پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع، تعمیراتی شعبہ و صنعتیں بدھ سے کھولنے کا اعلان

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5849 ہو چکی ہے جبکہ 101 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ آج متوقع

    لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ آج ہوگا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کی موجودہ مدت 14 اپریل تک ہے۔ اس دوران اکثر کاروبار اور نقل و حمل بند رکھے گئے ہیں۔

    اس سلسلے میں حکومتی فیصلہ آج 13 اپریل کو متوقع ہے کہ آیا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری رہے گا یا اسے ختم کیا جائے گا۔ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ضرورت کے مطابق آیا لاک ڈاؤن میں نرمی یا سختی لائی جائے گی۔

    وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بارے میں متفقہ فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں 13 اپریل کو کیا جائے گا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور اس صورتحال کا ازخود جائزہ لے رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اتوار کو حکومت کی معاشی ٹیم ملک کی معاشی مشکلات پر بریفنگ کے لیے وزیراعظم سے ملاقات کرے گی اور اس ملاقات کی سفارشات حتمی منظوری کے لیے قومی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

    آج قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں کے تسلسل اور مستقبل کی منصوبہ بندی یقینی بنانے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

    ادھر پنجاب کی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ دیر سے کرنے پر وفاقی حکومت سے اپنے تحفظات ظاہر کیے تھے۔

    دوسری طرف بلوچستان اور گلگت بلتستان میں 21 اپریل تک لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔

  2. اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند رکھنے کا حکم

    اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند رکھنے کا حکم

    ،تصویر کا ذریعہICT Administration

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    حکام نے کورونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر 24 مارچ کو تمام ہسپتالوں کی او پی ڈی بند کر دی تھیں جنھیں کھولنے کے لیے 9 اپریل کو ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔

    تاہم 12 اپریل کو انھیں دوبارہ غیرمعینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

  3. کورونا وائرس: سندھ میں ماہی گیری سے متعلق سرگرمیاں معطل

    حکومت سندھ کے محکمہ برائے لائیوسٹاک اور ماہی گیری نے صوبے میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر ماہی گیری سے متعلق تمام سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    حکومت سندھ

    ،تصویر کا ذریعہGovernment of Sindh

  4. کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ چھ دنوں میں متاثرین میں سب سے بڑا اضافہ, پاکستان میں کل متاثرین: 5362 | اموات: 93 | صحتیاب: 1048

    پاکستان

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 324 مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 5362 ہو گئی ہے۔

    یہ گذشتہ چھ دنوں میں ملک میں ایک دن میں سامنے آنے والے کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ پیر ملک میں اب تک کے سب سے زیادہ 577 متاثرین سامنے آئے تھے۔

    اس کے علاوہ آج ملک میں سات مزید اموات بھی سامنے آئی جس کے بعد کل اموات کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔

  5. بریکنگ, کورونا وائرس: پنجاب میں 130 نئے مریض، مزید دو اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ پنجاب سے کورونا وائرس کے مزید 130 کیس سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 2594 ہو گئی۔

    اس کے علاوہ پنجاب میں آج دو مزید اموات بھی سامنے آئی ہیں جس کے بعد صوبے میں کل اموات کی تعداد 23 ہو گئی ہے۔

    صوبے کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے مطابق متاثرین میں 701 ایران سے آئے زائرین تھے۔ ان متاثرین میں 829 افراد کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جبکہ 89 قیدی ہیں۔

    وزیرِ اعلیٰ کے مطابق متاثرین میں 983 عام شہری بھی شامل ہیں۔

    قیدیوں کی تفصیل

    ترجمان کے مطابق کیمپ جیل لاہور میں 59، سیالکوٹ میں 14، گوجرانوالہ سات اور ڈی جی خان میں نو قیدیوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    زائرین کی تفصیل

    ڈی جی خان میں 221 زائرین، ملتان میں 457 زائرین، فیصل آباد میں 23 زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق۔

  6. بلوچستان میں پکی پکائی روٹی کی ترسیل کے پروگرام کا آغاز

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہBALOCHISTAN GOVT

    بلوچستان حکومت رفاحی ادارے بیت السلام کے اشتراک سے کوئٹہ میں مزدور اور دیہاڑی دار طبقے اور مستحق خاندانوں کو بلا معاوضہ پکی پکائی روٹی کی ترسیل کے پروگرام کا آغاز کر رہی ہے جس کے تحت کھانا ضرورت مندوں کو ان کے گھر تک پہنچائی جائے گی۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق پروگرام کا با قاعدہ آغاز منگل 14 اپریل سے کر دیا جائے گا، پروگرام پر عملدرآمد کے طریقہ کار اور دیگر امور کا جائزہ لے کر انھیں حتمی شکل دینے کے لیے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان سے رفاحی ادارے کی ٹیم نے ملاقات کی۔

    ٹیم کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ ان کا ادرہ کراچی میں مستحقین کو راشن خوراک اور پکی پکائی روٹی فر اہم کر رہا ہے اور پانچ لاکھ سے زائد افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ادارے کو مخیر حضرات اور دیگر فلاحی اداروں کی معاونت حاصل ہے۔

  7. پاکستان میں مصدقہ متاثرین 5232، مجموعی اموات 91

    پاکستان

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 5232 ہو چکی ہے جبکہ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہے۔

    • مصدقہ متاثرین میں صوبہ پنجاب بدستور سرِفہرست ہے۔ پنجاب میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 2464 ہے جبکہ صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 21 ہے
    • صوبہ خیبر پختونخوا میں متاثرین کی تعداد 744 ہے تاہم اب تک یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 34 ہے
    • مصدقہ متاثرین کی دوسری بڑی تعداد، یعنی 1411، صوبہ سندھ میں ہے۔ سندھ میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 30 ہے
    • صوبہ بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 230 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو ہے
    • گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس کے باعث تین افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہاں پر مصدقہ متاثرین کی تعداد 224 ہے
    • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مصدقہ مریض 119 ہیں جبکہ وائرس کا شکار ایک خاتون ہلاک ہوئی ہیں
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد 40 ہے
    • ملک میں اب تک کورونا وائرس کے 1048 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں
  8. وزیر اعظم عمران خان نے عالمی برادری کو کی گئی اپیل میں کیا کہا؟

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اتوار کو عالمی مالیاتی اداروں، عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ وسائل کی کمی کا شکار مقروض ترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیں۔

    وزیر اعظم نے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں کورونا سے نمٹنے کے لیے دو مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بھی بچانا ہے کیونکہ یہاں کورونا کے چیلنج کے ساتھ ساتھ معیشت کے مسائل بھی ہیں۔’

    ’ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ امریکہ نے کورونا سے نمٹنے کے لیے 2.2 ٹریلین ڈالر کا پیکج دیا، جرمنی نے ایک ٹریلین یوروز جبکہ جاپان نے ایک ٹریلین ڈالرز کا پیکج دیا ہے۔ دوسری جانب 22 کروڑ آبادی والا ملک پاکستان اپنی عوام کو آٹھ ارب ڈالر کا پروگرام دے سکا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا دیگر ترقی پذیر ممالک کو ہے۔ ’پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک کا مسئلہ وسائل کی کمی ہے۔ ہمارے پاس مزید اتنے وسائل نہیں ہیں جو ہم پہلے سے دباؤ کے شکار صحت کے نظام اور لوگوں کو بھوک سے بچانے پر صرف کر سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اعلان کردہ صحت پیکج اتنے ہیں جتنا ترقی پذیر ممالک میں عموماً صحت کا سالانہ بجٹ نہیں ہوتا۔

    ’ہمارے پاس وسائل اور پیسے کی کمی ہے۔ اسی لیے میں عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی معاشی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو کورونا کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے قرضوں میں ریلیف کا ایک لائحہ عمل ترتیب دیں۔‘