آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان نے صدر کو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دے دی

    وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے مختصر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے صدر عارف علوی کو تجویز دی ہے کہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں جس کے بعد اگلے الیکشن اور عبوری نظام کے لیے تیاریاں شروع ہوجائیں گی۔

    انھوں نے قوم کو تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ بیرونی طاقتوں کی مدد سے منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی، وہ ناکام کر دی گئی ہے۔

  2. بریکنگ, وزیر اعظم عمران خان: ساری قوم کو مبارک دیتا ہوں

    قوم کے نام پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپیکر نے یہ فیصلہ اپنی پاورز استعمال کر کے کیا ہے۔

  3. وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کچھ دیر میں، سپیکر کی جانب سے تحریک عدم اعتماد مسترد

  4. بریکنگ, فواد چوہدری: پہلے عدم اعتماد کی قرارداد کی آئینی حیثیت طے کریں

    اجلاس کے آغاز میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری آئین کے آرٹیکل پانچ کی تحت ہر شخص کا بنیادی فرض ہے۔

    انھوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کا معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’عمومی حالات میں عدم اعتماد کی قرارداد جمہوری حق ہے۔ (مگر) ہمارے سفیر کو طلب کیا جاتا ہے، دوسرے ملک کے حکام بھی وہاں موجود تھے۔ عدم اعتماد اس وقت آئی جب یہ ملاقات ہوئی۔‘

    ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ ’جناب سپیکر! ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات کا دار و مدار اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتی تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔‘

    ’اگر کامیاب نہیں ہوتی تو راستہ سخت ہوگا۔ یہ بیرونی سازش ہے حکومت گرانے کے لیے۔ جناب سپیکر! اس کے ساتھ ہی ہمارے کچھ اتحادیوں کا اور اپنے لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے۔‘

    ’یہ فیصلہ عدم اعتماد کا نہیں، آرٹیکل پانچ کا ہے۔‘

    وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ’باہر کی طاقتیں بیٹھ کر حکومت بدلنا چاہتی ہے۔ کیا یہ آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی نہیں، کیا عوام کٹھ پتلی ہے۔ کیا ہم غلام ہیں، لیڈر آف اپوزیشن کے مطابق ہم بھکاری ہیں۔‘

    ’جناب سپیکر اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشہ نہیں چل سکتا۔ پہلے آپ اس کی آئینی حیثیت طے کریں۔‘

  5. بریکنگ, سپیکر کی جانب سے عدم اعتماد کی قرارداد مسترد

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا ہے کہ یہ قرار آئین کے منافی ہے اس لیے سپیکر کی رولنگ کے مطابق اسے مسترد کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے خلاف آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہونا تھی۔ تاہم قاسم سوری، جو سپیکر اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد آنے پر اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کی تحریک آئین، قانون اور رولز کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ کسی غیر ملکی طاقت کو حق نہیں کہ سازش کے تحت پاکستان کی منتخب حکومت کو گرائے۔ عدم اعتماد کی تحریک آئین اور قومی مختاری و آزادی سے منافی ہے۔ اور رولز اور ضابطے کے خلاف ہے۔ یہ قرارداد میں مسترد کرنے کی رولنگ دیتا ہوں۔ ایوان کی کارروائی روک دی جاتی ہے۔‘

    انھوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔

  6. اجلاس کا آغاز، وفاقی وزیر فواد چوہدری کا آئین کے آرٹیکل پانچ اے کا حوالہ

    وفاقی وزیر اطلاعات و قانون فواد چوہدری نے اجلاس کے آغاز کے ساتھ ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو مخاطب کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل پانچ اے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ آیا غیر ملکی قوتوں کی مدد سے پاکستان کی حکومت تبدیل کی جا سکتی ہے؟

    واضح رہے کہ آرٹیکل پانچ اے کے تحت ریاست سے وفاداری ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

  7. چین اور ترکی کو پاکستان کی صورتحال پر تشویش ہے: وزیر خارجہ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ترکی اور چین جیسے دوست ممالک کو پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تشویش ہے۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج صبح مجھے ترکی کے وزیر خارجہ کا فون آیا اور انھوں نے پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کے وزیر خارجہ نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ ہم صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ میں نے ان کو بتایا وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ہے اور ہم اس کا دفاع کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ترکی کے وزیر خارجہ نے عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کا کہا۔ میں نے وزیر اعظم کو ان کے خیالات کے متعلق بتایا تو وزیر اعظم نے ترک بھائیوں کا شکریہ ادا کیا۔

  8. بریکنگ, قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کے سلسلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔

    بی بی سی کی حمیرا کنول کے مطابق اجلاس کے آغاز کے موقع پر وزیراعظم کی کرسی اب بھی خالی ہے تاہم ان کے وزرا کی بڑی تعداد ایوان میں ہے۔

    خیال رہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کو کامیابی ملتی ہے تو نہ صرف وزیراعظم کو جانا ہو گا بلکہ ان کی کابینہ بھی تحلیل ہو جائے گی۔

  9. عدم اعتماد کی تحریک کے آغاز سے قبل حکومتی اراکین کا صلح مشورہ، وزیر اعظم تاحال اسمبلی نہیں پہنچے

    نامہ نگار بی بی سی حمیرا کنول کے مطابق قومی اسمبلی میں آہستہ آہستہ اراکین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تاہم حکومتی بینچز کی اکثریت خالی نظر آ رہی ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی ابھی تک اسمبلی میں نہیں پہنچے ہیں۔

  10. اپوزیشن کی سٹریٹجی اب کیا ہے؟

    جہاں تحریک عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ کا عمل آج مکمل کیا جائے گا وہیں اپوزیشن اراکین مستقبل کی تیاریوں کی بھی بات کر رہے ہیں، ان کی کیا سٹریٹجی ہوگی جانیے اس ویڈیو میں۔

  11. بریکنگ, پنجاب اسمبلی کا اجلاس: گھنٹیاں بجنا شروع، پریس گیلری بند

    پنجاب اسمبلی میں پریس گیلری کو تالا لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر کا کہنا ہے کہ میڈیا نمائندوں کو پریس گیلری میں جانے سے روکا گیا ہے۔

    گھنٹیاں بجنے کے بعد اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا جائے گا۔

    وزارت اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز کا مقابلہ حکومت کی حمایت یافتہ پرویز الہی سے ہونے جا رہا ہے۔

  12. لیگی رہنما مریم اورنگزیب کی اپوزیشن اراکین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ایک اور ٹویٹ

  13. بریکنگ, قومی اسمبلی میں عدم اعتماد تحریک کے آغاز سے قبل اراکین کی عددی صورتحال

    قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے لیے اجلاس شروع ہونے والا ہے اور اپنے قارئین کو ہم بتاتے چلیں کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کی کیا تعداد ہے۔

  14. پوزیشن نے اعتراف کر لیا وہ قوم کو بھکاری بنانا چاہتے ہیں: شبلی فراز

    وفاقی وزیر اور تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اعتراف کر لیا وہ قوم کو بھکاری بنانا چاہتے ہیں۔ جبکہ عمران خان قوم کو خوددار آزاد بنانا چاہتا ہے۔

    شبلی فراز کا کہنا ہے کہ قوم فیصلہ دیکھے گی کہ کون کہاں کھڑا ہے اور کون ملکی مفادات کا سودا کر کے اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے یہ ساری تگ و دو کی گئی ہے کاش اتنی محنت یہ لوگ اس ملک کی ترقی کے لیے بھی کر لیتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج بہت سے سرپرائز ملے گے اور کپتان اپنے فیصلے آخری منٹ میں کرتا ہے۔

  15. سابق صدر آصف زرداری کی حکومتی وزرا حماد اظہر اور شوکت ترین سے ملاقات

    سابق صدر آصف علی زرداری راجہ پرویز اشرف کے ہمراہ حکومتی بینچوں کی جانب بڑھے اور حماد اظہر اور شوکت ترین سے ملاقات کی۔

  16. پنجاب اسمبلی کے باہر بھی گہما گہمی، اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں, اجلاس کے آغاز کے لیے گھنٹیاں بج گئیں

    لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے آغاز کے لیے گھنٹیاں بج گئی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے باہر آج صبح سے کیا ہو رہا ہے، تفصیلات کے لیے دیکھیے بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کی رپورٹ۔

  17. ’اعتماد ہے آج کا میچ عمران خان جیتیں گے‘, حماد اظہر

    وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا ہے کہ انھیں مکمل اعتماد ہے آج کا میچ وزیر اعظم عمران خان جیتیں گے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اپوزیشن کو سرپرائز دیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان میں اکثریت بیرونی سازش کے ساتھ ہے ’تاکہ خارجہ پالیسی کو ناکام کیا جائے۔‘

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عسکری قیادت سیاسی سازش کو ناکام نہیں کرسکتی یہ کام عدلیہ اور عوام کا ہے۔

    حماد اظہر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے جو ’کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی کام نہیں کرے گی۔‘

  18. قائد حزب اختلاف شہباز شریف، آصف زرداری کی قومی اسمبلی میں آمد، اجلاس کا آغاز کچھ دیر میں متوقع

    قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایوان میں داخل ہو ئے تو اراکین نے ڈیسک بجا کر ان کا استقبال کیا۔ اجلاس کے آغاز میں مقررہ وقت کے تحت اب ایک منٹ ہی رہ گیا ہی تاہم بظاہر لگتا ہے کہ اس بار بھی اجلاس دیر سے شروع ہو گا۔

    دوسریجانب نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق پکستان مسلم لیگ ق کے رکن طارق بشیر چیمہ کی آمد پر اپوزیشن نے ڈیسک بجا کر ویلکم کیا۔حکومتی بینچوں پر مرد اراکین سے زیادہ خواتین دکھائی دی رہی ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کچھ ممبران نواز شریف کی تصویر لائے ہیں۔

  19. اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سے سوالات، ’اگر پی ٹی آئی کے تمام اراکین مستعفی ہو گئے تو کیا ہو گا‘

    بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول کے مطابق اس وقت پارلیمنٹ کے گیٹ سے اندر آنے والے اپوزیشن رہنماؤں سے اراکین کے نمبر سے حوالے سے سوالات کیے بجائے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے تمام اراکین مستعفی ہو گئے تو کیا ہو گا۔

    جواب میں زیادہ تر اپوزیشن رہنما مسکراتے ہوئے یہی کہتے رہے ہاں تو ٹھیک ہے۔۔۔ اچھی بات ہے ۔۔۔ کوئی مسئلہ نہیں۔

    لیکن قانون کیا کہتا ہے پالیمان کے رولز کیا ہیں کیا اس پر کوئی اثر پڑتا ہے ؟ تو کیا ہو گا کیا آئینی بحران پیدا ہو گا ؟ اس سوال کے جواب میں پلاٹ کے سربراہ احمد بلال صوفی نے بی بی سی کو بتایا کہ قانونی طور پر پی ٹی آئی کے تمام ممبران بھی مستعفی ہو جائیں تو پارلیمان کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑتا وہ متاثر نہیں ہو سکتا جیسا کہ نئے وزیراعظم کے چناؤ میں۔اسی حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے پڑھیے حمیرا کنول کا یہ مضمون۔

  20. کیا پاکستان کا آئین ملک کے اندرونی معاملات کے خلاف سازش کی اجازت دیتا ہے: شاہ محمود

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہےکہ اپوزیشن کے ٹولے سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا پاکستان کا آئین ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت دیتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔

    اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیا سازشی ٹولے کو ایک منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازش کرنا زیب دیتا ہے ایک ایسے وقت میں جب انڈیا کا میزائل ملکی حدود میں آ رہا ہے، جب افغانستان کا معاملہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کیا نیب کے کیسز کے خوف میں مبتلا ہو کر ایک ٹولہ ملک کے مفادات کو داؤ پر لگا دے کیا جمہوریت اس کا نام ہے۔

    تحریک عدم اعتماد کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آخری گیند تک کھیلنے کا جذبہ لے کر آئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کیا ان تین جماعتوں کے کا نظریہ، ایجنڈا ملتا ہے نہیں ان کا کچھ نہیں ملتا، یہ صرف عمران خان، جمہوریت، آئین پاکستان کے خلاف سازش کرنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اپنے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں، کوئی توڑ پھوڑ نہیں کرنی، قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا۔ نظریہ کا دفاع پرامن رہ کر کرنا ہے۔