پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع، تعمیراتی شعبہ و صنعتیں بدھ سے کھولنے کا اعلان

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5849 ہو چکی ہے جبکہ 101 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’پاکستان میں متاثرین حکومتی تخمینوں سے کم جبکہ سندھ میں زیادہ ہیں‘

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے سے لگائے گئے تخمینوں کے برعکس مصدقہ متاثرین اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم رہی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت نے بروقت فیصلے لیے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر لگائے گئے تخمینوں کے برعکس صوبہ سندھ میں متاثرین کی تعداد اب زیادہ ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شرح اموات 1.7 فیصد ہے جبکہ ملک میں مجموعی طور پر 51432 ٹیسٹ کیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ملک میں 37 لوگ اس وقت وینٹیلیٹر پر ہیں۔

    ’ماہرین کی مدد سے ہم نے تخمینے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان اندازوں کے مطابق ہمارا تخمیہ تھا کہ 14 اپریل تک ملک میں مصدقہ متاثرین 18 ہزار سے تجاوز کر جائیں گے مگر اب یہ پانچ ہزار سے کچھ زیادہ ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔ اموات کے حوالے سے ہمارا تخمینہ 191 تھا مگر آج پاکستان میں صرف 100 کے لگ بھگ اموات ہیں اور اس کی وجہ حکومت کا بروقت فیصلے لینا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جہاں مجموعی طور پر پاکستان میں حکومتی اقدامات کا مثبت نتیجہ آیا وہیں صوبائی سطح پر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ صوبہ سندھ نے اگرچہ جلد سخت اقدامات کیے مگر تخمینے کے مطابق سندھ میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں کم۔‘

  2. سپریم کورٹ: چیف جسٹس اور ان کے اہلخانہ کے کورونا ٹیسٹ منفی

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد، ان کے اہلخانہ اور سیکریٹری کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک نائب قاصد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ اعلامیے کے مطابق قومی ادارہ صحت نے خطرے کے پیش نظر سپریم کورٹ کے تین ججز سمیت 37 دیگر ملازمین کے ٹیسٹ آج لیے ہیں جن کے نتائج جلد ہی متوقع ہیں۔

    ان ملازمین میں تین پولیس والوں سمیت مالی اور سکیورٹی کا عملہ بھی شامل ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایسے افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن کا تعلق یا میل جول متاثرہ نائب قاصد سے تھا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر آج لیے گئے ٹیسٹس میں سے کوئی ٹیسٹ مثبت آیا تو سپریم کورٹ کے تمام ملازمین کے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ نائب قاصد کو پولی کلینک ہسپتال میں آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔

  3. بریکنگ, کون کون سی صنعتیں کل سے کھل جائیں گی؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر نے آگاہ کیا کہ اشیائے ضروریہ، توانائی، ذرائع ابلاغ، بینکاری اور ریلیف سے متعلقہ تمام صنعتیں پہلے سے ہی کھلی ہیں اور ان کو کھلا رکھنے پر وفاق اور تمام اکائیوں میں اتفاق رائے تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اب ایسی صنعتیں کل سے کھولی جا رہی ہیں جہاں سے وبا کے پھیلنے کے خطرات کم ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بعد مندرجہ ذیل صنعتیں کھولی جا رہی ہیں:

    کیمیکل مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور پروگرامنگ، پیپر اینڈ پیکجنگ یونٹس، سیمنٹ پلانٹس، فرٹیلائزر پلانٹس، مائنز اینڈ منرلز، ڈرائی کلینر سروسز، پودوں کی نرسریاں، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والے یونٹس، گلاس مینوفیکچرنگ یونٹس، جانوروں کو طبی امداد فراہم کرنے والی سروسز بشمول جانوروں کے ہسپتال، تمام ایکسپورٹ انڈسٹریز بشرطیکہ ان کے ایکسپورٹ آرڈرز کی پہلے تصدیق کی جائے گی، کتابوں اور سٹیشنری کی دکانیں، اینٹوں کے بھٹے اور بجری کے کرشنگ پلانٹس۔

    حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ تمام صنعتیں ان حفاظتی اقدامات کے بعد کھولی جائیں گی جن کا ان ایس او پی میں ذکر ہے اور جو صوبوں کو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا صوبوں اور مرکز میں دو جگہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

    ’الیکٹریشن، پلمبرز، ترکھان، درزی، ریڑھی اور چھابڑی لگانے والوں کے حوالے سے وفاق کی رائے تھی کہ ان کو کھولا جائے تاکہ ان کا روزگار بحال ہو سکے مگر بعض صوبوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

    حماد اظہر کا کہنا ہے کہ صوبوں کو تجویز دی گئی ہے کہ اس حوالے سے وہ اپنے اپنے صوبے کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے خود فیصلہ کریں۔

    حماد اظہر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو بتدریج کھولا جائے گا تاہم کنسٹرکشن سائٹس کو کھولنے کے حوالے سے بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صنعتوں کو کھولنے کے حوالے سے نظر ثانی جاری رہے گی اور رمضان سے قبل مزید صنعتیں بھی کھولی جائیں گی۔

  4. بریکنگ, جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع، تعمیراتی شعبہ، صنعتیں کل سے کھولنے کا اعلان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے جس کا اعلان وزیر اعظم نے خود کیا ہے۔

    ’لاک ڈاؤن آگلے دو ہفتوں تک جاری رہے گا مگر ایسی جگہوں پر جہاں عوامی اجتماع ہو سکتا ہے۔‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو ہفتے تک ہوٹلز، شاپنگ مالز، سپورٹس ایونٹس اور دیگر غیر ضروری اجتماعات پر پابندی رہے گی۔

    وزیر اعظم نے کل سے پاکستان میں تعمیراتی شعبے اور چند صنعتوں کو کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم نے لاک ڈاؤن کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ رکھا اگرچہ اس میں انھیں مشکلات کا سامنا بھی ہوا اور کئی افراد کا روزگار بھی ختم ہوا۔

    وزیر اعظم کے مطابق تعمیراتی صنعت کھول دی گئی ہے اور اس بارے میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی سے مشاورت کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اب تک 190 افراد ہلاک ہو سکتے تھے تاہم ملک میں اب تک صرف سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ’اپنے ذہن میں رکھیں کہ کورونا وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے اور اسی وجہ سے ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری اس طرح آہستہ انداز سے پھیلتی رہی تو ہمارے ملک میں موجودہ صحت کی سہولیات کافی ہیں مگر اگر یہ مرض تیزی سے پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اس لیے احتیاط کریں۔

    اگر کوئی صوبہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی لاک ڈاؤن کو ہٹانے یا نرم کرنے پر تیار نہیں ہیں تو 18 ویں ترمیم کے بعد ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ مرکز ان پر اپنی سوچ مسلط نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں میں 98 فیصد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

    کل ایک آرڈیننس لایا جا رہا ہے جس کے ذریعے تعمیراتی شعبے کے لیے پیکج کا نفاذ کیا جائے گا۔

  5. پاکستان: مصدقہ متاثرین 5825، اموات 101

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اب مصدقہ متاثرین کی تعداد 5825 ہو چکی ہے۔ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 101 ہے۔

    پاکستان
  6. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا کے تین نئے مریض, مجموعی تعداد 46

    کشمیر

    ،تصویر کا ذریعہM A JARRAL

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق یہاں مزید تین مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 46 ہو گی ہے۔

    ضلع سدھنوتی کے ڈپٹی کمشنر راجہ ندیم جنجوعہ نے صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سدھنوتی میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ 26 مارچ کو لاہور سے سفر کر کے سدھنوتی آیا تھا۔ ان کے مطابق کووڈ 19 کی تشخیص کے بعد اس شخص کے خاندان کو قرنطینہ سینٹر منتقل کرنے کے علاوہ اس کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد کے مطابق عباسپور سے تعلق رکھنے والے دو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے یہ دونوں افراد لاہور میں کورونا وائرس کے باعث سب سے پہلے ہلاک ہونے والے بزرگ کے رابطے میں تھے جب وہ یہاں ایک عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے آئے تھے۔

    ان میں کورونا کی تشخیص کے بعد 20 سے زائد افراد کو قرنطینہ سینٹر لایا گیا جن میں سے یہ دو افراد بھی شامل ہیں۔ یاد رہے عباسپور میں قرنطینہ سنٹر میں رکھے گے افراد میں سے چار افراد اس سے قبل بھی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد عباسپور میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔

    مرزا ارشد جرال کے مطابق راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کورونا کا ایک مریض صحت یاب ہوگیا ہے جسے آج آئیسولیشن ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس خطے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔

  7. بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے آٹھ نئے مریض, صوبے میں مصدقہ متاثرین 241

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 241 ہو گئی ہے۔

    ترجمان کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں میں مزید آٹھ افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئئ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تینوں کیس وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کی ہیں۔

    بلوچستان میں آٹھ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 5822 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 101 ہے۔ ملک میں اب تک 1386 افراد اس مرض سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  8. وفاقی کابینہ: ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آرڈیننس لانے کی منظوری

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وفاقی کابینہ نے پاکستان میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس لانے کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔

    وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والوں فیصلوں پر میڈیا بریفنگ دی۔

    معاون خصوصی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قانون لایا جا رہا ہے جس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کی تجویز ہے۔

    معاون خصوی کے مطابق آج وزیر اعظم عمران خان قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کریں گے اور اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ہی دیر میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے اور اجلاس کے بعد اہم فیصلوں کا اعلان وزیر اعظم خود کریں گے۔

    معاون خصوصی نے آگاہ کیا کہ کابینہ کے سامنے آٹھ ایجنڈہ آئٹم رکھے گئے تھے۔ کابینہ کے ممبران نے اپنے اپنے حلقوں میں احساس پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم کے حوالے سے آگاہ کیا اور مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز بھی دی گئیں۔

    فردوس عاشق اعوان کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پروگرام میرٹ کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے اور یہ تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستانیوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے گی۔

  9. چلاس میں قائم آئسولیشن سنٹر

    چلاس میں قائم آئسولیشن سنٹر

    ،تصویر کا ذریعہFaizullah Faraq

    چلاس میں قائم آئسولیشن سنٹر

    ،تصویر کا ذریعہFaizullah Faraq

    چلاس میں قائم آئسولیشن سنٹر

    ،تصویر کا ذریعہFaizullah Faraq

    چلاس میں کورونا وائرس کے تین نئے مریضوں کی تصدیق کے بعد یہاں ایک آئسولیشن سنٹر قائم کیا گیا ہے تاکہ وائرس کا پھیلاؤ روکا جاسکے۔

  10. پنجاب میں 30 نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 2856 ہوگئی, پاکستان میں 5812 مصدقہ متاثرین

    پنجاب میں 30 نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 2856 ہوگئی

    پنجاب میں کورونا وائرس کے 30 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں کل مصدقہ متاثرین 2856 ہوگئے ہیں۔

    اب تک صوبے میں 24 اموات ہوئی ہیں جبکہ 508 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    پاکستان میں کووڈ 19 کے 5812 مصدقہ متاثرین ہیں۔

    پاکستان میں 5812 مصدقہ متاثرین

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Punjab

    پنجاب میں 701 زائرین، 992 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 89 قیدیوں، 1074 عام شہریوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    عام شہریوں میں سب سے زیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 469 مصدقہ مریض ہیں۔

  11. مشرقِ وسطی میں مقیم کتنے پاکستانی بیروزگار ہوئے ہیں؟

  12. پنجاب حکومت کا سرکاری محکمے کل سے کھولنے کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا سرکاری محکمے کل سے کھولنے کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب حکومت نے اپنے سرکاری محکمے 15 اپریل سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام محکموں میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ایس اوپیز یعنی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کے سیکرٹریز کام کے لیے دفاتر آ سکیں گے۔

    دوسری طرف نوٹیفیکیشن کے مطابق کچھ عملہ گھروں میں بیٹھ کر آئن لائن کام کرے گا۔

  13. چلاس: ’تبلیغی جماعت کے دورے سے آئے‘ تین افراد میں کورونا کی تصدیق, گلگت بلتستان: 80 سالہ مریض صحتیاب

    چلاس: ’تبلیغی جماعت کے دورے سے آئے‘ تین افراد میں کورونا کی تصدیق

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صحافی محمد زبیر کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکام کے مطابق کورونا کے چھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے تین کا تعلق چلاس سے ہے۔ خطے میں کل متاثرین 233 ہیں۔

    اس وقت 74 افراد زیر علاج ہیں، 155 صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ تین اموات پیش آئی ہیں۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق چلاس میں تین نئے مریضوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جبکہ تینوں حال ہی میں تبلیغی جماعت کے دورے سے واپس آئے تھے۔

    صحتیاب ہونے والوں میں ایک 60 سالہ اور ایک 80 سالہ مریض بھی شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ چلاس میں تین مریضوں کے مثبت ہونے کے بعد ان سے رابطے میں رہنے والوں کی شناخت کی جارہی ہے۔

  14. خیبرپختونخوا: ’ہمارے آٹھ ڈاکٹروں میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے‘

    خیبر پختونخوا: ’ہمارے آٹھ ڈاکٹروں میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین سامنے آرہے ہیں جن میں طبی عملے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

    خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک ’ہمارے سات سے آٹھ ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔‘

    ’چھ، سات نرسز، سات آٹھ پیرا میڈکس عملہ بھی کورونا سے متاثر ہوا ہے۔‘

    انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں کئی ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈک عملہ اس وبا سے متاثر ہو رہا ہے جس کی تشخیص تاحال ممکن نہیں ہوسکی۔

    انھوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے خفاظتی کٹس دی جائیں اور ہسپتالوں میں مزید کورونا ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں۔

  15. مساجد میں اقدامات کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    مساجد میں اقدامات کے لیے پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    ،تصویر کا ذریعہPunjab Assembly

    پنجاب اسمبلی میں ایک نئی قرارداد جمع کرائی گئی ہے جس میں مساجد میں اقدامات کے حوالے سے مطالبات کیے گئے ہیں۔

    کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت نے ایک قرارداد جمع کرائی ہے جس میں مساجد میں ڈس انفیکشن واک تھرو گیٹ نصب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    یہ کہا گیا ہے کہ ’مساجد میں نمازیوں کی سہولت کے لیے فوری طور پر حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔‘

  16. کورونا سے متعلق غلط فہمیاں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کی لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  17. بلوچستان: ’نجی سکول تین ماہ تک فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں‘

    بلوچستان: نجی سکول تین ماہ تک فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ‎محکمہ تعلیم حکومتِ بلوچستان نے تمام نجی سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ والدین کو تین ماہ تک فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں۔

    ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق ‎تمام نجی سکولوں کے مالکان ٹیچرز اور عملے کو بغیر کٹوتی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کرنے کے پابند ہوں گے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ تین ماہ کے دوران کوئی بھی سکول مالک کسی ٹیچر یا عملے کو ملازمت سے برطرف نہیں کر سکے گا۔

    ‎نوٹیفیکیشن کے مطابق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی-

    یاد رہے کہ سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے بھی اسی طرح کی ایک ہدایت جاری کی تھی جس میں بچوں کی فیسوں میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رعایت کی ہدایات دی گئی تھی۔

  18. آئندہ لاک ڈاؤن سے متعلق تجاویز تیار, صنعتوں کو مرحلہ وار کھولنے پر غور

    آئندہ لاک ڈاؤن سے متعلق تجاویز تیار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے امدادی سرگرمیوں اور لاک ڈاؤن سے متعلق نئی تجاویز تیار کر لی ہیں جنھیں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

    وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعلی سطحی اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی سے حتمی منظوری کے لیے سفارشات تیار کی گئی ہیں۔

    یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے تین ہفتوں میں 1959 مسافروں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ تمام پھنسے پاکستانیوں کی واپسی میں تین ماہ لگیں گے۔

    اجلاس میں ہر ہفتے 8000 پاکستانیوں کی واپسی یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ’ان تمام مسافروں کو قرنطینہ مراکز میں رکھا جائے گا۔‘

    ایک تجویز کے مطابق ہوائی سفری سے متعلق ایس او پیز کا 16 اپریل کو دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ سیالکوٹ کے علاوہ باقی سات بین الاقوامی ایئرپورٹس کو کھولا جائے گا۔

    وزارت داخلہ نے سرحدیں مزید دو ہفتوں تک بند رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق واہگہ بارڈر 29 اپریل تک جبکہ مغربی سرحد 26 اپریل تک بند رہے گے۔

    کرتارپور راہداری کو 24 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں نقل و حرکت کے لیے 26 ٹرینیں دستیاب ہیں جبکہ ریلوے کے 48 ہسپتال اور 36 ڈسپنسریاں دستیاب ہیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ صنعتوں کو مرحلہ وار کھولنے کے لیے ہدایات تیار کر لی گئی ہیں جن کے مطابق مالکان ان پر عمل کرانے کے پابند ہوں گے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں عبادات سے متعلق ہدایات علما سے مشاورت سے تیار ہوں گی جس میں تراویح، پانچ وقت کی نمازیں اور روزہ کشائی کے حوالے سے امور طے کیے جائیں گے۔

    رمضان بازار اور جمعہ بازار کے انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کو علما سے مشاورت کی ذمہ داری سونپی دی گئی ہیں۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل پانچ اقسام کے وینٹی لیٹرز تیار کر رہی ہے۔

  19. بریکنگ, سندھ میں 66 نئے مریض، کل متاثرین 1518 ہوگئے, پاکستان میں کل 101 اموات

    سندھ میں 66 نئے مریض، کل متاثرین 1518 ہوگئے

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے 66 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کل متاثرین کی تعداد 1518 ہوگئی ہے۔

    سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 مزید اموات ہوئی ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والی کی مجموعی تعداد 35 ہوگئی ہے۔

    مزید آٹھ افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ صحتیاب ہونے والے کل افراد کی تعداد 427 ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اموات کی شرح 2.3 ہوگئی ہے جو ایک تشویشناک بات ہے۔

  20. بریکنگ, وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

    وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع ہوچکا ہے۔

    اس اجلاس میں چھ نکاتی ایجنڈے پر بات کی جائے گی۔

    گذشتہ روز قومی رابطہ کمیٹی میں ہونے والے فیصلوں کی توثیق ایجنڈے میں شامل ہیں۔

    اس اجلاس میں کورونا وائرس کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔