ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, خامنہ ای ہلاک ہو چکے ہیں: امریکی صدر کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ’تاریخ کے سب سے برے انسان خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلی علی خامنہ ای امریکہ کی انٹیلیجنس اور جدید ٹریکننگ سسٹم سے بچنے میں ناکام رہے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ ’یہ صرف ایرانی لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام امریکیوں کے لیے بھی انصاف ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ایرانی عوام کے لیے واحد سب سے بڑا موقع ہے کہ وہ اپنے ملک کو واپس حاصل کر لیں۔‘

    خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  2. ایران کے رہبر اعلیٰ سے متعلق خبروں کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں: انتونیو گوتریس

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اس وقت سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی میڈیا کی اُن خبروں کی ’تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ کو قتل کر دیا گیا ہے۔

  3. خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر

    اس سے پہلے ہم نے آپ کو ایران کے رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بارے میں بتایا تھا۔ اور اب اس حملے سے پہلے کی اور پھر بعد میں آنے والی تصاویر سے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    حملے کے بعد عمارتیں تاریک ہو گئیں اور ملبے کو دیکھا گیا جبکہ دھواں اٹھتے بھی نظر آیا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکی میڈیا کی غیر مصدقہ رپورٹس میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر

    ،تصویر کا ذریعہAirbus

    ،تصویر کا کیپشنخامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے سے پہلے اور بعد کی تصاویر
  4. اسرائیلی فوج کا ایران کی دفاعی قیادت کو ’ختم‘ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی دفاعی قیادت کو ’ختم‘ کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق اس میں سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی، پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ شامل ہیں۔

    اسی پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے ان تینوں شخصیات کی تصاویر اور پروفائلز بھی شیئر کی ہیں تاہم اس پوسٹ میں ایران کے رہبر اعلیٰ کا ذکر موجود نہیں جن کے بارے میں اس سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ ڈکٹیٹر (خامنہ ای) اب نہیں رہے۔‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہIDF

  5. ایران کی بہت سی قیادت ماری جا چکی ہے: ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’اے بی سی نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی حملوں نے ’بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے‘ اور یہ کہ ایران کی ’بہت سی‘ قیادت ختم کی جا چکی ہے۔

    ’ہم سب کے بارے میں نہیں جانتے، مگر ان میں سے بہت سے مارے جا چکے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ’بہت اچھے سے اندازہ ہے‘ کہ ایرانی رہنماؤں کی اگلی کھیپ کون ہو گی۔ (یعنی پرانی قیادت کی جگہ لینے والے کون ہوں گے)

    تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے این بی سی کو بتایا کہ ’میں نے بہت سے لوگوں سے بات کی ہے، ہمیں لگتا ہے کہ یہ خبر درست ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ان کے بہت سے اعلیٰ رہنما بھی مارے گئے ہیں،‘ تاہم امریکی صدر کہ یہ وہی الفاظ تھے کہ جو انھوں نے اے بی سی نیوز سے گفتگو کے دوران کہے تھے۔

    ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو یہ بھی بتایا کہ ایران میں امریکی کارروائی ’میں پہلے ہی کامیابی حاصل ہو چُکی ہے۔‘

  6. ایران: سپریم لیڈر محفوظ ہیں, غنچے حبیب زاد

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پریشکان محفوظ ہیں۔

    اسی طرح ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق رہبر اعلیٰ کے آفس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ سید مہرداد مہدی نے کہا ہے کہ ’دشمن نے نفسیاتی جنگ کا سہارا لیا ہے، ہم سب کو اس کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔‘

  7. ایرانی رہبر اعلیٰ کی موت سے متعلق غیر مصدقہ رپورٹس

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اس بیان کے بعد کہ قوی امکان ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے، ہمیں یہ غیر مصدقہ رپورٹس موصول ہو رہی ہیں کہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے سینیئر اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت مل چکی ہے تاہم بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    خبر رساں ادارے ایگزیؤس نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے امریکی حکام کو مطلع کیا ہے کہ خامنہ ای سنیچر کی صبح ان کے دفتر کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسی طرح اسرائیل کے متعدد ذرائع ابلاغ بشمول نیوز 12 اور ٹائمز آف اسرائیل نے بھی اسرائیلی حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر نشر کی ہے۔

  8. ’نیتن یاہو کے رہبر اعلیٰ سے متعلق بیان سے واضح نہیں ہوتا کہ ان کا کیا مطلب ہے‘, تنشوئی یانگ، لائیو پیج ایڈیٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے ہیں۔

    نیتن یاہو کے رہبر اعلیٰ سے متعلق بیان سے واضح نہیں ہوتا کہ ان کا کیا مطلب ہے۔

    بی بی سی ویریفائی نے آج صبح تہران کے اوپر سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

    اب تک سپریم لیڈر کی جانب سے موجودہ حالت کے حوالے سے کوئی تازہ بیان نہیں آیا اور اسی کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہ زندہ ہیں یا وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    تاہم بی بی سی کے امریکی پارٹنر این بی سی نیوز کو ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جس حد تک انھیں معلومات ہیں رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔

    Airbus DS 2026

    ،تصویر کا ذریعہAirbus DS 2026

    ،تصویر کا کیپشنبی بی سی ویریفائی کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ایک حصے کو امریکی حملے میں شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
  9. ایران میں آپریشن طویل بھی ہو سکتا ہے یا دو، تین دن میں ختم بھی: ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران میں امریکی فوجی کارروائی طویل بھی ہو سکتی ہے یا پھر دو تین دن میں ختم بھی کی جا سکتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کئی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں چاہوں تو پورا معاملہ سنبھال لوں، یا پھر دو تین دن میں کارروائی ختم کر کے ایرانیوں سے کہہ دوں: ’اگر آپ نے چند سال بعد دوبارہ اپنا جوہری پروگرام شروع کیا تو ہم پھر آ جائیں گے۔‘

    یہ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ نے سنیچر کی صبح حملوں کے اعلان کے بعد اس آپریشن پر براہِ راست تبصرہ کیا ہے۔ یہ باتیں انھوں نے امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کو فون پر پانچ منٹ کے ایک انٹرویو میں بتائیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ جوہری مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے حملوں کی منظوری دی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایرانی کبھی قریب آئے اور پھر پیچھے ہٹ گئے، قریب آئے اور پھر پیچھے ہٹ گئے۔ اس سے مجھے سمجھ آیا کہ وہ دراصل کسی معاہدے کے خواہاں نہیں ہیں۔‘

  10. ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

    ایران

    سنیچر کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔

    ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور امریکی فوجی اہلکاروں کی موجودگی کوئی راز نہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے اگست 2024 میں بتایا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اِس کے تقریباً 40 ہزار فوجی اہلکار موجود ہیں۔

    ایرانی میزائلوں حملوں کی لپیٹ میں آنے والے متعدد خلیجی ممالک نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوط رکھتے ہیں۔

    تو ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اہداف کو نشانہ کیوں بنا رہا ہے اور تہران کی اس حکمتِ عملی کے مشرقِ وسطیٰ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

  11. ایران کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ

    ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ کے خلاف اقوامِ متحدہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ یہ حملے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل دو، پیراگراف چار کی خلاف ورزی ہیں اور ایران اپنے دفاع کا حق آرٹیکل 51 کے تحت محفوظ رکھتا ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ دشمن افواج کے تمام اڈے اور اثاثے ایران کے لیے جائز فوجی اہداف ہیں۔

    ایران نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کریں اور اجتماعی کارروائی کریں۔

    خط کی کاپی تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی بھیجی گئی ہے اور اسے سلامتی کونسل کی دستاویز کے طور پر شائع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

    ’حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے‘

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل اور صدر کے نام ایک خط میں کہا ہے کہ ایران حملے مکمل اور غیر مشروط طور پر بند ہونے تک اپنا ’جائز دفاع‘ جاری رکھے گا۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے ان حملوں کو ’ایران کے خلاف مسلح جارحیت‘ کی واضح مثال قرار دیا۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی مسلح افواج اس مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے اور دشمنانہ کارروائیوں کو روکنے کے لیے تمام دفاعی صلاحیتوں اور سہولیات کو بروئے کار لائیں گی۔‘

    ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ’خطے میں دشمن قوتوں کے تمام ٹھکانوں، تنصیبات اور اثاثوں کو ایران کے اپنے دفاع کے حق کے استعمال کے فریم ورک کے اندر جائز فوجی اہداف تصور کیا جائے گا۔‘

  12. حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور ہمارا ساتھ دیں: نیتن یاہو کی ایرانی عوام سے اپیل

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ انھیں ’ظلم اور ستم سے آزاد کروا سکیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان کے پاس ایرانی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا ایک بار ملنے والا موقع ہے۔‘

    انھوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور یہ کام مکمل کریں۔‘

    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ آپ متحد ہوں اور تاریخی مشن کی تکمیل کے لیے ایک ہو جائیں۔‘

  13. قطر کی ایرانی میزائل حملوں کی مذمت

    تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک میزائل رہائشی علاقے میں بے قابو ہو کر گرتا ہے، جس کے بعد لوگ خوفزدہ ہو کر بھاگتے ہیں اور ایک بڑا دھماکہ و آگ کا گولہ نظر آتا ہے۔

    ویڈیو میں فلم بنانے والے شخص کی آواز آتی ہے جو کہتا ہے کہ ’سائیڈ پر ہو جاؤ، بھاگو!‘ اس کے بعد کیمرہ دکھاتا ہے کہ درجنوں افراد چیختے ہوئے اور بھاگتے ہوئے نظر آتے ہیں جب میزائل زمین کی طرف آتا ہے۔

    ویڈیو میں فلم بنانے والا شخص میزائل گرنے کے بعد کیمرہ مختصر طور پر اپنی طرف موڑتا ہے اور کہتا ہے کہ ’یہ بالکل میرے کمرے کے سامنے ہے‘۔ اس کے فوراً بعد وہ دعا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’اللہ ہمیں محفوظ رکھے‘۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے قطری علاقے کو نشانہ بنانا قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے، سلامتی اور علاقائی سالمیت پر براہِ راست حملہ ہے اور ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی ہے۔‘

  14. قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے: نیتن یاہو کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGPO

    اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے ہیں۔

    اپنی تقریر میں اسرائیلی وزیر اعظم نے ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے آفس کمپاؤنڈ پر حملے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ ڈکٹیٹر (خامنہ ای) اب نہیں رہے۔‘

  15. ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے سکول پر حملے میں 85 ہلاکتیں: اہلکار

    Iran, USA

    یہ خبر ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’مہر نیوز ایجنسی‘ کے حوالے سے سامنے آئی ہے، جس کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے سکول پر فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 85 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ابتدائی طور پر حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 53 بتائی تھی، لیکن بعد میں میناب کے ایک پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سکول آج ’تین میزائل حملوں‘ کا نشانہ بنا۔

    بی بی سی نے وضاحت کی ہے کہ وہ اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا کیونکہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو اکثر ایران میں ویزے نہیں دیے جاتے، جس کی وجہ سے وہاں سے براہِ راست معلومات اکٹھی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

  16. ایران خاموش نہیں بیٹھا رہ سکتا، افسوس کہ امریکی اہداف دوستانہ ریاستوں میں ہیں: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ ’برادر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ واضح کیا جا سکے کہ ایران صرف اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے۔‘

    امریکی ادارے این بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’امریکہ ہمارے عوام پر حملہ کر رہا ہے اور ایسے ایران خاموش نہیں بیٹھے گا۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ ’افسوسناک ہے کہ اہداف دوستانہ ریاستوں میں واقع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ امریکی انتظامیہ کیوں ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے پر اصرار کرتی ہے اور پھر بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کر دیتی ہے۔‘ عباس عراقچی نے کہا کہ ’یہی بات گذشتہ جون میں بھی ہوئی تھی، جس کی عمان کے وزیرِ خارجہ نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔‘

    عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ امریکہ نے ایران پر حملہ کیوں کیا۔ شاید امریکی انتظامیہ کو اس میں گھسیٹا گیا ہو۔ لیکن ایک بات مجھے معلوم ہے: ایران اُن لوگوں کو سزا دے گا جو ہمارے بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ ہماری دشمنی امریکی عوام سے نہیں ہے، جنھیں ایک بار پھر جھوٹ بتایا جا رہا ہے۔‘

  17. سینیئر ایرانی سفارتکار ’اس پوزیشن میں نہیں‘ کہ اعلیٰ قیادت سے متلعق کچھ بتا سکیں

    Iran, Israel, USA

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بَقائی کا کہنا ہے کہ وہ ’اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تصدیق کر سکیں‘ کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایران کی اعلیٰ قیادت محفوظ ہے یا نہیں۔

    اس سے قبل ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے این بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ’زندہ ہیں‘ جہاں تک اُنھیں علم ہے، لیکن شاید ایران کے ایک یا دو کمانڈرز مارے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے بعد کہ خامنہ ای کے دفاتر اور رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی بی سی نیوز کی چیف انٹرنیشنل نمائندہ لیز ڈوسیٹ نے اسماعیل بقائی سے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے کو کہا۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ملک بھر میں کئی مقامات، کئی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 150 سے زیادہ لڑکیاں ہلاک اور زخمی ہوئیں۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (اِرنا) نے پہلے خبر دی تھی کہ ملک کے صوبہ ہُرمزگان میں ایک لڑکیوں کے سکول پر حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

    جب اُنھیں بتایا گیا کہ سمجھا جا رہا ہے کہ سکول پاسداران انقلاب کے ایک اڈے کے قریب تھا، تو اُنھوں نے جواب دیا کہ ’یہ محض ظلم اور سنگین جرم کو معمول کا مدعا بنانے کا ایک طریقہ ہے۔‘

    دیگر عرب ممالک پر بھی ایران کی جانب سے حملے کی اطلاعات ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ نے ان ممالک کو ایران کے خلاف جارحانہ حملے کرنے کے لیے استعمال کیا، اور مزید کہا کہ ’ہم اپنے دوستوں کی قدر کرتے ہیں۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ ’ہم خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کر رہے، ہمیں اپنے عرب پڑوسیوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم صرف وہی کر رہے ہیں جو ایک دفاعی اقدام ہے، ان (امریکی) اڈوں پر۔‘

  18. اسرائیلی فوج کا اصفہان کے صنعتی زون سے عملے کو فوری انخلا کا حکم

    کچھ دیر پہلے اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے ایک ہنگامی الرٹ جاری کیا، جس میں ایران کے اصفہان خطے کے ایک صنعتی زون میں موجود ’تمام عملے‘ کو ’فوری طور پر انخلا‘ کی ہدایت دی گئی۔

    اس ہدایت کے مطابق چند منٹوں میں اسرائیلی فوج اس زون میں فوجی تنصیبات پر حملہ کرے گی۔

    صوبے کے گاؤں ’مزرعہ‘ کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبح تک اپنے گھروں کے اندر رہیں اور حملے کے بعد صنعتی زون کے قریب جانے سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ اصفہان اہم جوہری اور فوجی صنعتی تنصیبات کا مرکز ہے۔

  19. آج 500 ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی دفاعی افواج

    ISNA/WANA/Reuters

    ،تصویر کا ذریعہISNA/WANA/Reuters

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے آج ’اسرائیلی فضائیہ کی تاریخ کی سب سے طویل پرواز‘ مکمل کی ہے۔

    ٹیلیگرام پر جاری بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ان طیاروں نے ’ایرانی دہشت گرد حکومت کے مغربی اور وسطی ایران میں میزائل نظام اور دفاعی ڈھانچے پر وسیع پیمانے پر حملے مکمل کیے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ طیاروں نے ’سینکڑوں دھماکہ خیز مواد تقریباً 500 اہداف پر برسایا۔‘

    آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی نے ’ایرانی حکومت کی جارحانہ صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘

    بیان کے مطابق ’اسرائیلی فضائیہ ایران میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔‘

  20. ایران پر حملوں میں اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی

    ایران میں ہلال احمر کے ترجمان مجتبیٰ خالدی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں آج امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 201 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    ترجمان مجتبیٰ خالدی کے مطابق ان حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 747 ہے جبکہ ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔