ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
  • ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
  • فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
  • اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے

لائیو کوریج

  1. برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے اور ایسا اکتوبر سنہ 2022 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

    اس وقت تیل کی قیمتیں 116 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح سے نیچے آ رہی تھیں جو روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران کے نتیجے میں بڑھی تھیں۔

    فی الحال کسی کو معلوم نہیں کہ اس بار قیمتیں کس حد تک بڑھ سکتی ہیں۔ قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے جمعے کے روز اپنی ایک پیش گوئی سے تیل کی منڈیوں میں اُس وقت تشویش پیدا کر دی جب انھوں نے یہ کہا کہ اگر صورتحال طویل عرصے تک ایسی ہی رہی اور تیل کی ترسیل بندش کا شکار رہی تو قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے جو ان کے بقول ’دنیا کی معیشتوں کو تباہ کر سکتی ہے۔‘

    دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی پیداوار خلیجی ریاستوں سے آتی ہے جبکہ دنیا کی 17 فیصد گیس بھی اسی خطے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس وقت تقریباً 300 تیل بردار جہاز خطے میں رکے ہوئے ہیں کیونکہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی کسی بھی کشتی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    اب اس ساری صورتحال کا دارومدار امریکہ پر ہے کہ وہ کس طرح اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرتا ہے، چاہے وہ امریکی بحریہ کی جانب سے حفاظت فراہم کرنے ہو یا پھر انشورنس پالیسیوں کی صورت میں۔

    اگر قیمتوں میں اضافہ مختصر مدت کے لیے ہو تو شاید اسے برداشت کرنا نسبتاً آسان ہو، لیکن اگر صورتحال ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہی تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ اس سے خوراک، گھریلو اشیا، ایندھن، توانائی اور حتیٰ کہ رہائشی قرضوں مارگیج کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

  2. ’ٹرمپ نے جنگ کے جلد خاتمے کے امکان کو رد کر دیا‘, بی بی سی واشنگٹن سے ڈینیل بُش کا تجزیہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران سے ’غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے‘ کے مطالبے کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر اس امکان کو رد کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلنے والی اس جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے کوئی آسان راستہ نکل سکتا ہے۔

    ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ جنگ جاری رکھنے والا ہے، تب تک کہ جب تک تہران کی حکومت مکمل طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔ ٹرمپ نے ’رجیم چینج‘ یعنی ’حکومت کی تبدیلی‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی، جس سے امریکی انتظامیہ کے سینئر حکام نے اس حملے کے آغاز کے بعد سے گریز کیا ہے، جو چھ دن پہلے شروع ہوا تھا۔

    تاہم ٹرمپ کے مکمل ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو موجودہ ایرانی نظام کے خاتمے کے علاوہ کسی اور طرح سمجھنا مشکل ہے۔

    ٹرمپ نے یہ مؤقف بھی دہرایا کہ جنگ کے بعد ایران کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ایران اس پر کیا ردعمل دیتا ہے یہ ابھی دیکھنا باقی ہے لیکن اب تک ایرانی حکومت نے جلد ہتھیار ڈالنے کے کوئی آثار نہیں دکھائے ہیں۔

  3. متحدہ عرب امارات کا نو بیلسٹک میزائل اور 109 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کے روز ملک کے فضائی دفاعی نظام نے نو بیلسٹک میزائلوں اور 109 ڈرونز کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے حکام نے مزید بتایا کہ 112 ڈرونز کی نشاندہی بھی کی گئی تھی، جن میں سے 109 کو فضا میں ہی مار گرایا گیا جبکہ تین ڈرونز ملک کے اندر مختلف مقامات پر گرے۔

    جنگ شروع ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات پر حملوں میں تین افراد ہلاک اور 112 زخمی ہو چکے ہیں۔

    اماراتی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’مسلح افواج ہر قسم کے خطرات اور ملک کی سلامتی کو کمزور کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ ملک کی خودمختاری، استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  4. بیروت پر اسرائیل کے حملے جاری، شہر کے مخلتف علاقوں میں سے اُٹھتے دھوئیں کے بادل

    لبنان کے دارالحکومت بیروت سے مسلسل تصاویر موصول ہو رہی ہیں جہاں اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق وہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    بی بی سی کو موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں اور سڑکیں ملبے سے بھری ہوئی ہیں۔

    بیروت کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان حملوں کے دوران خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ’حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز‘ اور ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  5. اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے 500 ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے لبنان میں حزب اللہ کے 500 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں حزب اللہ کے 70 اہلکار مارے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر 70 راکٹ داغے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

    اسی حوالے سے لبنان کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشیدگی کے بعد سے اب تک لبنان میں اسرائیلی بمباری سے 217 افراد ہلاک اور 798 زخمی ہوئے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  6. حزب اللہ کی شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

    حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرحد سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے تک علاقے خالی کر دیں۔ یہ بیان حزب اللہ نے ٹیلیگرام پلیٹ فارم پر عبرانی زبان میں جاری کیا گیا ہے۔

    اپنے بیان میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ ’آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ سرحد سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے تک علاقے خالی کر دیں۔‘

    بیان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں میں فوج کی بڑی تعداد کو عینات کیا جا رہا ہے۔‘

    یہ انتباہ اس کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے کہ جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے اسرائیلی افواج کی جانب سے ان علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے۔

  7. لوگوں کی بڑی تعداد نمازِ جمعہ میں شریک، تہران سے موصول ہونے والی چند تصاویر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ اور اسرائیل کے تہران شدید حملوں کے باوجود جمعہ کے اجتماعات میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    تہران میں امام خمینی گرینڈ مسجد کے باہر اور شہر کے دیگر حصوں میں بڑی تعداد میں ایرانیوں نے جمعہ کی نماز ادا کی۔

    امریکہ اور اسرائیل کے شدید حملوں کے باوجود مرد و خواتین کی بڑی تعداد نمازِ جمعہ میں شرکت کے لیے گھروں سے نکلے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع ہونے والے حملوں کے بعد یہ پہلی نمازِ جمعہ تھی کہ جو لوگوں نے ان حالات میں ادا کی۔

    تہران کی سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں جب جمعہ کی ادائیگی کے لیے آئے تو اُن کے ہاتھوں میں ایرانی پرچم تھے اور اکثر نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ‌ ای کی یاد میں اُن کی تصاویر بھی اُٹھا رکھی تھیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  8. آبنائے ہرمز میں نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائلز سے کشتی کو نشانہ بنایا گیا: میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ آبنائے ہرمز میں ایک کشتی کو پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا۔

    میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کے مطابق جمعے کے روز عمان کے شمال میں چھ ناٹیکل میل کے فاصلے پر یہ واقعہ پیش آیا۔ بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’کشتیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر کو دینے کا بھی کہا گیا ہے۔‘

    آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے مصروف آبی تجارتی گُزر گاہ ہے جہاں سے بڑی تعداد میں تیل لے جانے والے بحری جہازوں کا گُزر ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ایک جانب یعنی اس کے شمال میں ایران اور دوسری جانب یعنی جنوب میں عمان واقع ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی کشتی کو جو اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے اُسے نشانہ بنائے گا۔

    BBC
  9. غیر مشروط سرینڈر کے علاوہ ایران سے کوئی ڈیل نہیں ہو گی: ٹرمپ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے غیرمشروط سرینڈر کے علاوہ کوئی ڈیل نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ’سرینڈر اور ایک عظیم اور قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے، ایران کو معاشی طور پر بہتر اور پہلے سے مضبوط بنائیں گے۔‘

  10. ایرانی صدر کا ثالثی کی کوششوں کی جانب اشارہ

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’چند ممالک نے ثالثی کی کوششوں کا آغاز کیا ہے۔‘

    ان کا اشارہ گزشتہ کئی دنوں سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملوں کی جانب تھا۔

    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ بات واضح رہے کہ ہم خطے میں دیرپا امن چاہتے ہیں لیکن اپنی قوم کا وقار اور خودمختاری کا دفاع کرنے میں بلکل نہیں ہچکچائیں گے۔‘

    مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ثالثی کے دوران ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے جنھوں نے اس تنازع کو شروع کیا اور ایرانی عوام کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔‘

  11. بریکنگ, عراقی کردستان میں حملہ، امریکی آئل فیلڈ سے تیل کی پیداوار معطل

    عراقی کردستان میں ایک امریکی تیل کی کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ آئل فیلڈ پر حملے کے بعد وہاں تیل کی پیداوار معطل کر دی گئی ہے۔

    کردستان کی مقامی حکومت نے ایکس پر جاری ایک بیان مںی کہا ہے کہ یہ آئل فیلڈ جو امریکی کمپنی ’ایچ کے این اینرجی‘ کے زیرِ انتظام ہے اور دہوک صوبہ میں واقع ہے، کو عراق میں مسلح اور غیر قانونی گروہوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق اس حملے سے آئل فیلڈ کو بھاری نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ اس مقام سے پیداوار فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق ایک سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ جمعرات کو دو ڈرونز کے ذریعے کیا گیا۔

    عراق میں کردستان کا علاقہ ایک خودمختار خطہ ہے جسے کردستان علاقائی حکومت چلاتی ہے۔

  12. اسرائیلی فوج کا تہران میں ایرانی فوج کا زیرِ زمین اہم بنکر تباہ کرنے کا دعویٰ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی دفاعی افواج کے مطابق تہران میں ایک زیرِ زمین بنکر کو تباہ کر دیا گیا ہے، جسے ایران کے سابق ریبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے استعمال کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

    یہ حملہ 50 اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی کارروائی کے بعد کیا گیا۔

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کو اس بنکر کے استعمال کرنے سے پہلے ہی ’ہلاک کر دیا گیا تھا۔‘ آئی ڈی ایف کے مطابق ’یہ بنکر رہبرِ اعلیٰ کے لیے ایک ’محفوظ ہنگامی کمانڈ سینٹر‘ کے طور پر استعمال ہونا تھا۔‘

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بنکر تہران کے مرکزی علاقے میں کئی گلیوں تک پھیلا ہوا تھا اور اسے ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بدستور استعمال کر رہے تھے۔‘

  13. ایران جنگ: گزشتہ ہفتہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے کیسا رہا؟

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے میزائل انفراسٹرکچر، فوجی تنصیبات اور قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اب مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران میں داخل ہو گیا ہے۔

    اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں تہران نے اسرائیل سمیت خطے کے مختلف مقامات پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

    جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد اب تک کی صورتحال کا خلاصہ:

    سنیچر:سنیچر کے روز اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے۔ ایک گھنٹے کے اندر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر آٹھ منٹ کی ویڈیو جاری کر کے اپنے ملک کی شمولیت کی تصدیق کر دی۔ سنیچر کی ہی شام تک ٹرمپ نے کہا کہ ان حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ حکام حملوں میں مارے گئے ہیں۔

    اتوار:پھر اگلے دن اتوار کو ایران نے اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی اتحادیوں پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے۔ حملوں کا نشانہ متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر اور عمان بنے۔

    سوموار:سوموار کے روز اسرائیلی کارروائی لبنان تک پھیل گئی۔ اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ وہ ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسی دن جنگ کے معاشی اثرات بھی ظاہر ہونا شروع ہوئے، جب تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں اور فضائی کمپنیوں کے شیئرز گر گئے۔

    منگل:منگل تک ایران کے اندر تباہی کے پیمانے کے بارے میں رپورٹس سامنے آنے لگیں۔ ایران میں موجود ایک صحافی نے بتایا کہ دارالحکومت تہران کا ’ہر حصہ‘ ہی امریکہ ارو اسرائیلی حملوں کی زد میں ہے۔

    بدھ:بدھ کو یہ تنازع، جو زیادہ تر فضائی حملوں تک محدود تھا، سمندر تک پھیل گیا۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا کہ امریکہ نے بحرِ ہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز ڈبو دیا ہے۔

    جمعرات:جمعرات کو بحران مزید بڑھ گیا جب آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایران کے دو ڈرونز نے ملک کو نشانہ بنایا، جن میں ایک حملہ ایک ہوائی اڈے پر بھی ہوا۔ تاہم ایران کی جانب سے آذربائیجان پر اس ڈرون حملے کی تردید کی گئی۔

    جمعہ (یعنی آج):آج جمعہ کو تہران کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے حملے شروع کیے تب سے اب تک ایسی شدید بمباری نہیں ہوئی جیسی جمعرات اور جمعے کی درمیان شب کو ہوئی، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ حملے مزید تیز کیے جائیں گے۔

  14. اوول آفس میں امریکی صدر اور فوجیوں کے لیے دعائیہ تقریب

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں پادریوں کے ایک گروپ نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ہلاک ہو جانے والے امریکی فوجیوں اور صدر کے لیے مشکل وقت میں کامیابی کے لیے دعائیں کیں۔

    ،ویڈیو کیپشن’مشکل وقت میں کامیابی‘ کے لیے وائٹ ہاؤس میں دعائیں
  15. ایران اسرائیل امریکہ جنگ: آبنائے ہرمز کے قریب متاثر ہونے والی تجارتی آمدورفت

    امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ایک اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے ہونے والی تجارت بدستور مشکلات کا شکار ہے۔

    جیسے جیسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق انتباہ جاری کر رہا ہے، ممکنہ معاشی اثرات پر تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز جنوبی ایشیا کی معیشتوں کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ ہے اور اگر یہاں رکاوٹ یا بندش پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور عالمی تجارت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    اس تصویر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے قبل کی بحری آمدو رفت اور جنگ کے اثرات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    BBC/Marine Traffic

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Marine Traffic

  16. اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک عنقریب توانائی کی برآمدات روکنے پر مجبور ہو جائیں گے: قطر کے وزیرِ توانائی کا دعویٰ

    قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قطر کے وزیرِ توانائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو خلیجی ممالک چند ہفتوں میں توانائی کی برآمدات روکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

    قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ تنازع جاری رہا اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو تمام توانائی پیدا کرنے والے خلیجی ممالک چند ہفتوں میں برآمدات بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

    یاد رہے کہ ایران کے اسرائیل اور امریکا پر جوابی حملوں کے پیش نظر قطر نے پیر کو ایل این جی(مائع قدرتی گیس) کی پیداوار روک دی تھی۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قطر کی ایل این جی پیداوار عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد ہے اور ایشیائی و یورپی منڈیوں کی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    قطر کے وزیر توانائی سعد بن شریدہ الکعبی نے کہا کہ ’اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آئندہ چند دنوں میں خلیج کے تمام برآمد کنندگان کو معاہدے پر عمل درآمد روکنا پڑے گا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر یہ جنگ چند ہفتے جاری رہی تو دنیا بھر میں جی ڈی پی کی شرحِ نمو متاثر ہوگی اور توانائی کی قیمتیں بڑھیں گی، کچھ مصنوعات کی قلت ہوگی اور فیکٹریوں کی سپلائی چین متاثر ہوگی۔‘

    سعد الکعبی کے مطابق اگر جنگ فوراً ختم بھی ہو جائے تو قطر کو معمول کی ترسیلات کے نظام میں واپس آنے کے لیے ’ہفتوں سے مہینوں‘ لگ سکتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ ہمارے تمام توسیعی منصوبوں میں تاخیر کا باعث بنے گا۔ اگر ہم ایک ہفتے میں واپس آتے ہیں تو اثر کم ہوگا، لیکن اگر ایک یا دو ماہ لگے تو صورتحال مختلف ہوگی۔‘

    سعد الکعبی نے دعویٰ کیا کہ اگر جہاز اور ٹینکر آبنائے ہرمز سے نہ گزر سکے تو دو سے تین ہفتوں میں خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

    یہ دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ ہے جو بڑے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی قیمتیں بھی بڑھ کر 40 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ تک جا سکتی ہیں۔

  17. اسرائیل کے خلاف آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کی 22 ویں لہر کا آغاز ہو چُکا ہے: ایرانی پاسدارانِ انقلاب

    Iran's official news agency, IRNA

    ،تصویر کا ذریعہIran's official news agency, IRNA

    ایران کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک امریکی جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ تل ابیب پر ڈرونز کی مدد سے حملہ بھی کیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن ’وعدہ صادق 4‘ کی 22 ویں لہر شروع کر دی گئی ہے جس میں خرمشہر 4، خیبر اور فتح میزائلوں کی بڑی تعداد اسرائیل پر داغی گئی ہے۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی فوج نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’دشمن کے اہم مقامات کے خلاف حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔‘

    پاسدارانِ انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جنوب مغربی سرحدی علاقے کے قریب ایک امریکی F-15E لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

  18. یہاں کہیں بھی رحم نہیں، بیروت میں محفوظ مقام پر پناہ لینے کے لیے شہری کی روداد, ایلس کڈی، بی بی سی نیوز

    نیشنل تھیٹر کے اندر دو خاندان سٹیج کے سامنے بچھے گدوں پر سو رہے ہیں
    ،تصویر کا کیپشنتھیٹر کے ایک رضاکار کے مطابق وہ مزید بے گھر افراد کو پناہ دینا چاپتے ہیں لیکن اس کے لیے حکومت کی منظوریکے منتظر ہیں

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے پرمجبور ہو گئے ہیں۔ وہ کسی بھی ایسی محفوظ جگہ کی تلاش میں ہیں جہاں انھیں پناہ مل سکے۔

    نیشنل تھیٹر کے اندر دو خاندان سٹیج کے سامنے بچھے گدوں پر سو رہے ہیں۔

    محمد بیدون نے مجھے بتایا کہ وہ جنوبی شہر صور میں اپنے گھر سے بھاگ کر آئے ہیں۔

    73 سالہ محمد بیدون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی وسیع پیمانے پر جاری کی گئی انخلا کی ہدایات کے بارے میں وہ ’کوئی مخصوص ہدف نہیں بتا رہے۔ یہ پورے پورے علاقے ہیں جنھیں وہ خالی کرنے کو کہہ رہے ہیں۔‘

    محمد  بیدون

    وہ مزید کہتے ہیں کہ ’دشمن کے پاس کوئی رحم نہیں، ہر جگہ بے رحمی کے نشان ہیں۔‘

    انھیں یہ جنگ ان تمام جنگوں سے مختلف محسوس ہوتی ہے جن کا وہ اپنی زندگی میں تجربہ کر چکے ہیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ وہ خوفزدہ نہیں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہی ہے جو خدا نے آپ کے لیے لکھ دیا ہے۔‘

  19. گزشتہ چھ روز سے ایران میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے: نیٹ بلاکس

    انٹرنیٹ مانیٹرنگ کے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ایران میں گزشتہ چھ روز سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے۔

    نیٹ بلاکس کے مطابق 144 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ملک میں صرف ایک فیصد انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی باقی رہ گئی ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔

    انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ان عوامل میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے لیے ایران کے اندر کیا ہو رہا ہے اس کی رپورٹنگ کرنا اور حقائق جاننا انتہائی مشکل بلکہ نامُمکن ہو جاتا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بھی ایرانی حکومت نے انٹرنیٹ سروسز بند کر دی تھیں۔

  20. ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی: پاکستان کے مختلف شہروں میں سیاسی اور مذہبی تنظیموں کا احتجاج

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج پاکستان کے مختلف شہروں میں ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

    کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مُلاًک کے مختلف شہروں میں سیاسی اور مزہبی جماعتوں کی جانب سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ان میں رہبرِ اعلی کی علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد احتجاج کی کال دی گئی۔

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مظاہرین کو ریڈ زون کی جانب جانے سے روکنے کے لیے مختلف مقامات کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔

    جمعے کے بعد احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد میں ریڈ زون میں داخلے کے لئے مارگلہ روڈ اور میریٹ ہوٹل کے راستے کھلے رہیں گے۔ ان راستوں کے علاوہ ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام داخلی راستے بند رہیں گے۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ ’اسلام آباد کے وسط میں کلثوم پلازہ فضل حق روڈ بجانب چائنہ چوک ٹریفک کے لئے بند رہے گی اس لیے شہری متبادل کے طور پر جناح ایونیو استعمال کریں۔ پولی کلینک ہسپتال کی جانب لال کوارٹر چوک لقمان حکیم روڈ ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہوگی۔ شہری متبادل کے طور پر صدر روڈ استعمال کریں۔‘

    اسی طرح ’جی سکس سے ایف سکس جانے والے شہری چائنہ چوک انڈر پاس یا سیونتھ ایونیو سے جناح ایونیو استعمال کریں۔ آبپارہ چوک سہروردی بجانب سرینہ ہوٹل آنے جانے والی ٹریفک کے لیے ڈائیورشن ہوگی۔ کلب روڈ سے آنے والے شہری کشمیر چوک سے سری نگر ہائی وے سے سیونتھ ایونیو، مارگلہ روڈ استعمال کریں۔‘

    تاہم بھارہ کہو سے آنے والے شہری کشمیر چوک کے ذریعے سری نگر ہائی وے، سیونتھ ایونیو، مارگلہ روڈ استعمال کریں۔‘

    Islamabad Police

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    جمعے کے روز مجلس وحدت المسلمین کے کال پر اسلام آباد میں مرکزی امام بارگاہ جی سکس ون ٹو سے ایک ریلی اسلام آباد کے ڈی چوک کی جانب نکالی جائے گی۔

    تاہم کراچی میں آج شام چار بجے نمائش چورنگی سے امام بارگاہ علی رضا سے ایم اے جناح روڈ تک ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے سید علی خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

    مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر مقامات کی جانب سے جانے کی کوشش کی گئی تاہم اس دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 23 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

    اس ساری صورتحال کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرین سے پُرامن رہنے کی اپیلیں بھی کی گئیں جبکہ کئی شہروں میں دفعہ 144 (پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع کی ممانعت) کا نفاذ بھی کیا گیا۔