ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. جیو نیوز کی سکرین کو ہیک کر کے نامناسب پیغام نشر کیا گیا، چینل کا اس سے کوئی تعلق نہیں: انتظامیہ

    پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام کو اس کی سکرین کو ہیک کر کے اس پر ’نامناسب‘ پیغام نشر کیا گیا ہے۔

    جیو نیوز کی انتظامیہ نے اس معاملے پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے چینل کو ’پچھلے 24 گھنٹوں سے ہیک کرنے کی اور اس کی نشریات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔‘

    ’اب کچھ دیر سے جیو نیوز کی نشریات کو مسلسل رُکاوٹ کا سامنا ہے۔‘

    چینل نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جیو نیوز کی سکرین کو ہیک کر کے ’نامناسب‘ پیغام نشر کیا گیا اور اس صورت حال کا جیو نیوز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    اتوار کی شام کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے نیوز چینل کی سکرین کے متعدد سکرین شاٹ شیئر کیے گئے، جن میں ایک سکرین شاٹ پر پاکستانی فوج مخالف پیغام درج تھا، جبکہ دوسرے سکرین شاٹس پر اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا نام درج تھا۔

    اسی دوران جیو نیوز کی نشریات دکھائی دینا بند ہو گئی تھی۔

    ادارے نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرے۔

  2. امریکی صدر کا نو ایرانی بحری جہاز اور نیول ہیڈکوارٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے نو ایرانی بحری جہازوں کو ’تباہ اور غرق‘ کر دیا ہے۔

    ٹرتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ابھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم نو ایرانی بحری جہازوں کو تباہ اور غرق کر چکے ہیں، ان میں کچھ بڑی اور اہم تھیں۔‘

    امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ وہ اب باقی بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے اور ’جلد ہی وہ سمندر کی تہہ میں تیرتی ہوئی نظر آئیں گی۔‘

    ان کا مزید کہتا تھا کہ امریکہ ایران بحری ہیڈکوارٹر بھی تباہ کر چکا ہے۔

  3. ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی ’جارحیت‘ کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ کا اعلان

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ کا مقابلہ کرے گی۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کی تنظیم ’مزاحمت کا راستہ نہیں چھوڑے گی۔‘

    نعیم قاسم نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو ’مجرمانہ‘ سرگرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’خدا پر اعتماد، رہنمائی اور حمایت کے ساتھ ہم اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔‘

    اس سے قبل ماضی میں حزب اللہ نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں بنے گی لیکن آیت اللہ خامنہ ای پر کسی بھی حملے کو ’سُرخ لکیر‘ سمجھا جائے گا۔

  4. تہران پر حملے آئندہ دنوں میں مزید بڑھیں گے: نیتن یاہو

    GPO

    ،تصویر کا ذریعہGPO

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف مہم جاری رکھنے کی ہدایات دی ہیں۔ یہ بیان انھوں نے اپنے وزیرِ دفاع، چیف آف سٹاف اور موساد کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کے دوران دیا۔

    تل ابیب میں آئی ڈی ایف کے کریا ہیڈکوارٹر کی چھت سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا’ کہ ’ہماری افواج اس وقت تہران کے دل پر بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ حملے کر رہی ہیں، اور یہ آئندہ دنوں میں مزید بڑھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ تکلیف دہ دن ہیں۔ کل یہاں تل ابیب میں اور اب بیت شیمش میں ہم نے اپنے عزیز لوگوں کو کھو دیا۔ میرا دل ان خاندانوں کے ساتھ ہے، اور آپ سب کی جانب سے زخمیوں کے لیے جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔‘

    نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل ’آئی ڈی ایف کی پوری طاقت‘ کو بروئے کار لا رہا ہے تاکہ ’اپنی بقا اور مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

  5. اسرائیل کا تہران کے وسط میں نئی فضائی کارروائی شروع کرنے کا اعلان

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انہوں نے تہران پر ایک اور فضائی حملے کی لہر شروع کی ہے۔

    آئی ڈی ایف کے مطابق یہ حملہ ایرانی دارالحکومت کے ’دل‘ پر مرکوز ہے۔ اس طرح کا ایک اعلان اتوار کی صبح بھی کیا گیا تھا۔

    فوج نے مزید کہا کہ ’مزاحمتی کوششیں ہر وقت جاری ہیں۔‘

  6. اسرائیل نے پاسداران انقلاب سے منسلک عمارتوں پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی

    Iran

    اسرائیلی فوج نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں شمالی تہران میں ایران کی پاسداران انقلاب سے منسلک دو عمارتوں پر حملہ دکھایا گیا ہے۔

    یہ عمارتیں بسیج، جو پاسداران انقلاب کی رضاکار نیم فوجی فورس ہے، اور ثاراللہ، جو پاسداران انقلاب کا مرکزی کمانڈ سینٹر ہے کے ہیڈکوارٹرز پر مشتمل ہیں۔

    ویڈیو، جسے ہم نے جیو-لوکیٹ کیا ہے، میں متعدد بڑے دھماکے اور اس کے بعد اٹھنے والے گردوغبار کے بادل دکھائی دیتے ہیں۔

    ثاراللہ ہیڈکوارٹر کی ایک اور عمارت کو گذشتہ سال 12 روزہ جنگ کے دوران آئی ڈی ایف نے نشانہ بنایا تھا۔ اُس وقت آئی ڈی ایف نے ڈرون فوٹیج جاری کی تھی جس میں عمارت کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا تھا، اور گذشتہ ماہ لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مقام کو اب صاف کر دیا گیا ہے۔

    آج صبح لی گئی ایک نئی سیٹلائٹ تصویر، جس کا ہم نے جائزہ لیا ہے، اس تازہ ترین حملے سے ہونے والے نقصان کی مکمل حد کو ظاہر نہیں کرتی۔

  7. امریکہ نے ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا، سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا ہے۔

    سینٹ کام نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے سنیچر کے روز آپریشن ایپک فیوری کے آغاز پر ایک جماران کلاس کورویٹ کو نشانہ بنایا۔

    سینٹ کام کے مطابق ’یہ جہاز اس وقت خلیجِ عمان میں چاہ بہار کی ایک پیئر پر ڈوبتے ہوئے سمندر کی تہہ میں جا رہا ہے۔‘

  8. ایران کے میزائل یو ایس ایس لنکن کے قریب بھی نہیں پہنچے، امریکی سینٹرل کمانڈ

    US Navy via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہUS Navy via Getty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن ایرانی میزائلوں کی زد میں نہیں آیا ہے۔

    پاسداران انقلاب نے اس سے قبل ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے چار بیلسٹک میزائلوں سے امریکی طیارہ بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سینٹ کام کے مطابق ’داغے گئے میزائل قریب بھی نہیں پہنچے‘، اور لنکن مسلسل طیارے روانہ کر رہا ہے تاکہ ’ایرانی حکومت سے لاحق خطرات کو ختم کر کے امریکی عوام کا دفاع کرنے کی بے رحمانہ مہم‘ جاری رکھی جا سکے۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن امریکی بحریہ کا پانچواں نیمٹز کلاس طیارہ بردار جہاز ہے۔ لنکن میں جدید ایف-35 سٹیلتھ جیٹ شامل ہیں جو دشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

  9. امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے ٹرمپ پر دباؤ بڑھا دیا ہے, برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو ایران کے خلاف آپریشن ایپک فیوری کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کی جانیں جا سکتی ہیں اور ’جنگ میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔‘

    اب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ کارروائی میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    فوجی ماہرین کے مطابق جنگوں میں اس نوعیت کے جانی نقصان متوقع ہوتے ہیں، چاہے وہ براہِ راست لڑائی میں ہوں یا بڑے پیمانے پر فوجی نقل و حرکت کے دوران حادثات کی صورت میں۔

    تاہم صدر ٹرمپ کے لیے ہر امریکی ہلاکت داخلی سیاست میں داؤ پر لگنے والی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اپنی کارروائی کو تیز، کامیاب اور نسبتاً ’صاف‘ دکھانا چاہتے ہیں تاکہ اسے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگوں سے مختلف ثابت کیا جا سکے، جن میں امریکی ہلاکتیں مسلسل سرخیوں میں رہتی تھیں۔

    آنے والے دنوں میں امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ بار بار یہ مؤقف پیش کریں گے کہ موجودہ کارروائی مختصر اور کامیاب ہے، نہ کہ ایک طویل اور غیر یقینی قوم سازی کی جنگ۔

  10. تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق، پانچ شدید زخمی

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائی میں تین امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں سنیچر کو شروع ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد پہلی مرتبہ رپورٹ کی گئی ہیں۔

    مزید پانچ فوجی ’شدید زخمی‘ ہوئے ہیں۔ سینٹ کام نے کہا ہے کہ تینوں ہلاک شدہ فوجیوں کے نام ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر جاری کیے جائیں گے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف آپریشن کا اعلان کرتے ہوئے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ’امریکی ہیروز کی جانیں جا سکتی ہیں، اور ہمیں جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ جنگ میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔‘

  11. ایران میں لڑکیوں کے سکول پر حملے میں 153 ہلاکتیں، اسرائیل کا لاعلمی کا اظہار

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایرانی حکام کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر گذشتہ روز حملے میں 153 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یہ دعویٰ ایران کی عدلیہ سے منسلک خبر رساں ادارے ’میزان‘ نے کیا ہے۔

    ایک اور ایرانی اہلکار نے کہا کہ سکول، جو پاسداران انقلاب کے مرکز سے تقریباً 600 میٹر دور واقع ہے، کو تین میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    بی بی سی نے حملے کے بعد کی ویڈیوز کی تصدیق کی ہے جن میں ایک عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے، لوگ جمع ہیں اور چیخ و پکار سنائی دیتی ہے۔ تاہم بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی ادارے ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکے کیونکہ ایران اکثر غیر ملکی صحافیوں کو ویزا دینے سے انکار کرتا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ انھیں اس علاقے میں کسی کارروائی کا علم نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے امریکیوں کو بھی یہ کہتے دیکھا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

  12. آیت اللہ خامنہ ای: ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا مسلم دنیا پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟, روحان احمد، بی بی سی اردو

    آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کی ہلاکت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک پیغام میں کہا گیا کہ ’اس عظیم جرم کا جواب دیا جائے گا‘ اور ’ہم اپنی پوری طاقت اور عزم کے ساتھ، ملت اسلامیہ اور دنیا کے آزاد عوام کی حمایت سے، اس عظیم جرم کے مرتکب افراد کو پچھتاوے پر مجبور کر دیں گے۔‘

    پزشکیان نے کہا کہ علی خامنہ ای نے 37 سال کے دوران ’حکمت اور بصیرت کے ساتھ اسلام کے محاذ کی قیادت کی اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران ایک مشکل دور سے گزرے گا۔‘

    کہنے کو 86 سالہ خامنہ ای ایران کے رہبرِ اعلیٰ تھے لیکن پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اہل تشیع مکتبہ فکر میں ان کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    عراق، پاکستان، شام اور دنیا کے دیگر مسلم ممالک میں جلسوں کے دوران ایل تشیع مسلمان خامنہ ای کی تصاویر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے نظر آتے ہیں۔

    اتوار کو پاکستان میں کراچی کے امریکی قونصلیٹ کے باہر اس وقت فائرنگ ہوئی جب مظاہرین نے بیرونی سیکیورٹی حصار کو عبور کرتے ہوئے اندر داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی اور اس دوران نو افراد کی ہلاکتیں بھی سامنے آئیں۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران اقوامِ متحدہ کے دفاتر نظر آتش کیے گئے اور حکام کے مطابق وہاں 10 افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں خامنہ ای کی موت کے دنیا پر کیا اثرات پڑیں گے؟

  13. ایران کے جوابی حملے: متحدہ عرب امارات میں تین اور کویت میں ایک ہلاکت کی تصدیق

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہShutterstock

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ کل سے اب تک ایرانی حملوں میں تین افراد ہلاک ہو چکے ہین۔

    ایک بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 167 میزائلوں اور 541 ایرانی ڈرونز سے نمٹا ہے۔

    اان ڈرونز میں سے 35 ملک کی حدود میں گرے، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 58 معمولی زخمی ہونے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ وہ ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

    دوسری جانب کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’کونا‘ نے ملک کی وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی حملوں کے آغاز بعد سے اس کے ایئر ڈیفنس نے 97 بیلسٹک میزائلوں اور 283 ایرانی ڈرونز کا روک کر تباہ کیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے کویتی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ خطے میں جاری پیش رفت کے درمیان ایک شخص ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

  14. ملک کی مسلح افواج دُشمنوں کو ’مایوس‘ کریں گی، فی الحال دُشمنوں کے ٹھکانوں کو کچل رہے ہیں: ایرانی صدر مسعود پزشکیان

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود مسعود پزشکیان ابھی سرکاری ٹی وی پر نظر آئے جس میں ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام دکھائی دے رہا ہے۔

    اُنھوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری قیادت کونسل نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پزشکیان خود اس تین رکنی عبوری کمیٹی کا حصہ ہیں، ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ عدلیہ کے سربراہ محسنی ایجہی اور آیت اللہ علی رضا اعرافی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

    مسعود پزشکیان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی مسلح افواج دشمنوں کو ’مایوس‘ کریں گی، اور وہ فی الحال ’دشمنوں کے ٹھکانوں کو کچل رہے ہیں۔‘

    قوم سے اپنے خطاب سے آدھا گھنٹہ قبل، اُنھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ شائع کی جہاں اُنھوں نے کہا کہ حالیہ حملہ ’اسلامی جمہوریہ کی حکومت کے اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھانے کے عزم میں خلل نہیں ڈالے گا۔‘

    اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر کی موت کا ’دکھ‘ ’لوگوں کے ذہنوں میں‘ طویل عرصے تک رہے گا۔

  15. ایران کا امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے پاسدران انقلاب نے امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن پر چار بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    امریکہ نے ایران کے اس دعوے پر تاحال کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

    یو ایس ایس ابراہم لنکن امریکہ کا پانچواں طیارہ بردار بحری جہاز ہے جس میں جدید ترین ایف-35 سٹیلتھ جیٹ طیارے شامل ہیں۔ یہ طیارے دُشمن کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    اس بحری بیڑے میں سٹرائیک گروپ کے پاس ٹوماہاک کروز میزائلوں سے لدے ڈسٹرائر بھی ہیں اور عام طور پر اس کے ساتھ جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز بھی ہوتی ہے جو یہی میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    بی بی سی ویریفائی کے ذریعے تصدیق شدہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، اسے 15 فروری کو عمان کے ساحل پر دیکھا گیا تھا۔

    امریکہ نے ایران کے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  16. ایرانی حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے، ہم مل کر فتح کے راستے پر چلیں گے: ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے کہا کہ ایرانی حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ایرانی عوام کی قوت اور بہادری سے یہ بہت جلد تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔

    ایرانی عوام کے نام اپنے پیغام میں ایران کے سابق ولی عہد کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کی اس جمہوریہ کے باقی حکام‘ ’ایرانی قوم کے سامنے ہتھیار ڈال دیں‘ اور ’میرے پروگرام اور عبوری نظام‘ کے ساتھ ’وفاداری‘ کا اعلان کریں۔

    رضا پہلوی کا کہنا تھا کہ فوج، پولیس اور سکیورٹی فورسز ’اسلامی جمہوریہ حکومت کے کرائے کے فوجیوں سے ایرانیوں کی حفاظت کے لیے‘ اپنے ہتھیار استعمال کریں۔

    اُنھوں نے بیرون ملک مقیم ایرانیوں سے اپنی کوششوں کو بڑھانے کی اپیل کی اور کہا کہ ہم مل کر فتح کے راستے پر چلیں گے اور اسلامی جمہوریہ کی حکومت کو گرائیں گے۔

  17. اسرائیلی شہر بیت شمس پر میزائل حملے میں نو افراد ہلاک: ایمرجنسی سروس

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

    اسرائیل کی میڈیکل ایمرجنسی اینڈ ریسکیو سروس کا کہنا ہے کہ ملک کے وسطی شہر بیت شمس میں ایک میزائل حملے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سروس کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے میں زخمی ہونے والے دو درجن افراد کو طبی امداد مہیا کر رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے ایران پر شہری علاقوں میں میزائل حملوں کے ذریعے ’معصوم شہریوں کے قتل‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

  18. ٹرمپ کی ٹیم ایران کی صورتحال کو کامیابی قرار دے رہی ہے مگر خطرات بڑھ رہے ہیں, بی بی سی نیوز کے برنڈ ڈبسمین جونیئر کا تجزیہ

    پام بیچ کی بادلوں سے ڈھکی اور بونداباندی والی صبح میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اپنے مار-اے-لاگو والی رہائش گاہ میں موجود ہیں۔ ان کے عوامی شیڈول میں کوئی تقریب درج نہیں، اور امکان ہے کہ صحافیوں کو وہ صرف اس وقت نظر آئیں گے جب وہ دوپہر کے بعد واشنگٹن کے لیے ایئر فورس ون پر سوار ہوں گے۔

    ٹرمپ رات گئے تک ٹروتھ سوشل پر سرگرم رہے۔

    مقامی وقت کے مطابق تقریباً ایک بجے انھوں نے ایک سخت بیان جاری کیا جس میں ایران کو خبردار کیا کہ وہ ’بہت سخت حملہ‘ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو امریکہ ’ایسی طاقت سے جواب دے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

    یہ جارحانہ زبان جزوی طور پر داخلی سیاسی عوامل کی عکاسی کرتی ہے۔ اب تک ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ایران میں کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اگر امریکی فوجی ہلاکتیں ہوئیں یا جنگ طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر گئی تو یہ تاثر مشکل میں پڑ سکتا ہے۔

    ٹرمپ کے کچھ حامی، خاص طور پر ان کے ’میگا‘ حلقے میں پہلے ہی اس امکان پر تحفظات ظاہر کر چکے ہیں کیونکہ انھوں نے انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ امریکہ کو ایسی طویل جنگوں سے بچائیں گے۔

    یہ واضح نہیں کہ صدر کب براہِ راست خطاب کریں گے، لیکن جب بھی کریں گے، غالب امکان ہے کہ وہ اس تاثر کو دبانے کی کوشش کریں گے کہ امریکہ کسی غیر یقینی مدت کے لیے قوم سازی کے عمل میں الجھ سکتا ہے۔

  19. سنیچر کو ایک منٹ میں ایران کے 40 کمانڈر ہلاک کیے: اسرائیل کا دعویٰ

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے سنیچر کو ایران پر اپنے پہلے حملے میں ایک منٹ میں 40 ایرانی کمانڈرز کو ہلاک کیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نادو شوشانی نے صحافیوں کو بتایا کہ: ’پہلا حملہ دن کی روشنی میں دو علیحدہ مقامات پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہم نے اسرائیل سے ہزاروں کلومیٹر دور خامنہ ای کے علاوہ 40 ایرانی کمانڈروں کو ہلاک کیا۔‘

    دیگر اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ملک پر ایرانی میزائل حملوں میں اب تک 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے اور دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیل میں اتوار کے روز بھی سائرن سنے گئے تھے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ انھوں زیادہ تر میزائل تباہ کر دیے تھے۔

  20. خلیجی ریاستوں کے لیے ایک سرخ لکیر عبور ہو گئی ہے, نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینگ گارڈنر کا تجزیہ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی میزائل حملے کے بعد جبل علی بندرگاہ سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے

    ایران کے دھماکہ خیز ڈرون اور میزائل اب اپنے اہداف کو فوجی تنصیبات سے کہیں آگے بڑھا رہے ہیں، جیسے کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کا (زیادہ تر خالی کر دیا گیا) فوجی اڈہ ہے۔

    اب لگژری ہوٹل اور شاپنگ مالز، بلند و بالا رہائشی عمارتیں، جدید ترین ایئرپورٹ کے روانگی ٹرمینل وقفے وقفے سے نشانہ بن رہے ہیں کیونکہ عرب خلیجی ریاستوں کے فضائی دفاع میں خلا پیدا ہو رہا ہے۔

    یہ مقامات کبھی اس سوچ کے ساتھ تعمیر نہیں کیے گئے تھے کہ ایک دن وہ ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کے لیے، جو موروثی بادشاہتیں ہیں اور جن کے لیے ایران کا انقلابی جوش ناقابلِ برداشت ہے، یہاں ایک سرخ لکیر عبور ہو گئی ہے۔

    یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ موجودہ ایرانی قیادت کے ساتھ، اگر وہ اس جنگ سے بچ گئی، کبھی معمول کے تعلقات قائم کر سکیں گے۔

    ایران اس سے پہلے بھی خلیجی ریاستوں پر براہِ راست اور بالواسطہ حملے کر چکا ہے۔ سنہ 2019 میں عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے سعودی آرامکو کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر ڈرونز کا ایک سلسلہ وار حملہ کیا، جس سے عارضی طور پر اس کی نصف برآمدات رک گئیں۔

    گذشتہ سال ایران نے قطر میں العدید ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے، لیکن پہلے سے اطلاع دے دی تھی۔ اور بحرین طویل عرصے سے ایران پر اپنے ملک میں باغیوں کو مالی امداد، تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔

    تاہم یہ سب کچھ اس صورتحال کے مقابلے میں معمولی ہے جس کا سامنا اب عرب خلیجی ریاستیں کر رہی ہیں۔