ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. قطر میں امریکی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ

    قطر کی وزارت دفاع کے مطابق دو ایرانی بیلسٹک میزائلوں سے ملک کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ان میں سے ایک میزائل کو قطر کے فضائی دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا جبکہ دوسرا میزائل العدید میں امریکی اڈے پر گرا تاہم قطر کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  2. اسرائیلی فوج کا تہران بھر میں اہم سکیورٹی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے عربی زبان کے ترجمان آویخائے ادرعی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے تہران بھر میں درجنوں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اُن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’حملوں میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ایک نیم فوجی فورس بسیج کے ہیڈکوارٹرز کے علاوہ میزائل لانچ پیڈز اور دفاعی نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ آئی ڈی ایف ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے پر اپنے حملوں کو ’مزید تیز‘ کرتی رہے گی۔

  3. فضائی حملوں کے بعد تہران سے اٹھتا دھواں

  4. انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایران پر حملے کے خلاف مظاہرے: درجنوں افراد گرفتار، میڈیا اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو، سرینگر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایران پر حملے اور رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت پر اتوار کے روز سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ سرینگر اور کئی دیگر اضلاع میں شعیہ آبادیوں کی جانب سے ہونے والے امریکہ مخالف مظاہرے میں سُنی افراد کی بھی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

    مظاہروں کی شدت کو دیکھتے ہوئے پیر کے روز حکومت نے سکیورٹی پابندیاں نافذ کردیں اور مظاہروں کی اجازت نہیں دی گئی۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے پابندیوں کے باوجود مظاہرے کرنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے طاقت کا استعمال کرکے انھیں منتشر کردیا۔

    منگل کی رات کو بھی پولیس اعلان کیا کہ سکیورٹی پابندیاں جاری رہیں گی۔ حکام نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا عمل سات مارچ تک معطل رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    اس دوران موبائل انٹرنیٹ پر لگی پابندی کو بدھ کی صبح جزوی طور ہٹایا گیا اور پولیس نے بتایا کہ حالات معمول پر آنے تک ٹوجی سروسز دستیاب رہیں گی۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مظاہروں کو روکنے کے لئے منگل کی شب کئی علاقوں میں پولیس نے چھاپوں کے دوران درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ رکن اسمبلی تنویر صادق نے ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’ان میں بڑی تعداد نابالغ لڑکوں کی ہے اور ان کے والدین بچوں کے حراست میں لیے جانے کی وجہ سے ذہنی تناو کا شکار ہوگئے ہیں۔‘

    تاہم پولیس نے رکن پارلیمان آغارُوح اللہ اور سابق مئیر جُنید عظیم متو کے خلاف ’تشدد پر اُکسانے‘ اور ’امن عامہ میں رخنہ‘ ڈالنے کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ان دونوں اہم شخصیات کی جانب سے مظاہروں اور منگل کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کی تصویریں سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں۔

    رُوح اللہ اور متو نے الگ الگ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ذاتی حفاظت پر تعینات سکیورٹی عملے کو بھی ہٹادیا گیا ہے۔ جُنید کا کہنا تھا کہ ’ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ میں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت اور اس پر بی جے پی حکومت کی جانب سے خاموشی کے خلاف بیان دیا تھا۔ یہ سب مجھے خاموش کرنے کے لئے کیا گیا ہے لیکن میں اپنے ملک کے شہریوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھاتا رہوں گا۔‘

    آغا رُوح اللہ نے ایکس پر لکھا کہ ’جموں کشمیر پولیس اور سِول انتظامیہ میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی ہٹانے اور میرے فیس بُک اکاونٹ کو معطل کرنے سے وہ مجھے اُن کے مظالم کی مذمت کرنے سے روک سکتے ہیں۔‘

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گزشتہ دو روز کے دوران سکیورٹی پابندیوں کے باوجود ہونے والے مظاہروں کی خبریں شایع کرنے پر پولیس نے معروف انگریزی اخبارات ’گریٹر کشمیر‘، ’کشمیر لائف‘ اور ’رائزنگ کشمیر‘ کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو بھی بند کر دیا ہے۔

    ’کشمیر لائف‘ نے ایک بیان میں میٹا کے مختصر بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’ان ہینڈلز کو انڈیا کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے سیکش (B)(3)79 کے تحت معطل کر دیا گیا ہے۔‘

    ان پابندیوں کو مختلف سیاسی حلقوں نے اظہار رائے کی آئینی آزادی پر قدغن قرار دیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’جب میڈیا کی معتبر اور مقبول آوازوں کو بند کیا جاتا ہے تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے جسے غیر معتبر اور نااہل آوازیں پُر کرتی ہیں۔ حکومت کو سینسرشپ کا یہ سلسلہ فوراََ بند کرنا چاہیئے۔‘

  5. ’امریکہ کی توجہ ایران میں ہر اس چیز کو نشانہ بنانے پر جو اُن کو نقصان پہنچا سکتی ہو‘, یولینڈا نیل، نمائندہ بی بی سی برائے مشرقِ وسطی

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ بمباری مہم کے آغاز کے بعد سے ایران میں دو ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اسی دورانیے میں 500 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور دو ہزار سے زائد ڈرون داغے گئے ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف شدید فضائی طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ کارروائی کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران کیے گئے حملے سنہ 2003 میں عراق جنگ کے آغاز پر کیے گئے حملوں سے تقریباً دو گنا ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ایران کے خلاف جاری مشن میں 50 ہزار سے زائد فوجی، 200 لڑاکا طیارے، دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بمبار طیارے حصہ لے رہے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ مشرقِ وسطیٰ میں گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکہ کی سب سے بڑی فوجی کارروائی ہے۔

    ایڈمرل کوپر نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے ایران کے 17 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں، جس کے بعد ایرانی بحریہ مکمل طور ختم ہو چکی ہے۔ اب، اُن کے بقول، امریکہ کی توجہ ’ان تمام چیزوں کو نشانہ بنانے پر ہے جو ہم (امریکہ) پر حملہ کر سکتی ہے۔‘

    امریکہ اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ چار دنوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، سینکڑوں بیلسٹک میزائل، لانچرز اور ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

    گذشتہ چند گھنٹوں میں اسرائیل نے دوبارہ اعلان کیا کہ وہ ایران پر ’وسیع پیمانے پر حملہ‘ کر رہا ہے اور ساتھ ہی لبنان میں حزب اللہ کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

  6. ایران پر کارروائی کے بعد سے 9000 سے زائد امریکی وطن لوٹ چکے ہیں: امریکی صدر ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ’آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے بعد سے اب تک 9000 سے زائد امریکی شہری مشرقِ وسطیٰ سے محفوظ طریقے سے اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔‘

    انھوں نے اپنے حالیہ بیان میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ امریکی شہری ہیں، مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں اور وطن واپس آنا چاہتے ہیں، تو Step.State.Gov پر رجسٹر کریں۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مزید لکھا کہ ’امریکی محکمہ خارجہ آپ سے فوری طور پر رابطہ کر کے آپ کو وطن واپس لانے کے لیے کوشش کرے گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پہلے ہی خصوصی پروازیں مفت فراہم کر رہے ہیں اور کمرشل پروازیں بھی بک کر رہے ہیں، جن کی دستیابی وقت کے ساتھ بڑھنے کی توقع ہے۔‘

  7. ایران سے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل جاری

    ایران کی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کے روز مجموعی طور پر مزید 439 پاکستانی شہری چاہ بہار اور زاہدان کے راستے تفتان اور گوادر پہنچے۔

    گوادر میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ سرحدی پوسٹ گبد ریمدان سے 155 افراد کی واپسی ہوئی جن میں 59 طلبا اور 15 سفارتکار بھی شامل تھے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نے بتایا کہ اب تک ایران سے مجموعی طور پر 320 افراد گوادر پہنچے۔

    ادھر ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان میں مزید 284 افراد کی ایران سے واپسی ہوئی ہے۔

    ایک سرکاری اہلکار کے مطابق تفتان پہنچنے والوں میں 223 طالب علم اور 46 کاروباری شخصیات شامل تھیں۔

    واضح رہے تین دنوں کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کی واپسی ہوئی ہے۔

  8. بریکنگ, سعودی عرب کا دو کروز میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

    خبر رساں ارادے روئٹرز اور اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سرکاری سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق نو ڈرون حملوں کو بھی ناکام بنایا گیا ہے۔

    تاہم سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ میزائل اور ڈرون کہاں سے داغے گئے تھے۔

  9. برطانیہ کا اپنے شہریوں کو عمان سے نکالنے کے لیے خصوصی پرواز کا اعلان

    برطانوی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے کے خواہشمند برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے عمان سے خصوصی پرواز کا انتظام کیا ہے۔

    یہ پرواز چار مارچ کو مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے مسقط سے روانہ ہونے والی ہے اور پہلے مرحلے میں کمزور اور ضرورت مند افراد کو ترجیح دی جائے گی۔

    دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی شہری جنھوں نے متحدہ عرب امارات میں اپنی موجودگی رجسٹر کرائی ہے اور اس وقت عمان میں موجود ہیں، اگر وہ اس پرواز میں سوار ہونا چاہتے ہیں تو فوری طور پر یہ فارم پُر کریں۔

    لوگوں سے کہا گیا ہے کہ جب تک دفترِ خارجہ کی جانب سے انھیں بلایا نہ جائے، وہ ہوائی اڈے کا رخ نہ کریں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ واپسی کے لیے مزید پروازوں اور راستوں کی تلاش میں ایئرلائنز کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گا۔

  10. اسرائیل کا ایران سے داغے جانے والے میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اُن کی جانب سے شروع کی جانے والی حالیہ کارروائی کے جواب میں اسرائیل پر حملے کر رہا ہے۔

    اسرائیل حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران اسرائیل میں سائرن بجائے گئے اور ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کیا گیا۔

    سائرن گونجتے رہے اور اسرائیلی شہریوں کو موبائل فون پر الرٹس موصول ہوئے جن میں انھیں ہدایت کی گئی کہ وہ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں اور آئندہ اطلاع تک وہیں رہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے لبنان سے داغے گئے متعدد میزائلوں کی بھی نگرانی کی، جہاں اسرائیلی حملوں کا ہدف حزب اللہ رہی ہے۔

    اسرائیل کے مطابق میزائلوں اور دیگر پروجیکٹائلز کو تباہ کر دیا گیا اور فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  11. امریکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ میں تباہی کے مناظر

    منگل کے روز ایران، لبنان، عراق، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں پیش آنے والے پُرتشدد واقعات کی چند تصاویر پر ایک نظر

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشن3 مارچ کو وسطی تہران میں فردوسی سکوائر کے اطراف فضائی حملے کے بعد تباہ شدہ عمارتوں کا منظر۔
    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    ،تصویر کا کیپشن3 مارچ کو لبنان کے جنوبی نواحی علاقے بیروت میں اسرائیلی حملوں کے بعد تباہ شدہ عمارتوں سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشن3 مارچ کو ایرانی حملوں نے شمالی عراق کے خودمختار کرد علاقے کے شہر کوئے کو نشانہ بنایا۔ اس علاقے میں امریکہ کا ایک بڑا قونصل خانہ واقع ہے۔
    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشن3 مارچ کو اسرائیل کے شہر بنی براک میں ایرانی میزائل حملوں کے بعد تباہ ہونے والی گاڑیاں۔
    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشن3 مارچ کو متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک ڈرون کو مار گرانے کے بعد اس کے ملبے سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں فجیرہ کے تیل کے صنعتی زون سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
  12. اسرائیل کی لبنان کے ایک درجن سے زائد دیہات اور قصبوں سے رہائشیوں کو نکل جانے کی اپیل

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنلبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد کے مناظر

    اسرائیل نے لبنان کے ایک درجن سے زائد دیہات اور قصبوں کے رہائشیوں سے انخلا کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ آئی ڈئ ایف کی جانب سے ان علاقوں میں مزید حملے کیے جائیں گے جن کا ہدف ان کے بقول حزب اللہ ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائے ادرعی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نشاندہی کیے گئے علاقوں سے کم از کم ایک کلومیٹر دور چلے جائیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جو بھی شخص حزب اللہ کے اہلکاروں، تنصیبات اور ہتھیاروں کے قریب ہوگا، وہ اپنی جان کو پہنچنے والے نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا۔‘

    لبنان کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں اسرائیلی حملوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    جن دیہات اور قصبوں کے لیے اسرائیل کی جانب سے وارننگ جاری کی گئی ہے ان میں ربعہ ثلاثین، حولا، قلعت دبہ، قبریخہ، تولین خربہ، شقرا، صوانہ، مجدل سلم، تمریہ، طیّری، طَلوسہ، صفد، بَطیخ، جمیجمہ اور بنی حیّان شامل ہیں۔

  13. تیل کی قیمتوں میں اضافہ: ایشیائی سٹاک مارکیٹیں تیسرے روز بھی مندی کا شکار

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران ایشیا کی سٹاک مارکیٹس مسلسل تیسرے روز بھی مندی کا شکار رہیں۔

    جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس سات فیصد تک گرنے کے بعد اب تقریباً چھ فیصد کمی پر ہے جبکہ جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس کو تین فیصد کمی کا سامنا ہے۔

    آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس بھی منفی زون میں ہیں۔

    دوسری جانب بدھ کی صبح امریکہ میں ٹریڈ ہونے والے تیل اور برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں ایک اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اہم آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکرز بدستور رکے ہوئے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں نئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

  14. کویت میں فضا میں تباہ کر دیے جانے والے میزائل کے ٹکڑوں سے ایک بچی ہلاک، چار افراد زخمی: وزارتِ صحت

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    کویت کی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق ایک 11 سالہ بچی رہائشی علاقے میں گرنے والے میزائل کے ٹکڑوں کی زد میں آ کر ہلاک ہو گئی۔

    ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السند نے کہا کہ ’طبی عملے کی بھرپور کوشش کے باوجود بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکی۔‘

    السند کے مطابق اس کی والدہ سمیت خاندان کے چار افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق کویتی فوج نے کہا ہے کہ اس نے فضا میں کئی میزائلوں کو ناکارہ بنایا تھا، جس کے بعد ان کا ملبہ ایک رہائشی عمارت پر گرا جس کے نتیجہ میں یہ تمام افراد زخمی ہوئے۔

  15. قطر کا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے 10 جاسوس گرفتار کرنے کا دعویٰ

    REUTERS

    ،تصویر کا ذریعہREUTERS

    قطر کے سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ قطری سکیورٹی فورسز نے بدھ کی علی الصبح پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے لیے کام کرنے والے ’10 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔‘

    خبر رساں ادارے کے مطابق سات مشتبہ افراد کو ’ملک کے اہم اور عسکری بنیادی ڈھانچے سے متعلق خفیہ معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔‘

    مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاسوسی کے الزام میں جن تین دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ خاص طور پر ’ڈرون استعمال کرنا جانتے تھے۔‘

    سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ’تحقیقات کے دوران ملزمان نے ایرانی پاسدارنِ انقلاب کے ساتھ اپنے روابط کا اعتراف کیا ہے اور یہ بھی بتایا کہ انھیں جاسوسی اور تخریبی کارروائیاں انجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔‘

  16. ایران میں 181 بچوں سمیت ایک ہزار سے زائد شہری ہلاک ہو چکے: انسانی حقوق کے ادارے کا دعویٰ

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری سے اب تک ایران میں 1097 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہیں۔

    ایجنسی کے مطابق ان میں سے 181 بچے ایسے تھے جن کی عمر 10 سال سے کم تھی۔ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک 5402 عام شہری زخمی ہوئے ہیں جن میں 100 بچے شامل ہیں۔

    انسانی حقوق کے ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 104 حملے کیے گئے۔ ہرانا کے مطابق ان حملوں میں فوجی اڈوں، طبی مراکز اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    تاہم اس حوالے سے ادارے کا مزید کہنا ہے کہ مزید سینکڑوں ہلاکتوں کی موصول ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  17. لڑکیوں کے سکول پر فضائی حملے میں ہلاک 160 افراد میں سے اکثر کی نمازِ جنازہ ادا: ایرانی حکام

    ،ویڈیو کیپشنمناب میں ایرانی طالبات کے اجتماعی جنازے

    ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک سکول پر ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے بعض کی نمازِ جنازہ کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی حکام کے مطابق سنیچر کے روز اس سکول پر جو پاسدارنِ انقلاب کے ایک اڈے کے قریب واقع تھا پر فضائی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    سینکڑوں سوگوار افراد ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے سڑکوں پر جمع ہوئے۔

    ایرانی پرچم سے ڈھکے تابوتوں کو ہجوم کے بیچ سے گزرایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق سکول کو ہفتے کی صبح تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس وقت سکول کو نشانہ بنایا گیا اُس وقت بچوں کی بڑی تعداد واہاں موجود تھی۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے اس واقعے کو ’وحشیانہ عمل‘ قرار دیا۔

    ملک کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر 160 افراد کی قبریں کھودے جانے کی تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ ’امریکی صدر ایرانی عوام کے لیے جس مدد کی بات کر رہے تھے یہ وہ ہے۔‘

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی نے دھماکے کے بعد کے مناظر کی ویڈیوز کی تصدیق کی ہے، جن میں ایک عمارت سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے اور اردگرد جمع ہجوم میں کچھ لوگ خوف کے مارے چیخ رہے ہیں۔

    بین الاقوامی خبر رساں اداروں کو ایران میں کام کرنے میں مُشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہاں معلومات اکٹھا کرنے آسان نہیں رہا ہے۔

    سوموار کے روز بی بی سی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا کہ کیا سکول کی عمارت پر امریکی میزائل سے حملہ ہوا تھا؟

    اس سوال کے جواب میں روبینو نے کہا کہ ’امریکہ جان بوجھ کر کسی سکول کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ ہمیں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اور حقیقت میں ایسا کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔‘بی بی سی ایرانی حکام کی جانب سے بتائی گئی ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    تاہم امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے سے متعلق موصول ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے میں کسی بھی کارروائی سے ’آگاہ نہیں‘ ہے۔

  18. سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا: امریکی میڈیا

    spa.gov.sa

    ،تصویر کا ذریعہspa.gov.sa

    امریکی میڈیا کے مطابق پیر کے روز سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے کے اندر موجود سی آئی اے سٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    امریکہ اور سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ دو ڈرونز نے ریاض میں سفارتخانے کے کمپلیکس کو نشانہ بنایا، تاہم یہ واضح نہیں کہ جاسوسی مرکز حملے کا اصل ہدف تھا یا نہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حملے کے نتیجے میں سفارتخانے کی چھت کا ایک حصہ گر گیا اور اندر دھواں بھر گیا۔

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک وارننگ میں کہا گیا ہے کہ سفارتخانے کو "ساختی نقصان" پہنچا ہے اور عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ "جگہ پر ہی پناہ لیے رکھیں۔"

    ایرانی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں: سعودی عرب

    سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔ یہ بیان سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے نے جاری کیا ہے۔

    سعودی کابینہ نے زور دیا کہ مملکت ’اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے تاکہ اتحادی ممالک کی حمایت کی جا سکے‘ جو ایران کی جانب سے کسی ممکنہ حملے کا جواب دے رہے ہیں۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی کابینہ نے منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیا جس کی صدارت ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے کی۔

    اس اجلاس کے بعد تفصیلی اعلامیہ جاری کیا گیا۔

    اس اعلامیے میں کیا کہا گیا ہے؟

    اس اعلامیے کے مطابق اجلاس میں خطے کی تازہ ترین صورتحال اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی سلامتی پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی، سرزمین، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

    کابینہ کو حالیہ دنوں میں خطے کی صورتحال پر ہونے والے رابطوں اور مشاورت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ کابینہ نے ان برادر اور دوست ممالک کے رہنماؤں کے مؤقف کو سراہا جنھوں نے سعودی عرب، خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی۔

    کابینہ نے ان برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جن کی سرزمین ایرانی جارحیت کا نشانہ بنی۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب ان ممالک کی حمایت کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے تاکہ وہ ان حملوں کے جواب میں جو اقدامات کریں، ان میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    اجلاس میں ان سہولتوں اور مہمان نوازی کا بھی جائزہ لیا گیا جو سعودی عرب کی فضائی اڈوں پر پھنسے خلیجی ممالک کے شہریوں کو فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے دوسرے گھر میں آرام دہ رہ سکیں، جب تک کہ حالات ان کی محفوظ واپسی کی اجازت نہ دیں۔

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزیرِ اطلاعات سلمان الدوسری نے اجلاس کے بعد کہا کہ کابینہ نے خطے اور عالمی سطح پر سعودی عرب کی شرکت کے نتائج پر بھی غور کیا۔ کابینہ نے امید ظاہر کی کہ اسلامی تعاون تنظیم کے حالیہ ہنگامی اجلاس کے نتائج رکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی کے طریقہ کار کو بہتر بنائیں گے اور فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کے جائز مقصد کے لیے کوششوں کو تقویت دیں گے۔

  19. ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

    US Army Reserve

    ،تصویر کا ذریعہUS Army Reserve

    امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

    ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔ 39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔

    امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں مزید دو فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، تاہم ان کی شناخت ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو کہا کہ کویت میں ایک امریکی بنکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایران کا جوابی حملہ فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلا۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی شروع کرنے کے بعد اب تک صرف یہی چھ ہلاکتیں باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہیں۔

  20. دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ ایک ڈرون نے قونصل خانے کی عمارت کے ساتھ واقع پارکنگ لاٹ کو نشانہ بنایا۔

    انھوں نے کہا کہ ’جب میں یہاں آیا تو دبئی کے قونصل خانے سے متعلق میڈیا رپورٹس بھی دیکھیں۔ کیمرے کے سامنے آنے سے چند لمحے پہلے مجھے جو تازہ ترین اطلاع ملی وہ یہ تھی کہ ایک ڈرون نے بدقسمتی سے چانسیری عمارت کے ساتھ واقع پارکنگ لاٹ کو نشانہ بنایا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔‘

    مارکو روبیو نے مزید کہا کہ ’تمام عملہ محفوظ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم نے پہلے ہی اپنے سفارتی دفاتر سے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’لیکن ہماری سفارتخانوں اور سفارتی تنصیبات پر ایک دہشت گرد حکومت براہِ راست حملے کر رہی ہے۔‘

    قونصل خانہ شہر کے ایک گنجان آباد علاقے میں واقع ہے، جو برطانوی سفارتخانے اور سعودی قونصل خانے کے قریب ہے۔