’پاکستان میں متاثرین حکومتی تخمینوں سے کم جبکہ سندھ میں زیادہ ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے سے لگائے گئے تخمینوں کے برعکس مصدقہ متاثرین اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم رہی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت نے بروقت فیصلے لیے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر لگائے گئے تخمینوں کے برعکس صوبہ سندھ میں متاثرین کی تعداد اب زیادہ ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شرح اموات 1.7 فیصد ہے جبکہ ملک میں مجموعی طور پر 51432 ٹیسٹ کیے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں 37 لوگ اس وقت وینٹیلیٹر پر ہیں۔
’ماہرین کی مدد سے ہم نے تخمینے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان اندازوں کے مطابق ہمارا تخمیہ تھا کہ 14 اپریل تک ملک میں مصدقہ متاثرین 18 ہزار سے تجاوز کر جائیں گے مگر اب یہ پانچ ہزار سے کچھ زیادہ ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔ اموات کے حوالے سے ہمارا تخمینہ 191 تھا مگر آج پاکستان میں صرف 100 کے لگ بھگ اموات ہیں اور اس کی وجہ حکومت کا بروقت فیصلے لینا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جہاں مجموعی طور پر پاکستان میں حکومتی اقدامات کا مثبت نتیجہ آیا وہیں صوبائی سطح پر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ صوبہ سندھ نے اگرچہ جلد سخت اقدامات کیے مگر تخمینے کے مطابق سندھ میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں کم۔‘




















