کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔

لائیو کوریج

  1. احساس پروگرام کے تحت امدادی رقوم کی ادائیگی جاری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. اگر سندھ کی پالیسی ٹھیک تھی تو پھر وہاں اموات زیادہ کیوں ہیں: فردوس عاشق اعوان

    فردوس

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیرِ اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے ایک مرتبہ پھر وزیِرِ اعلیٰ سندھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سندھ کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی پالیسی ٹھیک تھی تو پھر وہاں اموات زیادہ کیوں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے صوبے میں متاثرین کی تعداد بھی زیادہ ہے تو یقیناً صوبے کی پالیسی نافذ کرنے میں کچھ مسائل ضرور تھے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ وقت کسی صوبے کے بارے میں بات کرنے کا نہیں ہے ہر کوئی وفاق کی جانب دیکھ رہا ہے لیکن وزیرِ عمران خان کو غربا کا بھی احساس ہے۔

  3. ’مفتی منیب سعودی عرب میں ہوتے تو آج وہاں طواف ہو رہا ہوتا‘

  4. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے متاثرین کی مجموعی تعداد 277 ہو گئی

    table

    صوبہ بلوچستان میں کورونا کے 37 نئے مریض سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 277 تک پہنچ گئی ہے۔

    ‎کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا کہ ’ہم کورونا کے حوالے سے ایک تشویشناک صورتحال میں داخل ہو گئے ہیں اور صوبے میں مقامی منتقلی کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مقامی منتقلی کے مریضوں کی تعداد 92 تک پہنچ چکی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مقامی منتقلی کے کیسز میں سے زیادہ تر کا تعلق کوئٹہ شہر سے جن کی تعداد 73ہے جبکہ باقی کیسز میں سے لورالائی سے 11،ہرنائی سے 6اور خضدار سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

  5. سندھ میں شراب خانے غیرمعینہ مدت تک بند رہیں گے

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh

    صوبہ سندھ کی حکومت نے صوبے میں شراب خانوں کی بندش میں غیر معینہ مدت تک توسیع کر دی ہے۔

    اس سے قبل شراب خانوں کی بندش کا اعلان گذشتہ ماہ 19 اپریل کو کیا گیا تھا۔

  6. بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن میں توسیع کے احکامات جاری

    بلوچستان کی حکومت نے بھی صوبے میں جاری لاک ڈاؤن میں 30 اپریل تک توسیع کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے مختلف شعبہ جات کو کام کے سلسلے میں دعایت دی ہے جبکہ انجمن تاجران لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔

    لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر بھی میں ان دکانوں کو کھولنے کی اجازت ہے جن کا ذکر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں کیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکشن میں جن کاروباروں کو کھولنے کی اجازت ہے ان میں بیج، کھاد اور باردانہ، تعمیراتی سامان کے علاوہ کھجوروں اور پرندوں اور دیگر جانوروں کی خوراک فروخت کرنے والی دکانیں شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ ان ریستورانوں کو کھولنے کی اجازت ہے جو گھروں پر لے جانے کے لیے کھانا فروخت کرتے ہیں۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ان دکانوں کے لیے سماجی دوری، ہاتھوں کو دھونے اور ماسک پہننے کی شرائط پر عملدرآمد لازمی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ان ایس او پیز کا خیال نہ رکھنے پر جرمانہ کیا جائے گا۔ ‎

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اگرچہ اس نوٹیفیکیشن میں درزیوں اور لانڈری کی دکانیں کھولنے کی اجازت کا ذکر نہیں لیکن بدھ کو شہر میں بعض مقامات پر ایسی دکانیں کھلی ہوئی دکھائی دیں۔

    مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے ترجمان اللہ داد ترین نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کے ساتھ مشاورت کے بعد بعض دیگر دکانوں کو بھی کھولنے پر اتفاق ہوا تھا لیکن ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفیکیشن میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ ان کے مطابق نوٹیفکیشن میں مذکورہ دکانوں کے سوا باقی دکانیں اور کاروباری مراکز بند ہیں۔

  7. سندھ میں متعدد سرکاری دفاتر 30 اپریل تک بند رہیں گے

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh

    سندھ حکومت نے 18 مارچ کو جن دفاتر کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے ہیشِ نظر بند کیا تھا ان کی بندش میں 30 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آج اپنی پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ لاک ڈاؤن میں سختی کی گئی ہے نرمی نہیں۔

  8. ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا جناح ایئرپورٹ پر ٹیسٹنگ اور سکریننگ کے انتظامات کا جائزہ

    پیچوہو

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh

    صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت و بہبود آبادی ڈاکٹر عزرا پیچوہو نے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ کیا اور 17 اپریل کو اومان سے آنے والی پرواز کے مسافروں کی سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے لیے کیے جانے والے بندوبست کا جائزہ لیا۔

  9. لاک ڈاؤن کے دوران رمضان ٹرانسمیشن کے لیے ہدایات جاری

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. اکلوتی ترجیح لوگوں کی جانیں بچانا ہے: مراد علی شاہ

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک اکلوتی ترجیح جانیں بچانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو جس قسم کی مدد صوبے میں مختلف افراد سے ملی ہے اس کی کوئی نظیر نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وفاق پر تنقید کا آغاز ہم نے نہیں کیا، پہلے وہاں سے تنقید کی گئی اور اگر اس حوالے سے ہم جواب نہ دیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی غلط ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ میں عوام سے اپیل کروں گا کہ وہ اپنے گھر میں عمر رسیدہ افراد کا بہت دھیان کریں۔

    انھوں نے کہا کہ جن افراد کا باہر جانا ضروری ہے اور جو لوگ صحت کے عملے میں شامل ہیں ان کے لیے میری تجویز یہی ہو گی کہ وہ گھر میں عمر رسید افراد سے نہ ملیں۔

  11. مستقبل قریب میں وائرس کا حل نظر نہیں آ رہا، لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں: مراد علی شاہ

    وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں تک لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں تاکہ ہمیں اسے مزید طویل نہ کرنا پڑے۔

    انھوں نے کہا کہ ویکسین بننے تک اس وائرس کا خاتمہ ممکن نہیں اور مستقبل قریب میں وائرس کا حل نظر نہیں آ رہا۔

    انھوں نے کہا کہ میں سخت لاک ڈاؤن کے نفاذ پر آج بھی قائم ہوں اور ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ جلد از جلد لاک ڈاؤن ہو تاکہ جانیں بچائی جا سکیں۔

    انھوں نے کہا کہ موٹر سائیکل پر تین چار بچوں کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ لاک ڈاون میں شام 5بجے کےبعد مزید سختی ہوگی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فیکٹری یا عمارت میں ڈاکٹر موجود ہو گا جبکہ فیکٹری لائے جانے والے ملازمین کی فہرست حکومت کو دینا ہو گی۔

  12. پاکستان میں 200 سے زیادہ نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 6209 ہو گئی, 114 ہلاکتیں، 1579 صحت یاب

    table
  13. بریکنگ, پنجاب میں مزید 71 مریض، کل متاثرین تین ہزار سے زیادہ, 28 اموات، 508 صحت یاب

    پنجاب کے محکمۂ صحت کے مطابق کورونا وائرس کے مزید 71 مریضوں کی تصدیق کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 3016 تک پہنچ گئی ہے۔

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق اب تک 1133 عام شہریوں، تبلیغی جماعت کے 1091 ارکان، 701 زائرین اور 91 قیدیوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    صوبے میں اب تک 28 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 508 ہے۔

    پنجاب میں سب سے متاثرہ شہر دارالحکومت لاہور ہے جہاں کورونا وائرس کے 484 مصدقہ مریض ہیں۔ اس کے علاوہ صوبے میں گجرات اور راولپنڈی وبا کے بڑے مراکز ہیں جہاں متاثرین کی تعداد بالترتیب 138 اور 102 ہے۔

    زائرین کی بات کی جائے تو ڈیرہ غازی خان میں 221، ملتان میں 457 جبکہ فیصل آباد میں 23 زائرین میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    تبلیغی جماعت کے وائرس سے متاثرہ ارکان میں سے سب سے زیادہ 484 کا تعلق رائیونڈ کے تبلیغی مرکز جبکہ 105 کا ملتان سے ہے۔

    قیدیوں میں سب سے زیادہ متاثرہ قیدی لاہور کی کیمپ جیل میں ہیں جن کی تعداد 59 ہے جبکہ اس کے علاوہ سیالکوٹ میں 14، گوجرانوالہ میں 7، ڈی جی خان میں 9 اور بھکر میں 2 قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    جدول

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab

  14. بریکنگ, لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہوئی مزید سخت ہوا ہے: مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہوئی اس میں مزید سختی کی گئی ہے اور صرف کچھ جگہ پر رعایت دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا اگر کسی کو یہ تاثر گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہوئی ہے تو یہ غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ مروجہ قواعد و ضوابط میں سختی لائی گئی ہے صرف چند صنعتوں اور شعبوں کو رعایت دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میں دوسرے صوبوں کے وزرا اعلیٰ کے حوالے سے بات نہیں کر سکتا لیکن کم از کم صوبہ سندھ میں جتنی جان اور وسائل ہے ہم ان قواعد پر عمل درآمد کروائیں گے۔

  15. اسلام آباد میں دفعہ 144 میں 30 اپریل تک توسیع

    پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن کی مدت میں دو ہفتے کے اضافے کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے بھی وفاقی دارالحکومت میں نافذ دفعہ 144 میں 30 اپریل تک توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق دارالحکومت کی حددو میں لاک ڈاؤن کے دوران عوامی اجتماعات پر اور سماجی فاصلے کی پابندی برقرار رہے گی۔

    اسلام آباد کی انتظامیہ نے جن کاروباروں اور اداروں کو استثنیٰ دیا ہے وہ برقرار رہے گا جبکہ دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ بدستور بند رہے گی۔

    نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہICT

  16. سندھ میں روزانہ 1500 ٹیسٹ، اموات کی شرح 2.4 فیصد

    سندھ کے وزیراعلیٰ نے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا کے ٹیسٹ کی روزانہ استعداد 1500 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ تعداد 500 سے 600 تک تھی

    پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ حکومتِ سندھ حکومت نے اب تک 16 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے ہیں جبکہ 10 فیصد ٹیسٹ مثبت آ رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایسے مریض بھی سامنے آئے ہیں کہ جو ہسپتال پہنچتے ہی مردہ قرار دے دیے گئے اور ان میں سے کافی مریض ایسے ہیں جو لگتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے ہی ہیں۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ‏سندھ میں کورونا سے اموات کی شرح 2.4 فیصد ہے جبکہ ‏پانچ ہزار افراد کو آئسولیشن میں رکھا گیا ہے۔

  17. بریکنگ, اصل اموات، مصدقہ اموات سے زیادہ ہیں: مراد علی شاہ

    صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں کورونا سے 41 اموات وہ ہیں جن کی تصدیق کی جا سکتی ہے لیکن اصل اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کم از کم 15 اموات ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمیں مختلف ہسپتالوں سے پتا چلا ہے کہ ان افراد کے پھیپھڑوں کی حالت کورونا مریضوں جیسی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں سرکاری طور پر تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ اموات کی کل تعداد 41 کی بجائے 56 ہے لیکن اگر ایسا کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔‘

  18. بریکنگ, مراد علی شاہ: ’کورونا مریضوں کے نام بتانا غیر انسانی ہے‘

    صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے مریض کا نام بتانا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ غیر انسانی ہے۔

    انھوں نے کہا بہت بڑے ادارے کی جانب سے مریض کا نام اور منصب بتایا گیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی بڑے آدمی میں کورونا کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کا نام چھپا لیا جاتا ہے جبکہ غریب کا نام بتا دیا جاتا ہے یہ مناسب نہیں ہے۔

  19. یو ایچ ایس اور آکسفرڈ یونیورسٹی کورونا پر مشترکہ تحقیق کریں گے

    کورونا وائرس کے شدید بیمار مریضوں پر ایک مخصوص دوا المٹرین کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے ساتھ مل کر تحقیق کرے گی۔

    یو ایچ ایس بورڈ آف گورنرز نے آکسفرڈ یونیورسٹی کے ساتھ مشترکہ تحقیق کی اصولی منظوری دی ہے۔

    یہ دوا پہلے ہی پھپھڑوں کے عارضہ میں مبتلا مریضوں پر استعمال کی جا رہی ہے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ دوا کورونا کے مریضوں کیلئے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

  20. بریکنگ, مراد علی شاہ: یہ غلط فہمی ہے کہ پاکستان میں انفیکشنز دنیا سے کم ہیں

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں انفیکشنز دنیا سے کم ہیں تو یہ تاثر غلط ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیسٹوں کی کل تعداد میں سے تقریباً 10 فیصد افراد کے ٹیسٹ مثبت آتے ہیں اور دنیا بھر میں بھی یہی شرح ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں شرح اس سے کم ہیں۔