چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں آئین توڑا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عدالت اور پاکستان کے عوام فیصلہ کریں کہ عمران خان کی انا زیادہ اہم ہے یا آئین۔‘
اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس ملک میں وزیر اعظم کو کرسی سے ہٹانے کا ایک ہی جمہوری اور آئینی طریقہ ہے اور وہ عدم اعتماد کا طریقہ کار ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اپنی انا کی وجہ سے آئین توڑ کر عدم اعتماد کو سبوتاژ کیا۔ ’انھیں اندازہ نہیں کہ ہوا کیا ہے۔
’آئین کا دفاع کرنا صرف پیپلز پارٹی کا مسئلہ نہیں۔ یہ سب پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔‘
انھوں نے تسلیم کیا کہ ’پیپلز پارٹی کے بعض کارکن جشن منا رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت ختم ہوچکی ہے۔ تین سال کی جدوجہد میں ہم کامیاب ہیں۔ مگر ہم اس بات پر خوش نہیں کہ کوئی غیر آئینی کام کیا جائے۔
’یہ ایسا ہے جیسے عمران خان اور ان کی حکومت ہماری بندوق کی نوک پر تھی لیکن ہمارے دباؤ، جدوجہد اور اتحاد کی وجہ سے اس نے خود بندوق اٹھا کر اپنی حکومت کی خودکشی کر لی۔‘
بلاول نے کہا کہ ’یہ ایسے تالیاں بجا رہے ہیں۔ جب میں نے پہلے اسے وزیر اعظم سلیکٹڈ کہا تھا تب بھی یہ جشن منا رہے تھے۔‘
انھوں نے اپنے موقف میں کہا کہ ’عدم اعتماد جمع ہونے اور ووٹ ہونے سے پہلے اگر خود استعفی دیتا تو آئینی طریقے سے یہ شروع ہوسکتا تھا۔ آپ سب نے دیکھا کل 196 ووٹ عدم اعتماد کے حق میں تھے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئین توڑ کر عمران خان کی انا کو سنبھالا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ سے امید ہے عمران خان کے مارشل لا کو روکیں۔۔۔ عدم اعتماد کا عمل بحال ہونا چاہیے۔‘
مگر آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ’باقی ہم سب خوش ہیں کہ عمران خان کی حکومت اب ختم ہوچکی ہے۔‘