کورونا: پنجاب میں مزید 44 افراد متاثر، 80 صحت یاب، ملک میں کل متاثرین 6937 ہو گئے
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے باعث 20 اموات ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ملک میں اس وقت مصدقہ مریضوں کی تعداد 6937 ہے تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی آئی ہے لیکن ابھی خطرہ نہیں ٹلا۔
لائیو کوریج
اس صفحے کو مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔
انڈیا میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی
انڈیا میں پھنسے پاکستانی شہریوں کا پہلا گروہ چھ اپریل کو واہگہ کے راستے لاہور پہنچا۔ جبکہ ایک سو سے زیادہ پاکستانی اب بھی انڈیا میں پھنسے ہیں۔ یہ پاکستانی شہری انڈیا کیسے گئے اور کیوں پھنس گئے، دیکھیے اس رپورٹ میں۔۔۔
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
امریکی ریاست نیو یارک میں لاک ڈاؤن اور معمولات زندگی کی صورتحال کیا؟
امریکہ کی ریاست نیویارک میں کورونا وائرس کے باعث دنیا میں متاثرہ ممالک سے بھی زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔لاک ڈاؤن میں شہر کے حالات اور معمولاتِ زندگی کے بارے میں جانیے نیویارک سٹی میں مقیم ایک پاکستانی طالبعلم سے۔۔۔
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بلوچستان میں کورونا کی شکار پہلی خاتون کی ہلاکت
بلوچستان میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے جو کہ صوبے میں کسی خاتون کی پہلی ہلاکت ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی عمر 45 برس تھی جس کی ہلاکت جمعرات کو ہوئی۔
خاتون فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل ہسپتال کوئٹہ میں زیرعلاج تھی۔ بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد پانچ ہے۔
بریکنگ, پنجاب میں 44 نئے افراد میں وائرس کی تصدیق، 80 صحت یاب ہو گئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید 44 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کل تعداد 3276 ہو گئی۔
پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کے مطابق ان مصدقہ متاثرین میں 701 زائرین قرنطینہ مراکز میں، 1257 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 91 قیدی اور 1227 عام شہری شامل ہیں۔
تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں مزید 80 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد ان کی کل تعداد 630 ہو گئی ہے جبکہ اب تک کل 35 اموات ہوئی ہیں۔
پنجاب میں مصدقہ متاثرین میں اضافے اور مریضوں کی صحت یابی کے بعد ملک میں کورونا کے شکار افراد کی کل تعداد 6937 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1748مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ صنعتوں کی تجدید شروع کر دی
حکومت کا ایکسپورٹ آرڈرز رکھنے والے صنعتی یونٹس کو لاک ڈاون سے استثنیٰ دینے کے حوالے سے عملدآمد شروع کر دیا ہے۔
کمشنر لاہور نے لاک ڈاون میں توسیع کے بعد صنعتی یونٹس کے استثنی کی تجدید شروع کردی ہے۔ پنجاب بھر کے صنعتی یونٹس کے استثنیٰ کے نوٹیفکیشن بھی جاری کردئیے گئے ہیں۔
حکومت نے صنعتی یونٹس کو ایکسپورٹ آرڈز ضائع ہونے سے بچانے کے لیے یہ اجازت دی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ان صنعتی یونٹس کو 25 اپریل تک استثنیٰ دیا گیا ہے۔استثنیٰ پانے والے صنعتی یونٹس پر کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد لازم ہو گا۔ استثنی لینے والے صنعتی یونٹس لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، قصور، پتوکی اور دیگر شہروں میں موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہCommissioner Office Lahore
حکومت سندھ اور تاجر برادری کا مذاکراتی اجلاس

،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh
سندھ کی تاجروں کی جانب سے لاک ڈاون ختم کرنے اور کاروبار کھولنے سے متعلق حکومتی وزرا سعید غنی اور ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کی زیر صدارت کراچی کی تاجر برادری کے ساتھ مذاکراتی اجلاس میں تاجروں نے اپنے مطالبات رکھے ہیں۔
اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ تاجر برادری کی مشکلات سے ہم بخوبی آگاہ ہیں لیکن اس وقت جو صورتحال ہے اس میں کسی صورت اس بات کے متحمل نہیں ہوسکتے کہ صوبے میں متاثرہ افراد میں اضافہ ہو۔
انھوں نے کہا کہ تاجروں کے مشکور ہیں کہ انھوں نے حکومت کی درخواست پر اپنا کاروبار کھولنے کا دو روز قبل کا فیصلہ ملتوی کیا اور آج اپنی تجاویز اور مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ تاجروں کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ ان کی تجاویز کو وزیر اعلیٰ سندھ کی بنائی گئی ٹاسک فورس کے سامنے رکھا جائے گا اور ضرورت پڑی تو تاجروں کی ایک سے دو روز میں وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات بھی کروا دی جائے گی۔
اس موقع پر تاجر رہنما جمیل پراچہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ایسے ایس او پیز بنائے کہ کاروباری مراکز کچھ گھنٹوں کے لیے کھل سکیں۔ جبکہ تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے کہا کہ کے الیکڑک نے حکومتی احکامات کے باوجود مارکیٹوں کی بجلی بلوں کی عدم ادائیگی پر منقطع کرنا شروع کردی ہے۔
جبکہ صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا تھا کہ مارکیٹوں کی 30 روزہ بندش کے بعد ہمیں اب خدشہ ہے کہ دکانوں میں کوئی نقب زنی نہ ہو جائیں۔
تاجر برادری نے حکومتی وزرا سے اپنے مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں آسان اقساط پر بلاسود قرضے دلوائے جائیں جس کے بعد بے شک ایک ماہ کے لیے مارکیٹ بند کر دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سندھ حکومت پورے ہفتے کے لیے نہیں تو کم از کم ہفتہ میں 3 روز ایس او پیز کے تحت کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے۔
اس پر صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھھا کہ اس وقت حکومت کی تمام تر توجہ صرف اور صرف کورونا وائرس سے عوام کو بچانے میں ہے کیونکہ خدانخواستہ یہ پھیلے گا تو اسے ہم کسی صورت کنٹرول نہیں کرسکیں گے۔
سعید غنی کا کہنا تھا کہ تاجروں کی جانب سے آن لائن کاروبار کی اجازت، مارکیٹوں کو ہفتہ میں دو سے تین روز ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کی اجازت، ہر سیکٹر کی دکانوں کو ایک ایک دن کھولنے سمیت دیگر تجاویز کو ٹاسک فورس جس میں تمام امور کے ماہرین شامل ہیں رکھا جائے گا۔
اجلاس میں کمشنر کراچی افتخار شالوانی ، ایڈیشنل آئی جی، ڈی سی ساؤتھ سمیت کراچی کی تمام تاجر تنظیموں کے عہدیداران جن میں جمیل احمد پراچہ، شرجیل گوپلانی، رضوان عرفان، عتیق میر، سلیم میمن، ہارون چاند، حاجی ناصر ترک، کاشف صابرانی، اسماعیل لالپوریہ، حبیب شیخ، حکیم شاہ، شیخ محمد ارشاد، شیخ خالد نور، یعقوب بالی، رفیق جدون، شاکر فینیسی، شیخ خالد نور، اسلم پرویز، عبدالرحمن خان، عبدالغنی، جاوید شمس، الیاس میمن، سمیت دیگر موجود تھے۔
بریکنگ, بلوچستان میں مزید 14 افراد متاثر، دو ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 16 اپریل کو مزید 14 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بلوچستان میں جمعرات کو کیے گئے ٹیسٹوں میں مزید 14 افراد میں کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 305 ہو گئی ہے۔ جبکہ دو افراد کورونا کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں اور صوبے میں کل ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 اپریل کو کورونا کے کیے گئے ٹیسٹ کی تعداد 128 ہے جبکہ اب تک کورونا کے کیے گئے مجموعی ٹیسٹ کی کل تعداد4427 ہے۔
صوبے میں کورونا وائرس سے صحت یاب مریضوں کی کل تعداد 142 ہے۔
بلوچستان میں مزید 14 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 6893 ہو گئی ہے جبکہ صوبے میں دو مزید افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 131 ہے۔
سوات میں کورونا ٹیسٹنگ لیبارٹری کا قیام
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوبے میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ اہلیت بڑھاتے ہوئے آج سوات میں نئی لیبارٹری کا افتتاح کیا ہے۔ اس نئی ٹیسٹنگ لیبارٹری میں اگلے ہفتے سے روزانہ 100 سے زائد ٹیسٹ کرنے کی اہلیت ہو گی جو اس وقت صرف 40 ٹیسٹ روزانہ ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, گلگت بلتستان میں مزید آٹھ افراد میں وائرس کی تصدیق، پانچ صحت یاب

پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان میں 16 اپریل کو 60 افراد کے کیے گئے ٹیسٹوں میں مزید آٹھ افراد میں کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق اب گلگت بلتستان میں کورونا کے متاثرہ مصدقہ افراد کی تعداد 245 ہوگئی ہے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق 16 اپریل کو ہی مزید پانچ مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو واپس چلے گئے ہیں، جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 183 ہوچکی ہے۔
اب اس وقت گلگت بلستان کے مختلف قرنطینہ مراکز میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 59 ہے جبکہ تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
گلگت بلستان میں آٹھ افراد میں تصدیق کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی کل تعداد 6879 ہو گئی ہے جبکہ گلگت میں ہی مزید پانچ افراد کی صحت یابی کے بعد ملک میں صحت یاب افراد کی مجموعی تعداد 1666 ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی علما سے مکمل تعاون کی اپیل
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مذہبی و دینی علما کے وفد سے ملاقات میں جمعہ کے روز دوپہر 12 سے تین بجے تک لاًک ڈاؤن میں مکمل تعاون کی اپیل کی ہے۔
علما کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی جس کے بعد سندھ حکومت نے جمعہ کو دوپہر 12 سے تین بجے تک مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔
سید مراد علی شاہ سے ملاقات کرنے والے وفد میں مفتی منیب الرحمان، مفتی عابد مبارک، مفتی رفیع رحمان، مفتی عابد سید، جماعت اسلامی کے عبدالوحید، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر باری اور دیگر شریک تھے۔
گوادر میں انتظامیہ اور تاجروں کے درمیان منفرد معاہدہ طے پا گیا, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں انتظامیہ اور تاجروں کے درمیان کاروبار کھولنے کے حوالے سے ایک منفرد معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت مختلف اوقات میں مختلف نوعیت کی دکانیں، چھ چھ گھنٹے کے لیے کھلی رہیں گی۔
اسسٹنٹ کمشنر گوادر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مراسلے کے مطابق سینیچر اور اتوار کو آٹو پارٹس، گیراج اور میکینک کی دکانیں شام 4 بجے تا رات10بجے
سینیچر کو کاسمیٹکس اور جوتوں کی دکانیں صبح 8 بجے تا دوپہر دو بجے تک کھلی رہیں گی۔
جبکہ اتوار کو کلاتھ مرچنٹ اور درزی صبح 8بجے تا دوپہر 2بجے، پیر کو موبائل اور جیولری کی دکانیں صبح 8بجے تا دوپہر 2بجے تک کھولی جا سکیں گے۔
منگل کو ہارڈ ویئر، فرنیچر، سیمنٹ اور سریا کی دکانیں صبح 8بجے تا 2بجے جبکہ بدھ کو حجام اور پرندوں کی دکانیں صبح 8بجے سے 2بجے تک کھلنے کی اجازت ہو گی۔ جمعرات کو کپڑوں اور درزیوں کی دکانیں شام 3بجے تا رات 11بجے اور جمعہ کو مچھلی کی جھال فروخت کرنے والی دکانیں صبح 8بجے سے دو بجے تک کھلی رہیں گی ۔
گوادر میں تاجر تنظیم کے رہنما غلام حسین دشتی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ لاک ڈاﺅن کے دوران احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Gawadar
بلوچستان کے علاقے بارکھان اور کوہلو میں کورونا وائرس کے متعلق ٹریننگ
بلوچستان کے محکمہ صحت نے بارکھان اور کوہلو کے علاقوں میں موجود طبی عملے کے ارکان کو کورونا وائرس کی تشخیض، متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کے متعلق تربیت سازی کی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اس متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے صوبے میں حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بلوچستان حکومت کی گندم کی بین الااضلاعی نقل و حرکت پر پابندی عائد
بلوچستان حکومت نے گندم کی قلت کے خدشے کے پیش نظر اس کی بین الااضلاعی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایک سرکاری مراسلے کے مطابق محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان نے دفعہ 144کے تحت یہ پابندی ایک ماہ کے لیے عائد کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGovernment of Balochistan
پنجاب میں کورونا ٹیسٹنگ کی چار لیبارٹریاں تیار
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ صوبے میں کورونا کے ٹیسٹ کے لیے چار نئی لیبارٹریاں تیار ہوچکی ہیں، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی منظوری کے بعد نئی لیبارٹریوں کو چند روز میں فنکشنل کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں تقریباً 56 ہزار ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں اوراب تک پنجاب حکومت 46 ہزار سے زائد لوگوں کے ٹیسٹ کر چکی ہے۔
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کا اجلاس میں حفاظتی اقدامات کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینئر وزیر عبدالعلیم خان، صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت،چیف سیکرٹری، سینئرممبر بورڈ آف ریونیو،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ،سیکرٹری خزانہ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لیے حفاظتی لباس ودیگر ضروری سامان کی دستیابی اور خریداری سے متعلقہ امور پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں لاک ڈاؤن میں توسیع کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وبا کے پیش نظر پنجاب بھر میں سستے رمضان بازار نہ لگانے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں رمضان کے دوران سستے بازار نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سستے بازاروں کا انتظام نہیں کیا جائے گا بلکہ مستحق خاندانوں کو رمضان پیکیج کے تحت مالی امداد دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان پیکیج کے تحت مالی امداد کا طریقہ کار اوردیگر امور جلد طے کئے جائیں، کورونا وبا کے پیش نظر عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے متحرک طریقے سے کام کرنا ہوگا، صوبے میں مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کورونا وائرس سے متعلق درست ڈیٹا اور معلومات پر توجہ دی جائے، عمران خان
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
وزیرِ اعظم عمران خان نے کووڈ 19 کی صورتحال کے حوالے سے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق درست ڈیٹا اور معلومات پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صحیح اعدادوشمار پر مبنی ڈیٹا کی بنیاد پر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ اموات کے حوالے سے اس امر کا تعین کیا جائے کہ آیا یہ کورونا وائرس سے متاثر ہو کر ہوئیں یا کسی دیگر وجوہات کی بنیاد پر موت واقع ہوئی ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ عام آدمی کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے محدود کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی ہے تاہم اس ضمن میں ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور جہاں تک ممکن ہو سکے سماجی فاصلے کو یقینی بنائے۔
وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ عوام کو احتیاطی تدابیر کے بارے میں نہ صرف ترغیب دی جائے بلکہ مفصل آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ ہر فرد اپنے طور پر ممکنہ حد تک اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور فوکل پرسن برائے کووڈ ڈاکٹر فیصل کی وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال، ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور متاثرہ افراد کو قرنطینہ میں منتقل کرنے کے حوالے سے حکمت عملی و دیگر امور پر بریفنگ دی گئی۔
جبکہ چئیرمین این ڈی ایم نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حفاظتی انتظامات اور خصوصاً ہسپتالوں میں حفاظتی سامان کی ترسیل کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حفاظتی سامان کی تیسری کھیپ کل صوبوں کو ارسال کر دی جائے گی۔
اجلاس میں ماہ رمضان کو پیش نظر رکھتے ہوئے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے حکمت عملی بھی زیر غور آئی جس پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ بہت جلد علمائے کرام سے ملاقات کریں گے تاکہ علما کی رہنمائی سے رمضان کے حوالے سے حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔
وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے آج کےاجلاس کے بارے میں بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف ڈبلیو او کی جانب سے راولپنڈی میں ڈھائی سو بستروں پرقائم کیے جانے والے فیلڈ ہسپتال کی طرزپر ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کے قرنطینہ مراکز قائم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار،وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی سید فخر امام، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر،وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ،معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف،وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کووڈ ڈاکٹر فیصل سلطان و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
جی 20 ممالک کی جانب سے پاکستان کے لیے قرضوں میں سہولت قابل ستائش ہے، عمران خان
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جی ٹونٹی ممالک کی جانب سےپاکستان سمیت ترقی پذیر ملکوں کے لیے قرضوں میں ریلیف قابل ستائش ہے۔
وزیراعظم نے یہاظہار خیالمشیر خزانہ عبدلحفیظ شیخ سے اسلام آباد میں ملاقات کے دوران کیا۔
سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق ملاقات میں مشیرخزانہ عبدلحفیظ شیخ نے وزیراعظم کوعالمی مالیاتی ادارے کی جانب سےاضافی ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے رعایتی قرضہ دینے کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا یہ قرضہ کورونا سےمتاثرہ معیشت کوسہارادینے کیلئے ہے۔مشیرخزانہ نے وزیراعظم کو حکومت کی جانب سےاعلان کردہ پیکیجز کےمخلتف پہلؤں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ماہ رمضان کا لائحہ عمل علمائے کرام کی مشاورت سے مرتب کیا جائے گا، وزیر اعظم عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان کے پیش نظر علمائے کرام کی مشاورت سے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وہ خود بھی بہت جلد اس سلسلے میں علمائے کرام کے وفد سے ملاقات کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ملک کے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے مولانا طارق جمیل کی جانب سے کورونا وائرس کے خلاف عوامی آگاہی مہم کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی کوششوں کا مقصد عوام کو ایک ایسی وبا سے محفوظ رکھنا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کوروناکی وبا سے نمٹنے کے لیے علمائے کرام کاتعاون درکار ہے۔ علمائے کرام نے ہر موڑ پر اور مشکل کی گھڑی میں حکومت کی رہنمائی کی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
