پاکستان: مصدقہ متاثرین 5232، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہو گئی

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5232 ہو چکی ہے جبکہ کل اموات 91 ہو گئی ہیں۔ معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ملک میں کورونا کے باعث شرح اموات مزید بڑھ سکتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی اردو کی لائیو کوریج مسلسل جاری ہے۔

  2. اسلام آباد: ہسپتالوں کا شعبہ بیرونی مریضاں کھولنے کے احکامات معطل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر میں واقع سرکاری ہسپتالوں کے شعبہ بیرونی مریضاں (او پی ڈی) کو عام مریضوں کے لیے فعال کرنے کے اپنے احکامات کو معطل کرنے کا نیا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح اسلام آباد میں بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے شہر بھر کے ہسپتالوں میں شعبہ بیرونی مریضاں کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔

    نو اپریل کو اسلام آباد انتظامیہ نے او پی ڈیز کو عام عوام کے لیے کھولنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم آج جاری کیے گئے ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے نو اپریل کے احکامات کو معطل فی الفور معطل کر دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہICT ADMINISTRATION

  3. حفاظتی طبی سامان حکومتِ بلوچستان کے حوالے

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGOVT OF BALOCHISTAN

    حکومت بلوچستان کا جہاز کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس، حفاظتی لباس، ماسک اور دیگر طبی سامان لے کر اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچ گیا ہے۔ یہ سامان قومی ادارہ صحت اور این ڈی ایم اے کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔

  4. بریکنگ, خیبرپختونخوا: گذشتہ 24 گھنٹوں میں تین اموات، 47 نئے مصدقہ متاثرین, ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91، مصدقہ متاثرین 5232

    پاکستان

    صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 47 نئے مصدقہ متاثرین سامنے آنے کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 744 ہو گئی ہے۔

    خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے باعث تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    ہلاک ہونے والے تینوں افراد تبلیغی جماعت کے اراکین تھے اور گذشتہ دنوں میں تبلیغ کے سلسلے میں سفر کرتے رہے ہیں۔ ہلاک ہونےوالے افراد کی عمریں 52، 65 اور 80 برس تھی۔ صوبے میں اب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 34 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں اب تک کورونا کے 4305 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں صحت یاب ہونےوالے افراد کی مجموعی تعداد 145 ہے۔

    خیبرپختونخوا کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے بعد اب ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 5232 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 91 ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. اسلام آباد میں ایسٹر کیسے منایا جا رہا ہے؟

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ملک بھر کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی مسیحی برادری نے ایسٹر کے موقع پر کلیساؤں میں جانے کی بجائے گھروں میں عبادات کا انعقاد کیا۔

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسیحی برادری کے اراکین ہاتھوں میں شمعیں پکڑے اپنے گھروں کی چھتوں پر ایسٹر کی مناسبت سے عبادت کر رہے ہیں۔

    ایسٹر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. گلگت بلتستان میں کورونا کے آٹھ نئے مریض, ملک میں مصدقہ متاثرین 5185

    نمبرز

    حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گلگت بلتستان میں وائرس سے متاثرہ آٹھ نئے کیسز کے تشخیص کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 224 ہو گئی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد اب بڑھ کر 5185 ہو چکی ہے جبکہ کُل ہلاکتیں 88 ہیں۔

  7. کراچی: ضلع ایسٹ میں لاک ڈاؤن پر سخت عملدرآمد

    کراچی

    کراچی کے ضلع ایسٹ میں وہ علاقے جہاں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین موجود ہیں وہاں سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن پر سختی سے عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔

    کراچی

    متاثرہ علاقوں میں سٹرکیں رکاوٹیں لگا کر بند کی گئی ہیں تاکہ عوام کے غیر ضروری طور پر باہر نکلنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

    سندھ میں اس وقت متاثرہ مریضوں کی تعداد 1411 ہے جبکہ صوبے بھر میں اب تک 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    کراچی
  8. بریکنگ, عمران خان کی عالمی رہنماؤں اور مالیاتی اداروں سے ترقی پذیر ممالک کی مدد کی اپیل

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے عالمی مالیاتی اداروں، عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ وسائل کی کمی کا شکار مقروض ترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیں۔

    وزیر اعظم نے یہ اپیل انگلش زبان میں ریکارڈ شدہ اپنے ایک مختصر بیان کے ذریعے کی ہے۔ یہ بیان سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا۔

    وزیر اعظم نے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں ریلیف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک میں کورونا سے نمٹنے کے لیے دو مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے برعکس ترقی پذیر ممالک میں اقدامات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بھی بچانا ہے کیونکہ یہاں کورونا کے چیلنج کے ساتھ ساتھ معیشت کے مسائل بھی ہیں۔’

    ’ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے وسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ امریکہ نے کورونا سے نمٹنے کے لیے 2.2 ٹریلین ڈالر کا پیکج دیا، جرمنی نے ایک ٹریلین یوروز جبکہ جاپان نے ایک ٹریلین ڈالرز کا پیکج دیا ہے۔ دوسری جانب 22 کروڑ آبادی والا ملک پاکستان اپنی عوام کو آٹھ ارب ڈالر کا پروگرام دے سکا ہے۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جو مسئلہ پاکستان کو درپیش ہے اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا دیگر ترقی پذیر ممالک کو ہے۔ ’پاکستان اور اس جیسے دیگر ممالک کا مسئلہ وسائل کی کمی ہے۔ ہمارے پاس مزید اتنے وسائل نہیں ہیں جو ہم پہلے سے دباؤ کے شکار صحت کے نظام اور لوگوں کو بھوک سے بچانے پر صرف کر سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے اعلان کردہ صحت پیکج اتنے ہیں جتنا ترقی پذیر ممالک میں عموماً صحت کا سالانہ بجٹ نہیں ہوتا۔

    ’ہمارے پاس وسائل اور پیسے کی کمی ہے۔ اسی لیے میں عالمی رہنماؤں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور عالمی معاشی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو کورونا کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے قرضوں میں ریلیف کا ایک لائحہ عمل ترتیب دیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. پنجاب: حفاظتی سامان کی ایک اور کھیپ ہسپتالوں کے حوالے

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب کے محکمہ صحت نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے، این ڈی ایم اے، سے ملنے والی طبی حفاظتی سامان کی ایک اور کھیپ ہسپتالوں کو روانہ کر دی ہے۔

    پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق اس سامان میں 6447 حفاظتی لباس، ڈیڑھ لاکھ کے قریب ماسک، سوا لاکھ دستانے، 2590 حفاظتی عینکی، 2306 فیس شیلڈز اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

    محمکہ صحت کے مطابق یہ سامان لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میں بھجوایا گیا ہے جن میں چلڈرن ہسپتال، جنرل ہسپتال، میو ہسپتال، جناح ہسپتال اور پی آئی سی شامل ہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق وزیر اعلٰی اور چیف سیکرٹری پنجاب طبی حفاظتی سامان کی صورتحال کا روازنہ کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہیں۔

    اس سے قبل وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملتان کے نشتر ہسپتال میں بعض ڈاکٹروں اور طبی عملے کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی انکوائری کرنے کے احکامات صادر کیے تھے۔

    وزیر اعلی نے صحت حکام کو ڈاکٹروں اور عملے کو حفاظتی لباس اور دیگر ضروری سامان کی فراہمی کا جائزہ لینے کا کہتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو حفاظتی لباس اور دیگر ضروری سامان ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیا جائے۔

  10. بلوچستان: مقامی منتقلی کے دو مزید کیسز، مصدقہ متاثرین 230 ہو گئے

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صوبے میں دو نئے مصدقہ متاثرین کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب بلوچستان میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 230 ہو گئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق یہ دونوں نئے کیسز مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کے ہیں اور اب صوبے میں مقامی سطح پر کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔

    بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق صوبے کے پانچ اضلاع میں کورونا سے متاثرہ افراد موجود ہیں۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر اب تک 3906 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 3676 منفی جبکہ 230 مثبت آئے ہیں جبکہ 29 نتائج ابھی موصول نہیں ہوئے ہیں۔

    صوبے میں اب تک 123 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. ڈاکٹر ظفر مرزا: احتیاطی تدابیر پر عمل نہ ہوا تو شرح اموات بڑھ سکتی ہے, ایک دن میں 14 ہلاکتیں، شرح اموات 1.7 فیصد

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا وائرس کا اجلاس کل ہو گا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں اور ان کا اعلان وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے۔

    یاد رہے کہ ملک میں نافذ کردہ دو ہفتے کے لاک ڈاؤن کی مدت 14 اپریل کو ختم ہو رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی میں لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع یہ بتدریج اس میں نرمی کرنے کے حوالے سے فیصلے کیے جائیں گے۔

    معاون خصوصی نے تازہ ترین اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹے پاکستان پر بھاری تھے اور ملک میں اب تک ایک روز میں سب سے زیادہ 14 ہلاکتیں گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہوئی ہیں جبکہ اسی دورانیے میں 254 مصدقہ متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں پانچ ہزار سے زائد کیسز میں سے نصف کیسز وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کے ہیں۔

    ’ہم اس حوالے سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں اور اب بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر پر اچھی طرح عمل نہیں کیا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور شرح اموات بڑھ سکتی ہے۔‘

    معاون خصوصی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں کورونا کے باعث شرح اموات 1.7 فیصد ہو گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں میں سے 34 کی حالت خطرے میں ہیں اور یہ مریض وینٹیلیٹر پر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے سب سے مستحسن انداز میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکا ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال کی ہے۔

  12. پاکستان: مصدقہ متاثرین 5175، مجموعی اموات 88

    پاکستان

    تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 5175 ہو چکی ہے جبکہ اتوار کو ہونے والی نئی ہلاکتوں کے بعد ملک میں اموات کی مجموعی تعداد 88 ہے۔

    • مصدقہ متاثرین میں صوبہ پنجاب بدستور سرِفہرست ہے۔ پنجاب میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 2464 ہے جبکہ صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 21 ہے
    • اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا میں متاثرین کی تعداد 697 ہے تاہم اب تک یہاں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 31 ہے
    • مصدقہ متاثرین کی دوسری بڑی تعداد، یعنی 1411، صوبہ سندھ میں ہے۔ سندھ میں ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 30 ہے
    • صوبہ بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 228 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد دو ہے
    • گلگت بلتستان میں اب تک کورونا وائرس کے باعث تین افراد ہلاک ہوئے ہیں اور یہاں پر مصدقہ متاثرین کی تعداد 216 ہے
    • وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مصدقہ مریض 119 ہیں جبکہ وائرس کا شکار ایک خاتون ہلاک ہوئی ہیں
    • پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد 40 ہے
  13. احساس پروگرام: ’لگ بھگ 18 لاکھ خاندانوں میں 22.46 ارب روپے تقسیم‘

    احساس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ ملک میں اب تک ’احساس ایمرجنسی کیش پروگرام‘ کے تحت لگ بھگ 17 لاکھ 74 ہزار خاندانوں میں 22.46 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے پاکستانی جو اس وقت کسی نہ کسی قسم کے نوکری کر رہے ہیں اور اس کے عوض انھیں تنخواہ موصول ہو رہی ہے وہ براہ مہربانی اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت سے درخواست نہ کریں۔

    معاون خصوصی کے مطابق یہ پروگرام ایسے افراد کے لیے ہے جو یومیہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتے تھے مگر لاک ڈاؤن کے باعث اب کمانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ تمام افراد جو مستحق ہیں اور انھیں اب تک حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ٹیکسٹ میسج کا بروقت علم نہیں ہو سکا ہے انھیں دس روز بعد دوبارہ پیغام بھیجا جائے گا تاکہ وہ اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں۔

    ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایسے افراد کو متنبہ کیا ہے جو مستحق افراد کو پیسے فراہم کرنے کے عوض ان کی رقوم سے کٹوتیاں کر رہے ہیں۔

  14. طبی عملے کو خراجِ تحسین، بابِ خیبر نے سفید رنگ اوڑھ لیا

    بابِ خیبر

    ،تصویر کا ذریعہKhyber Pakhtunkhwa Govt

    پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی انتظامیہ نے تاریخی بابِ خیبر کو سفید کپڑے سے ڈھانپ کر صحت عملے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کو کافی سراہا جا رہا ہے۔

  15. ایسٹر: ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کلیساؤں کے بجائے آن لائن عبادت, محمد کاظم، کوئٹہ

    چرچ

    کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ملک بھر میں نافذ کردہ لاک ڈاﺅن اور دفعہ 144 کی وجہ سے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بھی کلیساﺅں میں لوگ ایسٹر کے موقع پر عبادات کے لیے نہیں آئے بلکہ شہر کی مسیحی برادری نے آن لائن عبادت کی۔

    کوئٹہ میں سول سیکریٹریٹ کے قریب میتھوڈسٹ چرچ کی سکیورٹی پر معمور ایک اہلکار نے بتایا کہ چرچ بند رہا اور ایسٹر کے حوالے سے یہاں کوئی عبادت کے لیے نہیں آیا۔

    چرچ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اس چرچ کی طرح شہر میں دیگر چرچ بھی کورونا کے خطرے کے پیش نظر بند رہے تاہم مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے گھروں اور محلوں میں ایسٹر کو مذہبی جوش و خروش سے منایا۔

    کوئٹہ میں سینٹ جان میری ویانی کے پادری شہزاد انور نے بتایا موجودہ صورتحال کے پیش نظر بلوچستان کے بشپ نے تمام کیتھولک فادرز کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو کلیساﺅں میں جمع نہ کریں بلکہ آن لائن عبادت کریں۔

    چرچ

    ان کا کہنا تھا کہ اس ہدایت کے تحت کوئٹہ میں بھی آن لائن عبادت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کورونا کی وبا کی روک تھام کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ ہماری بھلائی کے لیے کیے ہیں اور اسی لیے حکومت اور محکمہ صحت کی جو پالیسیاں ہیں ہم اس کے مطابق عمل کریں کر رہے ہیں۔

    چرچ
  16. پنجاب: ’لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کرے گی‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب کی وزیرِ صحت یاسمین راشد نے کہا ہے کہ صوبے میں لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ قومی سلامتی کونسل کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ صوبے میں باقی ملک کی طرح 14 اپریل تک لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ صوبہ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ لاک ڈاؤن میں کم از کم مزید ایک ہفتے کی توسیع سمیت مزید سخت اقدامات کرنے کے حق میں ہیں۔

    یاسمین راشد کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ پنجاب میں قائم مختلف قرنطینہ سینٹرز میں سب سے زیادہ افراد کورونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور اگر شہروں کی بات کی جائے تو وبا سے صوبائی دارالحکومت لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی اورجہلم سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ ان زیادہ متاثرہ شہروں کے لاک ڈاون میں نرمی نہیں کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ صوبے میں اب تک 36 ہزار مشتبہ متاثرین کے تشخیصی ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کیے ہیں۔

    یاسمین راشد کے مطابق پنجاب میں کوروناوائرس کے تین سو کے قریب مصدقہ مریض صحت یاب ہو کر اپنےگھروں کوواپس جا چکے ہیں۔

    صوبائی وزیر صحت نے عوام سے ایک اور دفعہ اپیل کی ہے کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں گھروں میں رہ کرحکومت کا ساتھ دیں۔

  17. پنجاب یونیورسٹی: پرندوں کے لیے خوراک اور پانی کا بندوبست

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB UNIVERSITY

    کورونا وائرس کی وجہ ملک بھر میں تعلیمی ادارے گذشتہ کئی روز سے بند ہیں۔

    لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے یونیورسٹی میں پرندوں کی خوراک کے ذرائع محدود ہو چکے ہیں کیونکہ پرندوں کو اساتذہ، ملازمین اور طلبا اپنے طور پر خوراک ڈالتے تھے جبکہ یونیورسٹی کی 80 سے زائد کینٹینوں میں بچا کھچا کھانا بھی پرندوں کی خوراک کا بڑا ذریعہ تھا۔

    یونیورسٹی اکیڈیمک بلاکس اور ہاسٹل ایریا مکمل طور پر بند ہونے کے باعث انتظامیہ نے پرندوں کو خوراک فراہم کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر خوارک اور پانی کے برتن رکھوائے ہیں۔

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB UNIVERSITY

    یونیورسٹی انتظامیہ نے ہدایات جاری کیں کہ کیمپس میں رہائش پذیر انسانوں کی طرح کیمپس کے پرندوں کا بھی خیال رکھا جائے اور ہر ممکن حد تک انھیں خوراک فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

    لاہور

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB UNIVERSITY

  18. بھمبر میں 15 متاثرین، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کل تعداد 40, ایم اے جرال، صحافی

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد 40 ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہMA JARRAL

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد متاثرین کی کل تعداد 40 ہوگئی ہے۔

    خطے کے وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو خواتین اور ایک بچے سمیت چار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق میرپور کے علاقے ڈڈیال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کورونا وائرس سے متاثر ہوئی جو برطانیہ سے واپس آئی تھی جبکہ ایک خاتون اور ایک 14 سالہ بچے سمیت تین افراد کا تعلق بھمبر سے ہے۔ محکمہ صحت کے ایک لیب ٹیکنیشن میں بھی کووڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ان کے مطابق خاتون اور بچے نے بیرون ملک سفر نہیں کیا اور یہ وائرس کی مقامی منتقلی کا معاملہ ہے جس کے بارے میں چھان بین کی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ محکمہ صحت بھمبر کے ضلعی آفیسر سمیت محکمے کے تین افراد پہلے سے کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ محکمہ صحت کے کل چار اہلکاروں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔

    نجیب نقی کے مطابق اب تک کورونا وائرس سے دو افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ ضلع بھمبر میں سب سے زیادہ 15 متاثرین ہیں۔

    محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت خطے میں 5 سے 9 اپریل کے دوران بیرون ملک سے آنے والے افراد کو 14 دن قرنطینہ میں گزارنے کے بعد کورونا کے دو ٹیسٹ منفی آنے پر داخل ہونے دیا جائے گا۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہHome Department, Muzaffarabad

  19. سیہون: لعل شہباز قلندر کے عرس پر تقریبات سادگی سے ادا

    سیہون: لعل شہباز قلندر کے عرس پر تقریبات کا سادگی سے آغاز

    ،تصویر کا ذریعہShehzad Soomro

    صوبہ سندھ میں سیہون کے مقام پر صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے 768ویں عرس کے موقع پر سادگی سے تقریبات ادا کی گئیں۔

    خیال ہے کہ ایسا 700 سال میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ یہاں زائرین کے بغیر رسومات ادا ہوئی ہیں۔ حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران سندھ حکومت نے تمام مزار بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف سندھ منور مہیسر نے درگاہ پر چادر چڑہا کر عرس کی رسم ادا کی تاہم کچھ زائرین نے درگاہ کے گیٹ کے سامنے دھمال ڈالا۔

    سیہون: لعل شہباز قلندر کے عرس پر تقریبات کا سادگی سے آغاز

    ،تصویر کا ذریعہShehzad Soomro

    لاک ڈائون کے باجود پنجاب سے کچھ زائرین سیہون پہنچے ہیں۔

    روایت کے مطابق عرس کی تقریبات کا افتتاح گورنر سندھ اور اختتام وزیر اعلی سندھ کرتے ہیں۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ مزار کو بند رکھ کر زائرین کو دور رکھا گیا ہے۔

    سنہ 2017 میں خودکش حملے کے بعد بھی چند گھنٹوں کے لیے مزار کو بند رکھا گیا تھا اور پھر نوبت بجا کر دروازے کھول دیے گئے تھے۔

    سیہون: لعل شہباز قلندر کے عرس پر تقریبات کا سادگی سے آغاز

    ،تصویر کا ذریعہShehzad Soomro

  20. سندھ میں 40 فیصد متاثرین کی عمریں 21 سے 40 سال کے درمیان, صوبے میں کل 1411 مصدقہ متاثرین

    سندھ میں 22 فیصد متاثرین کی عمریں 21 سے 30 سال کے درمیان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں کورونا وائرس کے حوالے سے اہم تفصیلات بتائی ہیں:

    • صوبے میں کل 1411 مصدقہ متاثرین ہیں
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں 93 افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں
    • کل 30 اموات ہوئی ہیں اور ہلاکتوں کی شرح 2.1 فیصد ہے
    • اب تک 389 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں اور صحتیابی کی شرح 28 فیصد ہے
    • اس وقت 645 مریض گھروں میں آئسولیشن میں ہیں
    • 7 مریض آئسولیشن مرکز، 992 مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں
    • 1065 افراد میں وائرس کی مقامی منتقلی ہوئی
    • 13,309 افراد کے نمونے حاصل کیے گئے
    سندھ میں کورونا کل 1411 مصدقہ متاثرین

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh

    • 71 مریضوں کی عمریں ایک تا 10 سال، 118 مریضوں کی 11 تا 20 سال ہے
    • 311 مریضوں کی عمریں 21 تا 30 سال اور 260 مریضوں کی 31 تا 40 سال ہے
    • 196 مریضوں کی عمریں 41 تا 50 سال اور 226 مریضوں کی عمریں 51 تا 60 سال ہے
    • 152 مریضوں کی عمریں 61 تا 70 سال اور 47 مریضوں کی عمریں 71 تا 80 سال ہے
    • 5 مریضوں کی عمریں 81 تا 90 سال کے درمیان ہے
    • کورونا وائرس سے متاثرین میں سے 68.3 فیصد مرد اور 31.7 فیصد خواتین ہیں