں۔‘
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی سیلیکشن سے جو غلطیاں ہوئیں، قوم نے تین سال کا ظلم برداشت کیا اور عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ جیسے ادارے ایک شخص کی سیلیکشن سے متنازع ہوئے اب ان کے لیے موقع ہے کہ وہ غیر متنازع ہو سکیں اور ہم جمہوریت کی بحالی کی طرف جا سکیں۔‘
’2018 کے الیکشن کی وجہ سے جو داغ ہمارے پارلیمان، اعلیٰ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پہ ہے، اب موقع ہے کہ ہم سب وہ داغ دھوئیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسا نہیں ہوتا تو آگے الیکشن بہت ہی متنازع ہوں گے بلکہ ادارے بھی متنازع رہیں گے اور مجھے تو الیکشن میں تشدد کا بھی خدشہ ہے۔‘