آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. بلاول:’امید ہے سپریم کورٹ آئین اور جمہوریت کا ساتھ دے گی‘

    بلاول بھٹور زردای کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ سپریم کورٹ آئین اور جمہوریت کا ساتھ دے گی۔

    پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو آئینی بحران پیدا کیا ہے اس سے نکلنے کے لیے پیپلز پارٹی کی نظر میں ایک ہی آئینی راستہ ہے کہ عدالت انصاف کرے گی اور ووٹ آف نوکانفیڈنس جہاں سے رکا وہیں سے شروع ہو گا اور یہی جمہوری اور آئینی حل ہو گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’2018 میں عمران خان کی سیلیکشن کے نتیجے میں پاکستان کے سارے ادارے متنازع ہو گئے ہیں اور اس دھاندلی کی وجہ سے ایسا پولرآئزیشن کا سلسلہ شروع ہوا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں۔‘

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی سیلیکشن سے جو غلطیاں ہوئیں، قوم نے تین سال کا ظلم برداشت کیا اور عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ جیسے ادارے ایک شخص کی سیلیکشن سے متنازع ہوئے اب ان کے لیے موقع ہے کہ وہ غیر متنازع ہو سکیں اور ہم جمہوریت کی بحالی کی طرف جا سکیں۔‘

    ’2018 کے الیکشن کی وجہ سے جو داغ ہمارے پارلیمان، اعلیٰ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پہ ہے، اب موقع ہے کہ ہم سب وہ داغ دھوئیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر ایسا نہیں ہوتا تو آگے الیکشن بہت ہی متنازع ہوں گے بلکہ ادارے بھی متنازع رہیں گے اور مجھے تو الیکشن میں تشدد کا بھی خدشہ ہے۔‘

  2. ’کپتان میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تھی، وہ پچ چھوڑ کر بھاگ گیا‘ بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’کپتان میں مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں تھی، وہ پچ چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اتنی بزدلانہ شکست میں نے پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیکھی۔‘

    بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد زرداری ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جن کی جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں ہم سیلیکشن کے نتیجے میں جو ایک سیلیکٹو راج قائم کیا گیا، اسے ختم کرنے اور کٹھ پتلی وزیرِ اعظم کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’ہم جدوجہد کر رہے تھے کہ اس شخص، جس نے ہماری جمہوریت کا جنازہ نکالا، معیشیت کا بیڑا غرق کر دیا اور خارجہ پالیسی کا ستیاناس کر دیا، اسے ہٹانا ہی ہٹانا تھا مگر ساتھ ساتھ ہم جمہوریت کی بحالی، آئین کی بالادستی اور ملکی اداروں کو فعال کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

  3. مراسلہ جعلی نہیں، حقیقیت ہے، کوئی ردوبدل نہیں، شاہ محمود قریشی

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کی جانب سے دھمکی آمیز مراسلے پر بیانات کے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ مراسلہ جعلی نہیں، حقیقیت پر مبنی ہے اور اس پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو نا مناسب ہے۔

    شاہ محمود قریشی پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کر رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ مریم نواز نے الزام لگایا کہ یہ مراسلہ دفتر خارجہ میں بنایا گیا جو افسوس ناک ہے ’کیوں کہ دفتر خارجہ کے افسران کے پروفیشنلزم پر سوال اٹھایا گیا۔‘

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’یہ مراسلہ ایک کیبل ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا ممکن نہیں، اس میں کوئی ردوبدل نہیں کی گئی۔‘

    ’اس کیبل سے ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ظاہر ہوتی ہے۔‘

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ایک گریڈ بائیس کے سفارت کار پر شک کیا گیا جن کا ریکارڈ بہت اچھا ہے اور انھوں نے صرف اس گفتگو کو من و عن بیان کیا جو ان سے ہوئی۔‘

    شاہ محمود قریشی نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کو برسلز میں خاص طور پر تعینات کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی امریکہ میں مدت مکمل ہو چکی تھی۔

  4. عثمان بزدار نہیں فرح وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھی: مریم نواز کا دعویٰ

    مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ’جس طرح راتوں رات آپ نے فرح کو فرار کروایا ہے، جو بنی گالا کی فرنٹ پرسن ہے اور عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ پنجاب نہیں تھے فرح وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھی اور اس کے تانے بانے بنی گالا سے ملتے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں بہت تمیز سے بات کر رہی ہوں، میں اس سے زیادہ سخت بات کر سکتی ہوں لیکن قوم کے سامنے یہ سب راز آنے والے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم بھی الیکشن سے بھاگنے والے نہیں ہیں، الیکشن سے تو تم بھاگو۔ مسلم لیگ ن کی عوامی سپورٹ ووٹ بینک اب بھی موجود ہے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’ہم الیکشن میں ضرور جائیں گے، لیکن پاکستان کے آئین کا فیصلہ ہونے کے بعد پاکستان کا آئین توڑنے والے کا فیصلہ ہو گا پھر الیکشن میں جائیں گے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’راتوں رات برقع پہن کر پولیس کے حصار میں فرح کو فرار کروایا ہے، میں نے بھی سوشل میڈیا پر تصویریں دیکھی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’تین کروڑ کا جانور کی کھال سے بنا بیگ کہاں سے آیا ہے، کوئی ٹرانسفر، پوسٹنگ یا تبدیلی یا جادو ٹونے سے ہوتی تھی یا فرح کو رشوت دے کر ہوتی تھی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس بات میں کوئی سچائی نہیں ہے تو وہ راتوں رات کیوں فرار ہو گئی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’عثمان بزدار صاحب نے اگر پنجاب میں کہیں کام کروایا تو وہ فرح کا گاؤں ہے۔‘

  5. اگر عمران خان کو آئین توڑنے کی سزا نہ دی گئی تو کل کو کوئی بھی اسے روندتا ہوا نکل جائے گا: مریم نواز

    مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’غداری کی سزا آرٹیکل 6 ہے، یہاں پاکستان کا آئین ٹوٹا ہے، عدلیہ اور تمام ادارے اور سیاسی جماعتیں آئین سے جنم لیتے ہیں، آئین کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری، اگر عمران خان کو آئین توڑنے کی سزا نہ دی گئی تو کل کو کوئی بھی اسے روندتا ہوا نکل جائے گا اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپیکر اسد قیصر بھی مجرم ہے، ڈپٹی سپیکر بھی مجرم ہے لیکن سب سے بڑا مجرم عمران خان ہے جس نے سوری کو پرچی کو لکھ کر دی۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’صدرِ پاکستان کو اسمبلیاں توڑنے کی سفارش نہیں کی گئی، پاکستان کا آئین توڑنے کی سفارش کی گئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگلے الیکشن میں آپ بطور ایک غدار آئین توڑنے والے کا چہرہ لے کر جائیں گے۔ اگر آپ کو یہ سزا نہ ملی تو پاکستان کے عوام آپ کو یہ سزا دیں گے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’آج آپ کی حکومت ختم ہو چکی ہے، لیکن آپ ڈھٹائی سے وزیرِ اعظم کے دفتر میں براجمان ہیں۔ آپ کو کس نے حق دیا کہ آپ پی ٹی وی کو استعمال کریں جو عوام کے وسائل سے چلتا ہے۔

  6. آج سپریم کورٹ میں درخواست گزار کوئی سیاسی جماعت نہیں پاکستان کا آئین ہے: مریم نواز

    مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ نے چند دن اقتدار میں رہنے کے لیے پاکستان کے آئین کو توڑ دیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسمبلی توڑنے کی طرف یہ صرف اس لیے گئے کہ اگر کوئی اور جماعت اپوزیشن میں سے آ گئی، چاہے مہینے کے لیے آئی تو وہ مجھے نہیں چھوڑے گی، کیونکہ ان کے خلاف بدعنوانی کے اتنے بڑے بڑے سکینڈل ہیں کہ یہ ایک دن بھی حکومت سے باہر رہنے کا نہیں سوچ سکتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج سپریم کورٹ میں کیس ہے آئین شکنی کا، آج نہ درخواست گزار کوئی سیاسی جماعت نہیں پاکستان کا آئین ہے جس کے اوپر اپنے چند دن کی حکومت بچانے کے لیے عمران خان نے خودکش حملہ کیا۔‘

  7. سفارتکاروں سے جب ہم ملتے ہیں تو اپنے قوم و ملک کی بات کرتے ہیں: مریم نواز

    مریم نواز نے کہا کہ ’بیرونی سازش کے حوالے سے آپ نے ثبوت کیا دیے کہ میں غیر ملکی سفارتکاروں سے ملتی ہوں، پرویز رشید اور رانا ثنا اللہ سفارتکاروں سے ملتے ہیں۔

    اس کے بعد مریم نواز نے غیر ملکی سفارتکاروں سے عمران خان کی ملاقات کی تصاویر لہراتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ بیرونی سازش کا ثبوت ہے تو پھر یہ کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سفارتکاروں سے جب ہم ملتے ہیں تو ہم اپنے قوم و ملک کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان کی اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ملک کے خوبصورت تشخص کے بارے میں بات کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی بدترین کارکردگی کے بعد جو ساڑھے تین سال آپ نے عوام کا خون چوسا ہے آپ ایک خط دکھا کر نکل جائیں گے۔‘

  8. بریکنگ, پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے کہنا چاہتی ہوں کہ آئیے قوم کو وضاحت دیں: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے کہنا چاہتی ہوں کہ آئیے اس بات میں قوم کو وضاحت دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک سیاسی بات ہے، ایک سیاسی جھوٹ تھا اس کی سچائی قوم کے سامنے رکھیں۔‘

  9. عمران خان نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی اور اس کے اعلامیے کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا: مریم نواز

    مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کیونکہ ان کو پتا تھا کہ خط جب عوام کے سامنے آئے گا تو پول تو کھل جائیں گے۔

    ’کیونکہ حکومت ایسی چیز نہیں ہے جس میں وزیرِ اعظم جھوٹ بول دے اور اس کا جھوٹ چل جائے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جس دن آپ نے اس خط کی ڈرافٹنگ کرنی تھی اس سے ایک رات پہلے آپ نے اس سفیر کو برسلز بھیج دیا کیونکہ آپ کو پتا تھا کہ اگر وہ سفیر اس ملک میں ہوا تو ان سے سوال ہوں گے۔ کہاں ہیں وہ سفیر جو اس سب کے مرکزی کردار تھے۔‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ان کو میڈیا اور سپریم کورٹ کے سامنے پیش کریں۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’آپ نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، اس کے اعلامیے کا غلط استعمال کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جب اس کے اعلامیے میں ذکر ہی نہیں ہے، تو آپ نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی جیسی قومی کمیٹی کو کس طرح اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ادارے آپ کے ساتھ ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔‘

    ’وہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی ہے عمران بچاؤ کمیٹی نہیں ہے۔‘

  10. بریکنگ, خط کے تمام مندرجات بتا دیے، خط نہیں دکھایا۔۔۔ آپ کے لیے آئین توڑنا آسان ہے خط دکھانا مشکل: مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ ’یہ حکومت الیکشن میں بجائے عوام کے پاس اپنی پرفارمنس لے کے جاتی، یہ حکومت ایک خط لے کر آئی اور وہ بھی ایک جعلی خط۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں ایک سوال کرنا چاہتی ہوں کہ وہ خط جو آپ نے چھپا کر رکھا ہے اس کے تمام مندرجات تو آپ بتا چکے ہیں۔ آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ پوری اپوزیشن اور تمام 199 ارکان سازش میں شامل ہے، ان ممالک کے نام بھی لے دیے جو سازش میں شامل ہیں اور یہ بھی بتا دیا کہ وہ سازش کہا بیٹھ کر تیار کی گئی لیکن وہ خط نہیں دکھایا۔‘

    مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ ’وہ خط اس لیے نہیں دکھایا، وہ سرے سے تھا ہی نہیں۔ اگر وہ سازش تھی، تو آپ کو سپریم کورٹ کے سامنے وہ خط رکھنا چاہیے تھا، پاکستانی قوم کو دکھانا چاہیے تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین توڑنا آپ کے لیے آسان ہے، لیکن خط دکھانا آپ کو مشکل لگتا ہے۔‘

  11. اب بھی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سازش میں شریک ہیں: مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ ’اب بھی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سازش میں شریک ہیں جو کچھ ہوا ہے۔‘

    انھوں نے آج نیوز پر عاصمہ شیرازی کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آئی ایس پی آر کہتا ہے کہ ’ہم غیر جانبدار ہیں، اس قسم کے اقدام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ’آج ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ جو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میں ہوا ہے یہ بار بار اس کا حوالہ دے رہا ہے، کہاں ہیں جرنیل جو اپنی پوزیشن واضح کریں، کیوں آپ اس موقع پر خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم ادارے کو ادارے کے طور پر دیکھتے ہیں، افراد بگڑتے ہیں، افراد کا کوئی اعتبار نہیں۔ اب بھی اداروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس سازش میں شریک ہیں جو کچھ ہوا ہے۔‘

    ان کا اس دعوے سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ’میں تو بڑی بات جب کرتا ہوں، سزا بھی بھگتوں گا، پرواہ نہیں ہے اس کی، لیکن ایسے شخص موجود ہیں، اور ہمیں نہ مجبور کیا جائے کہ ہم پھر اس کا نام لیں اور کہیں کہ آپ نے اداروں میں فلاں آدمی کا نام کیوں لیا۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’کیوں آئی ایس آئی کے چیف کو بریفنگ کے لیے عدالت نہیں بلایا جا رہا ہے، یہ ساری چیزیں واضح ہونی چاہییں۔

    ’یہ نہیں ہے کہ ہم احترام میں خاموش رہیں، ورنہ معاملہ دفن ہو جائے گا جمہوریت دفن ہو جائے گی۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’ہم کھل کر بولیں گے، کوئی کہے کہ فوج کے بارے میں بات نہ کریں لیکن ملک کے لیے کروں گا۔ فوج کو فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ جو شناختی کارڈ ان کے پاس ہے وہی میرے پاس ہے، ہم سب برابر کے شہری ہیں۔‘

  12. انھوں نے تو شاید عمران خان کو ایک اثاثے کے طور پر بھی زندہ رکھنا ہے: مولانا فضل الرحمان

    مولانا فضل الرحمان نے آج نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’انھوں نے تو شاید عمران خان کو ایک اثاثے کے طور پر ابھی زندہ رکھنا ہے تاکہ کل کو پھر کسی جمہوری حکومت کے خلاف اسے ایک مہرے کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج جب اس کی حکومت ہے، ادارے بااختیار ہیں نواز شریف کو نکال سکتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کو نکال سکتے ہیں تو اس کے لیے وہ کیوں اس سردمہری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاکہ کل کو پھر اس کو ایک اثاثے کے طور پر محفوظ رکھا جائے؟ اور کل پھر کسی جمہوری حکومت کے خلاف استعمال کیا جائے؟‘

    میزبان عاصمہ شیرازی کے سوال کے جواب میں انھوں نے فوج کے نیوٹرل ہونے کے دعوے کے حوالے سے کہا کہ ’نیوٹریلیٹی مشکوک ہے، نیوٹریلیٹی کوئی چیز نہیں ہوا کرتی، ہاں نیوٹریلٹی کا ہم احترام کریں گے، آئندہ بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جو گند اس ملک پر مسلط ہوا ہے، اور اس میں جو ان کا کردار ہے پہلے اپنے اس کردار کو دھو لیں اس کو صاف کر لیں شفاف نظام ملک میں آئے۔‘

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’حکومت کے لیے اور ریاست کے لیے فوج آخری قوت ہے، جب حکومت کو ضرورت پڑے تو بلائیں انھیں اگر کوئی اور راستہ نہ ہو۔‘

  13. پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اسلام آباد میں اجلاس

    زرداری ہاؤس میں ہونے والے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ہائبرڈ اجلاس میں ملک بھر سے اراکین نے شرکت کی۔

    پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی کی غیرقانونی رولنگ اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر سنگین الزامات پر بھی گفتگو ہوئی اور اس دوران قیادت کو موجودہ سیاسی صورت حال پر تجاویز دی گئیں۔

  14. پاکستان میں عمران خان کے اقدامات کے بعد کیا واقعی انڈیا میں ’ماتم‘ ہو رہا ہے؟

  15. پرویز الٰہی میدان میں آئیں اکثریت ہوئی تو آپ کو لیڈر آف دی ہاؤس تسلیم کر لوں گا: حمزہ شہباز

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ’کل پرویز الٰہی کے پاس عددی اکثریت ہے، میدان میں آئیں اکثریت ہوئی تو آپ کو لیڈر آف دی ہاؤس تسلیم کر لوں گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے چھ اپریل کی تاریخ پنجاب اسمبلی کی دی ہے۔

    حمزہ شہباز کا مزید کہنا تھا کہ ’فرنیچر ٹوٹ گیا بھائی آئین ٹوٹ گیا ہے سپریم کورٹ کواجلاس ملتوی کرنے پر نوٹس لینا چاہیے۔‘

    ’کل پنجاب اسمبلی جاؤں گا وہاں بتائوں گا کہ کتنے لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پر امن لوگ ہیں جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں آئین کو مانتے ہیں کوئی غیر قانونی کام نہیں کریں گے۔ ’سپریم کورٹ پر ذمہ داری ہے کہ وہ جمہوریت کی گاڑی کو چلائے۔‘

    ادھر رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کے سامنے اجلاس ملتوی کروانا توہین عدالت ہے۔‘

  16. ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں جس کی بہت بڑی سزا اٹھانی پڑی: عمران خان

    لاہور میں گورنر ہاؤس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آپ سب کو الیکشن کی تیاری کرنی ہے اب، انشااللہ اگلے تین مہینے میں پاکستان میں الیکشن ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس مرتبہ ہم سوچ سمجھ کر اپنے نظریاتی لوگوں کو ٹکٹیں دیں گے۔ ہم سے ماضی میں غلطیاں ہوئیں جس کی بہت بڑی سزا اٹھانی پڑی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہم نے اپنی غلطیوں سے سیکھ کر سوچ سمجھ کر ٹکٹ دینے ہیں۔ جو ایم پی اے ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے انھیں ٹکٹ دیں، انھوں نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔‘

    عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ’یہ الیکشن ہاریں گے نہیں بلکہ ان کی سیاسی قبر بنے گی۔‘

  17. ’پنجاب اسمبلی کا اجلاس چھ اپریل کی بجائے 16 اپریل تک ملتوی کرنا ثابت کرتا ہے یہ شکست کھا چکے ہیں: حنا پرویز بٹ

    پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ ’پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6 اپریل کی بجائے 16 اپریل تک ملتوی کرنا ثابت کرتا ہے یہ شکست کھا چکے ہیں۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دھاندلی سے آنے والا نیازی اب پنجاب کا وزیراعلی بھی دھاندلی سے لانا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے ارکان تم سے نفرت کرتے ہیں۔‘

  18. مفاد پرست اور ضمیر فروشوں کی بجائے مخلص اور قربانیاں دینے والے کارکنوں کو آگے لاؤں گا: عمران خان

    پی ٹی آئی کے آفیشنل اکاؤنٹ سے عمران خان کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’کارکنان انتخابات کی تیاری کریں، اس بار مفاد پرست اور ضمیر فروشوں کی بجائے مخلص اور قربانیاں دینے والے کارکنوں کو آگے لاؤں گا۔‘

  19. نگران حکومت کا قیام اس کیس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، کوشش ہے کل فیصلہ سنا دیں گے: چیف جسٹس

    ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ ’نگران حکومت کا قیام اس کیس کی وجہ سے رکا ہوا ہے، کوشش ہے کل فیصلہ سنا دیں گے۔‘

    دوسری جانب اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ’یہ قومی اہمیت کا کیس ہے، عدالت کی تفصیلی معاونت کرنا چاہتا ہوں۔

    اس حوالے سےجسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا ہے کہ ’وقت کم ہے لیکن جلد بازی میں بھی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔‘

  20. بریکنگ, ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے اجلاس 16 اپریل تک مؤخر کر دیا

    ایک جانب تو سپریم کورٹ میں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری ہے تو دوسری جانب پنجاب میں سیاسی بحران بھی عروج پر ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر سردار دوست محمد مزاری کی جانب سے اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہونا تھی۔

    اس سے قبل، تین اپریل کو اجلاس کو چھ اپریل تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اجلاس ایوان اور لابی میں ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے باعت تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے آج سپریم کورٹ میں اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کا اجلاس کل ہی بلایا جائے گا۔