آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

’امپورٹڈ حکومت کسی صورت قبول نہیں‘، عمران خان کی ملک گیر پرامن احتجاج کی کال

پاکستان کے وزیر عظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے اور وہ کسی امپورٹٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گےاور انھوں نے عوام سے سے کہا ہے کہ وہ اتوار کی شب ملک بھر میں پر امن احتجاج کریں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں موجودہ سیاسی صورتحال پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

  2. ’آئین توڑنا سرپرائز نہیں غداری ہے، آئین شکنی کوئی مذاق نہیں‘

  3. سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل منصور اعوان کے دلائل کا آغاز

    اب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل منصور اعوان عدالت کے سامنے دلائل دے رہے ہیں۔

    منصور اعوان نے کہا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ میں سپیکر کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ سیکرٹری اسمبلی اور عملہ گنتی کرتا ہے جبکہ سپیکر اعلان کرتا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ سپیکر کا کردار عام قانون سازی میں ہوتا ہے جہاں اراکین کی آواز سے اکثریت کا فیصلہ ہو۔

  4. چیف جسٹس کا پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب پر استفسار

    سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کے لیے کل ووٹنگ ہو رہی ہے؟

    اس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ کہ ارکانِ صوبائی اسمبلی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔

    اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ ووٹنگ کروا دیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پنجاب کے حوالے سے ہم کوئی حکم نہیں دیں گے۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ کل پنجاب اسمبلی کا اجلاس کس وقت ہو گا؟

    اس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 11:30 بجے ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کل ایڈووکیٹ جنرل سے سماعت کے دوران اپ ڈیٹ لیں گے۔

    سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 40 اراکین کو معطل کرتے ہوئے ووٹنگ سے روکنے کی کوشش ہو رہی ہے جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

  5. غیر آئینی اقدامات کو آئینی استحقاق حاصل نہیں ہو سکتا: مخدوم علی خان

    مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ غیر آئینی اقدامات کو آئینی استحقاق حاصل نہیں ہو سکتا۔

    اُنھوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس کو قائم مقام وزیر اعظم بنانا عدالت پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔

    مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ رولنگ کالعدم ہوئی تو اسمبلی کی تحلیل بھی ختم ہو جائے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ عمران خان کو عبوری وزیرِ اعظم بنانا بھی آئین کے مطابق نہیں۔

    اس کے بعد مخدوم علی خان کے دلائل مکمل ہو گئے۔

  6. قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صوبائی اسمبلیوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

  7. عدالتی کارروائی میں وقفہ

    سپریم کورٹ کی آج کی کارروائی میں عارضی وقفہ ہے اور تین بجے کارروائی دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔

  8. عالمی سازش پر انٹیلیجنس بریفنگ لے لیں، لیگی وکیل کا مشورہ، صرف آئین و قانون دیکھ رہے ہیں، چیف جسٹس کا جواب

    چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ خارجہ پالیسی یا ریاستی پالیسی کا تعین نہیں کر سکتی اور عدالت نے صرف آئین و قانون کو دیکھنا ہے۔

    لیگی وکیل مخدوم علی خان کے دلائل کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ریاستی پالیسی کی کھوج لگانے کا کام نہیں کر سکتے۔

    مخدوم علی خان نے اس حوالے سے کہا کہ سپریم کورٹ سیکیورٹی اداروں کو بلا کر مکمل بریفنگ لے سکتی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر چاہے تو مبینہ عالمی سازش کے بارے میں انٹیلیجینس اداروں سے ان کیمرہ بریفنگ لے سکتی ہے۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم فی الحال آئین و قانون کو دیکھ رہے ہیں۔

    جسٹس بندیال نے کہا کہ عدالت کی توجہ صرف ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر ہے اور عدالت کی ترجیح ہے کہ صرف اس نکتے پر ہی فیصلہ ہو۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ صرف دیکھنا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کا عدالتی جائزہ لیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ عدالت ریاستی اور خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی بلکہ اس نے صرف اقدامات کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت پالیسی معاملات کی تحقیقات میں نہیں پڑنا چاہتی اور وہ تمام فریقین کو کہیں گے کہ اسی نکتے پر توجہ مرکوز رکھیں۔

  9. آپ چاہتے ہیں کہ مقدمہ بازی کا نیا دروازہ کھل جائے: جسٹس منیب اختر

    لیگی وکیل مخدوم علی خان کے دلائل جاری ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا عدم اعتماد کی تحریک میں غیر قانونی عوامل کو جانچا جا سکتا ہے؟

    مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو عدم اعتماد کی تحریک میں موجود غیر قانونی عوامل کو بھی جانچنے کا اختیار حاصل ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اختیارات کی تکون موجود ہے، چھوٹی موٹی خامیوں پر سپیکر کے آئینی اختیارات کے خلاف کیسے رائے دے دیں؟

    جسٹس منیب اختر نے مخدوم علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ مقدمہ بازی کا نیا دروازہ کھل جائے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو پھر صوبائی اسمبلی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواستیں آنی شروع ہو جائیں گی۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے نکتہ اٹھایا کہ کیا ڈپٹی سپیکر سپیکر سے اجازت لیے بغیر اختیارات استعمال کر سکتا ہے؟

    اُنھوں نے سوال کیا کہ ڈپٹی سپیکر کا سپیکر کے اختیارات کو استعمال کرنا آئینی ہے یا غیر آئینی؟

    اس پر مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کا سپیکر کی اجازت کے بغیر اختیارات استعمال کرنا غیر آئینی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ پڑھتے وقت سپیکر کا نام بھی لیا۔

  10. متحدہ عرب امارات نے دو ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی کو ری شیڈول کر دیا, تنویر ملک، صحافی

    متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ذمے دو ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی کو ایک سال کے لیے ری شیڈول کر دیا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر قرضے کی ادائیگی مارچ کے مہینے میں کی جانی تھی تاہم پاکستان نے اس کی ادائیگی مؤخر کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے تین سال کی مدت کی درخواست کی تھی۔

    تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے صرف ایک سال کے لیے ادائیگی مؤخر کرنے کی منظوری دی گئی۔

    قرضے کی ادائیگی کے ری شیڈول ہونے سے ملک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا جو دو ہفتوں میں ایک چوتھائی گر چکے ہیں۔

    پاکستان میں موجودہ سیاسی بحران کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کا اثر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر پر بھی پڑ رہا ہے۔

    منگل کے روز ایک ڈالر کی قیمت 185 روپے کی سطح سے تجاوز کر گئی، تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے دو ارب ڈالر قرضے کو ری شیڈول کرنے کی خبر نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کو کچھ سہارا دیا ہے۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ لگ رہا تھا کہ منگل کے روز ڈالر کی قیمت 185 کی حد کو عبور کر کے 186 کی حد بھی عبور کر جائے گی تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے قرضے کو ری شیڈول کرنے کی پیش رفت نے روپے کو انٹربینک میں سہارا دیا ہے اور ڈالر کی قیمت میں تیزی کے رجحان کو سست کر دیا ہے۔

  11. اصل مقدمہ سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت جانچنا ہے: جسٹس جمال خان مندوخیل

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان اپنے دلائل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہو جائے تو سپیکر مسترد نہیں کر سکتا۔

    جسٹس منیب اختر نے اس پر کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک جمع کیسے کروانی ہے، اس کے طریقہ کار بارے میں آئین خاموش ہے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ عدم اعتماد کے طریقہ کار کے متعلق رولز موجود ہیں، عدم کی تحریک جمع کروانے کی پہلی شرط 20 فیصد اراکین کی حمایت ہے۔

    چیف جسٹس نے مخدوم علی خان سے استفسار کیا کہ کیا وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر بحث ہوئی؟

    اس پر مخدوم علی خان نے بتایا کہ اس تحریک پر بحث نہیں کروائی گئی۔

    چیف جسٹس نے پوچھا کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اکثریت پارلیمان میں موجود تھی؟ تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے لیے 20 فیصد اراکین کی شرط آئین نے عائد کی ہے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی شق کو قواعد کے ذریعے روندا نہیں جا سکتا۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ قانونی تھی یا غیر قانونی، اصل مقدمہ سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت کو جانچنا ہے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ عدم اعتماد پر دی گئی رولنگ آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔

  12. آئین کو رولز کے ذریعے غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا، چیف جسٹس

    مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کے دوران نکتہ اٹھایا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سپیکر کے علاوہ پورا ایوان وزیرِ اعظم کے خلاف ہو اور سپیکر پھر بھی عدم اعتماد مسترد کر سکتا ہے؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مخدوم علی خان سے پوچھا کہ کیا تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری سے پہلے اسکی وجوہات دیکھی جا سکتی ہیں؟

    جواباً مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے وجوہات بتانا ضروری نہیں ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی منظوری کے لیے 20 فیصد ارکان کا ہونا ضروری ہے، پر اگر 20 فیصد منظوری دیں اور ایوان میں موجود اکثریت مخالفت کرے تو کیا ہوگا؟

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش ہو جائے تو اس پر ووٹنگ ضروری ہے۔

    چیف جسٹس نے مخدوم علی خان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی اجازت رولز میں ہے، اور رولز کے ذریعے آئین کو غیر مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔

  13. سات دن کے بجائے آٹھویں دن ووٹنگ غیر آئینی ہو گی؟ جسٹس منیب اختر کا سوال

    اس وقت لیگی وکیل مخدوم علی خان کے دلائل جاری ہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے اُن سے سوال کیا کہ ووٹنگ نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی کیسے ہے۔ اُنھوں نے استفسار کیا کہ عدم اعتماد کی کارروائی پر آئین کے مطابق سات دن میں عدم اعتماد پر ووٹنگ ضروری ہے، تو اگر کسی وجہ سے ووٹنگ آٹھویں دن ہو تو کیا غیر آئینی ہوگی؟ جسٹس منیب اختر

    مخدوم علی خان نے کہا کہ ووٹنگ کا عرصہ تین سے سات دن تک کا ہے بے ضابطگی کی بنیاد پر اس عرصے کو سات دن سے زیادہ نہیں بڑھایا جاسکتا۔

    مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیرِ اعظم اعتماد کھو جانے کے بعد وزیر اعظم نہیں رہ سکتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آئین کی شق 95 بذاتِ خود واضح ہے جو مکمل پروسیس فراہم کرتی ہے۔

    جسٹس منیب اختر نے کہا کہ شق 91 اور 95 میں مکمل طریقہ کار ہے، کیا اس میں قواعد کو تحفظ دیا گیا ہے؟

    اس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر پروسیجر میں کوئی بے ضابطگی ہو تو بھی غیر آئینی اقدام نہیں کیا جا سکتا۔

    جسٹس منیب اختر نے اُن سے پوچھا کہ شق 91 اور 95 میں بے ضابطگی پر شق 69 تحفظ دیتی ہے؟

    جواباً مخدوم علی خان نے کہا کہ اگر تشریح کا معاملہ ہو تو پھر شق 69 آڑے نہیں آتی۔

    اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان اسمبلی کے معاملے ہر عدالت فیصلہ دے چکی ہے جب سنہ 1999 میں بلوچستان اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد دوبارہ بحال ہوئی تھی۔

  14. ’الیکشن کمیشن نے الیکشن سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا‘

    یاد رہے کہ میڈیا میں الیکشن کمیشن سے منسوب کر کے یہ بیان چلایا جا رہا تھا کہ ادارے نے کہا ہے کہ انھیں الیکشن کروانے کے لیے کم از کم چھ ماہ درکار ہیں۔

  15. پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع

    ‏سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کے بعد اب مسلم لیگ (ن) کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل شروع ہو چکے ہیں۔

    اپنے دلائل کے آغاز میں اُنھوں نے کہا کہ آئین کی شق 95 کی ذیلی شق 1 کے تحت عدم اعتماد کی قرار داد جمع ہوئی جس پر پر 152 ارکان کے دستخط ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم اکثریت کھو دیں تو یہ پارلیمانی جمہوریت کے خلاف ہے کہ وہ وزیر اعظم رہیں۔

    جسٹس منیب اختر نے اس موقع پر کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر کب کیا ہونا ہے یہ رولز میں ہے آئین میں نہیں، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ رولز بھی آئین کے تحت ہی بنائے گئے ہیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ کوشش کریں کہ کیس جلدی مکمل کریں تاکہ کوئی فیصلہ دیا جا سکے۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت تحریک عدم اعتماد کی قراداد کو دیکھے، تحریک عدم اعتماد وزیر اعظم کو ہٹانے کے لیے جمع کروائی گئی جس میں مؤقف اختیار کی گیا کہ وزیرِ اعظم اکثریت کھو چکے ہیں۔

    اُنھوں نے کہا کہ شہباز شریف نے اسمبلی کے رولز آف بزنس کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی اور جب سپیکر نے قرار داد کے لیے رائے لی تو 161 سے زائد ارکان عدم اعتماد کے حق میں کھڑے ہوئے تو قرارداد پیش کرنے کی اجازت ڈپٹی سپیکر نے دی۔

    اُنھوں نے کہا کہ 31 مارچ کو بغیر کسی کارروائی کے اجلاس تین اپریل تک ملتوی کیا گیا۔

    اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 31 مارچ کو التواء کیسے کیا گیا۔ اُنھوں نے استفسار کیا کہ سپیکر کی جانب سے کوئی ہے؟

    بعد میں اُنھوں نے اجلاس کی کارروائی کے نوٹس اور سپیکر کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

    مخدوم علی خان نے کہا کہ تین اپریل کو اجلاس شروع ہوا تو تلاوت کے بعد ڈپٹی سپیکر نے اپوزیشن کو موقع نہیں دیا بلکہ فواد چوہدری کو بولنے کا موقع دیا۔

  16. ’کیا ڈپٹی سپیکر اپنے طور پر ممبران کے خلاف آرٹیکل 5 کا اطلاق کر سکتا ہے؟‘

    پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے عدالت میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سپیکر کو اختیار نہیں کہ اسے خارج کر دے سپیکر کو ہر صورت ووٹنگ کرانا ہوتی ہے اور سپیکر کے سارے اختیارات بھی بیان کردہ ہیں سپیکر ان اختیارات سے باہر نہیں جا سکتا۔

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر قانون نے دو سو ممبران قومی اسمبلی کے خلاف آرٹیکل 5 کی بات کی، اور بغیر کسی عدالتی فیصلے یا ثبوت کے الزام تراشی کی گئی۔ ‘آرٹیکل 69 میں ایوان کی کارروائی کو استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، کیا ڈپٹی سپیکر اپنے طور پر ممبران کے خلاف آرٹیکل 5 کا اطلاق کر سکتا ہے؟‘

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’بغیر کسی ثبوت اور عدالتی فیصلے کیسے ممبران کو غدار قرار دیا جا سکتا ہے، وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ لیے بغیر اسمبلی کی تحلیل کی ہدایت نہیں کر سکتے تھے۔ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لیتے، مستعفی ہوتے یا وقت سے پہلے الیکشن میں چلے جاتے۔ وزیر اعظم اسمبلیاں تحلیل نہیں کر سکتے تھے۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد موجود تھی یہ عدالت مبینہ سازشی لیٹر طلب کرے اور سیکورٹی کونسل کی کارروائی دیکھے۔ جوڈیشل کمیشن بنا کر اس پر تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔‘

  17. قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس طلب کیے جائیں، رضا ربانی

    رضا ربانی نے اپنے دلائل کے اختتام کی جانب بڑھتے ہوئے عدالت کے سامنے نکتہ اٹھایا کہ کیا سپیکر عدالتی تحقیقات کے بغیر غیر ملکی سازش کے حوالے سے رولنگ دے سکتے تھے۔

    اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ڈپٹی سپیکر کی رولنگ غیر آئینی قرار دے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے منٹس اور مبینہ خط منگوایا جائے، اور عدالت سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دے کر اسمبلی کو بحال کرے۔

  18. ڈپٹی سپیکر کا بغیر ثبوت اپوزیشن ارکان کو غدار قرار دینا غلط تھا: رضا ربانی

    رضا ربانی نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے ڈپٹی سپیکر کا اپوزیشن اراکین کو غدار قرار دینا غلط تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے آئین کے تحت کاروائی نہیں بڑھائی جبکہ سپیکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع تھی۔

    اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک عدم اعتماد کے بعد سپیکر کے اختیارات محدود ہوتے ہیں اور ڈپٹی سپیکر ماسوائے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے علاوہ کوئی رولنگ نہیں دے سکتا تھا۔

    سینیٹر ربانی نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ غیر قانونی تھی اور سپیکر تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے پابند تھے، اس کے علاوہ جو کچھ بھی کیا وہ غیر قانونی تھا۔

    اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اگر اکثریت کھو رہے ہیں تو اُنھیں اعتماد کا ووٹ لینا ہوتا ہے، اور آئین کی شق 95 کے تحت تحریک عدم اعتماد کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

    سیٹیر ربانی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے دوران اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کیا جا سکتا حتیٰ کہ ووٹنگ کا عمل مکمل کیے بغیر اسمبلی کا اجلاس بھی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

  19. ’میڈیا پر سپیکر کے اجلاس کی صدارت نہ کرنے کے حوالے سے خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں‘

    قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس کی صدارت کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی سے متعلق میڈیا ہر چلنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میڈیا چینلز پر اجلاس کی صدارت نہ کرنے کے حوالے سے چلائی جانے والی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

    یاد رہے کہ سوشل میڈیا کے کچھ چینلز پر یہ خبر دی جا رہی تھی کہ سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی صدارت اس لیے نہیں کی کیونکہ ان کی رائے میں دی گئی رولنگ غیر آئینی تھی۔ بی بی سی اس خبر کی غیر جانبدارانہ یا آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کی وجہ سے اجلاس کی صدارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈپٹی اسپیکر کی طرف سے دی جانے والی رولنگ سے سپیکر قومی اسمبلی متفق تھے۔

  20. ’ڈپٹی سپیکر کے سامنے کوئی عدالتی حکم تھا نہ سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ‘

    سینیٹر رضا ربانی نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ 28 مارچ کو تحریک عدم اعتماد کی منظوری ہوئی مگر پھر سماعت ملتوی کر دی گئی۔

    اُنھوں نے کہا کہ تین اپریل کو ڈپٹی سپیکر نے رولنگ پڑھی اور تمام ارکان کو آئین کی شق 5 کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے یہ بھی اعلان نہیں کیا تھا کہ تفصیلی رولنگ جاری کریں گے۔

    رضا ربانی نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر نے کس بنیاد پر رولنگ دی کچھ نہیں بتایا گیا جبکہ ڈپٹی سپیکر کے سامنے عدالتی حکم تھا نہ ہی سازش کی کوئی انکوائری رپورٹ۔