بریکنگ, وزیر اعظم آج عوام کے سوالات کے جواب دیں گے
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج سہ پہر 3 بجے عوام سے براہ راست ٹیلیفونک گفتگو کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیں گے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان آج سہ پہر 3 بجے عوام سے براہ راست ٹیلیفونک گفتگو کریں گے۔
وزیراعظم عمران خان براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیں گے۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں پاکستانی معاملات میں مبینہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحریک عدم اعتماد کی کارروائی روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں مبینہ دھمکی آمیز خط کو لے کر دائر درخواست میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک ایک بین الاقوامی سازش ہے۔
یہ درخواست سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 184/3کے تحت دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار نعیم الحسن ایڈووکیٹ نے تحریک عدم اعتماد کی کارروائی روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میموگیٹ طرز پر تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔ اس میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے۔
درخواست کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزیراعظم آفس، وزارت خارجہ، داخلہ، قانون اور دفاع کو فریق بنایا گیا۔
اس میں سپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن، ایف آئی اے، پی ٹی آئی، مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، جمیعت علمائے اسلام ف اور ایم کیو ایم بھی فریق ہیں۔
اپوزیشن کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کی صورت میں ان کی ترجیح عوام ہوگی۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان نے سرپرائز دینے کے دعوے کیے تھے۔۔۔ وہ لوگوں کو دھمکاتے رہے کہ اپوزیشن میری بندوق کے نشانے پر ہے۔ عمران نیازی کے دھوکے ختم ہوگئے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اب سرپرائز قومی اور صوبائی اسمبلی میں عدم اعتماد کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی سے ملے گا۔‘
پہلی ترجیح کے سوال پر حمزہ شہباز نے کہا کہ ’پہلی ترجیح عوام، دوسری ترجیح عوام، تیسری ترجیح عوام۔‘
حمزہ شہباز کے مطابق ان کی جماعت سیاسی انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ ’عمران نیازی جمہوری عمل کے ذریعے گھر جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ کامیابی پاکستان کی ہونی چاہیے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ حکومت مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، ترین گروپ اور آزاد ارکان کے ساتھ مل کر بنائی جائے گی۔
صوبہ پنجاب کے نئے وزیر اعلٰی کے انتخاب کے لیے لاہور میں پنجاب اسمبلی میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟
بتا رہی ہیں لاہور سے بی بی سی اردو کی رپورٹر ترہب اصغر۔۔۔
اسٹیبلشمنٹ اور قبل از وقت انتخابات سے متعلق سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کرائے جائیں جبکہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ قوانین کے تحت جب تک نیا وزیر اعظم حلف نہیں اٹھاتا عمران خان ہی وزیر اعظم رہیں گے۔
انھوں نے کہا کہ اگر عدم اعتماد ہوجاتی ہے تو وزیر اعظم عمران خان صدر کے اختیارات کے تحت کام جاری کریں گے۔ ’آٹھ یا دس دن جب تک نیا وزیر اعظم حلف نہ اٹھا لے عمران خان وزیر اعظم رہیں گے۔‘
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’دونوں باپ بیٹے پر فرد جرم لگنی تھی وہ مرکز اور صوبے میں امیدوار ہیں۔ عدالتیں 18 فروری کو فرد جرم نہیں لگا سکیں۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اداروں کو کہتا ہوں یہ چوروں کے لیے نمک کی کان ہے۔۔۔ عمران خان بیٹھے بٹھائے مقبول ہوگیا ہے۔‘
’ہم میں بھی بڑی کمزوریاں ہیں۔۔۔ ذمہ داری سے کہتا ہوں لوگ ان کے (اپوزیشن کے) چہرے نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ لوگ ملک کی جمہوریت کو نہیں بچا سکتے۔‘
’ہر گھنٹے بعد ملک کی سیاسی صورتحال بدل سکتی ہے۔ آخری حل یہ ہے تحریک انصاف کے تمام ارکان اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں۔ میرا عمران خان سے وعدہ ہے ساتھ کھڑا ہوں۔ اگر بیرونی سازش ہے تو ان پر غداری کے مقدمے کیے جائیں اور پارٹیوں پر پابندی لگائی جائے۔‘
شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ ’پی ٹی آئی کا ساتھی نہیں ہوں۔ اکیلی سیٹ پر الیکشن لڑتا ہوں۔‘
وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حل کا ایک راستہ یہ ہے کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام ارکان اسمبلی سے مستعفی ہوجائیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے کہا ہے کہ حل کے چار راستے ہیں۔ ’چار راستے ہیں۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ مداخلت کرے اور ملک میں فوری انتخابات کرائیں۔ یہ حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ دوسرا راستہ ان جماعتوں کو کالعدم قرار دیا جائے جنھوں نے پیسے لے کر تحریک عدم اعتماد چلائی۔ تیسرا راستہ یہ کہ اگر الیکشن نہ کرائیں تو تمام تحریک اانصاف کے ارکان مستعفی ہوجائیں۔ چوتھا اداروں سے براہ راست درخواست ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’میں مداخلت کرنے کو نہیں کہہ رہا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو کہہ رہا ہوں غیر ملک کو نہیں کہہ رہا ہوں۔ میرے حلقے میں جی ایچ کیو ہے ٹرپل ون برگیڈ ہے۔ لیکن افسوس یہ مجھے ووٹ ڈالنے نہیں آتے۔‘
مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ ترین گروپ نے اپوزیشن کے امیدوار برائے وزارت اعلیٰ کی ’حمایت کا اعلان کردیا ہے۔‘
لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے ’جہانگیر ترین گروپ کی حمایت حمزہ شہباز کو حاصل ہوچکی ہے۔‘
تاہم وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے ترین گروپ کی جانب سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے یہ الزام لگایا کہ سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کا حکومتی امیدوار اور سپیکر پرویز الہی سے ذاتی تعلق ہے۔ ’وہ دائیں کا کہہ کر بائیں کی مارتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے تیس ایم پی ایز، جو پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، نے مسلم لیگ ن کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
عبدالعلیم خان گروپ کے ترجمان میاں خالد محمود نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے گروپ کے اراکین وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعلی کے عہدے پر نامزد کیے گئے ق لیگ کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہی کو ووٹ نہیں دیں گے۔
سیکریٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے کہا ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے آج محض شیڈول جاری کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا ہے کہ ’آج صرف شیڈول جاری ہوگا اور اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔۔۔ آج ووٹنگ نہیں ہوگی۔‘
انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’سپیکر کا اختیار ہے کہ ووٹنگ کل کرواتے ہیں یا پیر کو۔ فیصلہ سپیکر نے کرنا ہے۔‘
مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی پر الزام لگایا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے ’چور دروازے‘ استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے اراکین پنجاب اسمبلی کی میڈیا ٹاک کے دوران انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نے اپنے ارکان کو صبح آٹھ بجے بلا لیا تھا۔ ’ہماری 80 فیصد حاضری ہے۔ ہمیں معلوم تھا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ مسلم لیگ ن کا کھویا ہوا حق اب واپس ملنے جا رہا ہے۔ ’پرویز الہیٰ چور دروازے استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ ایجنڈا آج جاری ہوا اور آج ہی ووٹنگ کرانے جا رہے ہیں۔ (مگر) ہم نے تیاری پوری کی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر آج وزیر اعلیٰ کے لیے ووٹنگ ہوئی تو یہ غیر آئینی ہوگا۔ ’آج پرویز الہی اور عمران خان کو بہت سے سرپرائز ملیں گے۔ ہمیں اپنی نمبر گیم پر مکمل اعتماد ہے۔‘
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔
ایک ٹویٹ میں وہ کہتے ہیں کہ ’مسلسل ایک کمپین چلائی جا رہی ہے کہ حکومت اور فوج کو علیحدہ دکھایا جائے۔
’عمران خان واضع کر چکے ہیں افواج پاکستان پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کی علامت ہیں۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیر اعظم کے تعلقات مثالی ہیں اور کسی بھی صورت میں ان تعلقات پر آنچ نہیں آئے گی۔‘
پنجاب اسمبلی میں عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور ہونے اور اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد آج شو آف ہینڈ کے ذریعے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا۔ حکومت کے امیدوار پرویز الہیٰ جبکہ اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز ہیں۔
اسمبلی میں کل 371 ارکان ہیں اور وزارت اعلیٰ کے لیے 186 ووٹ درکار ہیں۔
اس وقت اگر پنجاب اسمبلی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان تحریک انصاف کے پاس 183، مسلم لیگ ن کے پاس 165، ق لیگ کے پاس 10، پیپلز پارٹی کے پاس 7، پاکستان راہ حق پارٹی کے پاس ایک سیٹ اور 5 اراکیں آزاد حیثیت میں موجود ہیں۔
رہنما مسلم لیگ ن اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کے ترین گروپ نے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے لیے اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ٹوئٹر پر ان کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان ترین سے بات چیت کا آخری مرحلہ کارآمد ثابت ہوا ہے۔ ’ہم جے کے ٹی گروپ کی حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘
ترین گروپ کا اس حوالے سے تاحال کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ترین گروپ کے ایم پی اے لالا محمد طاہر کے مطابق ان کے پاس 16 ارکان ہیں۔ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے اس گروہ کی گذشتہ روز اپوزیشن اور حکومت دونوں وفود سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ نے بھی تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین کا شکریہ ادا کیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے جاری کردہ ایجنڈے یا لسٹ آف بزنس کے تحت آج کا اجلاس ساڑھے 11 بجے شروع ہوگا۔
اس اجلاس کا آغاز تلاوت اور نعت سے ہوگا۔
ایجنڈے میں صرف ایک صرف چیز ہے: پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 130 کے تحت نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب۔
خیال رہے کہ رواں ہفتے اپوزیشن کے اتحاد نے پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی تھی جس کے بعد انھوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ حکومت نے سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ کو وزارت اعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن کے امیدوار قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز ہیں۔
اسمبلی میں کل ارکان کی تعداد 371 ہے اور جیت کے لیے 186 ووٹ درکار ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب شو آف ہینڈ سے ہوگا۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے پس منظر میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلٰی عثمان بزدار سے استعفی لیا اور اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کو پنجاب کا نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا۔
پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی کی تحصیل تونسہ سے تعلق رکھنے والے عثمان احمد خان بزدار کو سنہ 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے وزیرِ اعلٰی پنجاب کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے کے فیصلے نے سب کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔
ان کے بارے میں متنازع خبروں اور عتراضات پر وزیراعظم عمران خان کو مداخلت کرنا پڑی تھی اور انھوں نے ٹویٹر پر ایک پیغام میں عثمان احمد خان بزدار کی نامزدگی کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ عثمان بزدار کے ساتھ کھڑے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں بھی پنجاب میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین میں سے علیم خان اور جہانگیر ترین گروپ کے ارکان نے انھیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔
کیا حکومت اور اپوزیشن میں ڈیل ممکن ہے؟ اور کیا مبینہ غیر ملکی مداخلت کے بارے میں خط عدم اعتماد کی تحریک پر اثر انداز ہو گا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہم نے اس ویڈیو میں جاننے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد سنیچر کو صوبے کے نئے چیف ایگزیکٹو کا انتخاب متوقع ہے۔
عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ حمزہ شہباز اپوزیشن کے امیدوار ہیں۔
اس وقت اگر پنجاب اسمبلی پر نظر دوڑائیں تو پاکستان تحریک انصاف کے پاس 183، مسلم لیگ ن کے پاس 165، ق لیگ کے پاس 10، پیپلز پارٹی کے پاس 7، پاکستان راہ حق پارٹی کے پاس ایک سیٹ اور 5 اراکیں آزاد حیثیت میں موجود ہیں جبکہ پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ بننے کے لیے 186 ووٹ درکار ہوں گے۔
حکومتی جماعت کے زیادہ تر اراکین کا یہ ماننا ہے کہ پنجاب میں انھیں اپنے حق میں ووٹ لینے میں زیادہ مشکل درپیش نہیں ہو گی کیونکہ بطور پی ٹی آئی کے اتحادی ان کے پاس حکومتی اراکین اور اپنی جماعت کے کے لوگوں سمیت نون لیگ کے چند ناراض اراکین ملا کر تقریباً 200 کے قریب ووٹ موجود ہیں۔
وہیں عبدالعلیم خان گروپ کے ترجمان میاں خالد محمود نے بیان میں کہا کہ ان کے گروپ کے اراکین وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعلی کے عہدے پر نامزد کیے گئے ق لیگ کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر پرویز الہی کو ووٹ نہیں دیں گے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے جہانگیر ترین گروپ کے ایم پی اے لالا محمد طاہر کے مطابق ان کے پاس 16 اراکین ہیں تاہم اس گروپ کے بارے میں ابھی تک یہ واضح نہیں کہ وہ کس امیدوار کا ساتھ دیں گے۔
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے مستعفی ہونے کے بعد سنیچر کو صوبہ پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کا انتحاب ہونا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ق لیگ کے رہنما پرویز الٰہی کو جبکہ حمزہ شہباز کو اپوزیشن نے نامزد کیا ہے۔
پرویز الہی نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ میں اپنی جیت کی امید کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’ہم نے عثمان بزدار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا، ہم نے دو بڑی پارٹیوں کو زیر کر دیا۔ گھبرانے کی ضرورت نہیں، انشاء اللہ ووٹنگ کے روز کامیابی حاصل کریں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ہم نے پہلے بھی دل جیتے ہیں اور آئندہ بھی جیتیں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔‘
تحریک انصاف کی حکومت نے غیر ملک سے آنے والے تنبیہی مراسلے کے معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نجی نیوز چینل جی این این کے ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ قانونی ٹیم نے وزیراعظم اور پارٹی کے چند سینئر رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کے بعد اس معاملے کو سپریم کورٹ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈاکٹر بابر اعوان نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر ’ایک سے زیادہ جگہ پر قانونی کارروائی کا آغاز کر رہے ہیں۔‘