پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں دو ہفتوں کی توسیع، تعمیراتی شعبہ و صنعتیں بدھ سے کھولنے کا اعلان

پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5849 ہو چکی ہے جبکہ 101 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید تین افراد میں کورونا کی تصدیق، ایک صحت یاب, پاکستان اور اس کے زیرِانتظام علاقہ جات میں کل متاثرین 5481، ہلاکتیں 95، صحت یاب 1126

    Figures

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید تین افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 43 ہو گئی ہے۔

    اس اضافے کے بعد پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام علاقوں میں متاثرین کی مجموعی تعداد 5481 ہو تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک اس وبا میں 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 1126 ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد کے مطابق عباس پور کے علاقے نمجر میں مزید تین افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ان افراد میں کورونا وائرس کی منتقلی ممکنہ طور پرعلاقے میں ایک نمازِ جنازہ کے دوران لاہور سے آئے ایک بزرگ سے ہوئی جن کی بعدازاں کورونا کے باعث ہلاکت ہو گئی تھی۔

    ہلاک ہونے والے بزرگ میں کورونا کی تشخیص کے بعد علاقے کو سیل کر کے متعدد افراد کو قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا تھا۔

    دوسری جانب خطے کے وزیر ڈاکٹر مصطفی بشیر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہیلتھ ایمرجنسی کے تحت لاک ڈاؤن 21 اپریل تک جاری رہے گا جس کے بعد اس کی توسیع کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

    ادھر میرپور ڈویژن کے کمشنر محمد رقیب خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کوٹلی تعلق رکھنے والے ایک مریض محمد علیجو کو جو کہ ایران سے آیا تھا صحت یاب ہونے کے بعد آئسولیشن ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد اس خطے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

    محمد رقیب خان کے مطابق برطانیہ سے آنے والی جس خاتون میں اتوار کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی ڈوڈیال میں اس کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے خاندان کو قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

  2. حکومت کے بروقت فیصلوں کے باعث ملک میں زیادہ نقصان نہیں ہوا: اسد عمر

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہےکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بروقت فیصلوں کی وجہ سے ملک میں کورونا کےباعث زیادہ نقصان نہیں ہوا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 15 اپریل کے بعد کیا کرنا ہے فیصلہ کل کو آرڈی نیشن کمیٹی میں کیا جائے گا۔ تاہم حکومت کاروبار کو کھولنے کے متعلق گائیڈ لائنز دے گی اور اسی کے مطابق کاروبار ہو گا تا کہ ملازمین بھی محفوظ رہیں۔

  3. پاکستان میں متعدد ڈاکٹرز اور طبی عملہ کورونا وائرس کا شکار, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو، پشاور

    Doctors

    ملک میں ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 48 افراد کورونا وائرس کا شکارہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب کے شہر ملتان اور ڈیرہ غازی خان سے سامنے آئی ہے جہاں مجموعی طور پر 30 ڈاکٹروں میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن لاہور کے ترجمان ڈاکٹر عمار نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک ملتان سے میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے 18 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مذید عملے کے افرادکے ٹیسٹ بھیجے گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں طبی عملے کے 12 افراد میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں سینیئر پروفیسروں سمیت 18 ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جن میں سے سات ڈاکٹروں، ایک نرس اور ایک پیرا میڈیکل سٹاف کا تعلق پشاور سے ہے۔

    اس کے علاوہ اپر دیر، ڈیرہ اسماعیل خان، بونیر، کرک، سوات اور مردان سے بھی ایک ایک طبی عملے کے افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  4. سماجی دوری کیسے اختیار کی جائے، قومی محکمہ صحت نے ویڈیو جاری کر دی

    ملک میں کورونا وائرس کے باعث احتیاطی تدابیر اور ہدایات کے متعلق پاکستان کی وزارت صحت نے آگاہی مہم کے دوران سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں عوام کو یہ بتایا گیا ہے کہ سماجی دوری کیسے اختیار کی جائے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. پشاور میں دو سکول ہیڈ ماسٹر طلبا کو سکول میں جمع کرنے پر معطل

    پشاور کے دو سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹر طلبا کو سکولوں میں جمع کرنے اور رش لگانے پر معطل کر دیے گئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور محمد علی اصغر کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر نے دو سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز کو فوری معطل کر دیا۔

    ان ہیڈ ماسٹروں نے سالانہ نتائج کا اعلان کر تے ہوئے طلبا کو سکولوں میں جمع کیا تھا۔ معطل ہونے والوں میں گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 3 ہزار خوانی اور گورنمنٹ پرائمری سکول گڑھی قمر دین کے ہیڈ ماسٹر شامل ہیں۔

  6. گلگت بلتستان میں احساس پروگرام کے تحت امدادی رقم کی تقسیم

    ہاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں بھی وفاقی حکومت کے احساس پروگرام کے تحت امدادی رقوم تقسیم کی گئی ہیں۔

    احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اس حوالے سے ٹویٹ بھی کی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  7. وزیراعظم کی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ کورونا وائرس سے مقابلے میں حصہ ڈالیں اور رقم پاکستان بھجوائیں۔

    پیر کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات پہلے ہی ٹھیک نہیں تھے جبکہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے اثرات سے اب غربت بھی بڑھ رہی ہے۔

  8. سندھ کے 12 اضلاع میں وائرس کی سکریننگ کا عمل شروع

    سندھ کے 12 اضلاع میں وائرس کی سکریننگ کا عمل شروع

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ہدایات پر محکمہ صحت نے سندھ کے 12 اضلاع میں کورونا وائرس کی سکریننگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

    اس موقع پر ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا ہے کہ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 1950 افراد کی سکریننگ کی تیاری کر لی گئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے، جنھیں کورونا سے بچانا بہت ضروری ہے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے باعث سکریننگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    وزیر صحت سندھ کے مطابق حیدر آباد کے 241، ٹنڈو الھیار 248، عمرکوٹ 128، نوابشاہ 307، جامشورو 66 افراد کی سکریننگ ہوگی۔

    اس کے علاوہ ٹنڈو محمد خان، دادو، مٹیاری، نوشہروفیروز اور دیگر اضلاع میں سکریننگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔

  9. ’1100 زائرین کے غائب ہونے کی خبر بالکل غلط ہے‘

    ’1100 زائرین کے غائب ہونے کی خبر بلکل غلط ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پشاور میں صوبائی مشیر اطلاعات پشاور اجمل خان وزیر نے بتایا ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت کووڈ 19 کے 744 متاثرین ہیں جبکہ 145 افراد اس سے صحتیاب ہوچکے ہیں اور 34 اموات پیش آئی ہیں۔

    پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ 1100 زائرین کے غائب ہونے کی خبر بالکل غلط ہے۔

    ’صوبے کے تمام قرنطینہ مراکز میں زیر علاج صحتیاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں۔ میڈیا بغیر تصدیق کے غلط خبریں پھیلانے سے گریز کریں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے تحت شفاف طریقے سے عوام میں امدادی رقوم کی تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔

    ’مجموعی طور پر 4305 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔‘

  10. بریکنگ, مراد علی شاہ: لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتوں تک بڑھایا جائے, سندھ میں مریضوں کی تعداد 1452، 24 گھنٹوں میں ایک اور ہلاکت

    Sindh CM

    ،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh

    سندھ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1452 ہو چکی ہے اور گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 41 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ایک مزید موت بھی ہوئی ہے جس سے صوبے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 ہوچکی ہے۔

    سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتے تک بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مکمل لاک ڈاؤن ہونا چاہیے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

    ان کے بقول کراچی کے علاقے لیاری، ملیر اور نارتھ ناظم آباد کے گنجان آباد علاقوں سے بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری علاقے سنبھالنا زیادہ مشکل ہے، لیکن اگر یہ وائرس دیہی علاقوں میں بھی پھیل گیا تو اور بھی زیادہ مشکل ہو جائے گی۔

    آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کیا ہم اب بھی اسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ لاشیں دیکھیں اور ایک پیج پر آئیں، میں وزیراعظم سے درخواست کر رہا ہوں کہ آپ سب کو لے کر چلیں۔

    ’وزیر اعظم آگے بڑھیں اور فیصلہ کریں۔ اپوزیشن نے کہا ہے کہ ہم وزیر اعظم کے فیصلے کے ساتھ ہیں لیکن وہ فیصلہ تو کریں، مکس سگنل نہیں آنے چاہییں۔‘

    وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس پر آپ یہ نہیں کہیں کہ جس کی جو مرضی ہے وہ کرلیں بلکہ ایک فیصلہ کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایک جانب ایک بڑے صوبے میں صنعتیں کھول دی گئی ہیں لیکن جب انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی تو وزیر اعظم نے کہا کہ ہر صوبے کی مرضی ہے، جو کرے۔‘

  11. بلوچستان میں کل 18 ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر, صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 231

    بلوچستان میں کل 18 ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق کورونا وائرس کے ایک نئے مریض کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 231 ہوگئی ہے۔

    اب تک صوبے میں اس عالمی وبا سے 123 افراد صحتیاب اور 2 اموات ہوئی ہیں۔

    دوسری طرف یہاں کووڈ 19 سے متاثرہ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے ترجمان ڈاکٹر رحیم بابر کے مطابق ان 22 میں ڈاکٹروں کی تعداد 18 ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کے متاثرین کے باعث ڈاکٹروں اور محکمہ صحت کے دوسرے عملے کو خطرات لاحق ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز نے اس صورتحال کے پیش نظر احتجاج کیا اور حکومت کو محکمہ صحت کے عملے کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے مختلف تجاویز بھی دیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو یہ تجاویز دی گئی تھیں کہ محکمہ صحت کے عملے کی اسکریننگ کی جائے ، ڈاکٹروں کو روازنہ کی بنیاد پر 15سو حفاظتی کٹس فراہم کی جائیں۔

    انھوں نے بتایا کہ تاحال ان کی تجاویز پرخاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے جبکہ حکومت بلوچستان نے کہا ہے کہ وہ طبی عملے کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

  12. بریکنگ, اسلام آباد میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی عمارت بند

    اسلام آباد میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی عمارت میں کورونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کے سامنے آنے کے بعد وزارت کی عمارت کو کو بند کر دیا گیا ہے۔

    نامہ نگار فرحت جاوید نے بتایا کہ پاکستان سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق بی بلاک میں کام کرنے والے تمام افسران اور اہلکاروں کو کہا گیا ہے کہ وہ دفتر نہ آئیں اور گھر سے کام کریں۔

    نوٹیفیکشن

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Housing, GoP

  13. پنجاب میں بین الصوبائی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار

    پنجاب میں بین الصوبائی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی جانب سے بین الصوبائی مشروط سفری پابندی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    پیر کو کورونا وائرس سے نمٹنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے بین الصوبائی سفر کے لیے کورونا سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کر دی ہے۔

  14. پنجاب میں مزید 62 متاثرین، کل تعداد 2656 ہوگئی

    پنجاب میں مزید 62 متاثرین، کل تعداد 2656 ہوگئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ پنجاب میں مزید 62 مصدقہ مریض سامنے آنے کے بعد کل متاثرین کی تعداد 2656 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں کووڈ 19 سے اب تک 23 اموات اور 272 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق 2656 متاثرین میں 701 زائرین، 864 رائے ونڈ تبلیغی اجتماع سے منسلک افراد، 89 قیدی اور 1002 عام شہری ہیں۔

    عام شہریوں میں سب سے زیادہ 445 مصدقہ متاثرین لاہور میں موجود ہیں۔

  15. بریکنگ, سپریم کورٹ کا ظفر مرزا کی کارکردگی پر سوال, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    ڈاکٹر ظفر مرزا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک میں کورونا کی صورتحال پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کے مشیرِ صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی قابلیت اور کارکردگی پر سوال اٹھایا ہے۔

    پیر کو سپریم کورٹ میں کورونا وائرس کے پیش نظر ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد نے کسی معاملے پر از خود نوٹس لیا ہے۔

    سماعت کے دوران عدالت نے ظفر مرزا ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بارے میں آبزرویشن بھی دی لیکن بعدازاں لکھوائے جانے والے حکم میں اس بات کا کوئی ذکر موجود نہیں تھا۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ہیں اور کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ دیتے ہیں۔

    نیشنل ہیلتھ سروسز کی ویب سائٹ کے مطابق اس سے قبل وہ قاہرہ میں عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی دفتر کے ڈائریکٹر ہیلتھ سسٹمز ڈیویلپمنٹ رہ چکے ہیں۔ ’وہ مشرق وسطیٰ اور شمالی و مغربی افریقہ میں 22 ممالک کے لیے کام کرتے تھے۔‘

    یہ بھی لکھا گیا ہے کہ انھیں صحت کے شعبے میں کئی برسوں کا تجربہ ہے اور وہ ایران میں بھی عالمی ادارہ صحت کے نمائندے کے طور پر کام کر چکے ہیں۔

  16. بریکنگ, ’نصف سے زیادہ متاثرہ مریض بیرونِ ملک سے آئے‘

    کورونا وائرس سے متعلق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان میں 51 فیصد تصدیق شدہ متاثرہ مریض دیگر ممالک سے آئے اور 49 فیصد مقامی طور پر اس وائرس کی زد میں آئے۔

  17. ’لاک ڈاؤن کے دوران کرایہ دار کو گھر سے نکالا نہیں جاسکتا‘, پنجاب حکومت کا فیصلہ

    پنجاب حکومت کا فیصلہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن اور آئندہ دو ماہ کے دوران کوئی بھی مکان مالک کرایے کی عدم ادائیگی یا تاخیر سے ادائیگی کی بنا پر اپنے کرایہ دار کو زبردستی بے خل نہیں کر سکتا۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق اس عمل کے لیے قانونی راستہ اپنانا ہوگا۔

    تاہم ایک صارف نے پنجاب رینٹڈ پریمیسس ایکٹ 2009 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. سندھ میں 41 نئے مریض، کل متاثرین 1452 ہوگئے

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں آج کورونا وائرس کے 41 نئے مریضوں کے اضافے کے بعد متاثرین کی کل تعداد 1452 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں 31 اموات اور 419 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 30 افراد کورونا وائرس سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

    پنجاب کے بعد سندھ دوسرے نمبر پر کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

  19. پنجاب: قرنطینہ میں رہنے والے افراد کی نقل و حرکت فارم پر ہوگی

    پنجاب: قرنطینہ میں رہنے والے افراد کی نقل و حرکت فارم پر ہوگی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جن افراد میں پہلے کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے یا انھیں قرنطینہ میں رکھا جا چکا ہے ان کی صوبے کے اندر اور باہر نقل و حرکت صرف اس شرط پر ہوسکے گی کہ اگر ان کے حالیہ کورونا ٹیسٹ منفی آئے ہوں۔

    محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق ایک سے دوسرے ضلع جانے کے لیے قرنطینہ کے مریضوں کے علاوہ ہر فرد کو ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    نوٹیفکیشن ان افراد کے لیے ہے جو قرنطینہ میں 14 دن گزار چکے ہیں اور ان کا آخری ٹیسٹ منفی آیا۔ ان کی نقل و حرکت فارم پر ہوگی جبکہ عام لوگوں کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔

    نئے احکامات کے مطابق دوسرے اضلاع میں جانے کے لیے باقی افراد دفعہ 144 کے نفاذ پر عملدرآمد کریں گے۔

    اس سلسلے میں فارم اے اور فارم بی صرف قرنطینہ مکمل کرنے اور کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کے لیے ہیں۔

    قرنطینہ میں 14 دن مکمل کرنے اور ٹیسٹ منفی آنے والوں کو اپنے اپنے صوبوں میں جانے کے لیے فارم جاری کیے جائیں گے۔

    ایڈیشنل سیکرٹری انٹرنل سیکورٹی کے مطابق فارم محکمہ ہیلتھ کی جانب سے قرنطینہ کے 14 دن مکمل ہونے اور منفی رپورٹ آنے کے بعد جاری کیے جائیں گے۔

    فارم ہیلتھ کی جانب سے تسلی بخش رپورٹ کے بعد صرف قرنطینہ کے صحت یاب مریضوں کو ڈپٹی کمشنرز جاری کریں گے۔

    قرنطینہ میں 14 دن مکمل ہونے اور ٹیسٹ منفی آنے پر ہی مریض اپنے اپنے صوبے میں آ جا سکیں گے۔

  20. کورونا: پاکستان میں تازہ صورتحال, 5374 متاثرین، 93 اموات

    کورونا: پاکستان میں تازہ صورتحال

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے 12 نئے مریضوں کے اضافے کے بعد شہر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 131 ہوگئی ہے۔

    اس طرح پاکستان میں اب تک کل متاثرین کی تعداد 5374 ہے۔ ملک میں کووڈ 19 سے 93 اموات ہو چکی ہیں جبکہ صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 1095 ہے۔

    پنجاب کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ یہاں تاحال 2594 متاثرین موجود ہیں جن میں زائرین، تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد، عام شہری اور قیدی شامل ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 12 اپریل کو ملک میں کورونا وائرس کے 336 نئے متاثرین سامنے آئے۔ یہ تعداد گذشتہ پانچ روز کے مقابلے سب سے زیادہ تھی۔

    سب سے زیادہ 34 اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں پیش آئی ہیں جبکہ اب تک سندھ میں سب سے زیادہ 389 افراد صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو روانہ ہوچکے ہیں۔