ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. تہران ایک بار پھر دھماکوں سے گونج اٹھا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی فارسی کو ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ آج شام مغربی تہران میں پھر دھماکے ہوئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی بتایا ہے کہ اس کے صحافیوں نے ’دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔‘

    دوسری جانب ایران کا سرکاری میڈیا بھی بتا رہا ہے تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ کچھ دیر قبل اسرائیلی ایئر فورس نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’اس نے ایک اور فضائی حملہ کیا ہے اور وہ وسطی ایران میں میزائل لانچنگ سائٹس اور دفاعی نظام پر حملہ کر رہا ہے۔‘

  2. دبئی میں طویل عرصے سے مقیم غیرملکی آج کے مناظر کو ناقابلِ یقین قرار دے رہے ہیں, برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہم میں سے جو صدر ٹرمپ کے ساتھ اس ہفتے سفر کر رہے ہیں، اب تک یہ نہیں معلوم کر سکے کہ آج وہ کب یا آیا کچھ کہیں گے یا نہیں۔

    فی الحال ہمیں معلوم ہے کہ ٹرمپ مار-اے-لاگو میں اپنی رہائش گاہ پر ہیں، جہاں سے انھوں نے وزیرِاعظم نیتن یاہو سے بات کی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    جبکہ میں وائٹ ہاؤس سے تازہ معلومات لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میرے فون پر مسلسل دبئی سے خبریں موصول ہو رہی تھیں، جہاں میں تقریباً چھ سال رہا اور کام کیا۔

    یہاں تک کہ دبئی میں طویل عرصے سے رہنے والے غیرملکی بھی آج کے مناظر کو مشکل سے تسلیم کر رہے ہیں: پرتعیش پام جمیرا آگ کی لپیٹ میں ہے اور اطلاعات ہیں کہ ڈرون حملے شیخ زید روڈ، جو شہر کی مرکزی شاہراہ ہے، کے قریب ہوئے ہیں۔

    ایک طرف، یہ وہ منظر ہے جسے اماراتی حکام بدترین صورتحال تصور کرتے ہیں۔ دبئی نے طویل عرصے سے خود کو ایک ایسے محفوظ جزیرے کے طور پر پیش کیا ہے جہاں لوگ اور ان کا سرمایہ خطے کی مشکلات سے دور رہ سکیں۔

    ابوظہبی کے مقابلے میں دبئی خود کو خلیج ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا سیاحتی مقام اور ایک اہم سفری مرکز سمجھتا ہے۔

    دوسری طرف، امارت کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ممکن ہے۔ یو اے ای کی افواج نے یمن میں براہِ راست ایرانی اتحادیوں سے لڑائی کی ہے، اور دبئی و ابوظہبی میں اکثر امریکی فوجی موجود رہتے ہیں۔ جبل علی کی بندرگاہ، جو دبئی کی مشہور مرینہ کے قریب ہے، خلیج میں امریکی بحری جہازوں کی ایک عام منزل ہے۔

    اسی پس منظر میں، یو اے ای کی چھوٹی مگر نہایت جدید فوج نے فضائی جہازوں اور فضائی دفاعی نظام میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جنھیں پہلے بھی الرٹ پر رکھا گیا تھا، جیسے کہ 2020 میں امریکی حملے کے بعد جب پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو ہلاک کیا گیا تھا۔

  3. کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے ہوئے ہیں: مقامی میڈیا

    کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے یو این اے کے مطابق ملک کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ایوی ایشن نے اعلان کیا کہ ایک ڈرون نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ٹرمینل کو معمولی نقصان پہنچا۔

    محکمہ کے ترجمان عبداللہ راجی نے کے یو این اے کو بتایا کہ حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات نافذ کیے، واقعے سے نمٹا اور جائے وقوعہ پر حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

    کے یو این اے کے مطابق ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ صورتحال قابو میں ہے اور مسافروں اور عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

    کویتی حکام نے حملے کا ذریعہ نہیں بتایا لیکن ایران نے آج کے اوائل میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں پورے خطے میں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

  4. کئی ہفتوں تک دنیا کو اپنے ارادوں سے بے خبر رکھنے والے ٹرمپ نے اب اپنا ارادہ ظاہر کر دیا, لیز ڈوسیٹ، بی بی سی

    جمعرات کے روز سفارت کاری کی کوشش اور ایران پر حملے سے عین پہلے عمان کے وزیر خارجہ کی طرف سے کوشش بھی اسرائیل اور امریکہ کے حملے کو نہیں روک سکی۔

    گذشتہ برس ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں جوہری مذاکرات ختم ہو گئے تھے اور آج کے حملوں نے مذاکرات کا راستہ ہی ختم کر دیا۔

    عمان کے بدر البوسیدی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ اور براہ راست بات چیت کے مرکزی ثالث تھے، اس پیغام کے ساتھ واشنگٹن گئے کہ ’اہم پیش رفت‘ ہو رہی ہے لیکن انھیں ’تھوڑا اور وقت‘ درکار ہے۔

    لیکن صدر ٹرمپ کے لیے الٹی گنتی شروع ہو چکی تھی۔ گذشتہ رات انھوں نے واضح کیا کہ ’جس طرح سے مذاکرات ہو رہے ہیں، ہم اس بارے میں پر جوش محسوس نہیں کر رہے۔‘

    آج ایران کے سینیئر مذاکرات کار اور وزیر خارجہ نے این بی سی کو بتایا کہ ’اگر امریکی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو انھیں معلوم ہے کہ ہم سے رابطہ کیسے کرنا ہو گا۔‘

    لیکن ٹرمپ نے کئی ہفتوں تک دنیا کو اپنے ارادوں سے بے خبر رکھا اور اب انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر اپنے ارادوں کو ظاہر کر دیا۔۔۔ اور آخری گیم جوہری مذاکرات نہیں بلکہ ایرانی رجیم کا خاتمہ ہے۔

    کم از کم اس وقت تو مذاکرات کا وقت ختم نظر آ رہا ہے۔

  5. آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا: تسنیم نیوز ایجنسی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے جنوب میں واقع سٹریٹجک آبنائے ہرمز کو بند کر دیا جائے گا۔

    تسنیم نے ’ذرائع‘ کے حوالے سے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز میں موجود بحری جہازوں کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے پیغامات موصول ہو رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی کہا ہے کہ انھیں متعدد رپورٹس موصول ہوئی ہیں کہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے وارننگ دی گئی ہے۔

    یہ آبنائے دنیا کی سب سے اہم بحری تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم مقام ہے۔ اندازاً دنیا بھر میں ترسیل ہونے والے تیل کا پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

  6. دبئی: پام جمیرہ میں پیش آئے واقعے میں چار افراد زخمی

    دبئی حکومت کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ ’پام جمیرہ کے علاقے میں واقع ایک عمارت میں واقعہ پیش آیا ہے‘ جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور عمارت میں لگنے والی آگ پر اب ’قابو پا لیا گیا ہے۔‘ سرکاری طور پر مزید یہ بتایا گیا ہے کہ چاروں زخمی افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    یہ اطلاع اس سے پہلے سامنے آنے والی عینی شاہد کی اس رپورٹ کے بعد آئی ہے، جس میں پام جمیرہ کے علاقے سے دھواں اٹھنے کی تصویر دکھائی گئی تھی۔ اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دبئی پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔

    یہ واضح نہیں کہ دبئی میں ایران کے میزائل حملوں کا اصل ہدف کیا ہے، تاہم یہاں امریکی فوج موجود ہے۔

    پام جمیرہ ایک مصنوعی جزیرہ نما ہے جو اپنے پرتعیش ہوٹلوں کے لیے مشہور ہے۔

  7. سیٹلائٹ تصویر میں رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ کو نقصان پہنچنے کی تصدیق, پال براؤن، بی بی سی ویریفائی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہAirbus DS 2026

    بی بی سی ویریفائی نے آج صبح تہران کے اوپر سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی ہیں جن میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

    ’ایئربس‘ کی جانب سے فراہم کردہ ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصویر میں کمپاؤنڈ کی جلی ہوئی عمارتیں، ملبہ اور جائے وقوعہ سے اٹھتا ہوا دھواں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

    یہ مقام آج صبح تہران میں فلمائی گئی تصدیق شدہ فوٹیج سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں دھماکوں کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

  8. بی بی سی نے دبئی سے عینی شاہد کی جانب سے موصول ہونے والی تصویر میں کیا دیکھا؟

    دبئی

    ہمیں متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں ’فیری مونٹ پام ہوٹل‘ کے قریب سے ایک عینی شاہد نے ایک تصویر بھیجی ہے، جس میں دھوئیں کے بادل کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایران کا سرکاری میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ دبئی پر ایک حملہ شروع کیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایران کس چیز کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں بھی امریکی فوج موجود ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی تازہ لہر کو ناکارہ بنا دیا۔

  9. میری معلومات کے مطابق خامنہ ای زندہ ہیں لیکن شاید ہمارے ایک یا دو کمانڈر مارے گئے: ایرانی وزیر خارجہ, غنچے حبیبی زاد، بی بی سی فارسی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ’شاید ہمارے ایک یا دو کمانڈر ہلاک ہوئے ہیں۔‘

    این بی سی پر عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای زندہ ہیں۔‘

    واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے آج تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں تاہم ایران کا سرکاری میڈیا ان رپورٹس کی تردید کر رہا ہے، جن کے مطابق آج کے حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے۔

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کشیدگی میں کمی کا خواہشمند ہے اور مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ امریکا اور اسرائیل اپنے حملے بند کر دیں۔

    یہ کہتے ہوئے کہ ’ابھی کوئی رابطہ نہیں ہوا‘ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ’اگر امریکی ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھ سے کیسے رابطہ کر سکتے ہیں۔‘

  10. ’امریکہ فائر لائن سے اپنے بہت سے اثاثے پہلے ہی نکال چکا ہے‘, باربرا پلیٹ اشعر، دوحہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکی جانی نقصان کے امکان کے بارے میں خبردار کیا تھا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکی رائے عامہ میں کسی بھی فوجی آپریشن کے لیے برداشت انتہائی کم ہے۔

    تقریباً 30 سے 40 ہزار امریکی فوجی عام طور پر اس پورے خطے میں 13 امریکی فوجی اڈوں پر تعینات ہوتے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی قطر میں العدید میں ہیں، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

    خلیج میں بڑے پیمانے پر امریکی فوج کی تعیناتی میں اضافی فضائی دفاعی یونٹ شامل تھے لیکن پھر بھی اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسا کچھ نہیں تھا۔

    ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے براہ راست فائر لائن سے اپنے زیادہ سے زیادہ اثاثے پہلے ہی نکال لیے ہیں: حالیہ دنوں میں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ العدید (فوجی اڈے) سے سینکڑوں فوجیوں کو باہر منتقل کیا گیا۔

    اس کے علاوہ ہم نے سیٹلائٹ تصاویر بھی دیکھی ہیں جن میں اڈے پر امریکہ کے زیر استعمال ہوائی پٹیاں خالی ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بحرین میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے سے جہازوں کو روانہ ہوتے بھی دیکھا گیا۔

  11. اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑی ’کارروائی‘ مکمل کر لی: آئی ڈی ایف

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف ایک بڑی ’کارروائی‘ کو مکمل کر لیا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ان فضائی حملوں میں سے ایک کا رخ مغربی ایران میں کرمان شاہ کے علاقے میں واقع جدید SA-65 فضائی دفاعی نظام کی طرف تھا۔‘

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے اسرائیلی فضائیہ کی ایرانی فضائی حدود میں آپریشن کی آزادی کو قائم کرنے اور بڑھانے کے لیے کیے گئے تھے تاکہ پاسدران انقلاب کی صلاحیتوں کو کم کیا جا سکے اور اسرائیل کی جانب خطرات کو روکا جا سکے۔‘

  12. ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کا سلسلہ جاری ہے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے ہیں جس کے بعد وارننگ الرٹس فعال کر دیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ آج صبح سے آئی ڈی ایف کے ٹیلیگرام چینل پر میزائل حملوں سے متعلق جاری ہونے والا ساتواں وارننگ الرٹ ہے۔

  13. دن 1.30 کے لگ بھگ متعدد دھماکوں کی آواز آئی: یو اے ای کے شہری کی بی بی سی سے گفتگو, روحان احمد، بی بی سی اُردو

    متحدہ عرب امارات میں مقیم لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مقامی وقت کے مطابق دن ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ متعدد دھماکے سُنے ہیں۔

    دبئی کے قریب رہائش پزیر ایک شہری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے البرشا کے علاقے سے گزرتے ہوئے پانچ، چھ دھماکے سُنے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ میزائل کہیں گرے یا انھیں دفاعی نظام نے روک لیا۔‘

    یاد رہے کہ سنیچر کی صبح ایران پر اسرائیل اور امریکہ کہ مشترکہ حملوں کے بعد ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں امریکی فوجی اڈون کو میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا ہے۔بیشتر خلیجی ممالک نے ایرانی میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق گرائے گئے ایک ایرانی میزائل کے ملبے تلے آ کر ایک پاکستانی شخص ہلاک ہوا ہے۔

    دبئی کے قریب رہائش پزیر ایک شہری نے بی بی سی اردو کو مزید بتایا کہ مقامی حکام نے شہریوں کو آگاہ کیا ہے کہ اب حالات قابو میں ہیں۔

    بی بی سی اُردو سے بات کرنے والے دیگر شہریوں نے بتایا کہ فی الوقت حالات صبح کی نسبت بہتر نظر آ رہے ہیں لیکن ’لوگ احتیاط کر رہے ہیں، ہم نے ایک دھماکہ ڈیڑھ بجے سنا تھا، پھر ابھی ایک گھنٹے پہلے دو مزید دھماکوں کی آواز سنی تھی۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ لوگ احتیاط کر رہے ہیں اور سڑکیں وغیرہ خالی ہیں۔

  14. ایران کے سرکاری میڈیا کی اعلیٰ حکام اور آرمی چیف کی ہلاکت کی تردید, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران کے سرکاری میڈیا نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن کے مطابق آج اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فصائی حملے میں ملک کے سینیئر سیاسی حکام اور آرمی چیف مارے گئے ہیں۔

    ایرانی صدر کے ایگزیکٹو ڈپٹی نے ایکس پر لکھا کہ ’صدر مسعود پزشکیان محفوظ ہیں۔‘

    صدر کے بیٹے یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ’ان کو قتل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔‘

    ایرانی فوج نے اپنے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی کی ہلاکت کی تردید کی ہے اور فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    واضح رہے کہ اسرائیل ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے تہران میں ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔

  15. اسرائیلی حملے میں اعلیٰ ایرانی سیاسی و سکیورٹی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا: اسرائیلی فوج

    اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ تہران میں اُن کے حملوں کا ہدف وہ مقامات تھے جہاں اعلیٰ ایرانی سیاسی اور سکیورٹی شخصیات جمع تھیں۔

    ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے وضاحت کی کہ ایران میں آج ہونے والی کارروائی کی تیاری گذشتہ کئی ماہ کے دوران کی گئی تھی، جس میں ملک کی انٹیلیجنس ایجنسی نے اس بات پر توجہ مرکوز کی تھی کہ وہ موقع کب آئے گا جب ایران کی حکومتی، سیاسی و سکیورٹی قیادت اکٹھی ہوتی ہے۔

    اسرائیلی فوج نے مزید واضح کیا کہ رات کے بجائے صبح کے وقت حملہ کرنے کا فیصلہ ’ٹیکٹیکل سرپرائز‘ کے طور پر کیا گیا جس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج اب اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہی ہے۔

  16. کویت میں مبینہ حملے کے بعد کے مناظر

    بی بی سی کو کویت سے ایک ایسی موٹروے کی تصاویر موصول ہوئی ہیں، جن میں مبینہ حملے کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے۔

    ان تصاویر میں ایک جلا ہوا ٹرک اور ایک فائر انجن نظر آ رہا ہے۔

    اس سے قبل کویت کی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل سعودعبدالعزیز الاتوان نے ایکس پر لکھا تھا کہ ’علی السلیم ایئر بیس (جہاں امریکی فوجی موجود ہیں) کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تاہم ملک کی دفاعی افواج نے انھیں ناکارہ بنا دیا۔‘

  17. ’جارحیت کرنے والوں کو وہ سبق سکھائیں گے جس کے وہ مستحق ہیں‘: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو ’مکمل طور پر بلا اشتعال، غیر قانونی اور ناجائز‘ قرار دیا ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ’امریکہ فرسٹ کو اسرائیل فرسٹ میں بدل دیا‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کی طاقتور مسلح افواج تیار ہیں اور جارحیت کرنے والوں کو وہ سبق سکھائیں گی جس کے وہ مستحق ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. اسرائیل کی سرحد سے متصل اردن نے دو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا

    اسرائیل کی سرحد سے متصل ملک اردن کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج نے دو بیلسٹک میزائلوں کو مار گرایا ہے۔

    اردن کے وزیر اطلاعات اور حکومتی ترجمان محمد معمانی نے بتایا کہ تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ ملک بھر میں مختلف مقامات پر گرا۔

    انھوں نے کہا کہ اردن خطے میں ہونے والی پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جبکہ اولین ترجیح ملکی سلامتی اور لوگوں کی حفاظت ہے۔

    واضح رہے کہ جغرافیائی اعتبار سے اُردن مشرقِ وسطیٰ میں اتنہائی حساس مقام پر موجود ہے۔ اُردن کی سرحدیں سعودی عرب، عراق اور شام کے علاوہ اسرائیل اور غربِ اردن کے ساتھ بھی لگتی ہیں۔

  19. لڑکیوں کا سکول اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک: ایران, بی بی سی مانیٹرنگ

    ایران میں ایک مقامی گورنر نے ملک کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کو بتایا ہے کہ ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے ضلع میناب میں لڑکیوں کے پرائمری سکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ہرمزگان کے گورنر محمد ردمہر نے ارنا کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں’شجرہ طیبہ‘ نامی لڑکیوں کا سکول نشانہ بنا۔ گورنر کے مطابق اس حملے میں 63 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

    ایران کے محکمہ تعلیم کے ترجمان علی فرہادی نے ارنا کو بتایا کہ اتوار کے روز سکول کو تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی اس خبر کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ یاد رہے کہ ایران کی جانب سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے نمائندوں کو ویزوں کا اجرا نہیں کیا جاتا ہے جس کے باعث خبروں کی آزادانہ تصدیق میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران میں اس وقت تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی ہے۔

  20. یو اے ای پر ایرانی میزائل حملوں میں ایک پاکستانی شہری کے ہلاک ہونے کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنابوظہبی میں ایرانی میزائل حملے کے بعد اٹھنے والا دھواں

    متحدہ عرب امارت نے ایرانی میزائل حملوں میں ایک پاکستانی شہری کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں واقع امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔ یو اے ای کے حکام نے بتایا تھا کہ انھوں نے کامیابی سے میزائلوں کو مار گرایا تھا تاہم ایک میزائل کے ملبے تلے آ کر ایک ایشیائی شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

    اب اس ایشیائی شخص کی شناخت بطور پاکستانی ظاہر کی گئی ہے۔

    متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے تحت شہریوں اور شہری املاک کو نشانہ بنانے کی واضح طور پر سختی سے ممانعت ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے خطے کے متعدد برادر ممالک کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی خود مختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ان حملوں سے متاثرہ ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کی تصدیق کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی ریاست کی خودمختاری کی خلاف ورزی پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے اپنے بیان میں تحمل، سفارتی حل اور سنجیدہ بات چیت کے مطالبے کا اعادہ بھی کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ موجودہ بحران پر قابو پانے اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے سب سے مؤثر راستہ ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے یہ بھی کہا کہ وہ ان حملوں کا جواب دینے کا مکمل اور جائز حق رکھتا ہے جس سے اس کی خودمختاری، قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت ہوتی ہے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے شہریوں اور رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’متحدہ عرب امارات کسی بھی حالت میں اپنی سلامتی یا خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گا۔‘