مشرقِ وسطیٰ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کی طرف سے معلومات کی آمد کا سلسلہ جاری
بی بی سی کے نمائندے مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک میں موجود ہیں اور اس تنازع سے متعلق معلومات قارئین تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لبنان
ایلس کڈی اس وقت بیروت میں موجود ہیں، جہاں سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں کیونکہ اسرائیل نے لوگوں کو اپنے گھر فوراً چھوڑنے کو کہا ہے۔
لبنان کے دارالحکومت میں لوگ حملوں میں تباہ ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے میں اپنی چیزیں ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس ملبے کے قریب موجود ایک رہائشی نے ایلس کو بتایا کہ ’ہم پیر کو یہاں سے نکل گئے تھے، ہمیں ڈر تھا کہ یہاں کچھ ہو جائے گا۔ ہمیں آج یہاں نہانے اور کچھ سامان لینے آنا تھا۔‘
وہ ملبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’خدا کا شکر ہے یہاں صرف ہماری چیزیں تھیں اور ہم نہیں تھے۔‘
قطر
باربرا پلیٹ اُشر نے آج دوحہ میں اینٹی کرافٹ گن کی آوازیں اور دھماکے سنے تھے۔ موبائل فون پر الرٹس آ رہے تھے کیونکہ خطرہ بڑھ گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
باربرا کہتی ہیں کہ یہ بات واضح ہے کہ قطر کے لوگ اس خطے میں جاری حملوں کے دوران کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
اسرائیل
یولانڈے نیل نے ہمیں بتایا ہے کہ پانچ دن بعد آج بن گوریون ایئر پورٹ کھل گیا ہے۔ آج صبح ایتھنز سے وہاں پہلی فلائٹ پہنچی تھی، جس میں وہ لوگ سوار تھے جو دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے تھے۔
شمالی عراق
اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ ایران کی کُرد اپوزیشن جماعتوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی کچھ فورسز ایران کی سرحدی حدود میں داخل ہو چکی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کردستان فریڈم پارٹی کی رہنما حنا حسین یزدان پنا نے اورلا کو بتایا کہ ’یہ بات درست نہیں ہے، اس پر یقین نہ کریں۔ کوئی بھی جنگجو وہاں نہیں گیا ہے۔‘
انھوں نے ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حکومت بہت ظالم ہے اور ہمارے پاس سے جدید ہتھیار صرف کلاشنکوف ہے۔‘


























