کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔
لائیو کوریج
لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آئی، خطرہ نہیں ٹلا: تیمور جھگڑا
صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر برائے صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے پھیلاؤ کی شرح میں کمی ضرور آئی لیکن اس غلط فہمی میں کوئی نہ رہے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ رہنا پڑے گا اور اس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہو گا۔
انھوں نے بتایا کہ ہم چاہ رہے ہیں کہ جن چھ اضلاع میں وائرس کے کیسز سامنے نہیں آئے ان میں آمدورفت کو کم کیا جائے تاکہ ان اضلاع کو بچایا جا سکے۔
کورونا وائرس: بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں بھی مقامی منتقلی کے کیسز کی تصدیق
بلوچستان کے ضلع جعفر آباد سے کورونا کے 33 کیسز رپورٹ ہونے کے بعد صوبے میں متاثرہ اضلاع کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ضلع جعفر آباد سے پہلی مرتبہ مقامی منتقلی کے نو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
بلوچستان سے پہلے کورونا کے جو کیسز سامنے آئے وہ ایران سے آنے والے زائرین کے تھے لیکن اب مقامی منتقلی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
صوبے میں محکمہ صحت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 139 ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں مقامی منتقلی کے کیسز سب سے زیادہ کوئٹہ سے رپورٹ ہوئی ہیں جن کی تعداد 106 ہے۔
باقی اضلاع میں سے چاغی سے 11، لورالائی سے چھ، ہرنائی سے تین جبکہ خضدار اور ہرنائی سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
اپنے ایک بیان میں وزیر اعلی نے کہا کہ
کوئٹہ کے علاوہ ضلع جعفرآباد سے بھی کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جعفرآباد میں متاثرہ افراد کے ٹیسٹ نمونے لے کر کوئٹہ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھیجا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان کے افراد دبئی سے آئے تھے انھوں نے کمشنر نصیرآباد کو ہدایت کی کہ جعفرآباد سمیت نصیرآباد ڈویژن میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کو مزید موثر بنائیں۔
کورونا وائرس: انڈیا کی پوسٹل سروس دنیا میں سب سے بڑی ہے اور اب جانیں بچانے میں مدد کر رہی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں پوسٹل یعنی ڈاک سروسز کی لال رنگ کی وین کو ہر مقامی شخص جانتا ہے۔
یہ وینز ہر روز ملک کے طول و عرض میں ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں جس کی وجہ چھ لاکھ دیہی علاقوں تک پھیلا ہوا نیٹ ورک ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دو ہزار لسے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبے میں 340 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ چار اموات بھی ہوئی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 16 افراد صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں یہ تعداد 576 ہو گئی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے سکھر کا دورہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر شہر کا دورہ کیا اور اس دوران اپنی گاڑی روک کر پولیس موبائل واپس کیں اور کہا کہ مجھے کوئی پروٹوکول نہیں چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دورے کے دوران مکی مسجد والے علاقے میں رک کر دکاندار کو ہدایت دی کہ گاہکوں کو ایک دوسرے سے دور دور کھڑا کریں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی گاڑی میں بھی حکومتی قواعد کا خیال رکھتے ہیں اور اس میں ایک وقت میں دو لوگ ہی سفر کرتے ہیں۔
آج بھی ان کی گاڑی میں ان کے علاوہ صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ بیٹھے تھے۔
کورونا لاک ڈاؤن: پاکستان میں کِن کاروباروں اور صنعتوں پر پابندی ختم، مستفید کون ہوگا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی مزید توسیع کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور چاروں صوبوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے حوالے سے لگائی جانے والی زیادہ تر پابندیاں قائم رہیں گی تاہم اب یہ جزوی لاک ڈاؤن ہے کیونکہ کچھ کاروبار اور صنعتیں بحال کر دی گئی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, کورونا وائرس: پنجاب میں 216 نئے مریض، کل 3232 متاثرین, پنجاب میں کل متاثرین: 3232 | اموات: 34 | صحتیاب: 550
،تصویر کا ذریعہGovernment of Punjab
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3232 ہو گئی ہے۔ اب تک صوبے میں 34 اموات ہوئی ہیں جبکہ 550 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
پنجاب پاکستان میں اب تک اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تاہم صوبے میں ٹیسٹ بھی سب سے زیادہ کیے گئے ہیں۔
اب تک صوبے میں 701 زائرین سنٹرز، 1236 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 91 قیدیوں، 1204 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت سےمتعلق وزیراعظم عمران خان اپیل کی حمایت
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریز نے وزیراعظم عمران خان کی ترقی پذیر ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے حوالے سے عالمی اقدام اٹھانے کی اپیل کی حمایت کی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق نیوریارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈیوجیرک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اپنے موقف کے عین مطابق ہے۔
انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ رواں سال کیلئے واجب الادا قرضوں پر سود کی فوری معافی سمیت قرض کی ادائیگی میں سہولت کرونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام نہایت اہم ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے محدود وسائل قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہونے کی بجائے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے چاہییں۔
کورونا وائرس: ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5540 ٹیسٹ، پنجاب میں مشتبہ متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ, مندرجہ ذیل سرکاری اعداد و شمار میں تبدیلی آ سکتی ہے
،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ روز 5540 ٹیسٹ کیے جن میں سے سب سے زیادہ 2296 ٹیسٹ صوبہ پنجاب میں کیے گئے۔
گذشتہ روز ملک میں ایک دن میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے۔ اس کے علاوہ ملک میں مزید 17 اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
پاکستان میں 60 سے 69 برس کے افراد میں اموات کی شرح سب سے زیادہ
،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک 60 سے 69 برس کی عمر کے افراد میں اموات کی شرح سب سے زیادہ 33 اعشاریہ 33 فیصد ہے۔
اس وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں مردوں کی ہوئی ہیں اور اب تک 76 اعشاریہ چار فیصد مرد اس وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
اموات کی سب سے کم شرح 20 سے 29 برس کی عمر کے افراد میں دیکھنے میں آئی ہے۔
’مائی لارڈ گرفتاری کے لیے حاضر ہوں‘
بریکنگ, پاکستان میں متاثرین کی تعداد 6500 سے تجاوز کر گئی, پاکستان میں کل متاثرین: 6506 | اموات: 125| صحتیاب: 1645
پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 6500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک میں اب تک 125 اموات ہو چکی ہیں۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 1645 افراد صحتیاب ہو گئے ہیں۔
اس وقت ملک میں سب سے زیادہ 42 اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جبکہ سب سے زیادہ 3217 متاثرین صوبہ پنجاب میں سامنے آئے ہیں۔
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟
محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔
کورونا نقشہ: دنیا بھر میں کووڈ-19 کے مریض کہاں کہاں ہیں؟
اب تک یہ مرض دنیا کے 200 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے 20 لاکھ کے قریب افراد متاثر اور ایک لاکھ 19 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔
اس تحریر کی مدد سے جانیے کہ دنیا بھر میں کورونا کے متاثرین کی تعداد کیا ہے اور کون سے ملک اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
افغانستان میں پھنسے بے یارومددگار پاکستانی واپسی کے منتظر
پاکستان نے کورونا وائرس کی وجہ سے اپنی ملکی سرحدیں بند کی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں موجود مختلف بارڈرز پر سینکڑوں پاکستانی گزشتہ کئی روز سے بے یارومددگار واپسی کے منتظر ہیں۔
ان میں ڈرائیور اور افغانستان میں روزگار کے لیے جانے والے شہری شامل ہیں۔
طورخم بارڈر پر کچھ پاکستانی افغان حکام کی جانب سے تشدد کا الزام بھی لگا رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں پشاور سے بلال احمد کی یہ رپورٹ۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں مذہبی اجتماعات پر پابندی تنازع کا شکار
بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں یومیہ متاثرین میں دوسرا سب سے بڑا اضافہ, پاکستان میں کل متاثرین: 6506 | اموات: 125 | صحتیاب: 1645
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں متاثرین کی تعداد میں ایک روز میں اب تک کا دوسرا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ملک میں گذشتہ روز 520 نئے متاثرین سامنے آئے جبکہ مزید سات اموات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس سے قبل، چھ اپریل کو ملک میں سب میں زیادہ 577 متاثرین سامنے آئے تھے۔
اس وقت اموات کے لحاظ سے ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا ہے جہاں 42 مصدقہ اموات اموات ہیں جبکہ گذشتہ روز عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ ملک میں سب سے کم ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔
اس وقت متاثرین کے حساب سے صوبہ پنجاب سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں یہ تعداد 3217 ہے۔