کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔

لائیو کوریج

  1. کورونا پر فوکل پرسن ڈاکٹر فیصل سلطان کی بریفنگ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 6871 تک پہنچ گئی

    Figures

    پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث متاثرین کی کل تعداد 6871 ہو گئی ہے جبکہ اب تک ملک میں 129 اموات ہو چکی ہیں۔

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مزید 6 افراد میں کورونا کی تصدیق کی گئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 291 تک پہنچ گئی ہے۔

    گذشتہ روز پاکستان میں ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 17 اموات سامنے آئیں۔

    ملک میں اب تک اس وائرس سے 1661 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شہوانی کے مطابق صوبے میں مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی سے متاثرہ افراد 143 تک پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر کورونا کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ احتیاط کریں۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی تو ضرور آئی ہے لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔

    اس وقت اموات کے اعتبار سے صوبہ سندھ 45 اموات کے ساتھ ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جبکہ متاثرین کے اعتبار سے صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 3232 متاثرین ہیں تاہم پنجاب میں ٹیسٹنگ کی شرح بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

  3. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کا متعدد سرکاری محکمہ جات کے دفاتر کھولنے کا فیصلہ, ایم اے جرال، صحافی، مظفرآباد

    Muzafffarabad

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے سرکاری امور کی انجام دہی کے لیےمختلف محکمہ جات کے دفاتر کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ان محکموں میں محکمہ تعلیم، محکمہ امور زکواۃ و عشر، کشمیر لبریشن سیل، کھیل و امور نوجوانان، بہبود آبادی، محکمہ سیرو سیاحت اور محکمہ زراعت و امور حیوانات شامل ہیں.

    پاکستان کی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کے ترجمان راجہ وسیم کے مطابق حکومت نے تمام محکمہ جات کے سیکرٹریز کو اختیار دیا ہے کہ اپنی ضرورت کے مطابق اسٹاف کو حاضر رکھیں جبکہ ان کو پابند کیا گیا ہے کہ دفاتر میں وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔

    دوسری جانب حکومتی وزیر ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد آٹھارہ اپریل کو تاجروں کی جانب سے مارکیٹیں کھولنے کا اعلان واپس لے لیا گیا ہےاور اس متعلق اکیس اپریل کو اس پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

    دریں اثنا اس خطے کی حکومت نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر کام کرنے والے پیرامیڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز کو ایمرجنسی سروس دینے کے عوض ایک ماہ کی بنیادی اضافی تنخواہ کی ادائیگی بھی کی گئی ہے۔

    حکام کے مطابق آج بھی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سے کوئی شخص متاثر نہیں ہوا. حکام کے مطابق اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 46 ہے جبکہ صحتیاب مریضوں کی تعداد نو ہے۔

  4. وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا عوام کے نام سندھی میں پیغام

    صوبہ سندھ کی وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا کے بارے میں صوبے کی عوام کو سندھی زبان میں مخاطب کرتے ہوئے گھروں میں رہنے، سماجی دوری قائم کرنے اور احتیاط کرنے کے متعلق پیغام دیا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. لاک ڈاؤن ختم یا نرم ہونے کا تاثر غلط ہے، بیرسٹر مرتضی وہاب

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے لاک ڈاؤن کے دوران استثنیٰ اور کھلنے والی دکانوں کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ حجام، دھوبی، درزی، سینیٹری، پلمبر، مکینک اور کارپینٹر کی دکانیں کھولنے کی اجازت دینے کا تاثر غلط ہے۔

    بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ ان دکانوں کو سندھ حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی اجازت دی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے اعلان سے ایک تاثر اُبھرا کہ جیسے لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہو۔لاک ڈاؤن ختم یا نرم ہونے کا تاثر غلط ہے۔

    اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کل واضح کردیا کہ لاک ڈاؤن مزید سخت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن میں سختی ضروری ہے۔سندھ حکومت لاک ڈاؤن کوئی خوشی سے نہیں لگا رہی۔

    دودھ، دہی، کریانہ، میڈیکل اسٹور، تندور، سبزی کی دکانوں کے مالکان پر بھی سماجی دوری لازمی ہے۔ان دکانوں کے مالکان خدارا ماسکس اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

    وزیراعظم کا اصرار تھا کہ کنسٹرکشن کے شعبے اور برآمدی صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔سندھ حکومت نے وزیراعظم کی ہدایت پر کنسٹرکشن اور برآمدی صنعتوں کو کام کی اجازت دی۔تاہم کنسٹرکشن کے شعبے اور برآمدی صنعتوں کو تمام ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔یہ ایس او پیز محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کی جاچکی ہیں۔

  6. بریکنگ, بلوچستان میں مزید چھ افراد میں کورونا کی تصدیق، صوبے میں کل تعداد 291 ہو گئی

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کی صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شہوانی نے صوبے میں مزید چھ افراد کی کورونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی آئی ایم ایف پاکستان کی نمائندہ سے ملاقات

    Shah Mehmood Qureshi

    ،تصویر کا ذریعہmofa.gov.pk

    پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزارت خارجہ میں آئی ایم ایف کی پاکستان میں نمائندہ مس ٹریسا ڈبن ساشیز سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا کہ موجودہ وبائی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے، ترقی پذیر ممالک کی معاشی بحالی کے لیے غیر مشروط معاونت فراہم کی جائے۔

    ملاقات میں کورونا کے باعث عالمی وبائی چیلنج کی موجودہ صورتحال اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی مضمرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے محدود معاشی وسائل کے باوجود کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے اور منفی معاشی اثرات کے ازالے کے لیے موثر اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ عالمی وبا نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک پر اس وبا کے منفی اثرات انتہائی شدید ہیں۔

    اسی صورت حال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے اس کٹھن گھڑی میں کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کی تجویز دی تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل کو اس وبا کو روکنے اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے استعمال میں لا سکیں۔

    فریقین کا کووڈ 19 وبائی صورتحال اور اس وبا سے موثر انداز میں نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور جی 20 ممالک کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت اور معاشی معاونت کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔ ملاقات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور ڈی جی یو این فرخ اقبال خان بھی شریک تھے

  8. پاکستان میں کل 6865 متاثرین، 129 اموات, پاکستان میں کل متاثرین: 6865 | اموات: 129 | صحتیاب: 1661

    اعداد

    پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث متاثرین کی کل تعداد 6865 ہو گئی ہے جبکہ اب تک ملک میں 129 اموات ہو چکی ہیں۔

    گذشتہ روز پاکستان میں ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 17 اموات سامنے آئیں۔

    ملک میں اب تک اس وائرس سے 1661 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

    ادھر خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی تو ضرور آئی ہے لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے۔

    اس وقت اموات کے اعتبار سے صوبہ سندھ 45 اموات کے ساتھ ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جبکہ متاثرین کے اعتبار سے صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ 3232 متاثرین ہیں تاہم پنجاب میں ٹیسٹنگ کی شرح بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

  9. پنجاب میں ماہ رمضان میں سستے بازار نہ لگانے، براہ راست ریلیف دینے کا فیصلہ

    رمضان

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Punjab

    وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیرصدارت رمضان پیکج کے حوالے سے اجلاس میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر رمضان بازار نہ لگانے اور ماہ رمضان کے دوران عوام کو براہ راست ریلیف پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    سنیئر وزیرعبد العلیم خان، وزیر قانون راجہ بشارت بھی اجلاس میں شریک تھے۔

  10. آئی ایم ایف کورونا سے نمٹنے کے لیے قرضہ دے گا: شاہ محمود قریشی

  11. انڈیا میں پھنسے 41 پاکستانیوں کی براستہ واہگہ بارڈر آمد

    متاثرین

    ،تصویر کا ذریعہKhalid Mehmood Khalid

    کورونا وائرس کے باعث چند روز قبل سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے کئی پاکستانی اور انڈین شہری ایک دوسرے کے ملکوں میں پھنس گئے تھے۔

    دونوں ممالک کی حکومتوں کی طرف سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کے انتظامات کے تحت آج 41 پاکستانی شہری واہگہ کے راستے لاہور پہنچیں گے۔

    لاہور میں ہمارے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق ان کے لیے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھولا جائے گا جسے گزشتہ ماہ کورونا کے خطرے کے پیش نظر بند کر دیا گیا تھا۔

    متاثرہ شخص

    ،تصویر کا ذریعہKhalid Mehmood Khalid

    لاہور پہنچننے والے پاکستانی شہریوں کو گھر بھیجنے سے قبل ہوٹلوں کے اندر قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔

    انڈیا میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی تعداد 180 سے زیادہ تھی جبکہ 200 کے قریب انڈین شہری پاکستان میں موجود ہیں۔ سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک نے ان شہریوں کے ویزوں میں توسیع کر دی تھی۔

  12. کورونا وائرس: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت مشرقِ وسطی میں مقیم کتنے پاکستانیوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں ایک طرف دنیا کے تقریباً ہر ملک کی معیشت متاثر ہو رہی ہے وہیں بیروزگاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    اس صورتحال سے ملک کا غریب طبقہ تو متاثر ہے ہی، لیکن سب سے زیادہ پریشانی ایسے پاکستانیوں کے لیے ہے جو نوکری کے غرض سے بیرون ملک مقیم تھے اور اب انھیں فارغ کر دیا گیا ہے۔

  13. حکومت پنجاب کا گھر بیٹھے طلبہ کے لیے ’تعلیم گھر‘ نامی کیبل چینل کا آغاز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. پشاور میں کورونا متاثرین زیادہ کیوں ہیں؟, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پشاور میں آئے ہیں لیکن صوبائی حکومت کے مطابق جس رفتار سے اس میں اضافہ ہو رہا تھا اب اس میں کمی ہو رہی ہے جبکہ بونیر اور اپر دیر میں اب وائرس کے بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔

    تمیور سلیم جھگڑا نے بتایا کہ پشاور میں کورونا وائرس کے زیادہ مریض آنے کی مختلف وجوہات ہیں جن میں اس شہر کی آبادی اور صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے یہاں لوگوں کی آمدورفت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے افراد بھی پہلے پشاور آتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کیسز میں اضافہ ہوا ہے لیکن اب لاک ڈاؤن سے وائرس کوپھیلنے سے روکنے میں بڑی حد تک مدد ملی ہے۔

    انھوں نے مصدقہ مریضوں میں ہفتہ وار اضافے بتاتے ہوئے کہا کہ 9 مارچ سے شروع ہونے والے ہفتے میں پہلا کیس سامنے آیا، دوسرے ہفتے میں 24، تیسرے ہفتے میں 40، چوتھے ہفتے میں 202 اور پانچویں ہفتے میں 362 کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اس اضافے کو دیکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آخری ہفتے میں صرف 160 کیسز بڑھے ہیں حالانکہ جس رفتار سے اضافہ ہو رہا تھا ان کی تعداد دو گنا یا تین گنا ہو سکتی تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت 200 سے زیادہ آئسولیشن مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جن میں 4093 بستر مختص ہیں اور یہ تعداد دیگر صوبوں سے زیادہ ہے۔

  15. حکومت کی جانب سے پاکستان ریلوے کے قلیوں میں راشن کی تقسیم

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. جب کورونا وائرس نے ایک ہنستے بستے پاکستانی گھرانے کو ویران کر دیا

    ڈاکٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    رُوما سلیم کے خاندان کے چار افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور محض چار دن میں ان میں سے ایک کی ہلاکت ہو گئی۔ وہ خود بھی گزشتہ ہفتے کورونا سے صحتیاب ہو کر گھر واپس پہنچی ہیں۔

    روما سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے تمام اہلخانہ کو مختلف قرنطینہ مراکز میں بھیج دیا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ہنستا بستا گھر ویران ہو گیا۔

  17. پاکستان سمیت 76 ملکوں کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملےگی: وزیرخارجہ

    وزیر

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت تقریباً چھہتر ملکوں کو یکم مئی سے ابتدائی طور پر ایک سال کے عرصے کےلیے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملے گی۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے پاکستان کی کامیاب اقتصادی سفارتکاری سے متعلق آج ایک بیان میں نشاندہی کی کہ وزیراعظم کی قرضوں کی ادائیگی میں سہولت کےحوالے سے اپیل کی گزشتہ روز ایک اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، عالمی مالیاتی فنڈ اور گروپ بیس کے ملکوں نے توثیق کی۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنے محصولات کا ایک تہائی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے اور قرضوں کی ادائیگی میں اس سہولت سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث برآمدات اور ترسیلات زر سمیت ترقی پذیر معیشتیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

  18. ’اگلے ہفتے تک خیبر پختونخوا میں ایک ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہو گی‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے اور گذشتہ دو دنوں میں 1188 ٹیسٹ کیے گئے جو اب تک دو دونوں میں صوبے میں کیے جانے والے سب سے زیادہ ٹیسٹ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام جاری ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ نجی لیبارٹریز سے بھی مدد لیں تاکہ دو ہفتوں میں یومیہ دو ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا سکیں۔

  19. بریکنگ, بلوچستان میں مقامی منتقلی کے پانچ نئے مریض, بلوچستان میں کل متاثرین: 285 | اموات: 3 | صحتیاب: 140

    صوبہ بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کے مزید پانچ متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 285 ہو گئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک صوبے میں مقامی منتقلی کے 139 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

  20. ہمیں علاقے کے حساب سے حکمت عملی بنانی ہو گی: تیمور جھگڑا

    jhagra

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/PTIOfficial

    صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ کا کہنا ہے ہمیں صوبے میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے علاقے کے حساب سے حکمت عملی بنانی ہو گی۔

    انھوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے چھ اضلاع میں ابھی تک کوئی کیس نہیں آیا جن میں چترال اپر اور لوئر، کوہستان (اپراور لوئر)، بٹگرام اور کولائی پالس شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان اضلاع میں آمدورفت محدود کرنے کے بارے میں حکمت عملی بنائی جا رہی ہے تاکہ یہ اضلاع مکمل محفوظ رہیں، انھوں نے بتایا کہ ان اضلاع میں اس وائرس کا پھیلاؤ نہ ہونے کی اہم وجہ آبادی میں کمی اور آمدورفت کا محدود ہونا ہے۔

    انھوں نے کہا دیگر ایسے اضلاع جہاں ابھی کیسز کم ہیں جیسے قبائلی اضلاع، ہمیں یہ کوشش کرنی ہو گی کہ یہاں ہم آمدورفت محدود کریں۔

    انھوں نے کہا کہ مردان میں وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خوش آئند بات یہ ہے کہ یہاں کیسز میں کمی آئی ہے اور لوگوں میں آگاہی پیدا ہوئی ہے۔