اجلاس کے آغاز میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست سے وفاداری آئین کے آرٹیکل پانچ کی تحت ہر شخص کا بنیادی فرض ہے۔
انھوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کا معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’عمومی حالات میں عدم اعتماد کی قرارداد جمہوری حق ہے۔ (مگر) ہمارے سفیر کو طلب کیا جاتا ہے، دوسرے ملک کے حکام بھی وہاں موجود تھے۔ عدم اعتماد اس وقت آئی جب یہ ملاقات ہوئی۔‘
ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ’جناب سپیکر! ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہمارے تعلقات کا دار و مدار اس عدم اعتماد کی کامیابی پر ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوتی تو آپ کو معاف کر دیا جائے گا۔‘
’اگر کامیاب نہیں ہوتی تو راستہ سخت ہوگا۔ یہ بیرونی سازش ہے حکومت گرانے کے لیے۔ جناب سپیکر! اس کے ساتھ ہی ہمارے کچھ اتحادیوں کا اور اپنے لوگوں کا ضمیر جاگ جاتا ہے۔‘
’یہ فیصلہ عدم اعتماد کا نہیں، آرٹیکل پانچ کا ہے۔‘
وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ ’باہر کی طاقتیں بیٹھ کر حکومت بدلنا چاہتی ہے۔ کیا یہ آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی نہیں، کیا عوام کٹھ پتلی ہے۔ کیا ہم غلام ہیں، لیڈر آف اپوزیشن کے مطابق ہم بھکاری ہیں۔‘
’جناب سپیکر اگر ہم غیرت مند قوم ہیں تو یہ تماشہ نہیں چل سکتا۔ پہلے آپ اس کی آئینی حیثیت طے کریں۔‘