کورونا وائرس: انڈیا کی پوسٹل سروس دنیا میں سب سے بڑی ہے اور اب جانیں بچانے میں مدد کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عائشہ پریرا
- عہدہ, بی بی سی، دلی
- وقت اشاعت
انڈیا میں پوسٹل یعنی ڈاک سروسز کی لال رنگ کی وین کو ہر مقامی شخص جانتا ہے۔ یہ وینز ہر روز ملک کے طول و عرض میں ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں جس کی وجہ چھ لاکھ دیہی علاقوں تک پھیلا ہوا نیٹ ورک ہے۔
پوسٹل سروسز کا مطلب صرف خطوط اور پارسل پہنچانا ہی نہیں ہے بلکہ اب ڈاک سروسز کے تحت بینک بھی آتے ہیں، پینشن فنڈز بھی ہیں اور لوگوں کی بچت یا جمع پونجی رکھنے کا مرکز بھی پوسٹ آفس ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران جب ملک بھر میں ذرائع آمدورفت پر پابندی ہے تب ڈاک سروسز کے گاڑیاں لوگوں تک طبی سازو سامان اور ادویات پہنچا رہی ہیں۔
انڈیا میں 25 مارچ سے لاک ڈاؤن ہے حالانکہ بنیادی سروسز کو بند نہیں کیا گیا لیکن عام لوگوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کا اعلان محض چار گھنٹے پہلے کیا گیا تھا جس کے سبب کئی صنعتیں اچانک سے لڑ کھڑا گئیں۔ ان میں کورونا سے لڑنے والے ہسپتال، ادویات بنانے والی کمپنیاں اور لیب بھی شامل تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی دوا ساز کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر اشوک کمار مادان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اچانک لاک ڈاؤن سے انہیں کافی مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ ادویات صارفین تک پہنچانے کے لیے یہ کوریئر سروس کا استعمال کرتے تھے لیکن لاک ڈاؤن کے بعد یہ ممکن نہیں رہا۔ ڈیلیوری کرنے والے لوگ بھی نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں کئی زندگی بچانے والی اہم ادویات شامل ہیں۔

End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انھوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں ریاست اترپردیش کی پوسٹل سروسز کے سینیئر افسر آلوک اوجھا کا فون آیا۔ انھوں نے کہا کہ پوسٹل سروسز پہلے ہی سے ریاست گجرات میں ادویات بنانے والی کمپنیوں کے ساتھ مل کر طبی ساز و سامان اور ادویات کی ڈیلیوری کا کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پوسٹل سروس کی پہنچ ملک بھر میں ہے اور اس پر کسی طرح کی پابندی بھی نہیں ہے اس لیے اس سروس کو ادویات اور طبی ساز و سامان کے لیے ملک کے دوسرے حصوں میں شروع کیا جا سکتا ہے۔
جیسے جیسے لوگوں کو اس سروس کے بارے میں معلوم ہوتا گیا انھوں نے پوسٹل سروس کی خدمات حاصل کرنا شروع کر دیں۔
لکھنؤو مائیکرو بائیو لوجسٹ اجالا گھوشال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ان کے ہسپتال کو کورونا ٹیسٹنِگ کٹ کی ضرورت ہوئی تو انھوں نے پوسٹل سروس سے رابطہ کیا کیونکہ کٹس لانے کے لیے کوریئر سروس دستیاب نہیں تھی لہٰذا پوسٹل سروس نے وہ کٹس ان تک پہنچائیں۔

،تصویر کا ذریعہAlok Ojha
اسی طرح کئی ادارے اور کمپنیاں پوسٹل سروس کا استعمال کر رہی ہیں۔ آلوک جھا کا کہنا ہے کہ جب سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے تب سے پوسٹل سروس طبی سازو سامان، ادویات، ٹیسٹنگ کٹس، ماسک، وینٹیلیٹرز اور دیگر ضروری سازو سامان پہنچانے کا کام کر رہی ہے۔
لیکن زیادہ دور لیجانے والے سامان کے لیے طیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAlok Ojha
بعض ادویات یا سامان کے لیے فریزر کا استعمال ہوتا ہے تو درخواست پر اس طرح کا سامان بھی پوسٹل سروس کے ذریعے ہی پہنچایا جا رہا ہے۔
آلوک شرما کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس پورے انڈیا کو جوڑنے والی بہترین سہولت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہم مدد کر سکتے ہیں۔
اب جبکہ لاک ڈاؤن کو انڈیا میں تین مئی تک بڑھا دیا گیا ہے تو امید کی جا رپی ہے کہ انڈیا کی پوسٹل سروس اس دوران ایک اہم کردار ادا کرے گی۔























