پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اتوار کے روز ہونے
والے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کر رہے تھے اور تحریک
عدم اعتماد مسترد کرتے ہوئے جس خط کا تذکرہ کیا گیا وہ اسمبلی میں پیش ہی نہیں کیا
گیا۔
انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے 198 ارکان پر غیر ملکی سازش کا
حصہ بننے کا الزام لگایا گیا اور ان ممبران میں 175 ارکان اپوزیشن جبکہ باقی پی ٹی
آئی کے منحرف اراکین تھے۔
فاروق نائیک کی جانب سے یہ تفصیلات پیش کرنے پر بینچ کے رُکن
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ’کون کس پارٹی سے تھا اس پر کیوں وقت ضائع کر
رہے ہیں؟‘
جسٹس منیب نے استفسار کیا کہ رول 28 کے تحت سپیکر کو رولنگ
دینے کا اختیار ہے مگر کیا سپیکر اپنی دی گئی رولنگ واپس لے سکتا ہے؟ اس پر فاروق
ایچ نائیک نے کہا کہ رولنگ واپس لینے سے متعلق اسمبلی رولز خاموش ہیں۔
فاروق نائیک نے مزید کہا کہ اگر ایوان میں کوئی سوال اٹھتا
ہے تو اس پر بحث لازمی ہے۔
اس پر جسٹس منیب کا کہنا تھا کہ (وفاقی وزیر) فواد چوہدری
کے سوال پر بحث نہ کرانا پروسیجرل غلطی ہو سکتی ہے۔ اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا
کہ ’نہیں یہ پروسیجرل ایشو نہیں۔‘
جسٹس منیب نے استفسار کیا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کو رولز کے مطابق ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہے،
میرا ذاتی خیال ہے کہ رولنگ کا اختیار صرف سپیکر کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ ’میرے خیال میں ڈپٹی سپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار نہیں تھا۔‘
اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر صرف اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، قائم مقام سپیکر کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے۔
بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ووٹنگ کے لیے اجلاس بلا کر عدم اعتماد پر رولنگ دی جا سکتی ہے؟ اس پر فاروق نائیک نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تین منٹ سے بھی کم وقت میں مسترد کی گئی۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’قانونی نقطے پر بات کریں، یہ جذباتی گفتگو ہے۔ یہ بتائیں کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کس طرح غیر آئینی ہے؟‘
فاروق نائیک نے کہا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کو عدم اعتماد مسترد کرنے کا اختیار نہیں اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن اس کی حیثیت پر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
فاروق نائیک نے کہا کہ تحریک کے قانونی ہونے کا فیصلہ ووٹنگ کے لیے مقرر ہونے سے پہلے ہو سکتا ہے۔
چیف جسٹس بندیال نے کہا کہ کیا آپ کا کہنا ہے ووٹنگ کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد عدم اعتماد مسترد نہیں ہو سکتی؟ ’ہمیں یہ پوائنٹ نوٹ کرنے دیں۔‘