آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. حکومت آئین شکنی اور سنگین غداری کی مرتکب ہوئی: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر، سپیکر، صدر پاکستان اور جس کسی نے بھی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرنے سے روکا اس نے سنگین غداری اور آئین شکنی کی ہے۔

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج ڈپٹی سپیکر نے جو کیا وہ آئین شکنی اور سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

    ہمارے وکلا اس حوالے سے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے سپریم کورٹ فوری طور پر اس پر ردعمل دے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں نیئر بخاری، لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کی طرف سے پٹیشن تیار کر رہا ہے۔

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ عمران خان ہار چکے ہیں لیکن وہ اپنی ہار تسلیم نہیں کر رہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ آئین کی بالادستی پر کام کریں گے۔

    ہم پاکستان کو عمران خان کے جنگل کے قانون پر چلنے نہیں دیں گے۔

  2. چوہدری سرور: پرویز الہیٰ کی شکست کی صورت میں اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا گیا تھا, سابق گورنر پنجاب کی پریس کانفرنس

    سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، جنھیں آج وفاقی حکومت نے برطرف کیا، نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے ان پر غیر آئینی اور غیر قانونی کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے چوہدری سرور نے کہا کہ گذشتہ دنوں وزیر اعظم کے ساتھیوں نے اسمبلی کا اجلاس دو اپریل کو بلانے کا کہنا تھا اور حکومت کے حمایت یافتہ وزارت اعلیٰ کے امیدوار پرویز الہی کی شکست پر اسمبلی تحلیل کرنے کا کہا گیا تھا۔

    ان کے مطابق انھیں کہا گیا ’پرویز الہیٰ ہار رہا ہے آپ اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیں۔ اگر وہ 186 ووٹ نہ لے سکے تو آپ اسمبلی تحلیل کر دیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ مطالبات مسترد کرنے پر انھیں وفاقی حکومت نے برطرف کیا۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ’دکھ ہے پاکستان مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے۔‘

    چوہدری سرور نے سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار پر الزام لگایا کہ ان کے دور میں ’ملازمتیں بکتی رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ ہم نے یہ سب برداشت کیا کہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔‘

    ’پوری تحریک انصاف ایک طرف تھی اور عمران خان دوسری طرف۔۔۔ آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سب سے بڑی بیرونی سازش عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ لگانا تھا۔ ہم نے دل پر پتھر رکھ کر عمران خان کا ساتھ دیا۔‘

    اپنی برطرفی کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم نے عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی جو نہیں مانی گئی۔ عمران خان کو ایک بندہ بھی پسند نہیں آیا جسے وزیر اعلیٰ بنا سکیں۔‘

    ’ایسے شخص کو نامزد کیا جو نہ پی ٹی آئی کا ممبر ہے نہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔۔۔ اس شخص سے بلیک میل ہوئے جس کے پاس نو ایم پی اے تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وضاحت کرنا چاہوں گا کہ مجھ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپوزیشن کے کہنے پر ڈبل پلے کر رہا تھا۔‘

    ’عمران خان کے ساتھ میٹنگز ہوئیں۔ انھوں نے کہا چوہدری صاحب ہر صورت اجلاس 3 اپریل کے بعد ہونا چاہیے۔ چوہدری مجھ سے ناراض ہیں کہ اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا۔‘

    چوہدری سرور کا دعویٰ ہے کہ ’مجھے 2 اپریل کو کہا گیا آج ہی (عثمان بزدار کا) استعفیٰ منظور کرو اور اجلاس بلاؤ۔۔۔ میں نے کہا سر خدا کے لیے برطانیہ کا ممبر پارلیمنٹ رہا ہوں۔ ساری زندگی غیر آئینی کام نہیں کیا۔‘

    ’میں ممبر آف پارلیمنٹ رہا ہوں مجھ سے یہ گناہ نہ کروائیں۔ خدا کے لیے مجھ سے میرا استعفیٰ لیں۔۔۔ پرویز الہیٰ نے کہا الیکشن دو اپریل کو نہیں ہوتا تو (میں) جیت نہیں سکتا۔‘

  3. تحریک عدم اعتماد کے لیے علامتی اجلاس

    سپیکر قاسم سوری کی جانب سے قرارداد مسترد اور اجلاس ملتوی کیے جانے کے بعد سابق سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں اپوزیشن نے ایک علامتی اجلاس کیا۔

    تاہم ایون میں مائیک آف تھا اور اسمبلی کا تمام عملہ پانچویں منزل پر موجود تھا۔ اپوزیشن کے چند اراکین کی درخواست کے باوجود عملے نے اسے ان سنی کر دیا۔

  4. حکومت کی جانب سے لیا گیا قدم غیر قانونی ہے: سابق وزیر قانون خالد رانجھا

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے سابق وزیر قانون خالد رانجھا سے موجودہ سیاسی حالات پر سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے لیا گیا قدم غیر قانونی ہے۔

    ’یہ جو ہوا وہ غیر قانونی ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پہلے ہی منظور ہو چکی تھی اور آج صرف اس پر گنتی ہونی تھی۔ ‘

    خالد رانجھا نے کہا کہ اسی بنا پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کر دینے کا مشورہ بھی غیر قانونی ہے۔

  5. بریکنگ, صدر مملکت نے اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی

    پاکستان کے صدر عارف علوی نے وزیر اعظم عمران خان کی تجویز پر اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ایوان صدر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق صدر پاکستان عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کر دینے کی تجویز کے بعد آرٹیکل 58(1) کے تحت اسمبلی تحلیل کر دی ہے۔

  6. غداری کیا ہے اور غدار کون ہے؟

  7. ’عمران خان نے آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا‘, ڈپٹی اٹارنی جنرل

    ڈپٹی اٹارنی جنرل خالد محمود خان کا کہنا ہے کہ سپیکر قاسم سوری اور وزیر اعظم عمران خان کا اقدام آئین کی خلاف ورزی ہے۔

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کسی جمہوری حکومت میں، پاکستان کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے آئین اور قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا۔‘

    خالد محمود خان نے کہا کہ ’اٹارنی جنرل کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، وہ ایماندار ہیں۔ میرے خیال سے ان سے غلط قانونی رائے مانگی جاتی تھی۔‘

    آیا حکومت نے اٹارنی جنرل سے مشاورت کی، اس پر انھوں نے کہا کہ ’مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ مجھے معلوم نہیں کہ آیا وہ (اٹارنی جنرل) آن بورڈ تھے۔‘

    سپیکر کے اقدام پر انھوں نے کہا کہ یہ قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے اور یہ وزیر اعظم کی مرضی کے مطابق ہوا۔

    ’میرے خیال میں سپریم کورٹ ایکشن لے، از خود نوٹس لینا چاہیے۔‘

  8. اپوزیشن جماعتوں کا قومی اسمبلی کا علامتی اجلاس

    پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتیں قومی اسمبلی کا علامتی اجلاس چلا رہی ہیں۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما ایاز صادق نے علامتی اجلاس کی کارروائی کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کی نشست سنبھال لی ہے۔

    اپوزیشن جماعتوں نے علامتی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کارروائی بھی چلائی ہے اور اس ضمن میں ووٹنگ بھی ہو گی۔

  9. ’آئندہ الیکشن ای وی ایم اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے ساتھ ہوگا‘

    تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹوں کے ساتھ ہوں گے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اسمبلی ٹوٹ چکی۔ اب ای وی ایم اور سمندر پار پاکستانیوں کو اپنا ووٹ پر الیکشن ہوں گے۔‘

    ’کیونکہ اسمبلی یہ قوانین پاس کر چکی۔ اب کسی صورت اس کے بغیر الیکشن نہیں ہو سکتا۔ مبارک پاکستانیوں مبارک سمندر پار پاکستانیوں۔ اب لگے کا الیکشن میں میدان۔ اب عوام فیصلہ کرے گی غدار یا کپتان۔‘

  10. ’سپیکر اور عمران خان پر آرٹیکل چھ لگے گا‘, شہباز شریف

    صدر مملکت کو اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز دینے پر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان پر ’سنگین غداری‘ کا الزام لگایا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ سپیکر اور عمران خان پر آرٹیکل چھ لگے گا۔

    انھوں نے ٹویٹ میں کہا کہ عمران خان نے ’ملک کو انارکی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ نیازی اور ان کے ساتھی اس سے بچ نہیں سکیں گے۔ آئین کی خلاف ورزی کے نتائج ہوں گے۔‘

    شہباز شریف کو امید ہے کہ ’سپریم کورٹ آئین کی بالادستی کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔‘

  11. ’کابینہ تحلیل کر دی گئی ہے، وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے‘

    فواد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت وزیر اعظم اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے تاہم کابینہ تحلیل کر دی گئی ہے۔

  12. عمران کے ساتھ جو ہو رہا ہے کیا یہ وہی بھٹو والا سکرپٹ ہے؟

  13. ’اگر سزا نہ دی گئی تو اس ملک میں جنگل کا قانون چلے گا‘

    پاکستان مسلم لیگ نون کی رہنما مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز کے بعد کہا ہے کہ اگر عمران خان کو سزا نہیں دی گئی تو ملک میں جنگل کا قنون چلے گا۔

  14. شیخ رشید کو بھی اس سرپرائز کا علم نہیں تھا, شاہد اسلم، صحافی

    وزیر داخلہ شیخ رشید اسمبلی کی کارروائی اپنے چیمبر میں دیکھ رہے تھے۔

    جب سپیکر کی رولنگ آئی تو دوڑ کر اپنے چیمبر سے نکلے اور سکیورٹی کو ساتھ لیا، گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔

    شیخ رشید بتا رہے تھے انھیں بھی سرپرائز کا علم نہیں تھا۔

  15. ’عمران خان پر آرٹیکل چھ لگتا ہے‘

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ابھی قانونی آپشنز کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے مگر متفقہ رائے یہی ہے کہ عمران خان نے آئین شکنی کی ہے اور ان پر آرٹیکل چھ لگے گا۔

    انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ 22 کروڑ عوام کا ملک ہے، کسی کی جاگیر نہیں۔ عمران خان پر آرٹیکل چھ لگتا ہے وہ وزیر اعظم بھی نہیں رہے۔‘

    ’ان کے پاس اسمبلیاں توڑنے کا اختیار نہیں تھا۔ عمران خان غدار اور آئین شکن ہیں۔‘

  16. ’سیاسی جماعتیں الیکشن کی تیاریاں کریں‘

    وفاقی وزیر اطلاعات و قانون فواد چوہدری نے بھی اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے انتخابات سے فرار اختیار کی تو وہ بھگوڑے قرار دیے جائیں گے اور وہ شکایات کرنے کے بجائے اگلے الیکشن کی تیاری کریں۔

  17. بریکنگ, ’اگلے انتخابات نوے دنوں میں ہوں گے‘

    وزیر مملک فرخ حبیب نے ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ اگلے انتخابات نوے دنوں میں کروائیں جائیں گے۔

  18. ’عمران خان لڑنے کے بجائے وکٹیں اکھاڑ کر میدان سے بھاگ گیا‘

    تجزیہ کار اور صحافی حامد میر نے عمران خان کی جانب سے اسمبلی کو تحلیل کر دینے کی تجویز پر تبصرہ کیا کہ عمران خان آخری گیند تک لڑنے کے بجائے وکٹیں اکھاڑ کر لے گئے۔

  19. بریکنگ, حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے: بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرپرسن بلاول بھٹو نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کردینے اور اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کر دینے کی تجویز کے بعد کہا ہے کہ حکومت نے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔

    ’متحدہ اپوزیشن پارلیمان سے نہیں جائے گی۔ ہمارے وکلا سپریم کورٹ کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم تمام اداروں سے درخواست کرتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اور اس کا تحفظ اور اس کا دفاع کیا جائے۔

  20. بریکنگ, بیرونی مداخلت سے حکومت گرانے کی سازش کو ناکام بنا دیا: عمران خان

    قوم کے نام پیغام میں عمران خان نے مزید کہا کہ انھوں نے بیرونی مداخلت سے حکومت گرانے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’عوام فیصلہ کرے، بیرونی سازش سے پیسوں کی بوریوں سے ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ وہ لوگ جو سارے اچکن سلوا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے لوگوں کو خریدنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے یہ سارا پیسہ اب ضائع ہوگا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں نے یہ پیسہ لیا ہے میں آپ سب کو کہتا ہوں ابھی بھی کوئی ثواب کما لیں، کوئی پناہ گاہ پر لگا دیں اور یتیم خانہ کھول دیں۔ کوئی غریبوں میں پیسہ تقسیم کر دیں۔

    ’اور میں اپنی قوم کو آج کہتا ہوں کہ آپ الیکشنز کی تیاری کریں۔ آپ نے فیصلہ کرنا ہے۔ کسی باہر کی قوت کسی کرپٹ لوگوں نے فیصلہ نہیں کرنا کہ اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا (بلکہ) آپ کو فیصلہ کرنا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’صدر کو ایڈوائس جانے کے بعد اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی اور پھر آگے جو بھی عمل ہے اگلے انتخابات کا یا عبوری حکومت کا وہ اب شروع ہوجائے گا۔ اپنی قوم کو مبارک دیتا ہوں اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔‘