ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. پینٹاگون نے کویت حملے میں ہلاک ہونے والے مزید دو فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی

    امریکی فوجی

    ،تصویر کا ذریعہUS Army Reserve Command

    ،تصویر کا کیپشنمیجر جیفری او برائن سنہ 2012 میں امریکی فوج میں بھرتی ہوئے تھے

    امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے مزید دو امریکی فوجیوں کی شناخت بھی ظاہر کر دی ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق کویت میں ایک فوجی تنصیب پر اتوار کو ایرانی حملے میں چھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے پانچویں فوجی کا نام میجر جیفری او برائن تھا جو سنہ 2012 میں امریکی فوج میں بھرتی ہوئے۔ وہ ڈیلاس کاؤنٹی آئیووا کے رہائشی تھے تاہم سنہ 2019 میں ان کی کویت میں تعیناتی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب پینٹاگون نے ابھی اعلان کیا ہے کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ کویت پر حملے میں مارے جانے والے چھٹے فوجی 54 سالہ رابرٹ ایم مرزان تھے، جن کا تعلق امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تھا۔ رابرٹ ایم مرزان کی تصویر ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ امریکہ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کی تھی، یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

    ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔ 42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔ 39 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کے رہائشی تھے۔ 20 برس کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے۔

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو کہا تھا کہ کویت میں ایک امریکی بنکر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ایران کا جوابی حملہ فضائی دفاعی نظام سے بچ نکلا۔

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی شروع کرنے کے بعد اب تک صرف یہی چھ ہلاکتیں باضابطہ طور پر تصدیق شدہ ہیں۔

  2. کویت کے ساحل پر آئل ٹینکر میں دھماکہ

    برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ کویت کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر میں ’بڑا دھماکہ‘ ہوا، جس سے تیل پھیل گیا ہے۔

    میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے مطابق اس دھماکے کے بعد کارگو ٹینک سے نکلنے والا تیل پانی میں موجود ہے، جس کے ماحولیاتی اثرات ہو سکتے ہیں، آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں جبکہ عملہ محفوظ ہے۔‘

  3. ایران پر حملہ: امریکی سینیٹ میں کانگریس سے منظوری لینے کی قرارداد مسترد

    امریکی سینیٹ

    ،تصویر کا ذریعہUS Senate

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں فوجی کارروائیوں کا حکم دینے کی طاقت پر قدغن لگانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

    امریکی سینیٹ میں کانگریس سے منظوری لینے کی قرارداد مسترد کر دی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اگر یہ قرارداد کامیاب ہو جاتی تو امریکی افواج کو اس وقت تک اس تنازع سے دور رہنا پڑتا جب تک امریکی کانگریس اس آپریشن کی منظوری نہیں دے دیتی۔

    سینیٹرز کی اکثریت نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی۔ 100 رکنی سینیٹ میں قرارداد 47 کے مقابلے میں 53 ووٹوں سے مسترد کی گئی۔

    ڈیموکریٹ ارکان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے کانگریس کو نظر انداز کیا اور اور جنگ شروع کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی۔

  4. یوکرین کی خلیجی ممالک کو ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاع میں مدد کی پیشکش

    زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین اپنے ماہرین کو خلیجی ممالک میں تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ اتحادیوں کو ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کے خلاف دفاع میں مدد فراہم کی جا سکے۔

    زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ دو روز میں متحدہ عرب امارات، قطر، اردن اور بحرین کے ہم منصبوں سے بات کی ہے۔

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے وزرا اور کمانڈروں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے تنازع پر مشاورت کے بعد انھیں یوکرین کے دفاع پر سمجھوتہ کیے بغیر اتحادیوں کی مدد کے لیے آپشن تیار کرنے کا کہا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں صدر زیلنسکی نے کہا: ’یوکرین زندگیوں کے تحفظ اور حالات کو مستحکم کرنے میں مدد کر سکتا ہے...‘

  5. سعودی عرب کا تین کروز میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    سعودی عرب کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے تین کروز میزائل مار گرائے ہیں۔

    سعودی عرب کی وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کے روز علی الصبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تین کروز میزائلوں کو الخرج شہر کے باہر گرا کر تباہ کر کیا گیا ہے۔‘

    اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ترجمان نے بتایا تھا کہ روبیو نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے فون پر بات کی ہے۔

    ترجمان ٹومی پگوٹ کے مطابق، ’سیکریٹری نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے پر سعودی عرب کے ردعمل پر وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔‘

    ترجمان کا کہنا ہے کہ گفتگو کے دوران، روبیو اور سعودی وزیر خارجہ نے ’ایرانی حکومت کی جانب سے علاقائی استحکام کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ خطے میں ہونے والی دیگر پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘

  6. قطر کا تہران سے حملے روکنے کا مطالبہ: ’ایران اپنے پڑوسیوں کو ایسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے جس سے ان کا تعلق نہیں‘

    قطر ایران

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے اور تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے آغاز کے بعد قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے پہلی مرتبہ اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کو فون کیا ہے۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں جس پر عرب ممالک تہران سے کافی ناراض ہیں۔

    ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، الثانی نے عراقچی کے اس دعوے کو ’صاف الفاظ میں مسترد‘ کیا کہ حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے ہونے والے حملوں کا نشانہ امریکی مفادات تھے نہ کہ قطر کی ریاست۔

    انھوں نے الزام لگایا کہ ایران ’اپنے پڑوسیوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور انھیں ایک ایسی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے‘۔

    قطری وزیرِ خارجہ نے ایران سے حملے ’فوری طور پر روکنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    بدھ کے روز ایکس پر جاری اپنے ایک پیغام میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا تھا کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

  7. تہران پر ’حملوں کا ایک نیا سلسلہ‘ شروع کر دیا ہے، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایرانی دارالحکومت تہران پر حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

    اسرائیل کی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف نے پورے تہران میں ایرانی حکومت سے تعلق رکھنے والے فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔‘

    ان حملوں کے اہداف کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اس کے صحافیوں نے بدھ کی رات دارالحکومت میں ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی ہے۔

    اس سے قبل، اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس کی فضائیہ نے مشرقی تہران کے ایک کمپاؤنڈ پر ’وسیع پیمانے پر حملہ‘ مکمل کر لیا ہے جس میں کمانڈ سینٹرز اور داخلی سکیورٹی اہلکار موجود تھے۔

  8. سپین کی امریکہ کو فوجی اڈے دینے کے دعوے کی تردید: ’جنگ کے متعلق ہمارا موقف تبدیل نہیں ہوا‘

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    سپین کے وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریز کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے متعلق ان کی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیل نہیں آئی ہے۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سپین نے امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    ید رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    الباریز نے ایک ہسپانوی ریڈیو چینل کو بتایا: ’مشرق وسطی میں جنگ، ایران پر بمباری اور ہمارے اڈوں کے استعمال کے متعلق ہسپانوی حکومت کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارا 'جنگ کی مخالفت' کا موقف واضح اور دوٹوک ہے۔

  9. امریکہ اور اسرائیل نے بڑی حد تک ایران کی فوجی صلاحیتیں تباہ کر دی ہیں, پال ایڈیمز، سفارتی نامہ نگار

    امریکی طیارہ

    ،تصویر کا ذریعہU.S. Navy via Getty Images

    اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد ایران کے جانب سے شدید ابتدائی ردعمل نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے تھے۔

    کیا امریکہ کے اتحادی اپنا دفاع جاری رکھ سکیں گے؟ کیا ان کے مہنگے فضائی دفاع نظام سستے ڈرونز کے پے در پے حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

    تاہم اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ خدشات کم ہو گئے ہیں۔

    امریکیوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز کے مقابلے میں ایران کی جانب سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد میں 86 فیصد کمی آئی ہے جبکہ ڈرون حملوں کی تعداد میں 73 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی بہت سی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، حالانکہ مغربی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے طویل عرصے تک لڑائی جاری رکھنے کے لیے کچھ ہتھیار سنبھال کر رکھے ہوں۔

    فضا میں بالادستی حاصل کرنے کے بعد، اسرائیلی اور امریکی جیٹ طیارے اب ایرانی حدود میں بلا کسی روک ٹوک کے پرواز کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

    اس کا مطلب ہے کہ اب انھیں محفوظ فاصلے سے فائر کیے گئے انتہائی مہنگے میزائل کی ضرورت نہیں رہی اور وہ اب سستے جی پی ایس گائیڈڈ بموں کے اپنے وسیع ذخیرے کو استعمال کر سکتے ہیں۔

  10. ٹرمپ کی تنقید کے بعد سپین امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین نے اب امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    یاد رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    تاہم اب لیویٹ کا کہنا ہے کہ سپین کو ٹرمپ کا واضح پیغام مل چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر کو توقع ہے کہ تمام یورپی اتحادی اس آپریشن میں تعاون کریں گے۔

  11. ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے: وائٹ ہاؤس

    کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے خود اس پرتشدد راستے کا انتخاب کیا ہے اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے ’جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی کے امریکی صدور ایران کے خلاف بہت کمزور تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’مین آف ایکشن‘ ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا مقصد تہران کے ’جوہری عزائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا‘ ہے۔

    لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ایران نے ’تشدد اور تباہی کا یہ راستہ چنا اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

  12. عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن، امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت

    عراق کی وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

    عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے ’تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، وزارت بجلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلیک آؤٹ کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب، بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی محفوظ طریقے سے عراق سے نکل سکیں، نکل جائیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ جب تک حالات ’روانگی کے لیے محفوظ نہ ہوں‘ اس وقت تک وہ کسی محفوظ جگہ پناہ لے لیں۔

  13. تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر سمیت متعدد عمارتوں کو شدید نقصان، نئی سیٹلائیٹ تصاویر جاری, بی بی سی ویریفائی

    پاسدارانِ انقلاب
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 27 فروری کو لی گئی تصویر۔

    بی بی سی ویریفائی نے تہران کی سیٹلائٹ تصویروں کا جائزہ لیا ہے جس میں ایرانی دارالحکومت میں اہم عمارتوں کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ تصاویر انٹیلیجنس فرم وینٹر نے لی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکاری تنصیبات جیسے کہ وزارتِ انٹیلیجنس اور صدارتی کمپلیکس پر حملے کیے گئے ہیں، اور ان عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    شہر کے شمال میں واقع پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جہاں کئی عمارتیں یا تو تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 3 مارچ کو لی گئی تصویر۔

    حکومتی اور فوجی مقامات کے ساتھ ساتھ، تصویروں میں شمالی تہران میں گاندھی ہسپتال کے آس پاس ہونے والے نقصانات کو بھی دکھایا گیا ہے، جہاں ایک گڑھا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ایک بڑا ٹرانسمیشن ٹاور بھی گرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    سوموار کے روز ہم نے اس ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں ہسپتال سے بچوں کو بظاہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ عمارت کے سامنے کے حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    تہران کا گاندھی ہسپتال
    ،تصویر کا کیپشنتہران کا گاندھی ہسپتال
  14. ایران نے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر مزید میزائل داغے جانے کا پتہ لگایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایات موصول ہوں، وہ اس پر عمل کریں اور اور جب تک کہ انھیں اجات نہ دی جائے، باہر نہ نکلیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہیں۔

  15. لبنانی وزارتِ صحت کی اب تک اسرائیلی حملوں میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، سوموار سے اب تک لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے، جبکہ 437 زخمی ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت بیروت میں آج اسرائیلی فضائی حملوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں رہنے والوں سے فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر شمال کی جانب نقل مکانی کا کہا ہے۔

    تازہ ترین کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے۔

    اسرائیلی فوج نے اس کے بعد سے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے جنوب میں فوج داخل کردی ہے، جس سے دسیوں ہزار لبنانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

  16. امریکہ کا 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو یا تو ڈبو دیا ہے یا انھیں نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی فوج کی سینٹرل کمان کی جانب سے یہ دعویٰ امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا ہے۔

    امریکی سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

  17. امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: ایرانی صدر کا خلیجی ممالک کو پیغام

    ایرانی مسعود

    ،تصویر کا ذریعہIran's Presidential website/WANA/Reuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا ہے کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔

    ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ان کی مدد سے ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے پاس ’اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔‘

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

  18. خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی‘: علی لاریجانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں لاریجانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ’مسخرہ حرکتوں‘ میں آ کر ٹرمپ نے ’امریکی عوام کو ایران کے ساتھ ایک غیر منصفانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ ان کے لیے ’اب بھی امریکہ سب سے پہلے ہے یا اسرائیل؟‘

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، اور اس کے بعد سے ملک بھر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتا تھا کہ اسرائیل کارروائی کرنے جا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکی افواج پر متوقع ایرانی حملوں کے پیش نظر امریکہ کو پیشگی اقدام اٹھانے۔

  19. شام میں گرنے والے ایرانی میزائل کی تصاویر

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کے شمال مشرقی شہر قماشلی میں گرنے والے میزائل کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ یہ شہر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

    تاحال یہ نہیں معلوم کہ یہ میزائل کب گرا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے کہا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

    ترکی کی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بیان کے مطابق میزائل کا ’عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔‘

    ترکی، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خطے میں تنازعہ مزید پھیل جائے۔‘

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  20. اسرائیلی فضائیہ کا ایران پر 5000 سے زائد بم گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس نے ایران پر پانچ ہزار سے زائد بم گرائے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ تہران کے آس پاس کا ایریا تھا۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے میزائل چھوڑے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہے۔