ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
خلاصہ
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں
لائیو کوریج
’وار آف چوائس‘: امریکہ اور اسرائیل کے لیے یہ ایسا موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے, جیریمی بوؤن، مدیر برائے بین الاقوامی اُمور
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ اور اسرائیل کا
اس فیصلے نے، کہ وہ ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ میں کود پڑیں، عالمی
منظرنامے کو نہایت خطرناک اور غیر متوقع نتائج کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اسرائیل نے اپنے
حملے کا جواز پیش کرنے کی کوشش میں اسے ’پیشگی اقدام‘ قرار دیا ہے۔
تاہم شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ حملہ کسی فوری خطرے
کے جواب میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ ’پیشگی
اقدام‘ کے لفظ
سے ظاہر ہوتا ہے۔
حقیقت میں انھوں نے اس جنگ کو لڑنے کا خود انتخاب (وار آف
چوائس) کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے یہ حساب لگایا ہو گا کہ فی الوقت ایران
کی اسلامی حکومت بے تحاشہ کمزور ہے؛ یہ حکومت ناصرف شدید معاشی بحران کا شکار ہے
بلکہ ایرانی مظاہرین کے خلاف حالیہ سخت کریک ڈاؤن کے اثرات سے بھی دوچار ہے جبکہ گزشتہ
موسمِ گرما میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد ایران کا دفاعی نظام بھی بری
طرح متاثر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو درپیش اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکالا
کہ یہ موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے لرزتے ہوئے ڈھانچے پر بھی ایک
اور کاری ضرب ہے۔ اپنے بیانات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو
نے کہا ہے کہ ایران اُن کے ممالک (امریکہ اور اسرائیل) کے لیے خطرہ ہے، جبکہ ٹرمپ نے
ایران کو ’عالمی خطرہ‘ بھی قرار دیا ہے۔
یقیناً ایران کی اسلامی حکومت اُن کی سخت دشمن ہے۔ لیکن یہ سمجھنا
مشکل ہے کہ ایسی صورتحال میں حقِ دفاع کا قانونی جواز کس طرح لاگو ہوتا ہے، ایک
ایسی صورتحال میں جب دو بڑی عالمی طاقتیں (اسرائئل اور امریکہ) ایک جانب ہیں جبکہ
ایران دوسری جانب۔
امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد تہران میں تباہی کے مناظر
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سوشل میڈیا پر موجود چند ایسی
تصاویر کی تصدیق کی ہے جن میں تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تباہی
کا منظر نظر آتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہReuters
’امریکہ کے عرب اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ ایرانی ریاست ٹوٹ سکتی ہے‘, باربرا اشعر، قطر میں نمائندہ بی بی سی
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں
دھماکوں کی آوازیں اب بھی مسلسل سنائی دے رہی ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ کے مختلف حصوں سے
بھی اسی نوعیت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور اُردن نے دعویٰ کیا ہے
کہ انھوں نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی
اڈوں کی طرف جاتے ہوئے روک لیا ہے اور مار گرایا ہے۔
اگرچہ ان ممالک میں سے بعض نے کہا ہے کہ وہ ایران کو اس اقدام
کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، تاہم یہ یقینی ہے کہ ایسا کرنے سے قبل وہ
اپنے اس نوعیت کے کسی بھی اقدام پر نہایت احتیاط سے غور کریں گے۔
اتوار کی صبح سامنے آنے والی یہ وہی صورتحال ہے جسے مشرق
وسطیٰ کے رہنما گذشتہ کئی ہفتوں سے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے۔ انھوں نے ایران
اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں تاکہ اس صورتحال سے بچا
جا سکے جو آج اس خطے کو درپیش ہے۔
اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے عرب اتحادیوں کے
بجائے ایران سے متعلق اسرائیل کے مشورے کو ترجیح دی ہے۔
عرب ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے خطے
کو غیر مستحکم کر دیں گے اور اسے جنگ میں دھکیل دیں گے۔ انھیں یہ بھی خوف ہے کہ ایران
نہ صرف ان کی سرزمین پر موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے بلکہ گیس اور تیل
کے تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے، یا پھر وہ آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے جہاں
سے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔
بدترین صورتحال میں انھیں یہ فکر لاحق ہے کہ ایرانی ریاست کا انہدام
ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں اور اسلحے کا سیلاب اُن کی سرحدوں کی طرف
بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران
میں جاری اس آپریشن کا مقصد رجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی ہے۔
حقِ دفاع میں تمام تر فوجی وسائل استعمال کریں گے، مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنے علاقوں اور سہولیات کو ایران کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں: ایران
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور
اسرائیل کے حملے کے بعد اُن کا ملک اپنا حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے تمام تر فوجی
وسائل استعمال کرے گا۔
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں
بتایا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین
اور عراق سمیت کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور اُن سے گفتگو
کی ہے۔
بیان کے مطابق اس گفتگو کے دوران
انھوں نے مسلم ممالک کے رہنماؤں سے کہا کہ ایران اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے اور
اپنے حقِ دفاع کے تحت ’تمام دفاعی اور فوجی صلاحیتوں‘ کو بروئے کار لائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق عراقچی نے اِن ممالک کو
یہ بھی یاد دہانی کروائی ہے کہ یہ اُن (ممالک) کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں
اور سہولیات کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے لیے استعمال کرنے روکیں۔
پی آئی اے سمیت تمام بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کے مشرق وسطیٰ کے لیے آپریشنز معطل, مارک ایشڈاؤن، نمائندہ بزنس
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خطے میں سلامتی کے خدشات کے پیش نظر دنیا کی بڑی فضائی
کمپنیوں نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے لیے اپنے فضائی آپریشنز معطل کرنے کا
اعلان کیا ہے، متعدد ایئرلائنز نے یا تو اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا انھیں
دوسرے راستوں پر موڑ دیا گیا ہے۔
متعدد کمپنیوں نے مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ
اقدامات حفاظتی نقطۂ نظر کے تحت کیے گئے ہیں۔
پی آئی اے کا خلیجی ممالک کے لیے فضائی آپریشن معطل
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے خلیجی ممالک کے لیے اپنا
فضائی آپریشن فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے
ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کی متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور
کویت کے لیے شیڈول تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، یہ معطلی ابتدائی طور پر کل (اتوار)
شام تک یا فضائی حدود کی بحالی تک نافذ العمل رہے گی۔
پی آئی اے انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے
لیے شیڈول پروازیں اپنا آپریشن جاری رکھیں گی مگر حفاظت کے پیش نظر اُن کا روٹ تبدیل
کر دیا گیا ہے اور اب یہ پروازیں طویل راستوں سے ہوتی ہوئیں منزل مقصود تک پہنچیں
گی۔
قطر ایئرویز کی دوحہ آنے اور جانے والی
تمام پروازیں معطل
قطر ایئرویز نے بھی تصدیق کی ہے کہ اُن کی دوحہ آنے اور جانے
والی تمام پروازیں قطری فضائی حدود کی بندش کے باعث عارضی طور پر معطل کر دی گئی
ہیں۔
ایئر لائن کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی اداروں اور متعلقہ حکام کے
ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ اس صورتحال کے باعث متاثر ہونے والے مسافروں کو
سہولت فراہم کی جا سکے۔ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جیسے ہی قطر کی فضائی
حدود دوبارہ کُھلیں گی تو پروازوں کا
سلسلہ بحال کر دیا جائے گا۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ معمول کی پروازیں دوبارہ شروع ہونے
کے بعد بھی شیڈول میں تاخیر کا سامنا ہو سکتا ہے۔ قطر ایئرویز نے مزید بتایا کہ حمد
انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت دیگر اہم ایئرپورٹس پر اضافی عملہ تعینات کر دیا گیا ہے
تاکہ متاثرہ مسافروں کی مدد کی جا سکے۔ ایئر لائن نے کہا کہ مسافروں اور ملازمین
کی حفاظت ہمیشہ اس کی اولین ترجیح ہے اور اس صورتحال سے پیدا ہونے والی کسی بھی
تکلیف پر کمپنی معذرت خواہ ہے۔
امارات (ایمریٹس) کی دبئی آنے اور جانے والی تمام پروازیں معطل
ایمریٹس ایئرلائن نے اپنی دبئی آنے اور جانے والی تمام پروازیں
عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔
ایئر لائن نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر جانے
سے قبل تازہ ترین معلومات حاصل کریں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر
رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ایمریٹس نے متاثرہ مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں
دوبارہ بکنگ، رقم کی واپسی یا متبادل سفری انتظامات میں مدد فراہم کرے گی۔
ورجن اٹلانٹک، برٹش ایئرویز، وز ایئر کی پروازیں بھی متاثر
ورجن اٹلانٹک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لندن ہیتھرو سے دبئی
جانے والی اپنی پرواز VS400 منسوخ کر دی ہے۔ کمپنی نے
خبردار کیا ہے کہ مالدیپ، انڈیا اور سعودی عرب جانے والی پروازوں کو متبادل راستوں
کے باعث زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
برٹش ایئرویز نے بدھ تک تل ابیب اور بحرین کے لیے پروازیں
منسوخ کر دی ہیں جبکہ آج عمان جانے والی پرواز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران لندن ہیتھرو سے دوحہ جانے والی پرواز BA123 جو
گذشتہ رات 8 بجے روانہ ہوئی تھی، اسے منزل پر پہنچنے سے کچھ دیر قبل واپس موڑ دیا
گیا۔
وِز ایئر نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل، دبئی، ابوظہبی اور
عمان کے لیے تمام پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔ وز ایئر کی سعودی عرب کے
لیے پروازیں منگل تک منسوخ رہیں گی۔
اسی طرح لفتھانزا، ایئر انڈیا اور ترک ایئر لائنز نے بھی خطے
کے لیے متعدد پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
قطر کی اپنی سرزمین اور برادر ممالک کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت: ’جواب دینے کاحق رکھتے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہgettyimages
قطر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں قطر پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، اپنی سلامتی اور علاقائی تحفظ پر براہِ راست حملہ اور ایک ناقابلِ قبول اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ریاستِ قطر بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کے مطابق اس حملے کا جواب دینے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے، تاکہ اپنی خودمختاری کا دفاع اور قومی سلامتی و مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ قطر ہمیشہ ایران سے بات چیت کا حامی رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اختلافات حل کرنے اور مسائل کو پرامن طریقے سے نمٹانے کا بہترین راستہ مذاکرات ہی ہیں، تاکہ خطے میں کشیدگی نہ بڑھے۔
وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ قطر کی سرزمین کو نشانہ بنانا اچھے ہمسایہ تعلقات کے خلاف ہے اور اسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ قطر نے ہمیشہ خود کو علاقائی تنازعات سے دور رکھا اور ایران اور عالمی برادری کے درمیان بات چیت میں مدد کی، لیکن دوبارہ حملہ نیک نیتی کی علامت نہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مزید یہ کہ وزارتِ خارجہ نے کویت، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ قطر ان برادر ممالک کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے، دوبارہ مذاکرات شروع کرنے اور سمجھداری سے کام لینے کی اپیل کی، تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور معاملہ مزید بڑے تصادم میں تبدیل نہ ہو۔
میں کل ہی ٹرمپ کے ساتھ تھا، ٹرمپ نے ایران پر حملوں کے فوری امکان کا کوئی عندیہ تک نہیں دیا, برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
یہ ویسٹ پام بیچ میں صبح کا وقت ہے، جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہفتے کے اختتام پر آتے ہیں۔
میں جمعے کو بھی ٹرمپ کے ساتھ ٹیکساس کے شہر کورپس کرسٹی کے ایک پروگرام میں تھا، جہاں ٹرمپ نے بار بار سوالات کے باوجود یہ ظاہر نہیں کیا کہ کوئی کارروائی قریب ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک موقع پر میں نے ان سے خاص طور پر پوچھا کہ وہ کب تک حملوں کے فیصلے کا امکان دیکھتے ہیں۔
انھوں نے جواب دیا کہ ’میں آپ کو بتانا نہیں چاہوں گا۔ آپ کے پاس تاریخ کی سب سے بڑی خبر ہوتی، ہے نا؟‘
زیادہ تر صحافیوں کا خیال تھا کہ حملے قریب ہیں، لیکن اندھیرا چھا جانے کے بعد امریکہ میں ان کے ہونے کا امکان کم ہے۔
حملوں سے پہلے آج کا واحد منصوبہ شام میں ایک ’میگا انک‘ ڈنر تھا۔ دن کے وقت کوئی عوامی تقریب طے نہیں تھی، اور مجھے توقع تھی کہ ہم زیادہ وقت قریب کے گالف کورس میں گزاریں گے جہاں وہ اکثر ہفتہ وار چھٹیاں گزارتے ہیں۔
ابھی تک ہمیں اس کے برعکس کوئی اطلاع نہیں ملی، لیکن یہ بہت جلد بدلنے والا ہے۔
امریکی قانون سازوں کا ردعمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے، جیسا کہ ساؤتھ کیرولائنا کے سینیٹر لِنڈسے گراہم نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں ہزار سال کا سب سے بڑا تغیر ہمارے سامنے ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ آپریشن اچھی طرح منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ پرتشدد، وسیع پیمانے پر ہوگا اور میرا یقین ہے کہ آخرکار کامیاب ہوگا۔‘
’انھوں نے زور دار حملہ کیا‘: تہران میں حملوں کے بعد کی صورتحال کی ویڈیوز
تہران سے موصولہ کئی تصدیق شدہ ویڈیوز میں دارالحکومت کے اوپر دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ایک ویڈیو، جو ایک مصروف چوراہے پر بنائی گئی میں سست رفتار ٹریفک نظر آتی ہے جبکہ ڈرائیور اور پیدل چلنے والے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس فوٹیج میں ایک شخص کی آواز سنائی دیتی ہے ’انھوں نے زور دار حملہ کیا ہے۔ کہاں مارا ہے؟ کہہ رہے ہیں یہ خامنہ ای کی رہائش گاہ ہے۔‘
ہم نے اس ویڈیو کو دیکھا کہ یہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای کے دفتر، لیڈرشپ ہاؤس، سے ایک کلومیٹر کے اندر کی ہے۔ ویڈیو کے زاویے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ عمارت کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے یا نہیں۔
اسی علاقے سے موصولہ ایک اور تصدیق شدہ تصویر میں رہائشی عمارتوں اور چھوٹی دکانوں کے اوپر گہرے، سیاہ دھوئیں اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی ویریفائی ان ویڈیوز کا تجزیہ اور تصدیق جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ درست طور پر معلوم کیا جا سکے کہ کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اصل ہدف کیا تھا۔
یہ تنازع مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے, فرینک گارڈنر کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خلیج کے مختلف حصوں سے دھماکوں، سائرن، فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے اور دھوئیں کے بادلوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
ایران نے ہمیشہ کہا تھا کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا، اور اس نے وقت ضائع کیے بغیر امریکہ کے خلیجی عرب اتحادیوں پر میزائلوں کی بارش کر دی۔
’یہ واقعی خوفناک ہے‘، یہ بات بحرین میں مقیم ایک برطانوی شہری نے مجھے بتائی جب اس نے دیکھا کہ پیٹریاٹ میزائل بیٹری ایک آنے والے میزائل کو اس کے سر کے اوپر ہی روک رہی ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ خلیجی ریاستیں، جن میں دبئی جیسا مشہور سیاحتی شہر بھی شامل ہے، جنگ کا سامنا کر رہی ہیں۔
1980-88 کی ایران-عراق جنگ، سنہ 1991 کی ڈیزرٹ سٹارم، سنہ 2003 کا عراق پر حملہ اور گذشتہ برس ایران کی جانب سے قطر میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنانا اس کی مثالیں ہیں۔
لیکن یہ (تنازع) مختلف ہے۔ یہ پہلے کی کسی بھی صورتحال سے بڑا اور زیادہ خطرناک ہے۔
اسی لیے عمان، قطر اور سعودی عرب کے رہنماؤں نے پہلے ہی ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل کی تھی کہ وہ پانی کے اُس پار اپنے بڑے پڑوسی پر حملہ نہ کرے۔
یہ تنازع مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔
پاکستان کی ایران پر بلاجواز حملوں کی مذمت، فوری طور پر کشیدگی روکنے کا مطالبہ
پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا فون موصول ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے ایران اور وسیع تر خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں کی سخت مذمت کی اور فوری طور پر کشیدگی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے زور دیا کہ بحران کے پُرامن اور مذاکراتی حل کے لیے فوری طور پر سفارت کاری دوبارہ شروع کی جائے۔
ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر پر حملوں کی اطلاع، ایران میں کہاں کہاں حملے ہوئے؟, جیال گول، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہHAMSHAHRI
تہران اور ایران کے کئی شہروں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ تہران میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر اور صدارتی دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
کرمانشاہ، قم، اصفہان، تبریز، کرج اور جنوبی علاقے کنارک میں ایرانی بحریہ کی تنصیبات سمیت فوجی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کرد علاقے کے ایک چھوٹے شہر کامیاران سے موصولہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک پاسدارانِ انقلاب کا اڈہ بمباری کا شکار ہوا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فوجی مقامات اور تنصیبات کے قریب سے انخلاء کر لیں۔
تہران کے نرماک محلے سے موصولہ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی رہائش گاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ سابق صدر زخمی ہوئے ہیں یا نہیں۔
ایرانی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے تیار ہیں اور ملک بھر کے کئی ہسپتال ہنگامی صورتحال کے پیش نظر تیار حالت میں ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے کن ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی میزائل حملے کیے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنایرانی جوابی میزائل حملے کے بعد بحرین کے منامہ میں واقع امریکی نیوی کی پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کے قریب سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں
امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اڈوں پر جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔
اب تک کی معلومات کے مطابق بحرین، ابوظہبی اور قطر میں میزائل حملے ہوئے ہیں جبکہ ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے میزائلوں اور ڈرونز نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور قطر اور متحدہ عرب امارات میں دیگر امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں ’فوجی اور سیکورٹی مراکز‘ کو نشانہ بنایا ہے۔
بحرین:
بحرین کی نیشنل کمیونیکیشن سینٹر کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو ’میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے‘۔
بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کا مرکز ہے، جس کا دائرہ کار خلیج، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے بعض حصے شامل ہیں۔
ابوظہبی:
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ آج ملک کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ایک ’جارحانہ حملے‘ کا سامنا کرنا پڑا، جسے اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور متعدد میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق دارالحکومت ابوظہبی کے ایک رہائشی علاقے میں میزائلوں کے ملبے کے گرنے سے کچھ مالی نقصان ہوا اور ایشیائی نژاد ایک شخص ہلاک ہوا۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
خیال رہے ابوظہبی میں الظفرہ ایئر بیس ہے جہاں امریکی اہلکار تعینات ہیں۔
یہ متحدہ عرب امارات میں واقع ایک اہم فضائی اڈہ ہے جہاں امریکی فضائیہ کے اہلکار اور طیارے بھی تعینات رہتے ہیں اور یہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے ایک سٹریٹیجک مرکز سمجھا جاتا ہے۔
قطر:
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں اور فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے ریاستی میڈیا کے مطابق کہا ہے کہ ملک کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کو ’مہارت سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘
ایک قطری اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ بیٹری نے ایک ایرانی میزائل کو روک لیا۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے قطری وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
قطر میں ’العدید ایئر بیس‘ موجود ہے، جو خطے میں سب سے بڑی امریکی فوجی اڈہ ہے۔ اس اڈے پر اس سے قبل بھی ایران کی طرف سے میزائل داغے گئے تھے۔
ریاض:
اے ایف پی کے مطابق ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے قطر اور بحرین میں امریکی اڈے پر حملوں کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
قبل ازیں قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملک کی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو روک کر مار گرایا گیا۔
ایران کے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے: پاسداران انقلاب
پاسداران انقلاب نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کی ہے۔
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے میزائلوں اور ڈرونز نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر، قطر اور متحدہ عرب امارات میں دیگر امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل میں ’فوجی اور سکیورٹی مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملے جاری رہیں گے۔
بحرین میں ایمرجنسی سائرن بج رہے ہیں
بحرین کی وزارت داخلہ نے ایکس پر انتباہات کی ایک سیریز میں اعلان کیا کہ ہنگامی سائرن بجائے گئے ہیں اور رہائشیوں سے پرسکون رہنے اور قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کا منھ توڑ جواب دیں گے: ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ’منھ توڑ جواب‘ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کونسل نے کہا کہ یہ حملے ’ایک بار پھر مذاکرات کے دوران‘ کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’دشمن نے غلط طور پر یہ سمجھا کہ ایرانی عوام ایسے بزدلانہ اقدامات کے ذریعے ان کے معمولی مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔‘
سپریم کونسل نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج پہلے ہی جوابی اقدامات شروع کر چکی ہیں اور عوام کو ’مسلسل آگاہ رکھنے‘ کا وعدہ کیا۔
سپریم کونسل نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیاں تہران اور دیگر شہروں میں جاری رہ سکتی ہیں اور شہریوں سے کہا کہ ’پُرسکون رہتے ہوئے‘ جہاں ممکن ہو محفوظ علاقوں کا رخ کریں تاکہ خطرے سے بچ سکیں۔
کونسل نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت نے ’تمام سماجی ضروریات پہلے سے تیار کر رکھی ہیں‘ اور کہا گیا کہ ’ضروری اشیاء کی فراہمی کے حوالے سے کوئی تشویش والی بات نہیں ہے‘۔ اس لیے لوگوں کو ہجوم والے شاپنگ مراکز سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
اس کے علاوہ سکول اور جامعات تا حکم ثانی بند رہیں گے، بینک اپنی خدمات جاری رکھیں گے، اور سرکاری دفاتر 50 فیصد عملے کے ساتھ کام کریں گے۔ ایس این ایس سی نے کہا کہ مزید تازہ کاری وقتاً فوقتاً جاری کی جائے گی۔
ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں
،تصویر کا ذریعہgettyimages
اے ایف پی کے مطابق ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
سعودی دارالحکومت ریاض میں اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے قطر اور بحرین میں امریکی اڈے پر حملوں کے بعد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنیں۔
ریاض میں دو نامہ نگاروں نے بتایا کہ انھوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
قبل ازیں قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ملک کی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو روک کر مار گرایا گیا۔
ایران کی مسلح افواج جارح قوتوں کو طاقت کے ساتھ جواب دیں گی: وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کی وزارت خارجہ نے اسرائیل اور امریکہ کے آج کے حملوں پر کہا ہے کہ ایران کی جانب سے حملے اس وقت کیے گئے جب کہ ’ہم نے ایک بار پھر بین الاقوامی نظام اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ ایرانی قوم کی جائز اور قانونی حیثیت کو ثابت کرنے کے لیے مذاکرات کیے ہیں۔‘
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کی مسلح افواج ’جارح ممالک کو مکمل اختیار کے ساتھ جواب دیں گی۔‘
ایرانی وزارت خارجہ نے ’اقوام متحدہ کے رکن ممالک، علاقائی اور اسلامی ممالک اور ناوابستہ تحریک کے اراکین‘ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی مذمت کریں اور ان کے خلاف ’فوری اور اجتماعی کارروائی‘ کریں۔
بیان میں ایران پر آج صبح کے حملوں کو ’تاریخ کا ایک عظیم امتحان’ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایران ’جارحیت کرنے والوں کو اپنے مجرمانہ فعل پر پچھتاوا کرے گا۔‘
متحدہ عرب امارات کا ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ، ملبہ گرنے سے ایشیائی نژاد شخص ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ آج ملک کو ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے ایک ’جارحانہ حملے‘ کا سامنا کرنا پڑا، جسے اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا اور متعدد میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق دارالحکومت ابوظہبی کے ایک رہائشی علاقے میں میزائلوں کے ملبے کے گرنے سے کچھ مالی نقصان ہوا اور ایشیائی نژاد ایک شخص ہلاک ہوا۔
وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے حالات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
وزارت نے شہری تنصیبات، اداروں اور قومی مراکز کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خطرناک اشتعال انگیزی اور بزدلانہ کارروائی ہے جو شہریوں کے تحفظ اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور امارات کو اپنی سرزمین، عوام اور مفادات کے دفاع کے لیے مناسب جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
وزارتِ دفاع نے مزید کہا کہ ملک ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں، مقیم غیر ملکیوں اور سیاحوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
ایران پر حملے میں برطانیہ شامل نہیں تھا
،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں حصہ نہیں لیا۔
آج کے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے جواب میں، ایک برطانوی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وہ ’کشیدگی کو مزید بڑھتا اور ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
برطانوی حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے: ’ہماری فوری ترجیح خطے میں برطانوی شہریوں کی حفاظت ہے اور ہم انھیں قونصلر سروس فراہم کریں گے جو ہفتے کے ساتوں دن 24 گھنٹے دستیاب ہو گی۔‘
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹامر سے توقع ہے کہ وہ سنیچر کے روز حکومت کی ہنگامی کمیٹی ’کوبرا‘ کا اجلاس طلب کریں گے۔
ملک کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے: قطری وزارت دفاع
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں اور فضائی حملے کے سائرن کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے ریاستی میڈیا کے مطابق کہا ہے کہ ملک کی سرزمین کو نشانہ بنانے والے متعدد حملوں کو ’مہارت سے ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘
ایک قطری اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی ساختہ پیٹریاٹ بیٹری نے ایک ایرانی میزائل کو روک لیا۔
قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے قطری وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ ملک کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
قطر میں ’العدید ایئر بیس‘ موجود ہے، جو خطے میں سب سے بڑی امریکی فوجی اڈہ ہے۔ اس اڈے پر اس سے قبل بھی ایران کی طرف سے میزائل داغے گئے تھے۔