ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. امریکہ اور اسرائیل جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں: ایرانی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے حملوں میں جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’یہ حملے عالمی منڈیوں کو متاثر کر رہے ہیں، جس کے باعث توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، کرنسیاں عدم استحکام کا شکار ہو رہی ہیں اور دنیا بھر میں بسنے والے عام لوگوں کی قوتِ خرید بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہمارے لیے یعنی ایرانیوں کے لیے اس کی قیمت ناقابلِ بیان حد تک زیادہ ہے۔ ہمارے لوگوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے کیونکہ حملہ آور جان بوجھ کر شہری علاقوں اور ایسی جگہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ تکلیف اور جانی نقصان ہو سکے۔‘

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت اور جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

  2. ابوظہبی میں تباہ ہونے والے ڈرون کے ٹکڑے لگنے سے پاکستانی اور نیپالی سمیت چھ شہری زخمی

    ابوظہبی میں حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک ڈرون کو مار گرایا گیا جس کے بعد اس کے ملبے اور ٹکڑے لگنے کے باعث شہر کے دو مختلف مقامات پر چھ غیر ملکی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔‘

    ابوظہبی میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا ’اس واقعے کے نتیجے میں چھ پاکستانی اور نیپالی شہریوں کو معمولی اور درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں ہیں۔‘

  3. آذربائیجان میں مبینہ ایرانی ڈرون حملہ کی تصدیق شدہ ویڈیو میں بی بی سی نے کیا دیکھا؟, ایما پینگلی، بی بی سی نیوز

    BBC

    بی بی سی ویریفائی نے ایسی ویڈیوز کا جائزہ لیا ہے جن میں آذربائیجان کے نخچیوان علاقے کے ایک ہوائی اڈے پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے دکھائے گئے ہیں۔ نخچیوان آذربائیجان کا ایک خود مختار علاقہ ہے جو ایران اور آرمینیا کی سرحد سے ملتا ہے۔

    ایک تصدیق شدہ ویڈیو میں نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

    ایک اور ویڈیو میں ایک ڈرون کو ایئرپورٹ کی پارکنگ میں گرتا اور قریب ہی زور دار دھماکہ ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ قریبی شکرآباد گاؤں کے آس پاس پیش آیا۔

    تیسری تصدیق شدہ ویڈیو میں اسی دھماکے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا جا سکتا ہے۔

    آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے مطابق ایک ڈرون ایئرپورٹ کی ٹرمینل عمارت سے ٹکرایا جبکہ دوسرا ڈرون شکرآباد میں ایک سکول کی عمارت کے قریب گرا اور اس حملے میں دو شہری زخمی ہوئے ہیں۔

  4. بحرین کا 70 سے زائد ایرانی میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحرین کی انتظامیہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انھوں نے 75 ایرانی میزائل اور 123 ڈرونز کو فضا میں کامیابی سے نشانہ بنایا اور انھیں تباہ کر دیا ہے۔

    بحرین کی جانب سے جانے بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ جب سے ایران نے ملک کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، تب سے اب تک اس نے 75 ایرانی میزائل اور 123 ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔

    بحرین کی دفاعی افواج نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ’ایران کی جانب سے کیے جانے والے مسلسل حملوں کی لہروں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔‘

    بیان میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

    مزید کہا گیا کہ شہری اہداف کے خلاف میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

  5. ایران کی اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کی نئی لہر

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے آج صبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملک کے دفاعی نظام فعال کر دیے گئے ہیں کیونکہ آئی ڈی ایف نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کی نشاندہی کی گئی ہے۔‘

    اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ ’اس خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے‘ اور عوام سے سکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔‘

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہےکہ ’عوام سے درخواست ہے کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں کیوکہ ایسا کرنے سے ہی انسانے جانوں کو بچایا جا سکتاہے۔‘

  6. تہران پر اسرائیلی حملوں کی نئی لہر، فضا میں اُٹھتے دھوئیں کے بادل

    ایران کے دارالحکومت تہران میں آج صبح لی گئی نئی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں آسمان کی جانب اٹھتے گہرے اور گھنے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    یہ تصاویر شہر میں ہونے والے حالیہ دھماکوں یا حملوں کے بعد کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں۔

    Wana / Reuters

    ،تصویر کا ذریعہWana / Reuters

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

  7. ایران اسرائیل امریکہ جنگ: پاکستان میں ایرانی تیل کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے تک کا اضافہ

    BBC

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ایرانی تیل کی قیمتوں فی لیٹر چالیس روپے سے پچاس روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔

    ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ افراد نے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کو قرار دیا ہے۔

    بلوچستان کے اکثر علاقوں میں طویل عرصے پاکستانی تیل کمپنیوں کا تیل دستیاب نہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ایران سے متصل سرحدی علاقوں بلکہ زیادہ تر دیگر علاقوں میں لوگوں کا انحصار ایرانی تیل پر ہے۔

    تنازعہ کے بعد ایران کے فی لیٹر تیل کتنے روپے میں فروخت ہو رہا ہے؟

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایرانی تیل کے کاروبار سے وابستہ محمد دانیال نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ڈیڑھ ہفتے قبل تک کوئٹہ میں فی لیٹر ایرانی پیٹرول 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دو تین روز سے اس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جمعرات کو اس کے فی لیٹر کی قیمت 230 روپے تک پہنچ گئی ۔

    BBC

    ایران سے متصل سرحدی ضلع گوادر میں ایک ڈیلر ماجد اصغر نے بتایا کہ پہلے گوادر میں ایرانی پیٹرول کا فی لیٹر 130 سے 135 روپے فروخت ہورہا تھا لیکن دو تین روز سے اس کی قیمت 180 روپے ہوگئی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اسی طرح ڈیزل کے فی لیٹر کی قیمت 140 روپے سے بڑھ کر 200 روپے ہوگئی ہے۔

    نوشکی میں ایک ڈیلر محمد وسیم نے بتایا کہ تین چار روز سے ایرانی پیٹرول کی قیمت 190 روپے سے 220 روپے ہوگئی ہے۔

    اگرچہ ماشکیل شہر ایرانی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن وہاں اس کی قیمتیں دیگر علاقوں میں زیادہ ہیں۔

    ماشکیل سے تعلق رکھنے والے تاجر رہنما میر کبیر ریکی نے بتایا کہ ایران کے کشیدہ صورتحال سے پہلے ماشکیل میں ایرانی پیٹرول 170 سے 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا لیکن اب اس کی قیمت 230 سے 250 تک پہنچ گئی ہے۔ اسی تناسب سے ڈیزل کی بھی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چونکہ ایران کی جانب سے جو چھوٹی گاڑیاں سرحد تک تیل لاتی ہیں وہاں جنگ کی وجہ سے وہ گاڑیاں نہیں آرہی ہیں جس کے باعث ایرانی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

    BBC

    ’اگر ایران سے تیل بند ہوگیا تو بلوچستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہوگا‘

    بلوچستان کے ایران کے ساتھ پانچ اضلاع کی سرحدیں لگتی ہیں جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

    نہ صرف ان اضلاع میں پاکستانی کمپنیوں کا تیل دستیاب ہے بلکہ کوئٹہ اور چند ایک دوسرے بڑے شہروں کے سوا بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ان کمپنیوں کا تیل نہیں ملتا ہے۔

    اس صورتحال کے باعث بلوچستان کے اکثر علاقوں کا انحصار گزشتہ چار پانچ دہائیوں سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل پر ہے۔

    تاجر رہنما کبیر احمد ریکی نے کہا کہ انھوں نے اپنے علاقے میں آج تک پاکستانی تیل کمپنیوں کا ایک لیٹر تیل بھی استعمال نہیں کیا ہے۔

    انھوں کہا کہ اگر یہ جنگ طویل ہوگیا اور اس کے نتیجے میں ایرانی تیل آنے کا سلسلہ بند ہوگیا تو بلوچستان میں ایندھن کا بڑا بحران پیدا ہوگا۔

    Anees Ahmed Baloch

    ،تصویر کا ذریعہAnees Ahmed Baloch

    خیال رہے کہ بلوچستان میں ایران سے ماضی میں بڑی مقدار میں تیل آتا تھا جو کہ بلوچستان سے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں سمگل ہوتا تھا تاہم گزشتہ تین چار سال سے سرکاری حکام نے اس حوالے سے بہت سختی کی ہے۔

    ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے کچھ عرصہ قبل صحافیوں کو ایک نشست کے دوران بتایا کہ ایرانی تیل کی وجہ سے ملکی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچ رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی تین سال قبل بلوچستان میں ایران سے روزانہ ایک کروڑ 20 لاکھ لیٹر روزانہ آتا تھا لیکن اب اس میں کمی کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ اس وقت صرف بلوچستان کے سرحدی علاقوں اور ان سے جڑے دیگر دوردراز علاقوں کی ضرورت کے مطابق روزانہ صرف 8 لاکھ لیٹر تیل آرہا ہے۔

    BBC
  8. بحرین میں دھماکوں کی اطلاعات

    Vantor / Reuters

    ،تصویر کا ذریعہVantor / Reuters

    بحرین کے دارالحکومت منامہ کے اوپر مزید دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، یہ بات شہر میں موجود خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتائی ہے۔

    اسی طرح آج صبح قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

  9. ایران کا خلیجِ فارس میں امریکی ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق اس کی بحریہ کے جنگی دستوں نے جمعرات کی صبح یعنی آج خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان کے مطابق جہاز کو ’خلیج فارس کے شمال میں ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا‘ اور وہ ’اس اس امریکی ٹینکر کو اب بھی آگ لگی ہوئی ہے‘، یہ بات پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن کو بتائی گئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی کہا کہ انھیں آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل ہے جو خلیجِ فارس کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔

    تاہم بی بی سی اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ برطانیہ کی یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن نے اس سے قبل کہا تھا کہ جمعرات کی صبح کویت کے ساحل کے قریب خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔

    یوکے میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن کے مطابق ’لنگر انداز ایک ٹینکر کے کپتان نے بتایا کہ انھوں نے جہاز کے بائیں جانب ایک زور دار دھماکہ سنا جس کے بعد ایک چھوٹی کشتی وہاں سے دور جاتی ہوئی نظر آئی۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’پانی میں کارگو ٹینک سے تیل بہہ رہا ہے جس سے ماحول پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’جہاز میں پانی داخل ہو گیا ہے، تاہم آگ لگنے کی کوئی اطلاع نہیں اور عملہ محفوظ اور خیریت سے ہے۔‘

  10. امریکہ نے ’بغیر کسی وارننگ‘ کے ’انڈین بحریہ کے مہمان‘ جہاز کو تباہ کر دیا: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سری لنکا کے قریب ایرانی بحری جہاز کے تباہ ہونے سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو اس پر پچھتانا پڑے گا۔

    عباس عراقچی نے ایرانی جہاز کو ’انڈین بحریہ کا مہمان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ’بغیر کسی وارننگ‘ کے اسے تباہ کر دیا۔

    یاد رہے کہ اس ایرانی جنگی جہاز نے گذشتہ دنوں انڈیا کی میزبانی میں ہونے والی ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ نامی فوجی مشق میں حصہ لیا تھا۔

    سری لنکن حکام نے گذشتہ روز اپنی سمندری حدود کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس دینا سے 32 افراد کو ریسکیو کرنے اور 80 لاشیں نکالے جانے کی تصدیق کی تھی۔

  11. قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دھماکوں میں آواز

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں موجود اے ایف پی کے رپورٹر کے مطابق شہر میں دھماکوں میں آواز سنی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ آج صبح قطر نے دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہائش پذیر افراد کے انخلا کا عمل شروع کیا تھا۔

  12. ایرانی طالبات کے سکول پر حملہ، امریکی وزیر دفاع سے سوال

    ،ویڈیو کیپشنایرانی طالبات کے سکول پر حملہ، امریکی وزیر دفاع سے سوال
  13. اسرائیل کے ایرانی شہر قم اور اصفہان پر حملے، اسرائیل کا مرکزی ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا

    اسرائیلی ڈیفینس فورسز کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ رات ایرانی شہر قم میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو تباہ کر دیا جو ’اسرائیل پر فائر کرنے کے لیے تیار‘ تھا۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اصفہان شہر میں بھی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب پانچ روز قبل ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے آغاز پر بند ہونے والا اسرائیل کا بن گوریون ایئرپورٹ دوبارہ کھول دیا گیا ہے اور یونان کے دارالحکومت ایتھنز سے پہلی پرواز نے یہاں لینڈ بھی کیا۔

    اس پرواز کے ذریعے بیرون ملک پھنسے اسرائیلی شہریوں کو واپس لایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی حکام نے حفاظتی پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے فضائی حدود کو مرحلہ وار جزوی طور پر دوبارہ کھولنے کی منظوری دی ہے۔

  14. ایران جنگ کا چھٹا روز: آج کی اہم پیشرفت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ جنگ آج چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے:

    • اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی صبح ایران نے اس کی جانب متعدد میزائل داغے ہیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
    • لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیل کے فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے ہیں۔
    • اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد پہلے دو دن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد تہران چھوڑ گئے۔ ادارے کے مطابق لبنان میں 58 ہزار افراد اجتماعی مقامات پر پناہ لے رہے ہیں جبکہ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہے۔
    • اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں تقریباً 20 ہزار بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں۔
    • قطر نے اپنے دارالحکومت دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہائش پذیر افراد کا انخلا شروع کر دیا ہے۔
  15. ایران نے ترکی پر میزائل داغنے کی تردید کر دی

    ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف نے ترکی پر میزائل داغنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ اپنے پڑوسی اور دوست ملک ترکی کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اس کی سرزمین پر کسی بھی میزائل داغنے کی تردید کرتا ہے۔‘

    واضح رہے کہ گذشتہ روز ترکی نے کہا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے اس کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا۔

    ترکی کی وزارت دفاع نے بتایا تھا کہ اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  16. ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ انڈین بندرگاہیں استعمال نہیں کر رہا: انڈیا کی وضاحت

    انڈیا نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکی بحریہ ایران کے خلاف جنگ میں اس کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ پر اس دعوے کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ امریکا کے ایک چینل ’ون امریکہ نیوز نیٹ ورک‘ پر یہ دعویٰ کہ امریکی بحریہ اس کی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے، غلط اور جعلی ہے۔

    انڈین وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے یہ بھی لکھا کہ ’ہم آپ کو ایسے بے بنیاد اور من گھڑت تبصروں کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ ’ون امریکہ نیوز نیٹ ورک‘ پر ایک سابق امریکی فوجی عہدیدار اور سابق سیکرٹری دفاع کے مشیر ڈگلس میکگریگر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ہمارے اڈے تباہ کیے جا رہے ہیں۔ ہماری بحری تنصیبات تباہ ہو رہی ہیں۔ ہمیں انڈیا اور اس کی بحریہ کے اڈوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔‘

    ان کے اس بیان پر انڈیا میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کی ترجمان سپریا شری نیتے نے سوال کیا کہ ’کیا مودی حکومت ایک ایسی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو اپنے بحری اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے جہاں بے قصور شہریوں کو مارا جا رہا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  17. دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہائش پذیر افراد کا انخلا شروع, سمیر ہاشمی، بی بی سی نامہ نگار

    قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق اس نے احتیاطی اقدام کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارتخانے کے قریب رہنے والے شہریوں کو وہاں سے نکالنا شروع کر دیا ہے۔

    وزارت نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ضروری حفاظتی اقدامات کے تحت ان کے لیے مناسب رہائش فراہم کی گئی ہے۔

    قطر کی جانب سے یہ اقدام سعودی عرب اور کویت میں امریکی سفارت خانوں اور دبئی میں امریکی قونصل خانے پر رواں ہفتے ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

    اس ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے امریکی شہریوں کو فوری طور پر مشرق وسطیٰ چھوڑنے کا انتباہ جاری کیا تھا یہاں تک کہ خطے سے کئی پروازیں بھی منسوخ یا معطل کر دی گئی تھیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ 28 فروری سے اب تک تقریباً 17,500 شہری مشرق وسطیٰ سے واپس اپنے ملک آ چکے ہیں۔

  18. افغانستان اور پاکستان کے درمیان جھڑپیں: ترکی اور روس کی ثالثی کی پیشکش، چینی سفیر کی افغان وزیرِ خارجہ سے ملاقات

    جھڑپیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنشام کے وقت گولہ باری اور دھماکوں کے باعث سرحد کے قریب رہنے والوں کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے اور اس دوران دونوں جانب سے شدید جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق گزشتہ شب بھی مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار اور پکتیا جبکہ جنوبی قندھار اور زابل میں درۂ خیبر لائن کے قریب طالبان اور پاکستانی افواج کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

    جہاں سرحد کے دونوں اطراف رہنے والوں میں شدید بے یقینی اور خوف دیکھا جا رہا ہے وہیں روس، ترکی اور چین نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے میں جمعے کو افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے تھے۔

    حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مرتبہ پاکستان نے کابل اور قندھار جیسے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب پاکستان میں ’جوابی کارروائیوں‘ سے متعلق افغان وزارت دفاع کے بیان میں ڈیورنڈ لائن کے اطراف پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

    افغان وزارتِ دفاع وزارت نے دعویٰ کیا کہ لڑائی کے آغاز سے اب تک متعدد شہری ہلاک ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انتہائی محتاط رہ کر صرف دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘

    ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہANADOLU AGENCY

    ،تصویر کا کیپشنترکی نے کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کے لیے اپنی کوششیں بڑھانےکی پیشکش کی ہے

    روس کی ثالثی کی پیشکش

    ماسکو میں افغان سفارتخانے کے مطابق روس کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے طالبان حکومت کے سفیر گل حسن سے ملاقات میں کہا کہ روس افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل حل کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    روس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

    ملاقات میں طالبان سفیر نے الزام عائد کیا کہ ’جھوٹی میڈیا رپورٹس افغانستان کی حقیقت سکے برعکس معلومات پھیلا رہی ہیں‘ تاہم انھوں نے اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی۔

    یاد رہے کہ روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا ہے۔

    ترکی کی کابل اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوشش کی پیشکش

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان نے پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ ترکی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی قائم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

    بی بی سی پشتو کے مطابق ترک وزیر اعظم نے زور دیا کہ سفارت کاری کی طرف واپسی اور جنگ بندی کا دوبارہ آغاز خطے میں تشدد کو کم کرنے اور استحکام قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ ترکی اس سے قبل بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے نفاذ کے لیے ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے تاہم ترکی، قطر اور سعودی عرب کی کوششوں کے باوجود اب تک دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مکمل ختم نہیں کیا جا سکا۔

    چینی سفیر اور امیر متقی کی ملاقات

    ،تصویر کا ذریعہTaliban Government

    چینی سفیر اور امیر متقی کی ملاقات

    طالبان حکومت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق کابل میں چین کے سفیر ژاؤ شِنگ نے افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے جس میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

    بیان کے مطابق امیر خان متقی نے زور دیا کہ افغانستان ایسے تعلقات چاہتا ہے جو باہمی احترام، داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات پر مبنی ہوں۔

    چینی سفیر نے موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ بیرونی عناصر خطے کے استحکام اور ترقی کے خلاف کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ عناصر کون ہیں یا ان کا مقصد کیا ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک زیادہ ہم آہنگی اور تعاون کے ذریعے ان منفی اثرات کو روک سکتے ہیں۔

    پاکستانی فوج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں‘

    بی بی سی پشتو کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہائشیوں نے بتایا ہے کہ شام کے وقت گولہ باری اور دھماکوں کے باعث ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔

    درۂ خیبر لائن کے قریب رہنے والے کئی خاندانوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ وہ بھاری گولہ باری اور دھماکوں کے باعث اپنے گھروں کو چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی افواج کے درمیان جھڑپیں شام کے وقت شروع ہوتی ہیں، جس سے ان کے گھروں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ جھڑپیں اکثر سورج غروب ہونے کے وقت ہوتی ہیں،جب خاندان رمضان میں روزہ افطار کر رہے ہوتے ہیں۔

    لنڈی کوتل کے رہائشی فرید خان شنواری نے روئٹرز کو بتایا ’دن کے وقت مکمل خاموشی ہوتی ہے، لیکن جیسے ہی ہم افطار کے لیے بیٹھتے ہیں، دونوں جانب سے توپوں کی گولہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ ہم بہت مشکل حالات میں روزہ افطار کرتے ہیں کیونکہ کبھی نہیں معلوم ہوتا کہ گولہ کب گھر پر آ گرے گا۔‘

    سرحد کے دوسری جانب بھی اسی طرح کی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں، جہاں لڑائی کے باعث خاندان اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہیں۔ سینکڑوں افراد صحرائی علاقوں میں خیموں کے نیچے مقیم ہیں جبکہ بعض کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق تقریباً 20 ہزار خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے ہیں جبکہ خوراک کی ہنگامی تقسیم معطل ہونے سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  19. ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دیے: اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے جمعرات کی صبح متعدد میزائل اسرائیل کی جانب داغے ہیں۔

    اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی ایمرجنسی سروس نے بتایا ہے کہ ان میزائلوں سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    اے ایف پی کے صحافیوں نے اس سے قبل یروشلم میں دھماکوں کی آوازیں سنی تھیں۔

  20. امریکہ اور کرد گروہوں کے درمیان بات چیت کی بازگشت: ایران، عراق، شام اور ترکی میں بسنے والی اس قوم کی تاریخ کیا ہے؟

    کرد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    متعدد بین الاقوامی میڈیا اداروں نے حالیہ کشیدگی کے دوران یہ خبر دی ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ کے تناظر میں عراق کے کردستان خطے کے بااثر افراد اور مختلف کرد گروہوں سے بات چیت کی ہے۔

    یہ رپورٹس حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کے بارے میں ہونے والی بحث کے درمیان شائع ہوئی ہیں۔

    ایک ایسا موضوع جسے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ’احمقانہ‘ قرار دیا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ انھیں زمینی دستے بھیجنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ ’میں دوسرے صدور کی طرح یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی لیکن اگر ضرورت پڑی تو انھیں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’صدر نے مشرق وسطیٰ میں شراکت داروں، اتحادیوں اور علاقائی رہنماؤں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔ انھوں نے شمالی عراق میں ہمارے پاس موجود اڈے کے بارے میں کرد رہنماؤں سے بھی بات کی لیکن کوئی بھی ایسی رپورٹ کہ صدر نے کسی منصوبے پر اتفاق کیا، مکمل طور پر غلط ہے۔‘

    دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے تین ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروپ حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ آیا عراقی کردستان سے ایران پر حملہ کرنے کے لیے زمینی کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی سرحدی پٹی اور عراقی کردستان کے علاقے میں موجود ایران کے مخالف کرد گروپوں کے اتحاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انھیں اس طرح کے حملے کے لیے ’امریکی فوج اور انٹیلیجنس مدد‘ کی ضرورت ہے جبکہ ’ہتھیاروں کی فراہمی اور سی آئی اے کے کردار‘ جیسے آپشنز پر بھی بات چیت کی گئی۔

    ایران کی مخالفت کرنے والی کرد جماعتوں کے ایک رہنما نے بی بی سی عربی کے نامہ نگار فراس کلیانی کو بتایا کہ ان کی پارٹی عراقی کردستان سے اپنی افواج کو ’مناسب وقت پر‘ ایران منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اسرائیلی صحافی بارک راوید نے میں آکسیوکس میں رپورٹ کیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں دو اہم کرد رہنماؤں مسعود بارزانی (کردستان ڈیموکریٹک پارٹی) اور بفیل طالبانی (جلال طالبانی کے بیٹے اور کردستان یونین کے رہنما) سے فون پر بات کی۔

    باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے آکسیوکس نے لکھا کہ یہ رابطے کردوں کے ساتھ مزید ہم آہنگی پیدا کرنے اور جنگ کی پیشرفت کے دوران ان کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی کوششوں کے طور پر کیے گئے تھے۔

    آکسیوکس نے یہ اطلاع بھی دی کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو حالیہ مہینوں میں کردوں کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات مضبوط بنانے کے خیال کی حمایت کرتے ہیں۔

    اسی دوران امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے کئی موجودہ اور سابق امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں اس بات پر بات چیت جاری ہے کہ آیا امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کو ایران کے مخالف کچھ کرد گروہوں کو مسلح کرنے کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔

    سی این این کے ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ابھی زیر غور ہے اور امریکی حکومت کے اندر اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں۔

    کُرد: شام، ترکی، عراق اور ایران میں بسنے والی اس قوم کی تاریخ کیا ہے؟

    ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بابل و نینوا کے میدانوں میں اور پہاڑوں پر رہنے والے قدیم ترین لوگ ہیں۔ یہ علاقے اب جنوبی ترکی، شمال مشرقی شام، شمالی عراق، شمال مغربی ایران اور جنوب مغربی آرمینیا کہلاتے ہیں۔

    لیکن کردوں کی سب سے زیادہ تعداد ایران، عراق اور ترکی کے متصل علاقوں میں رہتی ہے اور اس کے بعد کردوں کی بڑی تعداد شام کے شمال مشرقی علاقے میں آباد ہے اور ان علاقوں کو عموماً کردستان کہا جاتا ہے۔

    کردستان کے ہر ملک میں اس کے اپنے منفرد معنی ہیں۔ ایران میں کرد علاقوں پر مشتمل ایک صوبے کا نام ہی کردستان ہے، جبکہ عراق میں کردوں کے علاقے کو کرد خود مختار خطہ (کردستان ریجنل گورنمنٹ) کہا جاتا ہے لیکن آئینی لحاظ سے یہ عراق کا ایک صوبہ ہے۔

    انسائیکلو پیڈیا بریٹینیکا کے مطابق اس کے علاوہ کردوں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایران کے شمال مشرقی صوبے خُراسان میں بھی آباد ہے۔

    عراق کے کردوں پر صدام حسین کے دور میں بد ترین مظالم ڈھائے گئے۔ صدام حسین پر کردوں کی نسل کُشی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔ اسی دورِ حکومت میں کردوں پر 80 کی دہائی میں کیمیائی ہتھیار بھی پھینکے گئی جس سے ہزاروں کرد شہری ہلاک ہوئے۔

    اور جب ایران کے شمال مغرب کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے کردوں نے سنہ 1946 میں ایک آزاد کردستان بنانے کی کوشش کی تو انھیں اس وقت کی ایرانی حکومت نے سختی سے کچل دیا۔