ٹرمپ کا ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’ہمارے تمام مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔‘ دوسری جانب برطانیہ نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے دفاعی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی

خلاصہ

  • ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایرانی حکومت نے ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی ایران نے مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی دفاعی قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے اور مارے جانے والوں میں ایرانی وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ، سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. ایران میں 130 سے زائد عام شہری ہلاک: ایرانی ہیومن رائٹس گروپ

    واشنگٹن میں قائم ایرانی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس گروپ کے مطابق سنیچر سے شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں کم از کم 133 ایرانی شہری ہلاک اور 200 زخمی ہوئے ہیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق 18 صوبوں میں کم از کم 58 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں تہران سب سے زیادہ متاثر ہوا۔

    گروپ نے فوجی ہلاکتوں، بنیادی ڈھانچے اور تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصان اور انٹرنیٹ معطل ہونے کے معاملات کی بھی نشاندہی کی ہے۔

  2. ’ایرانی حکومت کو خبردار کر دیا گیا تھا‘ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر تیز اور فیصلہ کن کارروائی کا اعلان

    @CENTCOM

    ،تصویر کا ذریعہ@CENTCOM

    تہران پر سورج نکلنے کے ساتھ ہی گذشتہ چند گھنٹوں سے جاری دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

    ایرانی دارالحکومت سنیچر کے روز ہونے والے درجنوں تباہ کن امریکی و اسرائیلی حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ رہا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے باوجود بمباری جاری رہے گی۔

    تقریباً ایک گھنٹہ قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی، جس میں امریکی میزائلوں کے ہدف پر پہنچنے اور دھماکوں کے مناظر دکھائے گئے اور کہا گیا کہ: ’ایرانی حکومت کو خبردار کیا گیا تھا۔ سینٹ کام ہدایت کے مطابق تیز اور فیصلہ کن کارروائی کر رہا ہے۔‘

    کچھ دیر قبل اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے بھی اعلان کیا کہ اس نے درجنوں لڑاکا جہازوں سے ایک اور حملوں کی لہر شروع کی ہے جس کا ہدف ایرانی میزائل سپلائیز اور دفاعی نظام تھے۔

    آئی ڈی ایف اپنی تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ ’اسرائیلی فضائیہ نے ایران بھر میں حکومت کے 30 سے زائد اہداف پر حملہ کیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچر، حکومت کے اہداف اور فوجی کمانڈ مراکز شامل ہیں۔‘

  3. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    BBC

    اگر آپ ابھی ابھی ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں تو اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں، یہ حملے سنیچر کی صبح شروع ہوئے تھے۔

    • ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای سنیچر کی صبح اپنے دفتر میں ہلاک ہو گئے۔
    • ایک ٹی وی میزبان نے کہا ملک میں 40 روزہ سوگ کا آغاز ہو گیا ہے اور جلد از جلد ان کا جانشین مقرر کیا جائے گا۔
    • ہلالِ احمر کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور بی بی سی کے میڈیا پارٹنر، سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا کہ تقریباً 40 ایرانی حکام ہلاک ہوئے ہیں۔
    • جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر حملے میں 108 ہلاکتیں ہوئیں جن میں زیادہ تعداد طالبات کی ہے۔ اس حملے میں متعدد طالبات زخمی بھی ہوئی ہیں
    • ردعمل میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں، امریکی اتحادیوں اور امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، جن میں دبئی، دوحہ، بحرین، اور کویت شامل ہیں۔
    • وزیراعظم سر کیر سٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ خطے میں ’ہم آہنگ دفاعی کارروائیوں‘ میں حصہ لے رہا ہے تاکہ برطانوی شہریوں اور خطے کے شراکت داروں کی حفاظت کی جا سکے۔
    • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای ’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک‘ تھے اور ان کی موت نے ایرانی عوام کے لیے ’اپنے ملک پر دوبارہ قابو پانے کا سب سے بڑا موقع‘ فراہم کیا ہے۔
    • انھوں نے کہا کہ امریکہ ایران پر بمباری جاری رکھے گا اور تہران میں ابھی بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
    • امریکہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ کا اعلان نہیں کر سکتا اور اس آپریشن نے قانون سازوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی کہا ہے کہ یہ فوجی کارروائی خطے میں امن کے لیے خطرہ ہے۔
  4. ’اس بڑے جرم کا جواب دیا جائے گا، ہم یہ جرم کرنے اور حکم دینے والوں کو پچھتانے پر مجبور کر دیں گے‘

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کی حکومت نے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ: ’اس بڑے جرم کا جواب دیا جائے گا اور یہ اسلام اور شیعہ تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس بار بھی ہم پوری طاقت کے ساتھ، امتِ اسلامی اور دنیا کے آزاد لوگوں کے اعتماد کے ساتھ، اس جرم کے کرنے والوں اور حکم دینے والوں کو پچھتانے پر مجبور کر دیں گے۔‘

  5. ایران کا مقبوضہ علاقوں اور امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے ’تباہ کن‘ فوجی کارروائی کا اعلان

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کریں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے: چند لمحوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں پر تاریخ کی سب سے تباہ کن جارحانہ کارروائی شروع کریں گی۔‘

  6. ’خامنہ ای اپنے دفتر میں مارے گئے‘, غنچے حبیبی آزاد، سینئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای سنیچر کی صبح اپنے دفتر میں ’امور انجام دیتے ہوئے‘ حملے میں مارے گئے۔

    بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ تہران میں واقع لیڈرشپ ہاؤس کمپاؤنڈ، جو خامنہ ای کا دفتر ہے، اس کے کچھ حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ خامنہ ای کی اپنے دفتر میں موت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے چھپنے کی رپورٹس ’دشمن کی نفسیاتی جنگ‘ تھیں۔

  7. تاحال رہبرِ اعلی کے جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے بیان کے بعد ایران کے کئی سرکاری میڈیا اداروں نے آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے پہلے کہا تھا کہ ایران کے کئی مقامات پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر مارے گئے ہیں۔

    بیان میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ 86 سالہ رہنما کس طرح ہلاک ہوئے، اور نہ ہی اس بات کا کہ ان کے بعد قیادت کون سنبھالے گا۔

  8. ’خامنہ ای کی موت ’ظالموں کے خلاف جدوجہد میں بغاوت‘ کا آغاز ہے‘, غنچے حبیبی آزاد، سینئر رپورٹر، بی بی سی فارسی

    جیسا کہ ہم نے ابھی رپورٹ کیا، ایران کے سرکاری ٹی وی نے علی خامنہ ای، ایران کے سپریم لیڈر کی موت پر 40 دن کے عوامی سوگ اور سات دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    اس وقت ایران کے سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی این این (IRINN) پر خامنہ ای کی تصاویر قرآن کی تلاوت کے پس منظر کے ساتھ دکھائی جا رہی ہیں اور سکرین کے بائیں اوپر کونے میں سیاہ بینر لگا ہوا ہے۔

    پیش کار نے اس سے پہلے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا بیان پڑھ کر سنایا، جس میں خامنہ ای کی موت کی باضابطہ تصدیق کی گئی اور اس کا الزام امریکہ اور اسرائیل پر لگایا گیا۔

    بیان میں کہا گیا کہ خامنہ ای کی ’شہادت‘ ظالموں کے خلاف جدوجہد میں ایک بغاوت‘ کا آغاز ہوگی۔

  9. بریکنگ, ایرانی ٹی وی نے علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کردی

    ایران کے نیوز نیٹ ورک نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

    اس خبر کے بعد ایرانی حکومت نے 40 روزہ سوگ اور 7 دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

    اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ پر لکھا ہے کہ ’تاریخ کے سب سے برے آدمیوں میں سے ایک خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ نہ صرف ایران کے لوگوں کے لیے بلکہ ان تمام عظیم امریکیوں اور دنیا کے مختلف ممالک کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور ان کے خونخوار ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے یا معذور ہو گئے ہیں۔‘

  10. بریکنگ, تہران میں علی الصبح مزید دھماکے

    تہران سے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آج صبح تہران میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    اسنا نیوز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ مشرقی تہران میں ایک دھماکہ ہوا۔

    ایسا لگتا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حملے دوسرے دن میں داخل ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے پہلے اعلان کیا تھا کہ اس نے درجنوں ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا ہے اور ایرانی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی نظام کے خلاف نئے جوابی حملے کیے ہیں۔

  11. حملوں میں ’سرخ لکیر‘ عبور کی گئی ہے: اقوامِ متحدہ میں چین کے نمائندے

    سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بات کرتے ہوئے چین کے ایلچی فو کانگ نے کہا کہ چین ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے گہری تشویش میں مبتلا ہے اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر فکر مند ہے۔

    انھوں نے خطے میں مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا: ’مسلح تنازع میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر عبور نہیں کی جانی چاہیےاور طاقت کا بے دریغ استعمال ناقابلِ قبول ہے۔‘

    انھوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

    چین نے مزید کہا کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔

  12. امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ’40 ایرانی حکام ہلاک‘، ایرانی سرکاری میڈیا کا خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسے کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کی صبح ہونے والے حملے میں رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    فارس نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ خامنہ ای کی ایک بہو بھی ان حملوں میں ہلاک ہو گئی ہیں۔‘

    اس سے قبل خامنہ ای کی بہو اور داماد کی ہلاکت کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں جنھیں بعد میں مسترد کر دیا گیا تھا۔

    ایرانی حکام نے اب تک رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی۔

    دوسری جانب امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹیلی جنس اور ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں تقریباً 40 ایرانی حکام ہلاک ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تمام افراد ایک ہی مقام پر موجود تھے یا مختلف جگہوں پر۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب کے کور کمانڈر اور وزیر دفاع بھی شامل ہیں۔ تاہم ایران نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں کی۔

  13. یہ صرف جارحیت نہیں بلکہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف بھی سنگین جرم ہے: اقوامِ متحدہ میں ایرانی مندوب

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے اقوامِ متحدہ میں مندوب امیر سعید ایراوانی نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ’بلا اشتعال اور پہلے سے منصوبہ بندی کی تحت ہونے والی جارحیت‘ کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک سکول پر دھماکے کے دوران 100 سے زائد بچے ہلاک ہوئے۔ یہ سکول ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اڈے کے قریب واقع ہے، جو حالیہ حملوں کا نشانہ رہا ہے۔

    ایراوانی نے کہا کہ ’ہلاک اور زخمی ہونے والے معصوم شہریوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ یہ صرف جارحیت نہیں بلکہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘

    واضح رہے کہ ابھی تک امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے سکول پر حملے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

  14. ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی ذمہ داریاں کون نبھائے گا؟

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای ایران پر حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    ایران نے ان کے اس دعوے کی تصدیق تو تاحال نہیں کی ہے، لیکن لوگوں کے دماغ میں یہ سوال ضرور ہوگا کہ ان کی غیر موجودگی میں رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں کون نبھائے گا۔

    ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں۔

    آئین کے اس آرٹیکل کے مطابق اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔

    اس کے بعد مرحلہ رہبرِ اعلیٰ کی تقرری کا آتا ہے۔ اس عہدے کے لیے کسی شخصیت کا انتخاب مجلس خبرگان رهبری کرتی ہے۔ یہ 88 فقہا کی ایک اسمبلی ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ برس کے بعد ہوتا ہے۔

    تاہم اس انتخاب سے قبل جانچ پڑتال کا کام نگہبان شوریٰ سرانجام دیتی ہے، جس میں سنہ 2024 میں خامنہ ای کے وفادار تمام نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

    مجلس خبرگان رهبری کو ’جتنی جلدی ممکن ہو سکے‘ رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے لیکن اس کے لیے معیاد کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اگر مجلس خبرگان رهبری دو تہائی اکثریت سے کسی کو رہبرِ اعلیٰ منتخب نہیں کرتی تو پھر تکنیکی طور پر عبوری کونسل ہی رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اُٹھاتی ہے۔

  15. ایران کے رہبر اعلیٰ کی موت کا دعویٰ: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنیچر کو نصف شب کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ تہران میں کیے گئے حملے میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد سے ایرانی حکام خامنہ ای کے زندہ ہونے سے متعلق کوئی کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے ہیں تاہم اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا تھا کہ خامنہ ای محفوظ اور زندہ ہیں۔
    • صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے رہبر اعلیٰ کی موت سے متعلق خبروں کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
    • صدر ٹرمپ کے خامنہ ای کی موت کے دعوے سے قبل اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’قوی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ اب نہیں رہے۔‘ تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ خامنہ ای ’ہلاک‘ ہو چکے ہیں۔ نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں۔
    • ٹرمپ نے خامنہ ای کی موت کے دعوے سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی قیادت کے بیشتر اراکین مارے جا چکے ہیں۔ اس دعوے کے بعد اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایران کی ماری جانے والی دفاعی قیادت میں سکیورٹی امور کے مشیر علی شامخانی، پاسدران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور وزیر دفاع عزیز نصیر زادہ سمیت سات اعلی عہدیدارن شامل ہیں۔
    • اس دوران ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’اے بی سی نیوز‘ کو بتایا ہے کہ رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پریشکان محفوظ ہیں جبکہ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اُن کی معلومات کے مطابق رہبر اعلیٰ زندہ ہیں۔
    • ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بَقائی کا مزید کہنا ہے کہ وہ ’اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تصدیق کر سکیں‘ کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نشانہ بننے والی ایران کی اعلیٰ قیادت محفوظ ہے یا نہیں۔
  16. ’ایرانی حکام نے تاحال خامنہ ای کی موت کی تصدیق نہیں کی‘, لیز ڈوسٹ، نامہ نگار برائے بین الاقوامی اُمور

    ایران کے رہبر اعلیٰ کے دفتر پر مشتمل کمپاؤنڈ پر سنیچر کی صبح ہونے والے اسرائیلی، امریکی حملے کے بعد ہی سے خامنہ ای کے زندہ یا مردہ ہونے سے متعلق مختلف رپورٹس ذرائع ابلاغ پر گردش کر رہی ہیں۔

    سیٹلائٹ تصاویر میں اُن کے کمپاؤنڈ کو شدید نقصان پہنچنے کے آثار واضح دکھائی دیتے ہیں۔ کمپاؤنڈ پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے پیش جانے والی پہلی وضاحت یہ تھی کہ انھیں (خامنہ ای) محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    بعد ازاں ایرانی ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ خبریں سامنے آئیں کہ وہ جلد ہی سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب کریں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

    سنیچر کی شام اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں یہ جملہ استعمال کیا کہ سپریم لیڈر ’اب نہیں رہے۔‘ تاہم انھوں نے اپنے خطاب میں واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ خامنہ ای ’ہلاک‘ ہو چکے ہیں۔

    اسی دوران اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں متعدد رپورٹس شائع ہوئیں جن میں نامعلوم سینیئر حکام کے حوالے سے خامنہ ای کی موت کے بارے میں بتایا جاتا رہا۔ مگر دوسری جانب ایرانی حکام مسلسل اس کی تردید کرتے رہے۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک میزبان نے، خامنہ ای کا نام لیے بغیر، عوام سے کہا کہ ’دشمن کے نفسیاتی پروپیگنڈا‘ کو نظرانداز کریں۔ مگر پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹ دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جس میں انھوں نے خامنہ ای کی مبینہ موت کا اعلان کیا۔

    ممکن ہے کہ ایرانی حکام اس ضمن میں کسی رسمی اعلان کی تیاری کر رہے ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایران کی مجلسِ خبرگان پہلے ہی اجلاس کر رہی ہو یا اس کی تیاری میں ہو، کیونکہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری اسی ادارے پر ہے۔

    یہ واقعات بلاشبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پرُاشوب تاریخ اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ اس کے کشیدہ تعلقات میں فیصلہ کن لمحہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

  17. ’موجودہ حالات‘ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اسرائیل کا دورہ منسوخ

    Marco Robio

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا پیر کو اسرائیل کا دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ نے اس کی وجہ خطے کے ’موجودہ حالات‘ بتائے ہیں۔

    محکمہ خارجہ نے گذشتہ روز کہا تھا کہ مارکو روبیو اسرائیل جا رہے ہیں تاکہ ایران سمیت کئی موضوعات پر بات چیت کریں۔

    ایک ترجمان نے کہا کہ ’موجودہ حالات کے باعث، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اب دو مارچ کو اسرائیل کا سفر نہیں کریں گے۔‘

  18. ’دبئی ایئرپورٹ کے ایک حصے کو نقصان پہنچا، عملے کے چار افراد زخمی ہوئے‘

    دبئی کی ایئرپورٹس اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ ایک واقعے میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایک حصے کو معمولی نقصان پہنچا ہے تاہم صورتحال پر فوراً ہی قابو پا لیا گیا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور وہ متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کو سنبھال رہی ہیں۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ اس واقعے، جس کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی، کے نتیجے میں عملے کے چار افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی منصوبے کے تحت ایئرپورٹ کے زیادہ تر ٹرمینلز کو پہلے ہی مسافروں سے خالی کروا لیا گیا تھا۔

    ایئرپورٹس اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی فراہم کی جائیں گی۔

  19. جلد ہی عظیم قومی جشن منایا جائے گا: ایران کے جلاوطن سابق ولی عہد

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت سے متعلق رپورٹس کا خیرمقدم کیا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’علی خامنہ ای، ہمارے دور کے ایک ظالم بادشاہ تھے، جو ایران کے ہزاروں بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کے قاتل تھے، مگر اب وہ تاریخ کے صفحات سے مٹ چکے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ خامنہ ای مارے جا چکے ہیں تاہم ایران میں حکام نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    رضا پہلوی نے مزید کہا کہ ’خامنہ ای کی موت کے ساتھ ہی ایرانی رجیم عملاً ختم ہو گیا ہے اور جلد ہی اس کی جگہ تاریخ کا کوڑا دان ہو گا۔‘

    رضا پہلوی نے ایرانی حکام کو خامنہ ای کا جانشین مقرر کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی اور خبردار کیا کہ ایرانی فوج، سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس فورسز کے لیے یہ عوام کے ساتھ شامل ہونے کا ’آخری موقع‘ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے عظیم قومی جشن کی شروعات ہے۔‘

    واضح رہے کہ رضا پہلوی سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ جلاوطنی اختیار کر گئے تھے اور اس وقت سے امریکہ میں مقیم ہیں۔

  20. ٹرمپ نے رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کے علاوہ ایران سے متعلق مزید کیا دعوے کیے؟

    White House

    ،تصویر کا ذریعہWhite House

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے انھیں ’تاریخ کے سب سے بُرے افراد میں سے ایک‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف ایران کے عوام کے لیے انصاف ہے بلکہ امریکہ اور دنیا بھر کے اُن لوگوں کے لیے بھی ہے جو خامنہ ای اور اُن کے ساتھیوں کے ہاتھوں مارے گئے یا زخمی ہوئے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ کارروائی جدید انٹیلیجنس اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ممکن ہوئی، اور اس موقع کو ایرانی عوام کے لیے ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع قرار دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہمیں سننے کو مل رہا ہے کہ ان کے بہت سے پاسداران انقلاب کے اہلکار اور دیگر سکیورٹی و پولیس فورسز اب لڑنا نہیں چاہتے اور ہم سے معافی چاہتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کل رات کہا تھا کہ ’اب وہ معافی حاصل کر سکتے ہیں، بعد میں موت ان کا مقدر بنے گی۔‘

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی سکیورٹی فورسز ’محبِ وطن عوام‘ کے ساتھ مل کر ملک کو دوبارہ عظمت کی طرف لے جائیں گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ خامنہ ای کی موت کے ساتھ ہی ملک ایک دن میں تباہ ہو گیا ہے اور بمباری جاری رہے گی جب تک مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں امن قائم نہ ہو جائے۔