آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ ازخود نوٹس پر سماعت کل تک ملتوی

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سیاسی صورتحال ازخود نوٹس کیس پر سماعت کل (سوموار) تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل آف پاکستان سمیت وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کو نوٹسز جاری کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔

    اس کیس کی مختصر سماعت چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیاسی جماعتیں پُرامن رہیں اور کوئی ماورائے آئین اقدام نہ اٹھایا جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں اتوار کو جو کچھ ہوا اس پر نوٹس لینے کا فیصلہ کیا۔

    عدالت نے متعلقہ حکام کو امن و امان قائم رکھنے کی ہدایت کی تاکہ کوئی بھی اس صورتحال سے فائدہ نہ اٹھائے چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہوں یا ادارے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدر یا وزیر اعظم کوئی بھی فیصلہ صادر کرتے ہیں تو وہ سپریم کورٹ کے حکم سے مشروط ہو گا۔ عدالت نے سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنائیں۔

    اس کیس کی سماعت اب کل صبح 11 بجے ہو گی۔

  2. سیاست کے فیصلے عدالت میں نہیں ہوتے، عدالت کو کرنے بھی نہیں چاہییں: فواد چوہدری

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’ہمارے جو کیس کے بنیادی نکات ہیں ان میں سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ پارلیمان کی رولنگ کو جج کر سکے اور یہ سپیکر کا حتمی اختیار ہے اور اس بارے میں سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے موجود ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس کے بعد دوسرا معاملہ یہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر صاحب نے بہت تفصیل سے وجوہات لکھی ہیں کہ کیسے آرٹیکل 6 کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’کبھی سیاسی جماعتیں بھی عوام کے پاس جانے سے گھبرائی ہیں۔ سیاست کے فیصلے عدالت میں نہیں ہوتے، سیاست کے فیصلے سڑک پر ہوتے ہیں، عوام کرتی ہے اور عدالت کو کرنے بھی نہیں چاہییں کیونکہ اس سے تقسیم پیدا ہوتا ہے۔‘

  3. سیاسی صورتحال پر ازخود نوٹس: سپریم کورٹ کا تین رُکنی بینچ جلد سماعت کا آغاز کرے گا

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قومی اسمبلی میں اتوار کی صبح پیش آنے والے واقعات پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے جو ازخود نوٹس لیا تھا اس کی سماعت کچھ ہی دیر میں شروع ہونے والی ہے۔

    اس معاملے کی سماعت کے لیے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں ان کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں۔

    سماعت کے لیے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان اور تحریک انصاف اور اپوزیشن کے سینیئر رہنماؤں کے علاوہ وکلا اور قانونی ماہرین کی بڑی تعداد سپریم کورٹ میں موجود ہے۔

  4. پاکستان کے ساتھ زیادتی اور آئین کی بے حرمتی کا حساب لیا جائے گا: نواز شریف

    پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ’اقتدار کی ہوس میں ڈوبے ہوئے جنونی شخص نے آج آئین کو پاؤں تلے روندا ہے۔‘

    ’اپنی انا کو ملک و قوم پر مقدم رکھنے والے عمران خان اور اس سازش میں ملوث تمام سازشی کردار سنگین غداری کے مجرم ہیں جن پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ زیادتی اور آئین کی بے حرمتی کا حساب لیا جائے گا۔‘

  5. بریکنگ, عمر سرفراز چیمہ نے گورنر پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما عمر سرفراز چیمہ نے گورنر پنجاب کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    اس کی حلف برداری کی تقریب اتوار کے روز گورنر ہاؤس لاہور میں منعقد ہوئی اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی نے اُن سے اس عہدے کا حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزادر بھی موجود تھے۔

    یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے اتوار کی صبح سابق گورنر پنجاب محمد سرور کو برطرف کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عمر سرفراز چیمہ کو نیا گورنر پنجاب مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  6. آج جو کچھ پارلیمان میں ہوا اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

    عمران خان کے خلاف پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد کو آئین کے منافی اور ضوابط کے خلاف قرار دے کر مسترد کیے جانے کے بعد صدرِ پاکستان نے وزیراعظم کی تجویز پر قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے۔

    اس کارروائی کی قانونی حیثیت کیا ہے اور اب آگے کیا ہو گا، اس بارے میں ہماری نامہ نگار ترہب اصغر نے پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب سے بات کی ہے۔

  7. سپریم کورٹ کی صورتحال: اپوزیشن رہنما اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے کورٹ روم نمبر ایک کے باہر موجود

    سپریم کورٹ میں موجود نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق اس وقت حزب اختلاف کی جماعتوں کے بیشتر رہنما اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے اس وقت کورٹ روم نمبر ایک کے باہر موجود ہیں تاہم اب تک کورٹ روم کو داخلے کے لیے کھولا نہیں گیا ہے۔

    دوسری جانب اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید سمیت تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری اور بابر اعوان بھی سپریم کورٹ بلڈنگ میں موجود ہیں۔ شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور پی ٹی آئی رہنما اٹارنی جنرل کے دفتر میں موجود ہیں۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے فی الحال یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ازخود کیس کی سماعت کتنے رکنی بینچ کرے گا۔ شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان سمیت جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ میں پہنچ چکے ہیں۔

  8. تحریک عدم اعتماد کو مسترد کرنے کی بھونڈی حرکت نے ملک کو سیاسی بحران کی طرف دھکیل دیا: فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد متاثر نہیں ہو رہی، ڈپٹی سپیکر جو رولنگ دی اس میں سپیکر قومی اسمبلی کا حوالہ دیا گیا جبکہ خود اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آ چکی تھی۔ ڈپٹی سپیکر اس رولنگ کے مجاز نہیں تھے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیا قوم ان لوگوں کے ان تماشوں کو دیکھتی رہے گی ۔جے یو آئی نے پہلے دن سے جو موقف دیا تھا ایک ایک واقعہ اس موقف کی تائید کررہا ہے۔

    ’آج کے واقعے نے تو ہمارے موقف مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔انہوں نے جمہوریت کا چہرہ مسخ کیا ہے۔‘

  9. تحریکِ عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی جانب سے جاری کردہ رولنگ

  10. بریکنگ, نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں بیرونِ ملک کی مداخلت شامل تھی: عمران خان کا دعویٰ

    عمران خان نے اب سے کچھ دیر قبل اپنے پارٹی رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آپ کو یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں، کہ جب میں شام کو آیا تھا تو مجھے آپ سب کو کہنا پڑا تھا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ابھی تک اپوزیشن کو سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے واضح طور پر کہا کہ تحریک عدم اعتماد میں بیرونِ ملک کی مداخلت شامل تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جس پر سارے سکیورٹی چیف بیٹھے ہوئے تھے، سب بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے وہ مکمل مراسلہ رکھا گیا تھا، پاکستان کے سفیر اور امریکہ کی جانب سے نمائندہ ڈونلڈ لو کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس میٹنگ کے لیے نوٹ لینے والے بیٹھے ہوئے تھے، دونوں طرف۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ جو مکالمہ تھا، اس کے منٹ جاری کیے گئے اور اس بات کی تصدیق ہوئی کہ پاکستان کے باہر سے ایک منصوبہ بنا تھا جس کے ذریعے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی گئی تھی اور جو لوگ ہمیں چھوڑ کر گئے انھیں سفارت خانے کے لوگ ملتے تھے ان کا کیا کام تھا۔‘

    تاہم نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں تحریک عدم اعتماد کا ذکر نہیں ہے۔

    اعلامیے کے مطابق ’قومی سلامتی کمیٹی نے غیرملکی سفارتکار کی استعمال کی گئی زبان پرتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت ناقابل برداشت ہے اور جواب سفارتی آداب کو مدنظر رکھ کر دیا جائے گا۔‘

    قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ ’قومی سلامتی کمیٹی کو پاکستانی سفیر سے ایک غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار کی باضابطہ بات چیت سے آگاہ کیا گیا جبکہ کمیٹی نے غیر ملکی اہلکار کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کو غیر سفارتی قرار دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بعض اوقات سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے اس لیے ملا جاتا ہے کہ ملکی صورتحال کے بارے میں علم ہو سکے، لیکن ان سے ملنے کا کیا کام تھا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ آپ کو کل نہیں بتا سکتا تھا کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ آج اپوزیشن والے گھبرائے نہ ہوتے۔‘

  11. عمران خان 15 دن تک وزیرِ اعظم رہیں گے، سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر: شیخ رشید

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ’90 روز بعد انتخابات ہوں گے، 15 دن عمران خان وزیرِ اعظم رہیں گے، سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو گا سر آنکھوں پر ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ تین تجویزیں تھیں، جس میں بڑوں کی بھی رائے شامل تھی، وزیرِ اعظم نے خود بھی کہا کہ پہلا یہ کہ عدم اعتماد ہو جائے، نمبر دو وزیرِ اعظم استعفیٰ دے دیں اور نمبر تین نئے الیکشن ہو جائیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں تو ایمرجنسی کی بات کرتا تھا، گورنر راج کی بات کرتا تھا، لیکن وزیرِ اعظم کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ اسے ختم کر دے گی۔‘

    شیخ رشید نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے سیاسی کمیٹی جس میں میں بھی شامل تھا، اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ انتخابات کا راستہ اپنایا جائے۔

  12. سپریم کورٹ فوری طور پر کارروائی کرے اور غیر آئینی اقدام کو ختم کرے: احسن بھون

    سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کو اس ساری صورتحال کے ساتھ نمٹنا چاہیے اور فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے غیر آئینی اقدام کو ختم کرنا چاہیے اور ملک میں پارلیمانی نظام آئین کے مطابق چلنا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپیکر کی آئینی رولنگ اس وقت 95/2 کے تحت ختم ہو جاتی جب لیو ٹو موشن آ جاتی ہے۔ لیو ٹو موشن نہ ہوتی تو یہ اس دن کہہ سکتے تھے کہ ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب یہ ریکوزشین آئینی تسلیم کر لی گئی تھی تو اسے ہاؤس کے سامنے لانے کے علاوہ کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔‘

    احسن بھون کا کہنا ہے کہ ’ہماری عدالتوں اور سول سوسائٹی کو آگے آنا ہو گا اسمبلی کی تحلیل اس وقت کہیں گے، جب ایک آدمی کو آئین روک رہا ہے تو ان کے پاس کوئی طاقت ہے ہی نہیں کہ وہ اسمبلی تحلیل کر سکیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آرٹیکل 6 کی کارروائی موجودہ صدر، وزیرِ اعظم، ڈپٹی سپیکر اور وزیرِ قانون پر لگایا جا سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایاز صادق پینل آف سپیکرز میں سے ایک تھے، رول یہ کہتے ہیں کہ وہ کسی قاعدے کو معطل بھی کر سکتے ہیں، اگر ہاؤس کی اکثریت ان کا ساتھ دیتی ہے، میرے نزدیک ایاز صادق نے جو کیا وہ قانونی تھا۔ اگر سپریم کورٹ آج کارروائی نہیں کرتا تو بہت نقصان ہو گا۔‘

  13. سیاسی جماعتیں ہیں تو انتخابات سے کیوں بھاگ رہے ہیں: فواد چوہدری

    سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا تو کام ہی ہوتا ہے انتخابات لڑنا تو متحدہ اپوزیشن کو بھی ہمت کرنی چاہیے کہ انتخابات میں حصہ لیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ڈپٹی سپیکر کو آج کا فیصلہ لینے پر سلام پیش کرتے ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

    انھوں نے سیاسی جماعتوں کو پھر چیلنج کیا کہ وہ انتخابات سے نہ بھاگیں اور اگر ہمت ہے تو میدان میں آئیں۔

    ’دیکھیں، منھ ایسے لٹکے ہوئے ہیں، آنکھوں سے آنسو آ رہے ہیں، سیاسی جماعتیں ہیں تو انتخابات سے کیوں بھاگ رہے ہیں۔‘

  14. عمران خان نے غیر آئینی حرکت کر کے تیسری قوت کو دعوت دی: شہباز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے عمران خان نے غیر آئینی اقدام کر کے تیسری قوت کو دعوت دینے کی کوشش کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر کی جانب سے اتنی عجلت میں رولنگ دینا غیر آئینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ملک میں ایسا خلا پیدا ہو گیا جو خطرناک ہو سکتا ہے اور ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے آئین کی دھجیاں اڑائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج ملک کی سیاسی تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی منطق کو مان لیا جائے تو پھر تو آیندہ کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہو ہی نہیں سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی الزام لگا کر ہمیں واپس بھیج سکتا ہے۔

    شیخ رشید کے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے قبل از وقت انتخابات پر رضامندی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور غلط بیانی کر رہے ہیں۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کے از خود نوٹس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے آئینی درخواست جمع کروا دی ہے اور اب معاملہ عدالت کے پاس ہے۔

    اگر فیصلہ خلاف آیا تو کیا اپوزیشن الیکشن کے لیے تیار ہے کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم فیصلہ تسلیم کریں گے اور ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے معاملے کا از خود نوٹس لے لیا

    سپریم کورٹ کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ملکی سیاست کے تناظر میں موجودہ صورتحال پراز خود نوٹس لے لیا ہے۔

  16. فواد چوہدری: شہباز شریف کو نگراں حکومت کے لیے خط لکھ رہے ہیں

    پی ٹی آئی رہنما فوجد چوہدری نے کہا ہے کہ آج کی تمام کارروائی میں تمام آئینی مراحل پورے ہوئے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی سفارش پر قومی اسمبلی کو تحلیل کیا گیا ہے اور 90 دن کے اندر انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔

    فواد چوہدری نے کہا کہ سابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو خط لکھا جا رہا ہے کہ وہ نگران حکومت کے لیے اپنے نام تجویز کریں۔

  17. آج جو کچھ ہوا ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے قومی اسمبلی میں آج کے اقدامات میں فوج کی رضا مندی شامل ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ ایسا قطعی نہیں ہے۔

    میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کی صبح تحریک عدم اعتماد کے موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے وزیرِ اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریکِ عدم اعتماد کی قرارداد غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دی۔

    اس کے کچھ ہی دیر بعد وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا جس میں انھوں نے پہلے قوم کو مبارک باد دی اور پھر کہا کہ انھوں نے صدر مملکت کو اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیج دی ہے اور قوم نئے انتخابات کی تیاری کرے۔

    وزیر اعظم کی سمری موصول ہونے کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسمبلی تحلیل کر دی ہے جبکہ وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہونگے۔

  18. پنجاب اسمبلی کا اجلاس ’چھ اپریل ساڑھے 11 بجے ہوگا‘, پرویز الہی

    آج پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہونا تھا تاہم اجلاس کے آغاز پر حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان جھگڑے کے بعد ہنگامہ آرائی ہوئی اور اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

    حکومت کی جانب سے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے امیدوار پرویز الہی کا کہنا ہے کہ سپیکر نے اجلاس چھ اپریل کو ساڑھے 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب اسی اجلاس میں نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہوگا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’تمام شور شرابہ ن لیگ نے کیا۔ پی ٹی آئی ارکان اپنے ساتھیوں کو واپس لینے گئے تھے۔ ہاؤس میں اس کی کوئی پابندی نہیں۔ ہم واپس لا رہے تھے تو وہ (لیگی ارکان) حملہ آور ہوگئے۔۔۔ سارا جھگڑا ن لیگ نے کیا۔‘

    انھوں نے عمران خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز پر لاعلمی ظاہر کی۔

    ادھر چوہدری سرور کی برطرفی کے بعد نئے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ لاہور آگئے ہیں۔ عمرسرفراز چیمہ خصوصی طیارے پر اسلام آباد سے لاہور پہنچے ہیں۔ انھیں آج صبح چوہدری سرور کی برطرفی کے بعد گورنر تعینات کیا گیا ہے۔

  19. قومی اسمبلی کا ’علامتی اجلاس‘ ختم، تحریک عدم اعتماد کے حق میں 197 ووٹس

    قومی اسمبلی میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا ہے کہ اسمبلی میں جاری علامتی سیشن اب اختتام پذیر ہو چکا ہے جہاں علامتی سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے حق میں 197 ووٹس ڈالے گئے ہیں۔

  20. بریکنگ, عدالتی عملہ سپریم کورٹ پہنچ چکا ہے، چیف جسٹس کی آمد بھی متوقع

    عدالت عظمی کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ عدالتی عملہ اب آہستہ آہستہ پہنچ رہا ہے اور ممکنہ طور پر عدالتی کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب عدالت کے باہر سپیشل برانچ کے سکیورٹی اہلکار بھی موجود ہیں جو عمومی طور پر اسی وقت عدالت تعینات ہوتے ہیں جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو آنا ہوتا ہے۔

    شہزاد ملک کے مطابق اس وقت عدالت کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری کے وکیل ان کی جانب سے درخواست لے کر پہنچ چکے ہیں۔