آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. شہباز شریف عدالت کو بدعنوانی کے مقدموں میں مطلوب: فواد, ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت آج

    سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’شہباز شریف عدالت کو بدعنوانی کے مقدموں میں مطلوب ہیں۔ ان کی ضمانت کی درخواست عدالت میں ہے لیکن وہ وہاں پیش ہونے کی بجائے اسلام آباد میں مٹر گشت کر رہے ہیں۔

    ’اگر یہ کوئی عام آدمی ہوتا اب تک ضمانت منسوخ ہو چکی ہوتی جب تک قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر برابر نہیں ہوتا ہم قوم نہیں بن سکتے۔‘

    لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت میں رہنما مسلم لیگ ن شہباز شریف کے خلاف شوگر مل کے کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت آج ہوگی۔

    ایف آئی اے کی درخواست پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر عبوری ضمانت غلط ہے تو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں اور عبوری ضمانت کے فیصلے پر نظرثانی نہیں کی جاسکتی۔

    وکیل ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اگر کوئی غیر قانونی کام ہو جائے تو عدالت اسے درست کرسکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون میں فیصلے پر نظرثانی کا اختیار نہیں ہے۔

    فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ دوسرے فریق کو سنے بغیر کوئی آرڈر جاری نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے پیر کو بحث کے لیے نوٹسز جاری کیے ہیں۔ اس طرح عدالت نے چار اپریل کو شہباز شریف کے وکلا کو دلائل کے لیے طلب کیا تھا۔

  2. ’ملک کو انارکی اور آمریت کی طرف دھکیل دیا گیا‘

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور ڈپٹی سپیکر کے اقدامات جمہوریت پر حملہ اور آئین شکنی ہیں۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کی اجازت نہ دینے اور پھر اسمبلی تحلیل کرنے سے ’ملک کو انارکی اور آمریت کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔‘

  3. غدار کون ہے اور آرٹیکل چھ میں اس حوالے سے کیا کہا گیا ہے؟

    قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سپیکر قاسم سوری اور وزیر اعظم عمران خان پر ’سنگین غداری‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں پر پاکستان کے آئین کا ’آرٹیکل چھ‘ لگے گا جو غداری کے بارے میں ہے۔

    ادھر تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے بھی اپنے منحرف ارکان کو ’غدار‘ کہا جا رہا ہے۔

    آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ’ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔‘

    یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔

    ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق ’غداری‘ کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔

    جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ ’آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا۔‘

  4. اسمبلی تحلیل ہونے پر عوام کا ردعمل

    قومی اسمبلی کے باہر موجود مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے اسمبلی تحلیل ہونے اور عدم اعتماد آئین کے خلاف قرار دیے جانے پر کیا ردِعمل دیا، جانیے شمائلہ خان اور موسیٰ یاوری کی اس ویڈیو میں

  5. نگران وزیر اعظم کیسے تعینات کیا جائے گا؟, بلال کریم مغل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    نگران حکومت کا قیام آئین کی شق 224 کے تحت عمل میں آتا ہے جس کی ذیلی شقوں کے مطابق اگر شق 58 کے تحت اسمبلی تحلیل ہو جائے، تو صدرِ مملکت وزیرِ اعظم اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی مشاورت سے نگران وزیرِ اعظم تعینات کریں گے۔

    تاہم یہ تعیناتی صدرِ مملکت کا اختیار نہیں بلکہ یہ قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم کے اتفاق کے بعد عمل میں آتی ہے۔

    آئین کی شق 224 کے تحت اگر اسمبلی تحلیل ہو جائے تو ختم ہونے والی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم نے باہمی مشاورت سے کسی ایک نام پر متفق ہونا ہوتا ہے۔

    اور اس کام کے لیے اُن کے پاس اسمبلی کے تحلیل سے لے کر صرف تین دن کا وقت ہوتا ہے۔

    ایک بار ان کے نام پر اتفاق ہو جائے تو صدرِ پاکستان اس نام کی منظوری دیتے ہیں اور جب تک نگران وزیرِ اعظم نہ آ جائے، اس وقت تک عمران خان ہی وزیرِ اعظم رہیں گے۔

    اگر عمران خان اور شہباز شریف کسی نام پر متفق نہ ہوئے تو معاملہ ایک کمیٹی میں جائے گا جس میں اپوزیشن سے چار اور حکومت سے چار ارکان کی شمولیت ضروری ہوتی ہے اور تحلیل ہو چکی اسمبلی کے سپیکر ہی اس کمیٹی کا قیام عمل میں لائیں گے۔

    ماہرین کے مطابق، اگر یہ کمیٹی بھی خود تک معاملہ پہنچنے کے تین دن کے اندر تک فیصلہ نہ کر سکے تو پھر یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے جس نے دو دن کے اندر اندر نگران وزیرِ اعظم کے نام کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔

  6. گذشتہ روز آخر ہوا کیا؟

    3 اپریل شاید پاکستانی تاریخ کے اہم ترین دنوں میں سے ایک قرار دیا جائے گا۔ خبروں سے بھرپور گذشتہ روز کیا کیا ہوا؟

    ہم نے اس کا خلاصہ دینے کی کوشش کی ہے:

    • گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونا تھی۔ مگر سپیکر قاسم سوری نے متحدہ اپوزیشن کی یہ قرارداد آئین کے منافی اور ضوابط کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دی۔
    • اس کے فوراً بعد عمران خان نے بظاہر ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ قوم کے نام پیغام کے ذریعے اسمبلی تحیل کرنے اور فوری الیکشن کا اعلان کیا۔ صدر عارف علوی نے ان کی تجویز کو منظور بھی کر لیا۔ عمران خان نے دعویٰ کیا کہ تحریک عدم اعتماد ان کی حکومت کے خلاف ایک بیرونی سازش تھی۔
    • اپوزیشن نے سپیکر اور وزیر اعظم کے اس عمل کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا ہے۔
    • کابینہ تحلیل ہونے سے کابینہ ڈویژن نے عمران خان کے وزیر اعظم نہ رہنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ اور ساتھ ہی صدر نے ہدایت جاری کی کہ نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی تک عمران خان ہی وزیر اعظم رہیں گے۔
    • سپریم کورٹ نے ’موجودہ سیاسی صورتحال‘ کے حوالے سے از خود نوٹس لیا جس میں ’ملک کی آئینی صورتحال سے متعلق تشویش‘ ظاہر کی گئی۔ اس کیس کی سماعت آج صبح 11 بجے ہوگی مگر سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں پُرامن رہیں اور کوئی بھی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔
    • ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ اتوار کو (قومی اسمبلی میں) جو کچھ ہوا اس میں فوج کی رضامندی نہیں تھی اور اس کا فوج سے کوئی تعلق نہیں۔
  7. ’نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی تک عمران خان وزیر اعظم رہیں گے‘, صدر عارف علوی کا ٹویٹ

    صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 اے (4) کے تحت نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی تک عمران احمد خان نیازی وزیر اعظم رہیں گے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل کابینہ ڈویژن کی جانب سے عمران خان کے وزیرِ اعظم نہ رہنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے تھے۔

    تاہم اب صدر کی ہدایت کے مطابق نگراں وزیر اعظم کی تعیناتی تک عمران خان وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔

  8. عمران خان کی بغاوت نے عدم اعتماد کو تو متاثر کیا پر اچھی بات یہ کہ سلیکٹڈ چلا گیا: بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے وہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کے ووٹ، انتخابی اصلاحات اور قبل از وقت انتخابات کے ذریعے ہم اس مقصد کے حصول کے لیے پوری طرح تیار تھے۔ عمران کی بغاوت نے نہ صرف نیشنل کمیشن آف پاکستان اور انتخابی اصلاحات کو نقصان پہنچایا بلکہ ایک اور کمپرومائزڈ الیکشن مسلط کیا۔ لیکن تسلی یہ ہے کہ سلیکٹڈ چلا گیا‘

    سماجی رابطے کے ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم آئین پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ کو چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ ہمارا آئین کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ ہے۔ اگر ہم قومی اسمبلی کے فلور پر آئین کا نفاذ نہیں کر سکتے تو ہم کہیں بھی آئین کی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔‘

  9. سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینے کی وجہ کیا بنی؟

    عدالت کی جانب سے جاری کردہ آرڈر آف دی ڈے میں اس بات کی تفصیل بھی لکھی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کو موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے از خود نوٹس کیوں لینا پڑا۔

    آرڈر آف دی ڈے کے مطابق: ’متعدد معزز جج صاحبان نے مجھ سے ملاقات کی اور ملک کی آئینی صورتحال سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جو آج وزیرِ اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئین کے آرٹیکل 5 کی بنیاد پر مسترد کرنے کے بعد پیدا ہوئی۔‘

    ’جس کے بعد آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

  10. عمران خان وزیرِ اعظم نہیں رہے، کابینہ ڈویژن نے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا

    کابینہ ڈویژن کی جانب سے عمران خان کے وزیرِ اعظم نہ رہنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت قومی اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد عمران خان اب وزیراعظم نہیں رہے۔

    کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق عمران خان کے وزیراعظم نہ رہنے کے نوٹیفکیشن کا اطلاق فوری ہو گا۔

    سیاسی مواصلات پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر شہباز گل نے ایک ٹویٹ میں کابینہ ڈویژن کے نوٹیفیکیشن کو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہی قاعدہ اور قانون ہے۔ اب اس لیٹر کے بعد آئین کے آرٹیکل 224A- (4) کے تحت نگران وزیر اعظم کے آنے تک، جناب عمران خان وزیراعظم کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔‘

  11. موجودہ سیاسی صورتحال پر لائحہ عمل طے کرنے کے لیے متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ آغاز شروع

  12. کیا چیف جسٹس بندیال سپریم کورٹ کی کھوئی ہو ساکھ بحال کر پائیں گے؟: مصطفیٰ نواز کھوکھر

    پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’ہماری سپریم کورٹ کا داغدار ماضی ہے۔ فوجی مارشل لا کی توثیق کرنے سے لے کر، سیاسی لیڈران کو پھانسی گھاٹ بھیجنا اور اپنے دائرہ کار سے نکل کر ایگزیکٹو حیثیت اپنا لینے تک۔‘

    ’کیا چیف جسٹس بندیال سپریم کورٹ کی کھوئی ہو ساکھ بحال کر پائیں گے؟‘

  13. تحریک انصاف کے کارکنان باالخصوص لیڈران سے گزارش ہے کہ وہ عاجزی و انکساری سے کام لیں: فیصل جاوید خان

    پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینٹیر فیصل جاوید خان کا کہنا ہے کہ ’تحریک انصاف کے کارکنان بلخصوص لیڈران سے گزارش ہے کہ وہ عاجزی اور انکساری سے کام لیں-

    ’جیسے کہ ہمارے کپتان کرتے ہیں- ہم جتنا بھی اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کم ہے۔‘

  14. ہم بغلیں بجانے اور بغلیں جھانکنے والے لوگ، وسعت اللہ خان کا کالم

  15. اپوزیشن: عمران خان نے ملک اور آئین کے خلاف بغاوت کی

    متحدہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے آج ملک اور آئین کے خلاف کھلی بغاوت کی ہے جس کی سزا آئین کے آرٹیکل 6 میں درج ہے۔

    اپنے مشترکہ بیان میں متحدہ اپوزیشن نے کہا کہ سپیکر سمیت تمام حکومتی ارکان کے ’غیر آئینی و غیر پارلیمانی اقدامات‘ اور رویوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اُنھیں آئین شکن قرار دیتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ایوان کے اندر متحدہ اپوزیشن اپنی واضح اکثریت ثابت کر چکی ہے۔

    اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے صورتحال کا نوٹس لینے کے اقدام کو سراہا اور کہا کہ امید ہے کہ اتوار کے اقدامات پر دستور کے مطابق فیصلہ ہو گا۔

  16. عام انتخابات کے ہمارے اعلان پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ردِعمل پر حیران ہوں: عمران خان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’عام انتخابات کے ہمارے اعلان پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ردِعمل پر حیران ہوں۔

    عمران خان نے لکھا کہ ’انھوں نے تو آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا کہ ہماری حکومت ناکام ہو گئی ہے اور عوام میں اپنی تائید و مقبولیت کھو بیٹھی ہے تو پھر اب انتخابات سے خوفزدہ کیوں ہیں؟

    ’جمہوری لوگ تو تائید و حمایت کے لیے ہمیشہ عوام ہی سے رجوع کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کیا پی ڈی ایم کے لیے یہ بہتر نہیں کہ ’حکومت گرانے کی غیرملکی سازش میں آلۂ کار بننے اور ضمیروں کی شرمناک منڈیاں سجا کر ہمارا قومی اخلاقی ڈھانچہ تباہ کرنے کی بجائے انتخابات قبول کریں؟‘

  17. آج عمران خان نے پنجاب کی 12 کروڑ آبادی کے ساتھ مذاق کیا: حمزہ شہباز

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور اپوزیشن کی جانب سے پنجاب میں وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان پر خواتین کی جانب سے حملہ کیا گیا، اور اسی اثنا میں کہا گیا کہ سیشن کو معطل کیا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ 12 کروڑ کا صوبہ ہے، آپ نے اجلاس بلایا جس میں وزیرِ اعلیٰ کا انتخاب ہونا تھا، آپ نے پنجاب کے لوگوں کا مذاق اڑایا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’علیم خان اور ترین گروپ کے رہنما ہمارے ساتھ اپنے ضمیر کی آواز پر کھڑے ہیں، یہ شخص پاکستان کے ساتھ دشمنی کر رہا ہے اور سفارتی تعلقات خراب کرنے کے پیچھے لگا ہے۔‘

  18. پنجاب اسمبلی کی کارروائی کے حوالے سے کل احکامات جاری کریں گے: چیف جسٹس

    پاکستان مسلم لیگ ن کے وکیل اعظم نذیر تارڈ نے سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج قائد ایوان (وزیراعلیٰ) کا انتخاب ہونا تھا لیکن محض تین منٹ کی کارروائی کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔‘

    انھوں نے استدعا کی کہ عدالت نے جس نوعیت کے احکامات وزیراعظم اور صدر کے حوالے سے جاری کیے ہیں اسی نوعیت کے احکامات گورنر پنجاب کے لیے بھی جاری کیے جائیں۔

    اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’کیونکہ ابھی پنجاب اسمبلی میں ہونے والی کارروائی سے متعلق ان کے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں اس لیے وہ عدالت کو کل اس بارے میں آگاہ کریں تاکہ مناسب احکامات جاری کیے جا سکیں۔‘

    عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والا پانچ رکنی بینچ اس ازخود نوٹس کی سماعت کرے گا۔

  19. ’جب بیرونی سازش کے حوالے سے نہ کوئی سماعت ہوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آیا، تو سپیکر آئین کے آرٹیکل 5 کا سہارا کیسے لے سکتا ہے‘

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’ہم اسمبلی کی کارروائی کی مداخلت نہ کرنے کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 69 کے بارے میں بہت محتاط ہیں اور اسمبلی میں آج جو کارروائی ہوئی اس کے بارے میں ہم کل کی سماعت میں غور کریں گے۔

    عدالت نے سوال اٹھایا کہ ’جب بیرونی سازش کے حوالے سے نہ کوئی سماعت ہوئی نہ کوئی نتیجہ سامنے آیا، تو سپیکر عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کرنے کے لیے آئین کے آرٹیکل پانچ کا سہارا کیسے لے سکتا ہے۔‘

  20. نگران حکومت کیا ہوتی ہے، کیسے بنتی ہے اور اس کا دائرہ کار کیا ہوتا ہے؟