اپوزیشن کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں ’جلد بازی سے تمام عمل کو بلڈوز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ (حکومتی اتحاد) آج ووٹنگ کرانا چاہتے تھے۔ اگر اسے شروع کیا گیا تو بنیاد غلط ہے، پوری عمارت بھی گِر سکتی ہے۔‘
انھوں نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا استعفی ’آئین کے برعکس‘ ہے اور ’آئین میں درج ہے استعفی گورنر کو دیا جاتا ہے۔‘
’گورنر صاحب نے استعفی قبول کیا مگر اس میں وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کیا گیا۔۔۔ وزیر اعلیٰ سے کہا جائے کہ دوبارہ استعفی دیں جس میں گورنر کو مخاطب کیا جائے۔ یہ چیف سیکریٹری پنجاب کی ذمہ داری ہے۔ کل انھیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس طرح وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے ’بڑی شرمندگی ہوسکتی ہے۔‘
رانا ثنا اللہ کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر حمزہ شہباز کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔ ’ترین گروپ کے 16 ارکان آج باضابطہ طور پر اعلان کریں گے۔ کل جہانگیر ترین کی نواز شریف اور اسحاق ڈار سے ملاقات ہوئی۔‘
’چھینہ گروپ سے بھی ہماری بات چیت ہوئی ہے۔ امید ہے چھینہ گروپ اپنا فیصلہ تبدیل کرے گا اور واپس ن لیگ کے ساتھ آئے گا۔ وہ بھی 10 ارکان کے قریب ہیں۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہمارا نمبر آج بھی پورا ہے کل بھی پورا ہوگا۔ آپ کا نمبر پورا نہیں آپ غیر آئینی کام نہ کریں۔ جو غلطی ہوئی اس کا ازالہ کریں۔‘
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ ’آج ایک وزیر نے بدسلوکی کی اور صحافی سے لڑے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔‘