ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی
خلاصہ
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں
لائیو کوریج
ابوظہبی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں
،تصویر کا ذریعہgettyimages
،تصویر کا کیپشنخیال رہے ابوظہبی میں الظفرہ ایئر بیس ہے جہاں امریکی اہلکار تعینات ہیں۔
ابوظہبی کے رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد انھوں نے سنیچر کے روز اماراتی دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
ابوظہبی کے دو رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
خیال رہے ابوظہبی میں الظفرہ ایئر بیس ہے جہاں امریکی اہلکار تعینات ہیں۔
یہ متحدہ عرب امارات میں واقع ایک اہم فضائی اڈہ ہے جہاں امریکی فضائیہ کے اہلکار اور طیارے بھی تعینات رہتے ہیں اور یہ خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں کے لیے ایک سٹریٹیجک مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا تھا کہ اس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنی فضائی حدود کو ’عارضی اور جزوی طور پر‘ بند کر دیا ہے۔
مغربی ایران میں متعدد ’فوجی اہداف‘ پر وسیع پیمانے پر حملے جاری ہیں: اسرائیلی دفاعی افواج
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ اس کی فضائیہ مغربی ایران میں ’متعدد فوجی اہداف پر وسیع پیمانے پر حملے‘ کر رہی ہے۔
آج صبح مغربی شہروں کرمانشاہ اور تبریز میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
’مزاحمت کا محور‘: کیا حزب اللہ، حوثی اور عراقی شیعہ گروہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کا ساتھ دیں گے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو محض میزائلوں، فضائی دفاعی نظام اور داخلی صلاحیتوں کے حصول تک محدود رکھنے کے بجائے اسے خطے میں اپنے اثر و رسوخ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے اور اسی حکمتِ عملی کے تحت ایران نے لبنان، عراق، شام اور یمن میں مسلح غیر ریاستی گروہوں کے نیٹ ورک (یعنی مسلح طاقتوں کا گرے زون) میں سرمایہ کاری کی۔
ایران کی یہ حکمت عملی نہ تو مکمل روایتی جنگ پر مبنی تھی اور نہ ہی پائیدار امن پر۔ یہ حکمت عملی دباؤ، دھمکیوں اور محدود مگر غیر واضح حملوں کے سلسلے پر مبنی ہے جو دشمن کو مصروف تو رکھتی ہے مگر دوسری جانب ایران کو کسی بھی عالمی طاقت کے ساتھ بڑے پیمانے پر تصادم کی طرف نہیں لے جاتی۔
تاہم سات اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیل نے ایران کے اس نیٹ ورک میں شامل مختلف عناصر کو نشانہ بنایا۔
ابتدا میں اسرائیل کی جانب سے ایران سے منسلک گروہوں کو ہدف بنایا گیا اور بعد ازاں خطے میں ایرانی اہداف اور یہاں تک کہ ایران کے اندر بھی حملے کیے گئے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد تہران کو ’گرے زون‘ سے باہر دھکیل کر ایک مشکل صورتحال میں لے جانا ہے، جہاں اسے مکمل پسپائی اختیار یا کشیدگی میں اضافے کے درمیان انتخاب کرنا پڑے۔
سات اکتوبر 2023 کے بعد سے خطے میں ایران سے منسلک بعض مسلح گروہوں اور ملیشیاؤں کو شدید نقصان پہنچا ہے مگر اس کے باوجود یہ کمزور پڑ جانے والے ایران کے اتحادی مکمل طور پر ختم نہیں کیے جا سکے ہیں۔
امریکہ ایران کے خلاف ’بڑی کارروائی‘ کر رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
،ویڈیو کیپشنامریکہ ایران کے خلاف ’بڑی کارروائی‘ کر رہا ہے
ملک میں امریکی اڈے کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا: بحرین کی تصدیق
بحرین کی نیشنل کمیونیکیشن سینٹر کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے سروس سینٹر کو ’میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مزید تفصیلات وقتاً فوقتاً فراہم کی جائیں گی‘، تاہم حملے کو کسی ملک سے منسوب نہیں کیا گیا۔
بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کا مرکز ہے، جس کا دائرہ کار خلیج، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے بعض حصے شامل ہیں۔
امریکی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم امریکی سفارتخانے نے اس سے قبل اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا کہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر محفوظ مقام پر پناہ لیں۔
بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آواز سنی گئی
اے ایف پی کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے اندر حملے ہوئے ہیں۔
خیال رہے یہاں امریکی نیوی کا پانچویں بحری بیڑہ موجود ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس کے رپورٹرز نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
یہ واقعہ بحرین کے محکمہ داخلہ کی جانب سے ایک سلسلہ وار الرٹس کے بعد ہوا، جس میں کہا گیا کہ ہنگامی سائرن بجائے گئے اور رہائشیوں سے درخواست کی گئی کہ وہ پرامن رہیں اور قریبی محفوظ مقام پر جائیں۔
اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع ہو گئے ہیں: پاسدارانِ انقلاب
،تصویر کا ذریعہTASNIM
پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ ایران کے مختلف علاقوں پر آج کے حملوں کے بعد اسرائیل کے خلاف ’بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے‘ شروع ہو گئے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائی: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
،تصویر کا ذریعہgettyimages
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران پر ’اہم جنگی کارروائیاں‘ جاری ہیں۔
اسرائیلی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) کے مطابق ایران نے حملوں کے جواب میں اسرائیل کی طرف میزائل داغے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیل نے تہران پر ’پیشگی‘ حملہ کیا ہے۔
ایران کے پانچ شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں جن میں اصفہان، قم، کرج، کرمانشاہ اور تہران شامل ہیں۔ تصویروں میں شہر کے مرکز سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
آئی ڈی ایف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔‘
آئی ڈی ایف کے مطابق اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے اور ضرورت کے مطابق نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔
ایران میں شہریوں کی صبح کا آغاز اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے ساتھ ہوا۔۔۔ یہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دونوں ملکوں کے بیچ دوسرا بڑا تنازعہ ہے۔
ایرانی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے دستبردار ہونا ہو گا: نیتن یاہو
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
ایران کے متعدد شہروں پر سنیچر کے روز حملوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے جہاں امریکی صدر ٹرمپ کا حملوں کی قیادت پر شکریہ ادا کیا وہیں یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایرانی شہریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی آزادی دے گی۔
اپنے پیغام میں نیتن یاہو نے کہا کہ ’میرے بھائیو اور بہنو، اسرائیل کے شہریوں، کچھ ہی دیر پہلے اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے دہشت گردانہ نظام کی طرف سے لاحق وجودی خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک کارروائی کا آغاز کیا ہے۔‘
نیتن یاہو کے مطابق ’میں اپنے عظیم دوست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے تاریخی قیادت کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ 47 برسوں سے آیت اللہ کا نظام اسرائیل اور امریکہ کی موت کے نعرے لگا رہا ہے۔ انھوں نے ہمارا خون بہایا، کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اپنے ہی عوام کا قتلِ عام کیا۔‘
نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ ’یہ دہشت گردانہ نظام ایٹمی ہتھیاروں سے لیس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ پوری انسانیت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ہماری مشترکہ کارروائی ایرانی عوام کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔‘
ان کے مطابق ’اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی عوام اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بوجھ اتار پھینکیں اور ایک آزاد و پُرامن ایران قائم کریں۔
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کے شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں۔ آنے والے دنوں میں ’آپریشن شیر کی دھاڑ‘ کے دوران ہم سب کو صبر اور حوصلے کی ضرورت ہوگی۔ ہم سب مل کر کھڑے ہوں گے، مل کر لڑیں گے اور مل کر اسرائیل کی بقا کو یقینی بنائیں گے۔‘
’400 سیکنڈ میں تل ابیب‘: عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے ’اسرائیل تک پہنچنے والے‘ ہائپرسونک میزائل کیسے بنائے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کی صبح ایران پر بڑے پیمانے پر حملوں کا اعلان کرتے ہوئے جہاں یہ کہا کہ اسے جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی وہیں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی ہدف قرار دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔'
امریکی صدر نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران 'اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے بہت اچھے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔'
ایران کے میزائل پروگرام کو حال ہی میں امریکہ اور ایران کے مابین ہونے والے مذاکرات میں کامیابی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا۔
امریکہ کا اصرار تھا کہ اِس معاہدے میں ایران کے بیلِسٹِک میزائل پروگرام پر بھی حدود مقرر کی جائیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اِس کے پیچھے بڑی حد تک ایران کے بارے میں اسرائیل کے تحفظات ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو بار بار صدر ٹرمپ پر نیوکلئیر فریم ورک سے آگے کی بات کرنے پر زور دیتے آئے ہیں جس کی کلیدی وجہ ماضی قریب میں جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں کا اسرائیل کو کامیابی سے نشانہ بنانی بھی ہے۔
سٹمسن انسٹیٹیوٹ کے محقق اور نیٹو کے آرمز کنٹرول پروگرام کے سابق ڈائریکٹر نے اس وقت کہا تھا کہ ایران کے حالیہ حملے نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ہے۔
واضح رہے کہ ان حملوں کی بنیاد فراہم کرنے والا ایرانی میزائل پروگرام گذشتہ کئی دہائیوں میں حیران کن رفتار سے ترقی کرتا رہا ہے اور ایرانی حکومت کو اس پروگرام پر اس حد تک بھروسہ ہے کہ اِن میزائلوں کی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کی وجہ سے اِن کے لیے ’پوائنٹر‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
قطر اور بحرین میں امریکی سفارتخانوں نے اپنے عملے کو پناہ گاہوں میں جانے کو کہا ہے
یران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد قطر اور بحرین میں امریکی سفارت خانوں نے سنیچر کے روز اپنے عملے کو پناہ لینے کو کہا ہے۔
ان سفارتخانوں نے دو الگ الگ بیانات میں اعلان کیا کہ وہ ’اپنے تمام اہلکاروں کے لیے پناہ گاہ کا منصوبہ نافذ کر رہے ہیں۔‘
ان اعلانات میں تمام امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اگلی اطلاع تک ایسا ہی کریں۔
ٹرمپ کا پاسداران انقلاب کو انتباہ: ’ہتھیار ڈال دیں ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا‘
،تصویر کا ذریعہgettyimages
صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں پاسداران انقلاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آپ کو ہتھیار ڈال دینا چاہییں، اس صورت میں آپ کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے گا اور آپ کو مکمل استثنیٰ حاصل ہو گا، ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کا مقصد ایران کی طرف سے ’آنے والے خطرات کو دور کرنا‘ ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائی
،تصویر کا ذریعہgettyimages
اسرائیلی دفاعی فورس (آئی ڈی ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تھوڑی دیر پہلے ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی میزائل حملے کیے ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’جب ایران سے اسرائیل کی طرف داغے گئے میزائلوں کی شناخت ہوئی تو ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔‘
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیلی فضائیہ خطرات کو روکنے اور ضرورت کے مطابق نشانہ بنانے کے لیے کارروائی کر رہی ہے تاکہ خطرہ ختم کیا جا سکے۔
عوام سے دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں۔
ایران کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد ایران کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ
اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد ایران کے ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ایران کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور حتمی تصدیق کے بعد زخمیوں سے متعلق اعلان کیا جائے گا۔
ایران کے مقامی میڈیا کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے تہران کے علاوہ متعدد شہروں میں حملے کیے جن میں کرمان شاہ، قم، لرستان، کرج اور تبریز شامل ہیں۔
تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے میزائل حملوں کے بعد کے مناظر
،ویڈیو کیپشنتہران میزائل حملوں کے بعد
ٹرمپ: ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو یورپ کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنایران پر حملے میں امریکہ بھی شامل ہے: ٹرمپ کی تصدیق
صدر ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران ’اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنے اور ایسے طویل فاصلے پر مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو ہمارے بہت اچھے دوستوں اور یورپی اتحادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ایک ’بڑی کارروائی‘ کر رہا ہے تاکہ ’اس بہت ظالم اور انتہا پسند آمریت کو امریکہ کے لیے خطرہ بننے سے روکا جا سکے۔‘
بریکنگ, آپ نے ایک ایسا راستہ چنا ہے جس کا انجام آپ کے ہاتھ میں نہیں رہے گا: ایران
ایرانی حکام نے پہلے خبردار کیا تھا کہ ملک پر کوئی بھی حملہ خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے جائے گا۔
ایرانی نیوز ایجنسی اسنا کی ویب سائٹ ہیک کر لی گئی: ایرانی میڈیا
ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد اب خبر سامنے آئی ہے کہ تہران اور ایران کے دیگر شہروں پر حملوں کے ساتھ نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ بھی ہیک کر لی گئی۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نے ویب سائٹ پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسئلے کو حل کر رہے ہیں۔
دوسری جانب موجودہ صورتحال میں عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد عراق نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے بارے میں کوئی ’حتمی فیصلہ‘ نہیں کیا
صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا تھا کہ امریکہ نے ایران پر حملے کے بارے میں کوئی ’حتمی فیصلہ‘ نہیں کیا، تاہم وہ ایران کی مذاکراتی پوزیشن سے ’خوش نہیں‘ ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران ’وہ نہیں دے رہا جو ہمارے لیے ضروری ہے‘ اور زور دیا کہ ایران ’جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا‘۔
ہفتے کے آغاز میں جنیوا میں دو طرفہ بالواسطہ مذاکرات ہوئے، جس میں دونوں جانب نے معاہدے تک پہنچنے میں پیش رفت ہونے کا عندیہ دیا۔
واشنگٹن ایران پر اپنے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، اور ٹرمپ نے بار بار کہا کہ امریکہ ’تیار اور قابل‘ ہے کہ ضرورت پڑنے پر ’تیزی اور شدت کے ساتھ‘ کارروائی کرے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی طویل جنگ میں بدلنے کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا: ’جب جنگ ہوتی ہے، تو اچھے اور برے ہر چیز کے امکانات ہوتے ہیں۔‘
ٹرمپ کا بیان: ’ہم ان کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے‘
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے بار بار معاہدہ کرنے کی کوشش کی۔ ہم نے واقعی کوشش کی۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔‘