ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. مشرقِ وسطیٰ کی متعدد اِیئر لائنز کے فضائی آپریشن بدستور معطل

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہcopyrightEMIRATES

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کی وجہ سے کئی ایئر لائنز کا فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے۔ ابو ظہبی کی اتحاد ایئر لائنز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو ظہبی آنے اور جانے والی تمام پروازیں پیر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    قطر ایئر ویز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر کی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے ایئر لائن کا فلائٹ آپریشن تاحال معطل ہے۔

    سعودی اِیئر لائنز نے بھی پیر کی شب 12 بجے تک اپنے فضائی آپریشن معطل رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

    ایئر لائن کے مطابق قطر کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے قطر کی فضائی حدود کھلنے کی اجازت کے بعد ہی ایئر لائن اپنے آپریشنز دوبارہ شروع کرے گی۔ ایئر لائن کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات پیر کو دوحہ کے مقامی وقت نو بجے فراہم کی جائیں گی۔

    ایمریٹس ایئر لائن کے مطابق اس کی دبئی آنے اور جانے والی تمام پروازیں دو مارچ دوپہر تین بجے تک ملتوی رہیں گی۔

    بحرین کی گلف ایئر کا بھی کہنا ہے کہ علاقائی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے بحرین آنے اور جانے والی گلف ایئر کی متعدد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

    ایئر عریبیہ کی جانب سے بھی اتوار کو جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ علاقائی کی صورتحال کی وجہ سے متحدہ عرب امارات آنے اور جانے والی اس کی تمام پروازیں منسوخ رہیں گی۔

  2. ایرانی میزائل حملے سے دوحہ میں آگ بھڑک اٹھی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: قطر

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران سے داغے گئے میزائل کو فضا میں ناکارہ بنانے کے بعد گرنے والے ملبے (شریپنل) کے باعث انڈسٹریل ایریا میں معمولی نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی، جس پر سول ڈیفنس نے قابو پا لیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    یاد رہے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا تھا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔‘

  3. آیت اللہ علی خامنہ کی اسرائیلی اور امریکی حملوں میں ہلاکت اور ایران میں سوگ

    ،ویڈیو کیپشنآیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے گئے
  4. لاریجانی: عارضی لیڈر شپ کونسل جلد تشکیل دی جائے گی

    IRIB

    ،تصویر کا ذریعہIRIB

    سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ایک عارضی لیڈر شپ کونسل کی تشکیل اور آئین کے مطابق انھیں تفویض کردہ فرائض کی انجام دہی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔‘

    لاریجانی نے کہا: ’آئین کے آرٹیکل 111 میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے ملک رہبر سے محروم ہو جائے تو عارضی طور پر صدرِ مملکت، عدلیہ کے سربراہ اور شورائے نگہبان کے فقہا میں سے ایک رکن (جسے مجمع تشخیص مصلحت نظام منتخب کرے گا) رہبر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے، یہاں تک کہ نئے رہبر کا انتخاب ہو جائے اور یہ عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔‘

  5. سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کے کونارک بحری اڈے پر حملے کے بعد کا منظر, شایان سردارزادہ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہVantor

    بی بی سی ویریفائی کی طرف سے تجزیہ کردہ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیج عمان کے ساحل پر ایرانی بحریہ کے اڈے پر حملے کے بعد کیا ہوا ہے۔

    تصاویر میں جنوب مشرقی صوبے ہرمزگان میں واقع ایرانی بحریہ کے کونارک بیس میں لنگر انداز بحری جہاز سے سیاہ دُھواں اُٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔

    کونارک ایرانی فوج کے چار بڑے بحری اڈوں میں سے ایک ہے، اس کے قریب ہی ایک فوجی ایئر بیس بھی واقع ہے۔

    بحری اڈے کی ایک وسیع تصویر جیسے وینتر نے بھی جاری کیا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس وقت تصویر کھینچی گئی تھی اس وقت جہاز ہی واحد ہدف تھا۔

  6. اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا قتل سنیچر کے روز دفاعی کونسل کے اجلاس کے دوران ہوا

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ ایرانی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    ٹیلی ویژن نے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصر زادہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف میجر جنرل محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔

    ابتدائی رپورٹس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ سنیچر کے روز دفاعی کونسل کے اجلاس میں ان افراد کو نشانہ بنایا گیا۔

  7. بغداد میں سینکڑوں مظاہرین کی گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش، امریکی سفارت خانہ گھیرے میں

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بغداد میں مظاہرین گرین زون پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔

    ایک سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد اتوار کی صبح سینکڑوں عراقیوں نے بغداد کے بھاری قلعہ دار گرین زون پر حملہ کرنے کی کوشش کی جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ’سینکڑوں مظاہرین نے گرین زون پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور انھیں پیچھے ہٹا دیا گیا ہے لیکن وہ کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے بعد وہ آنسو گیس کے ساتھ جواب دے رہے ہیں۔

    عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ لوگوں نے ایران کے وفادار مسلح گروپوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

  8. ایران کے جوابی حملوں کے بعد اسرائیل میں تباہی کے مناظر

    آج صبح ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

    بیشتر میزائل فضائی دفاع نے مار گرائے لیکن کچھ تل ابیب میں لگے جس سے ایک خاتون ہلاک اور کم از کم 20-22 افراد زخمی ہوئے۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

  9. ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد اسرائیل میں ایک خاتون ہلاک، متعدد زخمی, جان ڈونیسن، یروشلم سے نامہ نگار

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج صبح جب ایران نے بیلسٹک میزائل فائر کیے تو اسرائیل بھر میں ایئر ریڈ سائرن دوبارہ بجنے لگے۔ ان میں سے بیشتر کو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا۔

    تاہم کچھ میزائل تل ابیب میں جا کر لگے جہاں ایک خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔ یہ اس جنگ میں اسرائیل میں پہلی ہلاکت ہے۔

    اس کے علاوہ کم از کم 20 سے 22 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں بیشتر معمولی زخمی ہیں جبکہ چند کی حالت نازک ہے۔

  10. اردن کی فضائی حدود میں میزائل اور ڈرون، امریکی شہریوں کو فوری پناہ لینے کی ہدایت

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اردن میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ ملک کی فضائی حدود میں میزائل، ڈرون یا راکٹ دیکھے گئے ہیں۔

    سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

    یاد رہے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔

    خیال رہے ایک دن قبل بھی ایرانی حملوں نے خلیج کے کئی ممالک میں ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔

  11. اس عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا: مسعود پزشکیان

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلامی جمہوریہ کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’یہ عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا‘ اور ’اس بار بھی ہم اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ، ملت اسلامیہ اور دنیا کے آزاد عوام کی حمایت سے اس عظیم جرم کے مرتکب اور کمانڈروں کو پچھتاوے پر مجبور کر دیں گے۔‘

    پزشکیان نے کہا کہ علی خامنہ ای نے 37 سالوں کے دوران حکمت اور بصیرت کے ساتھ اسلام کے محاذ کی قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران ایک مشکل دور سے گزرے گا۔

  12. دبئی، دوحہ اور منامہ کو نئے دھماکوں نے ہلا کر رکھ دیا

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اتوار کی صبح دبئی، دوحہ اور منامہ میں نئے دھماکوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کی صبح قطری دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دینے کے بعد دوحہ پر سیاہ دھواں چھا گیا۔

    یاد رہے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کی نئی لہر کا آغاز کیا ہے۔

    خیال رہے ایک دن قبل بھی ایرانی حملوں نے خلیج کے کئی ممالک میں ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔

    عمان، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ایران نے 137 میزائل اور 209 ڈرون داغے، جن کے اثرات سے پام جمیرہ اور برج العرب جیسے اہم مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

    حکام نے اطلاع دی ہے کہ دبئی اور ابوظہبی کے ہوائی اڈوں پر ’واقعات‘ ہوئے جن میں ایک شخص ہلاک ہوا، جبکہ کویت کے ہوائی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔

  13. بریکنگ, ایران نے امریکہ یا اسرائیل پر حملہ کیا تو ایسی طاقت استعمال کروں گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی: ٹرمپ کا انتباہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ردِعمل میں، وہ امریکہ یا اسرائیل پر حملہ کرنے سے باز رہے۔

    اپنے ترٹھ سوشل پلیٹ فارم پر ٹرمپ نے لکھا: ’ایران نے کہا ہے کہ وہ آج بہت سخت حملہ کریں گے، ایسا حملہ جو پہلے کبھی نہ کیا گیا ہو۔ لیکن بہتر یہی ہوگا کہ وہ ایسا نہ کریں، کیونکہ اگر کریں گے تو ہم انھیں ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی۔‘

    یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ردِ عمل میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملے کریں گے۔

    چند گھنٹے قبل پاسدارانِ انقلاب نے کہا: ’چند لمحوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔‘

  14. بریکنگ, پاسدارانِ انقلاب کا 27 امریکی اڈوں اور اسرائیلی فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملوں کا دعویٰ

    @PressTV

    ،تصویر کا ذریعہ@PressTV

    ،تصویر کا کیپشنحملوں کے بعد دبئی اور اسرائیل میں مناظر

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے ردِ عمل میں حملوں کی چھٹی لہر شروع کر دی ہے۔

    بیان کے مطابق آئی جی آر سی نے اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور 27 امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ اسرائیل کے تل نووف ایئر بیس، تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہا کیریا اور ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں میں خطرے کی گھنٹی کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیں گی۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. بریکنگ, اسرائیل میں سائرن، دوحہ اور منامہ میں نئے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں

    gettyimages

    ،تصویر کا ذریعہgettyimages

    دوحہ اور منامہ میں نئے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں ہیں۔

    وسطی اسرائیل میں بھی سائرن بج رہے ہیں۔

    خیال رہے اب سے کچھ دیر قبل امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا تھا کہ ’چند لمحوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔‘

    IDF

    ،تصویر کا ذریعہIDF

  16. ’عراقی مزاحمت‘ نے امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے

    @PressTV

    ،تصویر کا ذریعہ@PressTV

    ایرانی حکومت کے قریبی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ ’عراقی مزاحمت نے عراقی کردستان میں امریکی اڈوں پر اپنے حملے شروع کر دیے ہیں۔‘

    ان رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کردستان کے دارالحکومت اربیل کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    اسنا نیوز ایجنسی نے ایک ویڈیو بھی شائع کی ہے جس میں عراقی شہر اربیل میں دھوئیں کا بادل بلند ہوتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

  17. علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور کی ہلاکتوں کی تصدیق

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تصدیق کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

    اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کی سکیورٹی قیادت کے سات ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں پاکپور اور شمخانی بھی شامل تھے۔

    محمد پاکپور کو سنہ 2025 میں 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ان کے پیشرو کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔

    وہ پہلے پاسدارانِ انقلاب کی گراؤنڈ فورسز کے کمانڈر رہ چکے تھے۔

    شمخانی، جو ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر مشیر بھی تھے، 12 روزہ جنگ کے دوران زخمی ہوئے تھے۔

    پاکپور اور شمخانی دونوں پر امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیاں بھی عائد تھیں۔

  18. دبئی اور ابوظہبی ایئر پورٹس پر حملوں میں ایک ہلاک، 11 زخمی

    bbc

    دبئی حکومت کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایرانی حملے کے بعد چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ ہنگامی امداد کی ٹیمیں فوری طور پر فعال کر دی گئی ہیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

    حکومت کے مطابق دبئی کی فوج نے ایک ڈرون کو روکا جس کے ملبے سے جبل علی پورٹ کے ایک برتھ پر آگ لگ گئی، یہ جگہ خلیج میں امریکی نیوی کے جہازوں کے لیے معروف سٹاپ ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ ’دبئی سول ڈیفنس ٹیموں نے فوراً آگ بجھانے کے لیے کارروائی کی‘ اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    حکومت نے بتایا کہ دوسرے واقعے میں ابوظہبی کے زید انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک ڈرون کے ملبے نے ایک شخص کی جان لے لی، جو ایشیائی شہری تھا۔ اس کے علاوہ سات افراد زخمی ہو گئے۔

  19. آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران میں سڑکوں پر سوگواران کا ہجوم

    امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد ہزاروں افراد تہران کی سڑکوں پر نکل آئے اور سوگ منا رہے ہیں۔

    مشہد میں امام رضا کے گنبد کا پرچم سیاہ ماتمی رنگ میں تبدیل ہو گیا ہے اور ایران کے بعض شہروں، عراقی دارالحکومت بغداد، کربلا اور کشمیر میں سوگواران کی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔

    فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے رہبر کے قتل کی خبر سنتے ہی لوگ ’سورج طلوع ہونے سے پہلے تہران کے انقلاب سکوائر پر جمع ہو گئے۔‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. یہ وہ لمحہ ہے جس کے لیے ایران کے طاقتور علما اور کمانڈر پہلے سے تیار تھے, لیز ڈوسٹ، بین الاقوامی امور کی نامہ نگار - بی بی سی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ ایران کی غیر مستحکم تاریخ کے فیصلہ کن لمحات ہیں، لیکن ملک کے سب سے طاقتور علما اور کمانڈر اس کے لیے پہلے سے تیار تھے۔

    گذشتہ سال جون میں 12 دن کی جنگ کے دوران اس کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پہلی رات کے حملوں میں اسرائیل نے نو نیوکلیئر سائنسدانوں اور کئی سکیورٹی چیفز کو ہلاک کر دیا تھا۔ اگلے دنوں میں مزید سینئر سائنسدان اور کم از کم 30 اہم کمانڈرز مارے گئے۔

    یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای بھی ان کا ہدف ہو سکتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، خامنہ ای نے جنگ کے دوران اپنے خاص بنکر میں رہتے ہوئے سکیورٹی حکام کی فہرستیں تیار کیں تاکہ اگر کسی اعلیٰ سطح پر عہدے خالی ہوں تو فوری طور پر ان کے متبادل کا تقرر کیا جا سکے۔

    پچھلے سال کی دشمنیوں سے بھی پہلے ہی، خامنہ ای نے ’مجلسِ رہبری‘ کو ہدایت دی تھی، یہ تقریباً 88 سینئر علما کا گروپ ہے جو سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ذمہ دار ہے، کہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔

    نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اپنی ہلاکت کی صورت میں انھوں نے ’تین سینئر علما‘ کو ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔

    سالوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں کہ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے، اس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔

    پہلے دن کے فضائی اور مخصوص حملوں میں صرف سپریم لیڈر ہی نہیں مارے گئے۔ جو لوگ ابھی بھی اپنے عہدوں پر موجود ہیں، یا جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے ہیں، وہ دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی مضبوطی سے اقتدار میں ہیں اور جانشینی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے طے ہو گا۔

    لیکن آیت اللہ خامنہ ای کے 36 سالہ دور حکومت کا اختتام ان کے حمایتیوں، خاص طور پر ان کے مددگاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں کے لیے ایک شدید جھٹکا ہوگا، جو انھیں اور اسلامی انقلاب کو ملک اور بیرون ملک دفاع کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں۔

    bbc

    بی بی سی نے ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران اور کرج کی سڑکوں پر لوگ ان کی ہلاکت کی خبروں پر جشن منا رہے ہیں۔

    مغرب، خاص طور پر امریکہ پر اور اسرائیل کے خلاف سخت شک و شبہ رکھنے والے خامنہ ای نے مضبوط گرفت کے ساتھ حکومت کی، اصلاحات کے مطالبات کو دبایا اور بار بار احتجاج کی لہروں کو روکا۔

    پچھلے چند سالوں میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست فوجی تنازعات اور اپنی ہی عوام کی طرف سے بڑھتی ہوئی تبدیلی کی خواہش نے انھیں ان کے سب سے بڑے چیلنجز کا سامنا کروایا۔

    اب جب خامنہ ای کا دور حکومت اچانک ختم ہو رہا ہے تو ہہ سوال یہ اٹھیں گے کہ ان کا جانشین کون ہو گا اور کیا اعلیٰ قیادت میں تبدیلی 47 سالہ اسلامی جمہوریہ کے رخ میں بھی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔

    چاہے جو بھی اقتدار میں آئے، ان کا بنیادی مقصد ایک ہی رہے گا۔۔۔ ایسا نظام قائم رکھنا جو علما اور طاقتور سیکیورٹی فورسز کو اقتدار میں رکھے۔

    اور ایک جنگ، جو ابھی ختم نہیں ہوئی، پہلے ہی غیر متوقع اور خطرناک طریقوں سے جاری ہے۔