کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔
لائیو کوریج
سب سے بڑی پریشانی اور چیلنج پشاور ہے: تیمور جھگڑا
،تصویر کا ذریعہTwitter/@Jhagra
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیرِ صحت و خزانہ تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ ان کے لیے صوبے میں سب سے بڑی پریشانی اور چیلنج پشاور ہے جہاں متاثرین کی تعداد میں روز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پشاور میں آج 38 مزید متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ یہاں کل متاثرین 235 ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 45 لاکھ کی آبادی والے اس شہر میں اب تک ملک میں کراچی اور لاہور کے بعد تیسرے سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔
لاہور: سپر سپریڈر کی بروقت تشخیص سے ’39 لوگ وائرس سے بچ جاتے‘
بریکنگ, خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید چار اموات, خیبرپختونخوا میں کل متاثرین: 912 | اموات: 42 | صحتیاب: 191
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے باعث مزید چار اموات سامنے آئی ہیں جس سے صوبے میں اموات کی کل تعداد 42 ہو گئی ہے۔
اس کے ساتھ خیبر پختونخوا اموات کے لحآظ سے ملک میں سب زیادہ متاثرہ صوبہ بن گیا ہے۔
گذشتہ روز عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خیبر پختونخوا صوبہ سب سے کم ٹیسٹنگ کر رہا ہے۔
اب تک صوبے میں کل 912 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 191 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
’پہاڑوں کے باسی شہری ترقی کی قیمت مہلک بیماریوں سے دیتے ہیں‘
بریکنگ, گلگت بلتستان میں لاک ڈاون کے دوسرے مرحلے کا آغاز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلستان حکومت
کے وزیر قانون اور کورونا کے لیے ترجمان اورنگ زیب ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا
کہ گلگت بلستان میں لاک ڈاون کے دوسرے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے۔یہ تیس اپریل تک
جاری رہے گا۔
جس میں چار روز
سوموار، منگل، بدھ اور جمعرات لاک ڈاون میں نرمی ہوگئی جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار سخت
لاک ڈاون ہوگا۔
ان کا کہنا تھا
کہ سرکاری دفاتر بھی ان چار روز کو کھلیں گے اور اپنے فرائض دو بجے تک ادا کرئیں گے
جبکہ وفاقی حکومت کے فیصلے مطابق تعمیراتی کاموں کی اجازت ہوگئی۔جس کے لیے خصوصی ایس
او پیز جاری کردیے گئے ہیں۔
انٹر ڈسڑکٹ ٹرانسپورٹ
بند ہوگئی مگر جن شعبوں کو اجازت دی گئی ہے وہ خصوصی اجازت کے ساتھ سفر کرسکیں گے۔
اورنگ زیب ایڈووکیٹ
کے مطابق کریانہ سٹور، کھانے پنے کی دوکانیں، زراعت، پولٹری سے متعلق کاروبار کو صبح
چھ بجے سے لے کر ایک بجے تک کام کرنے کی اجازت ہوگئی جبکہ حجام، جوتوں، کپڑوں، آٹو
موبائل دوکانین، آموبائل ورکشاپ وغیرہ پر پابندی عائد رہے گئی۔ ان کو فی الحال کام
کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا
کہ اس کے علاوہ گلگت بلستان میں پھل فروٹ کا سیزن شروع ہوچکا ہے۔ ان کی ایکسپورٹ بھی
ہونی ہے۔
اس کاروبار سے
متعلق بھی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ مگر یہ اجازت چار روز ہی کے لیے ہوگئی۔ اس دوران
ہم کوشش کررہے ہیں کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کیے جائیں۔
جو دکانیں کھلیں
گئیں ان کے ٹیسٹ ہوں گے۔ لوگوں کو سکھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ اس دور میں کس طرح کام کریں۔
بریکنگ, پاکستان میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 6400 سے بڑھ گئی, پنجاب میں کُل 3143 مریضوں کی تشخیص، مجموعی تعداد کا 49 فیصد
پاکستان میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے مریضوں کی کُل تعداد بڑھ کر اب 6424 ہو چکے ہیں جس میں سے تقریباً 49 فیصد، یعنی 3143 مریضوں کی تشخیص پنجاب سے ہوئی ہے جہاں ٹیسٹنگ کی تعداد بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔
بریکنگ, پاکستان میں مقامی منتقلی کے ذریعے کورونا وائرس کا پھیلاؤ 55 فیصد ہو گیا
،تصویر کا ذریعہWHO
عالمی ادارہ صحت کی 15 اپریل کو جاری کی گئی پاکستان رپورٹ کے مطابق جہاں ملک میں مرنے والوں کے تناسب میں اضافہ دیکھنے میں آیا، وہیں ان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص کی اکثریت ان افراد میں ہے جن میں وائرس مقامی طور پر منتقل ہوا ہے۔
15 اپریل تک سامنے آنے والے 5988 مریضوں میں سے 3286 یعنی 55 فیصد وہ تھے جنھیں مقامی سطح پر وائرس لگا۔
عالمی ادارہ صحت کی روزنامہ کورونا رپورٹ: خیبر پختون خوا میں فی دس لاکھ سب سے کم ٹیسٹنگ
،تصویر کا ذریعہWHO
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان میں کورونا وائرس کے حوالے سے 14 اپریل میں ملکی
صورتحال کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر کل 69928 ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔
ان میں
سے سب سے زیادہ ٹیسٹ پنجاب میں کیے گئے جو کہ 41 ہزار سے زیادہ ہیں جب کہ اس کے بعد
سندھ کا نمبر ہے جہاں 13 ہزار ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔
اگر
آبادی کے حساب سے تناسب نکالا جائے تو فی دس لاکھ کی آبادی کے حساب سے خیبر پختون
خوا میں سب سے کم ٹیسٹنگ ہوئی ہے جو کہ صرف 107 ٹیسٹ فی دس لاکھ بنتی ہے۔
دوسری
جانب اسلام آباد شہر کی آبادی کو مد نظررکھتے ہوئے وہاں فی دس لاکھ آباد پر 2300
سے زیادہ ٹیسٹس ہوئے ہیں۔
عالمی
ادارہ صحت کی 14 اپریل کی ایس رپورٹ کو دیکھا جائے تو پاکستان میں 5716 متاثرین
میں سے 96 کی موت ہو چکی ہے جبکہ کل 1368 مریض ہسپتال میں ہیں اور 2874 گھروں میں خود
کو آئیسولیٹ کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہWHO
حکومت مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے: ینگ ڈاکٹرز کا بلوچستان حکومت پر الزام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے
منظور کیے گئے مطالبات پر تاحال عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر رحیم خان بابر کے ایک بیان کے مطابق محکمہ صحت کی جانب سے مسائل حل کرنے کے بجائے انتقامی کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے-
انھوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز نے وسیع ترعوامی مفاد میں احتجاج موخر کر کے مذاکراتی کمیٹی پر اعتماد کیا تھا مگر بدقسمتی سے محکمہ صحت مذاکرات کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ینگ ڈاکٹرز پر تشدد کی تحقیقات کرانے کے لیے قائم کی گئی کمیٹی کی طرف سے تاحال کسی بھی قسم کی تحقیقات کا نہ کرایا جانا اور ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے منسلک دیگر مسائل پر تاحال دکھائی جانے والی غیر سنجیدگی ینگ ڈاکٹرز اور مذاکراتی کمیٹی کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
ڈاکٹر رحیم بابر نے وزیر اعلی بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی اور ینگ ڈاکٹرز کے درمیان طے پائے گئے فیصلوں پر جلد عمل درآمد یقینی بنایا جائے بصورت دیگر مذاکرات ترک کرتے ہوئے جلد ہی ایگزیکٹیو باڈی کی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحے عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا فائدہ کس کس کو؟
بریکنگ, بلوچستان میں مزید چار افراد میں کورونا وائرس، مجموعی تعداد 281
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبے بلوچستان
میں حکومتی ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹویٹ
کے ذریعے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 281 ہوگئی۔
صوبے میں 39 مزید ٹیسٹ ہوئے جن میں سے چار مثبت آئے
ہیں۔ ان نتائج کے بعد صوبے میں کل 47 فیصد (یعنی 133) مریض ایسے ہیں جن کو وائرس
مقامی سطح پر منتقل ہوا ہے۔
آن لائن رائیڈ شئیرن ایپ کریم کا سندھ میں ’ڈیلیوری سروس‘ بحال کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہAFP
آن لائن رائڈ شئیرنگ ایپ کریم نے اعلامیہ جاری کیا ہے
جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ حکومتِ سندھ کے احکامات کو مد نظر رکھتے ہوئے کریم نے
اپنی ’ڈیلیوری سروس‘ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے تاہم اس سلسلے میں تمام حکومتی
احکامات اور قوانین کی تعمیل کی جائے گی اور حفظان صحت کے تمام اصولوں کی پاسداری
کی جائے گی۔
کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ضروری
اشیا اور سامان کی ترسیل کے لیے شروع کی گئی سروس کے اوقات کار صبح آٹھ سے شام آٹھ
بجے تک ہوں گے۔
اس لے علاوہ کریم کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ڈیلیوری
سروس صرف ضروری اشیا خورد و نوش، ادویات، کھانے کا سامان، امدادی سامان، خط و
ضروری دستاویزات اور پری پیڈ موبائل کارڈز کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔
بریکنگ, خیبر پختون خوا میں بھی لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیشنل کورڈینیشن کمیٹی کے فیصلوں پر آج پشاور میں خیبر پختونخوا حکومت کی ٹاسک فورس اور صوبائی حکومت کی کابینہ کے اجلاس میں غور فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کی جا رہی ہے جبکہ روز مرہ استعمال اور بنیادی ضروریات کے کاروبار اور تجارت سے پابندی اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ٹاسک فورس اور کابینہ اجلاس میں روز مرہ ضروریات کے کچھ کاروبار سے پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں تمام پبلک رکشہ سروس ، پرائیویٹ گاڑیوں ، اور مزدوروں کو لے جانے والی گاڑیوں پر پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
عمومی لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلہ کے مطابق تعلیمی ادارے ، سرکاری و نجی تقریبات، بین الاضلاع ٹرانسپورٹ پر پابندی برقرار رہے گی اور اس بارے میں نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے پشاور میں تناسب زیادہ ہے اور یہاں وائرس بڑھ رہا ہے۔ مردان میں پہلے زیادہ تھا لیکن منگاہ کلیئر ہونے کے بعد اب وہاں کم ہو رہا ہے ۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تراویح اور بقیہ نمازوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی: حکومتی اعلامیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وزیراعظم
ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی اعلامیے کے مطابق خطے میں نماز تراویح، نماز جمعہ اور
پانچوں نمازوں پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی
نہیں ہوگی جبکہ علما کرام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کے
ساتھ مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو مد نظر رکھیں گے۔
نامہ نگار ایم
اے جرال کے مطابق خطے کے محکمہ برقیات کی جانب سے بھی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس
کے تحت 300 یونٹ سے زائد یونٹ صرف کرنے
والے صارفین ماہانہ بل کو تین ماہ کے بعد بھی جمع کروا سکتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق
صارفین تین ماہ کے بل اگلے چھ ماہ میں ماہانہ بل کے ساتھ قسطوں میں ادا کریں گے.
واضح رہے کہ
علاقے میں لاک ڈاؤن نافذ ہوئے 22 روز
ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ 21 اپریل تک جاری رہے گا۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید پانچ افراد صحتیاب، کل تعداد نو
،تصویر کا ذریعہM. A. Jarral
پاکستان کے زیر
انتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان کے مطابق کورونا وائرس سےمتاثر ہونی والی پانچ برس کی بچی سمیت پانچ افراد
صحتیاب ہوکر ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے ہیں۔
محمد رقیب کےمطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا وائرس سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ ضلع بھمبر ہے جس میں اب تک پندرہ افراد میں ٹیسٹس مثبت آئے ہیں۔
نامہ نگار ایم اے جرال نے بتایا کہ ان افراد کی
صحتیابی کے بعد اب خطے کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد نو ہو گئی ہے۔
امداد کے لیے فنگر پرنٹ ضروری مگر انگلیوں کے نشان ہی مٹ چکے ہوں تو کہاں جائیں؟
کورونا وائرس: خیبر پختون خوا میں 18 مقامات سب جیل قرار
خیبرپختونخوا کی جیلوں میں کورونا وائرس پھیلنے کے خدشے کے پیش نظر صوبے میں 18 مقامات کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
حکام جیل خانہ جات کے مطابق سکولز ،کالجز ،محکمہ زراعت ،ہوٹلز ،شیلڑ ہوم کی عمارتیں سب جیل قرار دے دی گئی ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں والی جیلوں میں نئے قیدیوں کو نہیں لیا جائے گا۔
اس وقت کوہاٹ، نوشہرہ صوابی، لکی مروت ، ٹانک اور مالاکنڈ کی جیلوں میں قیدی گنجائش سے زیادہ ہیں۔
حکام نے مزید کہا کہ نئے آنے والےقیدیوں کو سینٹرل جیل منتقل کیاجارہا ہے اور کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پیشگی حفاظتی اقدامات کرلیے گئے ہیں۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ صوبے کی جیلوں میں ابھی تک قیدیوں اور جیل عملے میں کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔
بریکنگ, 28 لاکھ سے زیادہ خاندانوں تک 35 ارب روپے پہنچائے گئے ہیں: اسد عمر
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ کورونا ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نپٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ضروری ہوگا۔
انھوں نے احساس ایمرجنسی پروگرام کے ذریعے 28 لاکھ خاندانوں کو پہنچائی گئی امداد کے بارے میں بتایا کہ اب تک 35 ارب روپے انھیں بانٹے گئے ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی میں 94 مقامی منتقلی کے مریضوں کی تشخیص، 29 صحتیاب
صوبہ سندھ میں ترجمان وزارت صحت کے مطابق کراچی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 94
مقامی منتقلی کے نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 29 مریض صحتیاب ہو گئے ہیں۔
اس
کے علاوہ حیدر آباد سے 20 اور شہید بینظیر آباد (سابقہ نواب شاہ) سے 28 مقامی منتقلی
کے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ سندھ میں اب تک کل 1668 مصدقہ مریضوں کی تشخیص ہو چکی ہے اور صوبے میں 16 ہزار سے زائد ٹیسٹس کیے گئے ہیں یعنی دس فیصد مریضوں کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور ان میں سے 1307 مریض مقامی منتقلی کے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSindh Government
’پلازما کے ذریعے علاج کا مقصد مریضوں میں مرض کی شدت پر قابو پانا ہے‘
،تصویر کا ذریعہSindh Government
سندھ کی صوبائی وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا افضل پیچوہو کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کے تجرباتی علاج کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں پیسیو امیونائزیشن طریقۂ علاج کی ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) اور نیشنل بائیو ایتیھکس کمیٹی سے منظوری اور اس تجرباتی علاج کو صوبہ سندھ کے کورونا سے متاثر مریضوں تک پہنچانے پر غور کیا گیا۔
وزیرِ صحت نے کورونا وائرس سے صحتیاب مریضوں سے پلازما کو حاصل کرنے کے کام کی تفصیلات معلوم کیں اور امید ظاہر کی کہ جلد ازجلد اتنا پلازما حاصل کیا جاسکے گا جو زیادہ سے زیادہ مریضوں کی جان بچانے کے کام آسکے اور موجودہ تجرباتی کلینیکل ٹرائل کے ذریعے اس پلازما کے فوائد اور مضر اثرات دنیا کے سامنے پیش کیے جاسکیں۔
انھوں نے ہدایات جاری کیں کہ سندھ حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کے علاج کیلئے مخصوص ہسپتالوں کے سربراہان، فوکل پرسنز اور کورونا وائرس کا علاج کرنے والےڈاکٹرز کو پیسیو امیونائزیشن کے استعمال کے صحیح طریقے کی رہنمائی کی جائے اور انکو یہ بتایا جائے کہ پلازما کے ذریعے علاج کا مقصد مریضوں میں مرض کی شدت پر قابو پانا ہے تاکہ کم سے کم مریضوں کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑے۔
انھوں نے مزید کہا کہ این آئی بی ڈی کے علاوہ جام شورو اور سکھر میں پلازما کے ذریعے علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے۔