کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔
لائیو کوریج
بیلجیئم میں لاک ڈاؤن کی کہانی میاں شعیب کی زبانی
بیلیجیئم میں لاک ڈاؤن کے دوران زندگی کیسے گزر رہی ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
کورونا سے بچاؤ: لہسن کھانے یا پانی پینے سے کوئی فائدہ نہیں
کورونا وائرس سے بچاؤ اور اس کے علاج کے لیے سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور گھریلو ٹوٹکوں کا انبار لگا ہوا ہے۔
بی بی سی کی اس ویڈیو کے ذریعے جانیے کہ یہ ٹوٹکے درحقیقت کتنے کارآمد ہیں؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
برطانیہ: ’تحقیق کی جا رہی ہے کہ ایشیائی اور دیگر اقلیتیں بیماری سے زیادہ متاثر کیوں‘
خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں تین ہلاکتیں، 65 نئے متاثرین, ملک میں مصدقہ متاثرین 5914، مجموعی اموات 104
صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 65 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 865 ہو گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں تین نئی ہلاکتوں کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 38 ہو گئی ہے۔
تینوں ہلاکتیں پشاور میں ہوئی ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق سامنے آنے والے نئے کیسز میں سے زیادہ تر افراد وہ ہیں جو تبلیغ کے سلسلے میں گذشتہ کچھ عرصے میں سفر کرتے رہے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق 25 افراد مرض سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کہ بعد صوبے میں صحت یاب ہونے والوں کی مجموعی تعداد 178 ہو گئی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں نئے متاثرین اور اموات کے بعد اب پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 5914 ہو گئی ہے جبکہ مجموعی طور پر 104 ہلاکتیں ہیں۔
صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 1411 ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
کون کون سی صنعتیں آج سے کھل جائیں گی؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر نے آگاہ کیا کہ اشیائے ضروریہ، توانائی، ذرائع ابلاغ، بینکاری اور ریلیف سے متعلقہ تمام صنعتیں پہلے سے ہی کھلی ہیں اور ان کو کھلا رکھنے پر وفاق اور تمام اکائیوں میں اتفاق رائے تھا۔
انھوں نے کہا کہ اب ایسی صنعتیں کل سے کھولی جا رہی ہیں جہاں سے وبا کے پھیلنے کے خطرات کم ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بعد مندرجہ ذیل صنعتیں کھولی جا رہی ہیں:
کیمیکل مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور پروگرامنگ، پیپر اینڈ پیکجنگ یونٹس، سیمنٹ پلانٹس، فرٹیلائزر پلانٹس، مائنز اینڈ منرلز، ڈرائی کلینر سروسز، پودوں کی نرسریاں، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والے یونٹس، گلاس مینوفیکچرنگ یونٹس، جانوروں کو طبی امداد فراہم کرنے والی سروسز بشمول جانوروں کے ہسپتال، تمام ایکسپورٹ انڈسٹریز بشرطیکہ ان کے ایکسپورٹ آرڈرز کی پہلے تصدیق کی جائے گی، کتابوں اور سٹیشنری کی دکانیں، اینٹوں کے بھٹے اور بجری کے کرشنگ پلانٹس۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ تمام صنعتیں ان حفاظتی اقدامات کے بعد کھولی جائیں گی جن کا ان ایس او پی میں ذکر ہے اور جو صوبوں کو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا صوبوں اور مرکز میں دو جگہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔
’الیکٹریشن، پلمبرز، ترکھان، درزی، ریڑھی اور چھابڑی لگانے والوں کے حوالے سے وفاق کی رائے تھی کہ ان کو کھولا جائے تاکہ ان کا روزگار بحال ہو سکے مگر بعض صوبوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔
حماد اظہر کا کہنا ہے کہ صوبوں کو تجویز دی گئی ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنے اپنے صوبے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے خود فیصلہ کریں۔
حماد اظہر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو بتدریج کھولا جائے گا تاہم کنسٹرکشن سائٹس کو کھولنے کے حوالے سے بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔
انھوں نے کہا کہ صنعتوں کو کھولنے کے حوالے سے نظر ثانی جاری رہے گی اور رمضان سے قبل مزید صنعتیں بھی کھولی جائیں گی۔
اب لاک ڈاؤن کا اطلاق مساجد پر نہیں ہو گا: علما کا فیصلہ, ریاض سہیل، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے مذہبی علما نے کہا ہے کہ ملک میں نافذ لاک ڈاؤن کا اطلاق آئندہ سے مساجد پر نہیں ہو گا۔
کراچی سے جاری ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ ملک بھر میں مساجد کھلی رہیں گی اور اُن میں پنج وقتہ نماز باجماعت، نمازِ جمعہ جاری رہے گی کیونکہ تین یا پانچ افراد کی پابندی قابلِ عمل ثابت نہیں ہو رہی ہے۔
یہ اعلامیہ منگل کو کراچی میں ایک مشترکہ اجلاس کے بعد اس وقت جاری کیا گیا ہے جب حکومت نے ملک میں جاری جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔
اجلاس کے بعد مفتی منیب الرحمان اور مفتی تقی عثمانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ بیمار ہیں، یا وائرس سے متاثر ہیں، یا ان کی عیادت پر مامور ہیں وہ مسجد میں نہ آئیں۔‘
انھوں نے کہا کہ مسجدوں سے قالین ہٹا کر اُن کو ہر نماز کے بعد حتی الامکان جراثیم کُش ادویہ سے دھویا جائے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مسجدوں کے دروازے پر حتی الامکان سینی ٹائزرز لگانے کا اہتمام کیا جائے اور مسجد کی صف بندی میں اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ دو صفوں کے درمیان ایک صف کا فاصلہ ہو اور ایک صف میں بھی مقتدی مناسب فاصلے کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘
اعلامیے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ وضو گھر سے کر کے آئیں، سنتیں بھی گھر سے پڑھ کر آئیں، نمازِ جمعہ میں اردو تقریر بند کردی جائے اور اگر ضرورت ہو تو صرف پانچ منٹ کے لئے لوگوں کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا جائے۔ نماز کے بعد بھی تمام لوگ ہجوم کرنے کے بجائے مناسب فاصلوں سے گھروں کو جائیں۔
علما کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ مساجد کے پیش امام اور انتظامیہ کے خلاف پہلے سے درج ایف آئی آرز غیر مشروط پر واپس لی جائیں گی اور آئندہ ان کے خلاف ایف آئی آر نہیں کاٹی جائیں گی، لیکن حکومت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس سے باہمی اعتماد واتحاد مجروح ہوا۔ آئندہ ایسی کارروائیوں کا اعادہ نہ کیا جائے اور حسبِ وعدہ عمل کرتے ہوئے تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں۔
بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج جاری ہے۔