آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. سپریم کورٹ میں رضا ربانی کے دلائل جاری

    اس وقت سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

    رضا ربانی نے کہا ہے کہ سپیکر کی رولنگ غیر قانونی تھی اور ماوائے آئین نہیں ہو سکتی۔

    اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ووٹنگ کے بغیر ختم نہیں کی جا سکتی جبکہ آئین کی شق 95 کے تحت ووٹنگ کا عمل ضروری تھا۔

    رضا ربانی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے آئین کی چھ شقوں کا حوالہ دیا ہے، اور تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے جاری کردہ نوٹس کے بعد ووٹنگ ضروری ہے۔

    سینیٹر ربانی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے خط کا سہارا لیا گیا اور مبینہ بیرونی سازش کو وجہ بنایا گیا۔

    رضا ربانی نے کہا کہ اجلاس کو کسی بحث کے بغیر تین اپریل تک ملتوی کیا گیا، تین اپریل کو ووٹنگ ہونی تھی مگر فواد چوہدری اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر خط اور بیرونی سازش لے آئے جو ایجنڈے پر تھی ہی نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے پہلے ہی اجلاس تاخیر سے بلایا گیا، پھر 31 مارچ کو اجلاس محض دعا کر کے ملتوی کر دیا گیا جبکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا تھا۔

  2. سندھ بار کونسل کی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواست

    سندھ بار کونسل نے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق درخواست دائر کر دی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی تین اپریل کی رولنگ غیر آئینی اور خلاف قانون ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قرار دے کہ تحریک عدم اعتماد کی قرداد زیر التواء ہے اور سپیکر کو حکم دیا جائے کہ فوری طور پر شق 95 کے تحت اس پر کارروائی کی جائے۔

    سندھ بار کونسل نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ قرار دے کہ وزیر اعظم کی صدر کو بھیجی گئی سمری بے وقعت تھی اور وزیر اعظم کو اختیار نہیں تھا کہ وہ موجودہ حالات میں صدر کو اس قسم کی سمری بھیج سکیں۔

  3. بریکنگ, سپریم کورٹ میں ڈپٹی اسپیکر رولنگ کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت شروع, شہزاد ملک، بی بی سی

    سپریم کورٹ میں اس وقت از خود نوٹس کیس کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی دلائل دے رہے ہیں۔

    سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربّانی نے کہا کہ کوشش ہے کہ آج دلائل مکمل ہوں اور مختصر فیصلہ آ جائے۔ اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم بھی جلدی فیصلہ چاہتے ہیں لیکن تمام فریقین کا موقف سن کر۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا ہے کہ پارلیمانی کارروائی کو کس حد تک استثنیٰ ہے۔

    رضا ربانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ موجودہ صورتحال کو ’سویلین مارشل لاء‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال مندوخیل پر مبنی پانچ رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔

  4. شہباز شریف کا فوجی قیادت سے مطالبہ: ’اپوزیشن نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم کے سامنے لائے جائیں‘

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ’اگر ہم (اپوزیشن) نے غداری کی ہے تو ثبوت قوم کے سامنے لے کر آئیں اور اگر ہم نے یہ جرم نہیں کیا، کسی باہر کی طاقت کو دعوت نہیں دی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیے۔

    وہ سپریم کورٹ کے سامنے صحافیوں سے بات کر رہے تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سپہ سالار اس بات کا عندیہ دیں کہ کیا قومی سلامتی کمیٹی میں جو منٹس منظور ہوئے، اس میں اگر اپوزیشن اور غیر ملکی کردار کا کوئی رول ہے تو سامنے لے کر آئیں۔ اُنھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا فوجی قیادت نے ان منٹس پر نظرِ ثانی کیا، کیا اُنھوں نے اس پر دستخط کیے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت معاملہ یہ ہے کہ آئین کو توڑا گیا ہے جبکہ ہم چاہتے تھے کہ جھرلو کے ذریعے آنے والے وزیرِ اعظم کو آئین کے تحت رخصت کیا جائے۔ اگر اس کی ریمیڈی نہ کی گئی تو پاکستان بنانا ریپبلک بن جائے گا۔

    اُنھوں نے کہا کہ شق پانچ کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر اور حکومتی وزرا نے ہمیں غدار قرار دیا ہے۔

    جب شہباز شریف سے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے حوالے سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مریم اورنگزیب نے اُنھیں بتایا کہ آپ (شہباز شریف) کو زبانی دعوت آئی ہے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ جب اُنھوں نے معلوم کروایا تو پتا لگا کہ کسی اور اپوزیشن رہنما کو دعوت نہیں آئی۔

    اُنھوں نے مبینہ طور پر زبانی دعوت کو ’مذاق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوت بروقت اور تحریری طور پر آنی چاہیے تھی۔

  5. پاکستان کا سیاسی اور سری لنکا کا معاشی بحران انڈیا کے لیے باعثِ تشویش کیوں

  6. شاہ محمود قریشی: 90 دن میں انتخابات کروانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے

    پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی انتخابی حلقہ بندیوں اور دیگر انتخابی تیاریوں کے پیشِ نظر 90 دن کے اندر انتخابات کروانے کو ناممکن قرار دیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے ایسا کوئی بیان جاری کرنے کی تردید کی ہے۔

    تاہم اس حوالے سے منگل کی صبح جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اُنھوں نے آج کے اخبارات میں الیکشن کمیشن کا مفصل بیان پڑھا کہ وہ الیکشن 90 دن کے اندر کیوں نہیں کروا سکتے۔

    سابق وزیرِ خارجہ نے سوال اٹھایا کہ یہ آئینی ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داری شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، اگر یہ تناؤ نہ ہوتا تو کیا آئین میں وزیرِ اعظم کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کروائیں؟

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت اس وقت مشکلات کی شکار ہے جبکہ مشرقی اور مغربی محاذوں سے پاکستان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، چنانچہ غیر یقینی صورتحال برقرار رکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

  7. فوج نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ تحریک عدم اعتماد بیرونی ایجنڈے کے تحت آئی ہو: احسن اقبال

    قومی سلامتی کمیٹی میں فوج نے ایسی کوئی بات نہیں کی کہ تحریک عدم اعتماد بیرونی ایجنڈے کے تحت آئی ہو مگر عمران خان نے بار بار اس کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ فوج نے اس سکینڈل کی حمایت کی ہے۔

    چنانچہ عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی کو مسخ کر کے پاکستان کی سلامتی پر حملہ کیا ہے۔ بیرونی سازش کے طعنے وہ دے رہا ہے جس کا اپنا فارن فنڈنگ کیس سات برس سے چل رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ یہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہے اور عمران خان تاخیری حربوں کے ذریعے سات برس سے اس سے بچتے چلے جا رہے ہیں۔

  8. میاں افتخار حسین: درمیانی بات ملک کے لیے فائدہ مند نہیں

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے اپنے سفیر سے فرمائشی خط لکھوایا اور اپنے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس میں سے کوئی ایسی بات نہیں جو عمران خان کہہ رہے ہیں۔

    میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ اجلاس کے منٹس پر ہر اس شخص کے دستخط ہوتے ہیں جو اس میں شریک ہوتا ہے، آپ وہ دکھائیں گے پھر بات ہو گی۔

    اُنھوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی شخص الیکشن سے نہیں ڈرتا مگر ہم آئینی بات کر رہے ہیں، درمیانی راستے کی بات نہیں کرنی کیونکہ یہ ملک کے لیے فائدہ مند نہیں۔

  9. عمران خان نگران حکومت آنے تک بطور وزیر اعظم کیا کیا کر سکتے ہیں؟

    اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد قانونی طور پر عمران خان وزیر اعظم نہیں رہے تاہم ملک کے صدر عارف علوی نے انھیں آئین کی شق 94 کے تحت نگران وزیر اعظم کے چناؤ تک اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کے لیے کہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان اب کتنے بااختیار وزیر اعظم ہیں۔

    اس حوالے سے ہماری نامہ نگار حمیرا کنول کا تفصیلی مضمون یہاں پڑھیے۔

  10. پاکستان میں آئینی بحران، سپریم کورٹ میں از خود نوٹس کی سماعت کچھ دیر میں

    سپریم کورٹ آف پاکستان میں اب سے تقریباً ایک گھنٹے بعد اس از خود نوٹس کی سماعت ہو گی جو عدالتِ عظمیٰ نے تین اپریل کی پارلیمانی کارروائی کے حوالے سے لیا تھا۔

    سپریم کورٹ نے اتوار کے روز ہی فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے تھے۔ پیر کو اپوزیشن جماعتوں کی کوشش رہی کہ عدالت کوئی ہدایات یا حکم نامہ جاری کر دے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ پیر کے روز ہی کوئی فیصلہ جاری کریں گے تاہم بعد میں سماعت ملتوی کر دی گئی تھی۔

    عدالت نے پیر کے روز سماعت شروع کی تو پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے فُل کورٹ بنانے کی سفارش کی۔

    چیف جسٹس نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’کیا اس بینچ میں موجود کسی جج کی قابلیت پر کوئی شک ہے تو ہم ابھی ہی اٹھ جاتے ہیں۔‘

    جس کے بعد فاروق ایچ نائیک نے اس پر زور نہیں دیا۔

    اس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے کئی قانونی سوالات اٹھائے گئے جو ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی آئین کی شق 69 کے تحت پارلیمانی کارروائی کو ضابطے کی خلاف ورزی کی بنا پر عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تاہم اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ضابطے کی نہیں بلکہ آئینی خلاف ورزی ہے۔

  11. شاہ محمود قریشی کا تنبیہی مراسلہ حقیقی ہونے پر اصرار

    پاکستان تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ قوم کو اپنے اندرونی معاملات میں کوئی غیر ملکی مداخلت نہیں چاہیے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اپنے ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے آئین اور عوامی اُمنگوں کے مطابق ہونے چاہییں۔

    اُنھوں نے مبینہ تنبیہی آمیز مراسلے کے جعلی ہونے کا تاثر رد کرتے ہوئے کہا کہ جب اس مراسلے سے منسلک غیر ملکی شخصیت سے انڈین میڈیا نے سوال کیا تو اُنھوں نے تردید کرنے کے بجائے صرف خاموش رہنے پر اکتفا کیا۔

  12. یہ اختیار کس نے دیا کہ یہ آئین کو روند دیں، شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی آئین کو توڑنے والے نام نہاد منتخب لوگ عوام سے ووٹ لے کر آئے ہیں۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ جمہوری عمل کو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے توڑا گیا۔

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئین توڑنے والوں کو وہ سزا دی جائے کہ کوئی سوچ بھی نہ سکے کہ آئین کاغذ کا ٹکڑا ہے جسے جب دل چاہا پھاڑ دیا۔

    انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ الیکشن ثانوی حیثیت رکھتے ہیں جو ’آج نہ ہوئے تو کل ہو جائیں گے‘ مگر اُنھوں نے کہا کہ یہ اختیار کس نے دیا کہ یہ آئین کو روند دیں۔

  13. تحریکِ عدم اعتماد مسترد کرنے کے لیے آرٹیکل 5 کے استعمال پر آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق آرٹیکل پانچ ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی پاسداری سے متعلق ہے۔

    آئین کے آرٹیکل پانچ کی تعریف کچھ یوں ہے:

    ریاست سے وفاداری ملک کے ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔

    ملک کے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ ہر حال میں ملک کے آئین و قانون کی پاسداری و احترام کرے۔

    وزیر اعظم عمران خان کے خلاف حزب اختلاف کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل پانچ کو بنیاد بناتے ہوئے مسترد کیا۔

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ یہ قراردار آئین کے منافی ہے اس لیے سپیکر کی رولنگ کے مطابق اسے مسترد کیا گیا ہے۔

    جانیے کہ اس حوالے سے آئینی ماہرین کیا کہتے ہیں۔

  14. ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہمارا مؤقف قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے میں واضح ہے: محمد مالک

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ روز اپنی ٹوئٹس میں کہا کہ عمران خان نے کہا کہ یہ بیرونی سازش ہے تو کیا ڈی جی آئی ایس پی آر بتائیں گے کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں 197 لوگوں کو غدار قرار دیا تھا اور یہ کہ یہ لوگ سازش کا حصہ ہیں۔

    اس پر پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’ہم نیوز‘ کے اینکر محمد مالک نے گذشتہ رات اپنے پروگرام میں کہا کہ ’میں نے اپنے پروگرام سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار سے کہا کہ مجھے اس پر آپ کا جواب چاہیے تو انھوں نے مجھے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’اس پر ہمارا جواب بڑا سادہ ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اس اجلاس میں شریک نہیں ہوتا اور دوسرا یہ کہ ہمارا جو بھی مؤقف ہے وہ قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے میں بہت واضح ہے۔‘

    محمد مالک کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ اس پر اس لیے بھی زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس حوالے سے ایک عدالتی کیس چل رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ لوگ بات کریں کہ شاید (فوج) اس پر اثرانداز ہو رہی ہے، ’اور ہم نہیں چاہتے کہ کہیں ہمارے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا جائے۔‘

  15. اور اب آئین انصاف کے کٹہرے میں: عاصمہ شیرازی کا کالم

  16. بریکنگ, امریکہ نے روس کا دورہ منسوخ نہ کرنے پر عمران خان کو سزا دی ہے: روسی وزارتِ خارجہ

    روس نے کہا ہے کہ امریکہ نے روس کا دورہ منسوخ نہ کرنے پر ’نافرمان‘ عمران خان کو سزا دی ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں صدر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کی تحلیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب وزیرِ اعظم عمران خان نے فروری میں ماسکو کا دورہ کرنا تھا تو اس وقت امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی وزیرِ اعظم پر یہ دورہ منسوخ کرنے کے لیے زبردست دباؤ ڈال رہے تھے۔

    بیان میں کہا گیا کہ جب وہ پھر بھی روس کے دورے پر آئے تو امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے جنوبی ایشیا ڈونلڈ لیو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے دورہ فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا مگر یہ مطالبہ بھی رد کر دیا گیا۔

    اس کے بعد بیان میں ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار (مبینہ طور پر ڈونلڈ لیو) اور امریکہ میں پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی گفتگو کے بارے میں پاکستانی میڈیا اطلاعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے اس بارے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ امریکہ نے ’نافرمان‘ عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا، وزیرِ اعظم کی جماعت کے ارکان کا ایک گروہ ’اچانک‘ اپوزیشن میں چلا گیا اور اچانک سے پارلیمان میں وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروا دی گئی۔

    روس کے مطابق یہ امریکہ کی جانب سے ایک آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں اپنے ’خود غرض مقاصد‘ کی خاطر شرمناک مداخلت کی ایک اور کوشش ہے۔

  17. ’امریکہ کسی ایک سیاسی جماعت کو دوسری جماعت پر ترجیح نہیں دیتا‘

    امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایک بار پھر ان الزامات کی تردید کی گئی ہے کہ پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کی جا رہی ہے۔

    سوموار کو پریس بریفنگ کے دوران جب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے ایک بار پھر ان الزامات سے متعلق سوال ہوا جو پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے لگائے گئے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں جیسا کہ گزشتہ ہفتے بھی بتایا گیا تھا۔‘

    نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکہ پر امن طریقے سے جمہوری اقدار کی حمایت کرتا ہے۔ ’پاکستان میں اور دنیا بھر میں ہمارا یہی اصول ہے۔‘

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے مبینہ امریکی سازش کے دعوے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر نے اسی بنیاد پر مسترد کر دیا تھا اور معاملہ اب سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’امریکہ کسی ایک سیاسی جماعت کو دوسری جماعت پر ترجیح نہیں دیتا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم قانون کی حکمرانی اور انصاف کے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

  18. بریکنگ, نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے عسکری ممبران مراسلے کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کریں: آصف علی زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے عسکری ممبران سے ’مراسلے‘ کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عمران خان اس دفعہ ایک خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس خط کے بارے میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ممبران یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان ہر دن سکیورٹی کمیٹی کے عسکری ممبران کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ میری طرف سے مطمئن ہو گئے تھے۔

    آصف زرداری نے کہا کہ ’لہٰذا جو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سکیورٹی کے عسکری ممبران تھے وہ اس کی وضاحت کریں اور اپنی پوزیشن واضح کریں۔

    اب یہ معاملہ عمران خان یا متحدہ اپوزیشن کا نہیں ہے، اب یہ معاملہ پاکستان کا ہے لہٰذا اس طرح کے حساس نوعیت کے معاملات میں تاخیر بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نہ ہی یہ معاملہ تحریک عدم اعتماد کا رہا ہے، یہ معاملہ اب ملکی سلامتی کا ہے۔‘

  19. بریکنگ, نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس گلزار احمد کا نام پیش کرنا سپریم کورٹ پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے: احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ’عمران نیازی کا حال ہی میں ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد کا نگران وزیر اعظم کے لیے نام پیش کرنا سپریم کورٹ پر اثر انداز ہونے کی مذموم کوشش ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ ملک کے اداروں پر اثر انداز ہونے کے لیے نہایت گھناؤنے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔‘

  20. تنبیہی مراسلہ، قومی سلامتی کمیٹی، امریکہ اور چند سوال