کورونا: پاکستان میں 2426 متاثرین، سندھ میں پابندیاں مزید سخت
پاکستان میں جمعرات کو 100 سے زیادہ نئے مریض سامنے آنے بعد ملک میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2426 ہوگئی ہے جبکہ 35 افراد اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس شرح سے کورونا پھیل رہا ہے اس سے نمٹنے کے وسائل موجود ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین ہفتے تک داخلے پر پابندی
،تصویر کا ذریعہM. A. Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ وہاں علاقے سے باہر کے کسی فرد
کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی اورعلاقے کے انٹری پوائنٹس کو مکمل بند کر
دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وہ شہری جو باہر مقیم ہیں اپنا
قیام وہیں رکھیں۔
وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا سوائے مال بردارگاڑیوں
کے کسی کو بھی پیدل سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
انھوں نے کہا کہ یہ اقدامات عوام
کی حفاظت کے لیے اور گذارش ہے کہ اگلے تین ہفتوں تک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا سفر نہ کریں۔
بریکنگ, گلگت بلتستان میں حکومت کا پیٹرول پمپس، بینک بند کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہReuters
گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پیٹرول پمپس
اور بینک بھی بند کردیے گے ہیں۔
حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں
آبادی کے لحاظ سے مریضوں کی تعداد خطرناک ہے۔
انھوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں مقامی سطح پر بھی مریض پائے گے
ہیں جس وجہ سے عوام کی جانوں کی حفاظت کے لیے مزید سخت فیصلے کرنا ناگزیر تھا۔
انھوں
نے مزید کہا کہ ’ہمیں اندازہ ہے کہ بینک اور پیڑول پیمپس بند ہونے سے عوام کو
مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر فور ی طور پر ایسا کرنا ضروری ہے۔ عوام کو
سہولت دینے کے لیے بینک اور پیڑول پمپس محدود وقت کے لیے کھولنے کی منصوبہ بندی
تیار کی جا رہی ہے۔‘
گذشتہ ہفتے کا پاکستان تصاویر میں
کورونا وائرس: چین سے حفاظتی سامان لے کر پہلا جہاز پاکستان پہنچ گیا
،تصویر کا ذریعہndma
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے
این ڈی ایم اے کے مطابق کورونا وائرس کے پیش نظر چین سے پہلا جہاز طبی اور حفاظتی سامان
لیکر کراچی ایئر پورٹ پہنچ گیا ہے۔
اس سامان میں دس لاکھ فیس ماسک، این 95
ماسک، 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر آلات
شامل ہیں۔ یہ سامان چینی حکومت طرف سے پاکستان کو دیا گیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہndma
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تعلیمی اداروں میں 31 مئی تک تعطیلات
،تصویر کا ذریعہAJK
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم
راجہ فاروق حیدر خان نے خطے میں تمام تعلیمی اداروں میں 31مئی تک تعطیلات کی توسیع دے دی.
وزیراعظم کے پریس سیکرٹری راجہ وسیم کے
مطابق پاکستان کے زیر انتظامکشمیر کے وزیراعظم
نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے خصوصی فنڈ بھی قائم کیا ہے۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق اس فنڈ میں وزیراعظم، وزرا اپنی ایک ماہ کی آدھی جبکہ
ہائی کورٹ کے ججز فی کس دو لاکھ روپے جمع کروائیں گے.
ان کے مطابق سرکاری ملازمین بھی اس فنڈ میں اپنی تنخواہ جمع کروائیں گے.
جبکہ دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام
کشمیر میں لاک ڈوان کے دوسرے روز بھی تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تمام تجارتی مراکز
بند رہے جبکہ چند سرکاری محکمہ جات کے علاوہ بیشتر ادارے بھی بند رہے.
سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے برابر ہے، لاک ڈاون
کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے مختلف جگہوں پر پولیس اور پاکستان کی فوج رکاوٹیں کھڑی
کر کے سخت چیکنگ کر رہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر مظفرآباد کے مطابق بغیر سکرینگ
کوہالہ یا کوئی اور انٹری پوائنٹ کراس کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لیکر ان
کی سکرینگ جاری ہے.
،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
،تصویر کا ذریعہMA Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر داخلے پر پابندی عائد
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی
جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائے جانے لاک ڈاون کے باعث پاکستان
کے مختلف علاقوں سے آنے والے سینکڑوں افراد کو کوہالہ انٹری پوائنٹ پر مقامی پولیس کی جانب سے
روک لیا گیا ہے۔
کوہالہ کے مقام پر قائم پولیس چوکی کے افسر
عاصم ریاض عباسی نے صحافی ایم اے جرال سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منگل تک مختلف علاقوں سے آنے
والے سینکٹروں افراد کو سکرینگ کے بعد پیدل داخل ہونے کی اجازت دی تھی مگر رات اس خطے
کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے
اعلیٰ سطحی اجلاس میں مال برادر گاڑیایوں کے علاوہ تمام گاڑیوں سمیت پاکستان میں مقیم
کشمیر کے اس خطے کے لوگوں کی واپسی پر ایک
ماہ تک پابندی عائد کرتے ہوئے اس ان لوگوںسے اپیل کی تھی کہ وہ اس خطے کی جانب سفر نہ کریں.
،تصویر کا ذریعہM A Jarral
،تصویر کا ذریعہMA JARRAL
بریکنگ, خیبرپختونخوا میں مزید 39 نئے متاثرین کی تصدیق
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر
صحت نے تیمور خان جھگڑا نے خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں 39 نئے متاثرین میں
کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹ کیا۔
جس کے بعد صوبے میں کورونا کے متاثرہ
افراد کی کل تعداد 117 ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ متاثرین مردان کے
علاقے مانگا سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ وہی علاقہ ہے جہاں کورونا کے باعث پہلی
ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی۔
ان کا کہنا تھا اس علاقے میں 46 افراد
کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 39 افراد میں کورونا کا مرض پایا گیا تاہم ان
تمام میں کورونا کی کوئی علامات نہیں تھیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 1039ہو چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہے۔
بدھ کے روز پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور وفاقی دارالحکومت میں وائرس سے 48 نئے متاثرہ افراد سامنے آئے ہیں۔
صوبہ سندھ متاثرہ متاثرین کی فہرست میں بدستور سرفہرست ہے جہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد 413 ہے، پنجاب میں 296، بلوچستان میں 115، گلگت بلتستان میں 81، خیبر پختونخوا میں 117، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 16 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد ایک ہے۔
کورونا وائرس کے باعث سندھ، پنجاب، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک جبکہ خیبر پختونخوا میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا میں مبتلا 16 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
حکومت بلوچستان کا قرنطینہ مراکز اور آئسولیشن وارڈز کا دورہ کرنے والے افراد کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGOB
حکومت بلوچستان نے قرنطینہ مراکز اور
آئیسولیشن وارڈز کا دورہ کرنے والے کابینہ اراکین ، صحافی اور سرکاری ملازمین کا
کرونا وائرس کے حوالے سے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے
مطابق اس سلسلے میں ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کورونا وائرس کا ٹیسٹ
کروا لیا ہے۔
لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے
نتائج ایک دو روز تک آجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے
خلاف اہم کردار ادا کرنے والے کابینہ اراکین سمیت قرنطینہ مراکز کا دورہ کرنے والی
دیگر شخصیات کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے۔
انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ
اور پی ڈی ایم اے میں تعینات سرکاری ملازمین کی سکریننگ بھی مکمل کرلی گئی اور
حاصل کیے جانے والے نمونے لیبارٹری بھیجوا دیے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGOB
پاکستان کے مختلف علاقوں میں ’لاک ڈاؤن‘ کی تصویری جھلکیاں
کورونا: پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 991، سات ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 991 ہو چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات ہے۔
گذشتہ روز (منگل) ملک بھر میں وائرس سے متاثرہ 29 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
صوبہ سندھ متاثرہ متاثرین کی فہرست میں بدستور سرفہرست ہے جہاں مصدقہ مریضوں کی تعداد 410 ہے، پنجاب میں 296، بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 81، خیبر پختونخوا میں 78، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15 جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں متاثرین کی تعداد ایک ہے۔
کورونا وائرس کے باعث سندھ، پنجاب، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک جبکہ خیبر پختونخوا میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا میں مبتلا 16 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔
’کس کو شوق ہے مرنے کا، بچوں کے دودھ کے لیے نکلنا پڑتا ہے‘
بریکنگ, سندھ میں لاک ڈاؤن پر عملدرآمد میں مزید سختی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن پر عوام کی جانب سے مکمل عملدرآمد نہ کیے جانے کے بعد حکومت نے مزید پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔
نامہ نگار کریم الاسلام کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ کے حکم نامے کے مطابق اب کریانے اور اشیائے خوردونوش کی دکانیں اور میڈیکل سٹور بھی رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک بند رہیں گے۔
اس کے علاوہ ان اوقات میں عوام کی نقل و حرکت پر سخت پابندی عائد کی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGovt of Sindh
کورونا وائرس پر بی بی سی اردو کا خصوصی بلیٹن
بی بی سی اردو سروس کا کورونا وائرس کی دنیا بھر میں صورتحال پر خصوصی بلیٹن آپ روزانہ شام فیس بک اور یوٹیوب پر دیکھ سکیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ایک اور پاکستانی ڈاکٹر’کوورونا کا شکار‘
پاکستان میں کووڈ-19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے ایک اور ڈاکٹر کے کورونا میں مبتلا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
صحافی زبیر خان کے مطابق ڈاکٹر زین صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں ایران سے آنے والے زائرین کے لیے قائم کردہ قرنطینہ مرکز میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈاکٹر زین کو علاج کے لیے قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ صورتحال یہ ہے کہ کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے طبی عملے سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ نہتے اس کا مقابلہ کریں گے مگر ایسا ممکن نہیں ہے۔
اس سے پہلے ڈاکٹر اسامہ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے زندگی کی بازی ہار چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فی الفور طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم نہ کیں تو پھر یہ لوگ بھی ایک ایک کر کے متاثر ہوتے جائیں گے۔
لاہور میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پولیس کی کڑی کارروائیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور میں سی سی پی او کی زیر صدارت لاہور
پولیس کے سنیئر افسران کا اجلاس ہوا۔ اجلاس
میں کورونا ایمرجنسی کے تناظرمیں لاہور پولیس کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ڈی آئی جیز رائے بابر سعید، انعام وحید، سی ٹی او عابد حماد اور ایس
ایس پی محمد نوید شریک تھے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے سی سی پی او کو اب تک کی کارروائیوں
پر بریفنگ دی۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق لاہور میں کورونا ایمرجنسی کی خلاف
ورزی پر 233 مقدمات درج ہوئے ہیں جبکہ 548 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دفعہ 144کی خلاف ورزی پر 23 مارچ کو 48 جبکہ مجموعی طور پر 201
مقدمات درج ہوئے۔
سی سی پی او کے بتایا کہ مہنگے ماسک اور سینیٹائزر بیچنے والے 32 ملزموں کے خلاف بھی کارروائی کی
گئی۔
اس موقعے پر سی سی پی او ذوالفقار حمید نے کہا لاک ڈاﺅن کو سنجیدہ
نہ لینے والوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کریں گے۔
ان کا کہنا تھا لاک ڈاﺅن کی خلاف ورزی روکنے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
سی سی پی او نے عوام سے اپیل کیہے کہ
’ہنگامی صورتحال کے بغیر شہری گھروں سے نہ نکلیں۔ کیونکہ کم سے کم سماجی رابطے ہی ہمارے
مفاد میں ہیں۔‘
بریکنگ, پنجاب میں مزید 15 مریض، پاکستان میں متاثرین 990 ہو گئے
پنجاب کے محکمۂ صحت نے بدھ کو صوبے میں مزید 15 افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری کیے گئے بیان میں پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صوبے میں کووڈ-19 کے مصدقہ متاثرین کی تعداد اب 296 ہو چکی ہے۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ 176 مریض ان زائرین میں سے ہیں جو ایران سے واپس آئے ہیں۔
اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی مریضوں کی تعداد بڑھ کر 65 ہو گئی ہے جبکہ گجرات اور جہلم میں بھی مریضوں کی تعداد دوہرے ہندسوں تک پہنچ گئی ہے۔
تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اس وقت لاہور کے علاوہ گجرات میں 20، جہلم میں 16، گوجرانوالہ میں 08، ملتان میں 03، راولپنڈی اور فیصل آباد میں دو، دو جبکہ منڈی بہاوالدین، رحیم یار خان اور سرگودھا میں ایک ایک مریضں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
پنجاب میں منگل کو کورونا سے پہلی ہلاکت بھی ہوئی جب شیخوپورہ کا ایک 57 سالہ رہائشی لاہور میں اس مرض سے چل بسا تھا۔
دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں کمشنر حمزہ شفقات نے دفعہ 144 کے تحت شہر میں فوری طور پر ’لاک ڈاؤن‘ کا اعلان کر دیا ہے۔
24 مارچ کو جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق شہر میں فوری طور پر تمام نجی دفاتر، بازار، ریستوران، شاپنگ مال بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سرکاری دفاتر کے اوقات میں بھی کمی کر دی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق شہر سے دیگر شہروں کے لیے ٹرانسپورٹ بھی بند کرنے کو کہا گیا ہے جبکہ میٹرو بس کے اوقات بھی محدود کیے گئے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہر میں ٹیکسی سروس کو فی الحال کام کرنے کی اجازت ہو گی۔
لاک ڈاؤن کے دوران کسی بھی قسم کی تقریب یا اجتماع کے انعقاد پر بھی پابندی ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندیاں سات اپریل تک نافذ رہیں گی۔
،تصویر کا ذریعہICT Admin
،تصویر کا ذریعہICT admin
سماجی دوری کے لیے بلوچستان میں 24 سے 28 مارچ تک عام تعطیل
حکومت بلوچستان نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے زیادہ سے زیادہ سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کے لئے 24 مارچ 2020 سے 28 مارچ تک عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق لازمی سروس کے محکمے اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
اعلا میi کے مطا بق چیف جسٹس بلوچستان ہائی کو رٹ نے کو رونا وائرس کے پھیلا ﺅ کے خدشے اور زیا دہ سے زیادہ سما جی فاصلے کو یقنی بنانے کے پیش نظر عدالت عالیہ کوئٹہ اوراس کے تمام بینچز بمقام سبی اور مکران بمقام تر بت بشمول تمام ڈسٹرکٹ کورٹس اور تمام وفاقی و صوبائی سپیشل کورٹس/ ٹربیونلز میں 24 ما رچ تا 28 ما رچ عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt
بریکنگ, پاکستان میں کووڈ-19 کے 89 نئے مریض، کل تعداد 975 ہو گئی
پاکستان میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور منگل کو بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مزید 89 مریض سامنے آئے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کل تعداد 975 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اب تک سات افراد اس وبا کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 18 صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
منگل کو سب سے زیادہ نئے مریض خیبر پختوخوا میں رہے جہاں ان کی تعداد 40 مریضوں کے اضافے کے بعد 78 تک پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ پنجاب میں مزید 32 مریض سامنے آنے کے بعد کوورونا کے متاثرین کی کل تعداد 281 ہو گئی ہے۔
ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ میں نئے مریضوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی اور منگل کو وہاں صرف 11 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد وہاں متاثرین کی کل تعداد 410 تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 80، اسلام آباد میں 15 جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک مریض موجود ہے۔
لاک ڈاؤن ڈائری: رائیونڈ سےغزہ، ایمان کا سفر, محمد حنیف، صحافی اور تجزیہ کار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں مسلمانوں پر جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے ان میں سے سب سے زیادہ مفلوک الحال
غزہ کی پٹی ہے جسے اسرائیل نے کئی برسوں سے ایک جیل میں بدل رکھا ہے۔
غزہ میں رہنے
والا فلسطینی بچہ غلیل سے پتھر پھینکتا ہے تو اسرائیلی فضائیہ کے ایف 16 پورے کے
پورے محلے بموں سے اڑا دیتے ہیں۔ باہر سے کوئی امداد پہنچنے کی صورت نہیں ہے۔ غزہ
سے باہر سفر کرنا اتنا مشکل ہے کہ سالہا سال تک والدین اپنے بچوں سے نہیں مل سکتے۔
ان حالات میں نہ جانے کس طرح دو فلسطینی رائیونڈ کے تبلیغی اجتماع میں پہنچ گئے
اور وہاں سے کورونا لے کر واپس غزہ چلے گئے ہیں۔ فلسطینی سفارتکار نے تصدیق کی ہے
کہ ان دونوں نے رائیونڈ میں دس دن پہلے تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی۔
تبلیغی
جماعت والے دیندار لوگ ہیں اپنا وقت اور پیسہ لگا کر دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن
غزہ کے پہلے سے ستائے ہوئے فلسطینی بھائیوں کو کورونا کا تحفہ دینا دین کی کون سی
خدمت ہے؟
کچھ دن اپنے گھروں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کر لو اور اپنی دعاؤں میں ان
بھائیوں کو بھی یاد رکھوں جو ایمان کے سفر پر نکلے تھے اور واپسی پر وبا لے کر
لوٹے۔
٭ پاکستان میں کورونا کی وبا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کے دوران بی بی سی اردو کے لیے صحافی اور مصنف محمد حنیف کی ڈائری تحریر اور وی لاگ کی شکل میں ہمارے لائیو پیج اور ویب سائٹ پر پیش کی جائے گی۔