ٹرمپ کا ایران سے ’غیر مشروط سرینڈر‘ کا مطالبہ، ایرانی صدر کا روسی حمایت پر پوتن کا شکریہ
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی جبکہ ’ایک قابل قبول رہنما کے انتخاب کے بعد ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لائیں گے۔‘ ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روس کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں جبکہ اسرائیل نے ایران کی جانب سے میزائل داغے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔
خلاصہ
امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران میں تین ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جبکہ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر کے مطابق گذشتہ سنیچر سے اب تک اسرائیلی و امریکی حملوں میں 1300 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ’غیر مشروط سرینڈر‘ کے سوا کوئی ڈیل نہیں ہوگی
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پوتن سے گفتگو کرتے ہوئے روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے
فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے
اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی بے قابو ہو سکتی ہے
لائیو کوریج
ایرانی میزائل کے داغے جانے بعد تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں: اسرائیلی فوج
اسرائیل کی ایمرجنسی سروسز ’ماگن ڈیوڈ آدوم‘ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کے نتیجے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں محفوظ مقامات پر پناہ لیے ہوئے شہری اب باہر نکل سکتے ہیں۔
اس سے قبل فوج نے خبردار کیا تھا کہ وہ ایرانی میزائلوں کو ’روکنے‘ کی کوشش کر رہی ہیں اور اس دوران شہری متعلقہ علاقوں میں محفوظ مقامات پر پناہ لے لیں۔
ایران سے داغے گئے میزائل روکنے کی کوشش جاری ہے: اسرائیلی فوج
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ وہ ایران سے اسرائیل کی جانب داغے گئے نئے میزائلوں کو روکنے کے لیے کوشاں ہے۔
ایک بیان میں کہا گیا کہ ’کچھ دیر پہلے اسرائیلی افواج نے ایران سے اسرائیل کی حدود کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کی۔‘
مزید کہا گیا کہ ’دفاعی نظام خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوم فرنٹ کمانڈ نے ’احتیاطی ہدایت‘ متعلقہ علاقوں کے لوگوں کے موبائل فونز پر بھیجی ہے۔
ان افراد کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’محفوظ جگہ میں داخل ہوں اور تاحکم ثانی وہیں رکے رہیں۔‘
لندن میں ایران سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کی تحقیقات کے دوران چار افراد گرفتار
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق لندن میں ایران سے متعلق ایک انسدادِ دہشت گردی تحقیقات کے دوران چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس نے ایک ایرانی شہری اور تین دوہری شہریت رکھنے والے برطانوی-ایرانی شہریوں کو ’غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کی مدد‘ کے شبہے میں حراست میں لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’تحقیقات کا تعلق لندن میں یہودی برادریوں سے منسلک مقامات اور افراد کی مبینہ نگرانی سے ہے‘۔
اس وقت واٹفورڈ، بارنیٹ اور ویمبلی میں تلاشی کا عمل جاری ہے۔
بارنیٹ میں 40 اور 55 سالہ افراد کو گرفتار کیا گیا، واٹفورڈ میں ایک 52 سالہ شخص اور ہارو میں ایک 22 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا۔
اسی مقام پر ہارو میں مزید چھ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کی عمریں 20، 20، 29، 39، 42 اور 49 سال ہیں۔ ان پر ’جرم میں مدد فراہم کرنے‘ کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکہ کا گہرے سمندر میں ایرانی میزائل لانچ کرنے والے مقامات پر بمباری کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے کمانڈر بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکہ نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران ایران کے اندر تقریباً 200 اہداف پر حملے کیے ہیں، جس سے تہران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
بریڈ کوپر نے مزید کہا کہ امریکی فوج اب ایران کے میزائل پروڈکشن کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
کچھ دیر قبل ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے ایرانی میزائل لانچروں اور انفراسٹرکچر کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کی تفصیل بتائی۔
سینٹ کام کے کمانڈر نے کہا کہ ’صرف پچھلے 72 گھنٹوں میں، امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے اندر گہرائی میں تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا ہے، بشمول تہران کے ارد گرد، اور صرف پچھلے ایک گھنٹے میں، B-2 بمباروں نے گہرے سمندر میں بیلسٹک میزائل لانچ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنانے والے درجنوں 900 کلو وزنی بم گرائے ہیں۔‘
بریڈ کوپر نے مزید کہا کہ ’ہم نے ایران کی ایرو سپیس کمانڈ کو بھی نشانہ بنایا۔ ایک ایسا عمل جو ایران کی امریکہ کو دھمکی دینے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے۔‘
انھوں نے تاکید کی کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے آپریشن کو دیکھیں تو ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں پہلے دن کے مقابلے میں 90 فیصد اور اس کے ڈرون حملوں میں 83 فیصد کمی آئی ہے۔‘
ایران کی اسرائیل اور امریکہ سے جنگ: کیا اصلی ہے اور کیا جعلی؟
بیروت پر ’وسیع پیمانے پر حملے‘ کیے گئے: اسرائیلی افواج
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ اس نے رات بھر بیروت پر ’وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ’حزب اللہ کے کمانڈ مراکز‘ اور ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جہاں ڈرون ذخیرہ کیے گئے تھے ’جو اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے‘۔ یہ سب دارالحکومت کے ضاحیہ علاقے میں ہوا۔
ایک بیان میں آئی ڈی ایف نے کہا کہ ’اسرائیل کے شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
بیروت کے جنوبی مضافات سے شہریوں کی نقل مکانی
بیروت کے جنوبی مضافات سے نکلنے پر مجبور شہریوں کی صبح پناہ گاہوں، گاڑیوں، پارکوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں ہوئی۔
اسرائیلی فوج نے گذشتہ رات کہا کہ اس نے ضاحیہ علاقے میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جو ایران کی حمایت یافتہ گروہ کا گڑھ ہے، اس سے پہلے کہ اس نے دارالحکومت کے جنوبی حصے کے لیے غیر معمولی انخلا کا حکم جاری کیا، جہاں لاکھوں افراد رہتے ہیں۔
گلیوں میں سونے والے شہریوں نے خوف اور الجھن کا اظہار کیا کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے۔
ضاحیہ کی ایک خاتون نے بتایا کہ ’ہم نے صرف ضروری سامان جیسے کمبل پیک کیے۔ ہم واقعی خوفزدہ ہیں لیکن یہ ہماری زمین ہے اور اگر جنگ آتی ہے تو ہمیں بس گزارا کرنا ہوگا۔ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘
ایک اور خاتون نے کہا ’میں صبح پانچ بجے دھماکوں کی آواز سے جاگ گئی اور اس کے بعد سے سو نہیں سکی۔ یہ خوفناک تھا۔ وہ اتنے زور سے حملے کر رہے تھے کہ تمام کھڑکیاں کھڑاکھڑا رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ڈریگن آوازیں نکال رہا ہو۔‘
’ٹھیک نہیں ہوں، گذشتہ رات مسلسل دھماکوں کی وجہ سے نہیں سو سکا‘
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ایران کے کچھ رہائشیوں کی نیندیں مسلسل دھماکوں‘ کے باعث اُڑ گئی ہیں۔ دارالحکومت تہران میں ایک 30 برس کے ایرانی شہری سے جب میں نے خیریت دریافت کی تو اس نے بتایا ’میرا گھر پانچ منٹ تک مسلسل ہلتا رہا۔ گذشتہ رات سب سے بدترین رات تھی‘۔
اس نے کہا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ رات بمشکل سو سکا کیونکہ ’مسلسل دھماکے‘ ہو رہے تھے۔
جن لوگوں سے میں بات کر رہا ہوں ان کی شناخت ظاہر نہیں کر رہا تاکہ ان کی حفاظت ہو سکے۔
دارالحکومت کی ایک خاتون نے بتایا کہ ’میں صبح پانچ بجے دھماکوں کی آواز سے جاگ گئی تھی اور اُس کے بعد سے سو نہیں سکی۔‘
ایک اور خاتون نے کہا کہ ’یہ خوفناک تھا۔ وہ اتنے زور سے حملے کر رہے تھے کہ تمام کھڑکیاں کھڑکھڑا رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ڈریگن آوازیں نکال رہا ہو۔‘
تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب شدید بمباری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی سفارتخانے کے پریس اتاشی نے بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد کو تصدیق کی کہ آج صبح سفارتخانے کے قریب شدید بمباری ہوئی۔
سفارتخانہ ایرانی فوجی تنصیبات کے قریب واقع ہے، جن میں ایک فوجی تربیتی مرکز شامل ہے، جبکہ سامنے ہی ایک ہسپتال بھی موجود ہے۔
تقریباً 50 پاکستانی سفارتی عملہ، جن میں سفیر مدثر ٹیپو بھی شامل ہیں، مشن میں موجود ہیں اور سب محفوظ ہیں۔ ابھی تک سفارتخانے یا اردگرد کی عمارتوں کو نقصان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔
حکام کے مطابق پاکستان-ایران سرحد پر تفتان کے مقام پر لوگوں کا آنا جانا جاری ہے، جن میں پاکستانی شہری اور غیر ملکی شامل ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی شہروں پر حملے شروع ہونے کے بعد اب تک 2,000 سے زائد پاکستانی اور 37 سفارتکار خاندان ایران سے نکالے جا چکے ہیں، زیادہ تر بلوچستان کے راستے زمینی طور پر اور کچھ آذربائیجان کے ذریعے فضائی راستے سے آئے ہیں۔
ایران پر امریکی حملوں میں نمایاں اضافہ ہونے والا ہے: امریکی وزیر دفاع
،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ رات امریکی سینٹرل کمانڈ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، سینٹرل کمانڈ ایڈمرل بریڈ کوپر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں پر بریفنگ دی۔
پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ’ایران اور تہران پر امریکی حملے نمایاں طور پر بڑھنے والے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کا فیصلہ، جس کے تحت امریکہ کو ڈیاگو گارسیا فوجی اڈے کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، واشنگٹن کو حملے تیز کرنے میں مدد دے گا۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’یہ بدقسمتی تھی کہ برطانیہ والوں نے پہلے دن سے یہ نہیں کہا کہ ’جی آگے بڑھیں اور رسائی حاصل کریں‘۔ لیکن آخرکار ہم وہاں پہنچ گئے۔‘
دریں اثنا، برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ برطانیہ قطر میں موجود اپنے سکواڈرن میں شامل کرنے کے لیے چار اضافی ٹائیفون لڑاکا طیارے بھیجے گا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ برطانیہ نے امریکہ کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی ہے تاکہ ’دفاعی کارروائیاں‘ کی جا سکیں۔
امریکہ کے لیے ایران میں فوج اتارنا وقت کا ضیاع ہوگا: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اس وقت امریکی زمینی فوج بھیجنا ’وقت کا ضیاع‘ ہوگا اور یہ کوئی ایسا اقدام نہیں جس پر وہ فی الحال غور کر رہے ہیں۔
انھوں نے جمعرات کو این بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وقت کا ضیاع ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ اپنی بحریہ کھو دی ہے۔ جو کچھ کھو سکتے تھے، وہ سب کھو دیا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اس بیان کو بھی ’بے کار تبصرہ‘ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران امریکی یا اسرائیلی زمینی حملے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کی موجودہ قیادت کا ’صفایا‘ چاہتے ہیں۔ ان کے بقول ’ہم چاہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک اچھا لیڈر ہو۔ ہمارے پاس کچھ لوگ ہیں جو اچھا کام کر سکتے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے رضا شاہ پہلوی سمیت کسی نام کا ذکر نہیں کیا۔
مشرق وسطیٰ میں گذشتہ رات ہونے والے حملوں کی تصاویری جھلکیاں
مشرقِ وسطیٰ میں رات بھر حملوں کی اطلاع ملی ہے، کیونکہ امریکہ-اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ اپنے ساتویں دن میں داخل ہو گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنمنامہ، بحرین: ایرانی ڈرون کو روکنے کے بعد کا منظر
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنتہران، ایران: مرکزی علاقے میں فضائی حملہ کیا گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنبیروت، لبنان: جمعرات کی رات اسرائیل نے شہر کے جنوبی مضافات پر حملوں کے بعد سرخ دھواں نظر آیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنتل ابیب، اسرائیل: ایران کی جانب سے شہر پر میزائل داغے جانے کے بعد جمعہ کو پولیس اور فائر فائٹرز موقع پر موجود ہیں
نئی دہلی کو ماسکو سے تیل خریداری کی عارضی اجازت، کیا انڈیا کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ نے انڈیا کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی رعایت دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ نے انڈین ریفائنریز کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی چھوٹ دی ہے۔
امریکہ نے انڈیا کی روس سے تیل کی خریداری پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگا دیا، جس سے انڈیا پر امریکی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا۔
فروری 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انڈیا نے روس سے تیل خریدنا بند کرنے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے اس کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا جا رہا ہے اور اس پر عائد 50 فیصد ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر انڈیا نے روس سے تیل کی درآمدات میں کمی نہیں کی تو ٹیرف 18 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیں گے، اس اقدام کا مقصد روس پر یوکرین جنگ بندی سے متعلق دباؤ بڑھانا ہے۔
تاہم، انڈیا نے کہا تھا کہ ملک کے 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی ضروریات اور سلامتی اس کی اولین ترجیح رہے گی۔ انڈیا میں آئل ریفائنری کمپنیاں کئی ممالک کو روسی تیل برآمد کرتی رہی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق یہ جان بوجھ کر بہت مختصر مدت کے لیے چھوٹ دی گئی ہے، اس لیے یہ روسی حکومت کو کوئی خاص مالی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ اس کا اطلاق صرف اس تیل پر ہوگا جو ابھی سمندر میں پھنسا ہوا ہو۔
انھوں نے کہا کہ انڈیا، امریکہ کا ایک اہم پارٹنر ہے اور ہم پوری طرح سے توقع کرتے ہیں کہ وہ امریکی تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔ انھوں نے وضاحت دی کہ یہ تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق ایران کے دباؤ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایران جنگ نے پہلے ہی تیل کی عالمی توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
خطے میں جاری حملوں اور آبنائے ہرمز کے ارد گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی بین الاقوامی منڈی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس سے کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ دنیا کا ایک بہت اہم سمندری راستہ ہے اور عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کا 20 فیصد اسی سے گزرتا ہے۔
انڈیا اپنی تیل کی سپلائی کا 40 فیصد آبنائے ہرمز سے پورا کرتا ہے۔
کیا انڈیا میں تیل کی کمی ہو سکتی ہے؟
کیا انڈیا میں تیل کی کمی ہو سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنوری میں انڈیا کے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ ملک کے پاس آندھرا پردیش اور کرناٹک میں غاروں، ریفائنریوں اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات میں 74 دنوں کی ملکی سطح پر طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی خام تیل موجود ہے۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ خام تیل کے ذخائر 25 دن تک برقرار رہ سکتے ہیں، جب کہ پیٹرولیم مصنوعات جیسے پیٹرول اور ڈیزل مزید 25 دن تک چل سکتے ہیں۔
یہ قلیل مدتی سپلائی اس طرح کے ہنگامی واقعات سے نمٹنے کے لیے رکھے گئے سٹریٹجک ذخائر سے الگ ہے۔ لیکن موجودہ تنازع کے پیش نظر قدرتی گیس کے سب سے بڑے سپلائر قطر نے کہا ہے کہ وہ پیداوار روک دے گا۔
قطر انڈیا کی تقریباً 27 ملین ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا 40 فیصد سپلائی کرتا ہے۔ گیس درآمد کرنے والی کمپنی پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے بھی اپنے صارفین، گیل انڈیا اور انڈین آئل کارپوریشن کو سپلائی میں خلل کی اطلاع دی ہے۔
خامنہ ای کی موت کے پانچ دن بعد انڈیا کی تعزیت، نئی دہلی کی خاموشی کے پیچھے کیا حکمت عملی ہے؟
،تصویر کا ذریعہXPD Division, MEA
انڈیا کے سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے جمعرات کے روز نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے میں ایران کے ہلاک ہونے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انھوں نے ایرانی سفارت خانے میں تعزیتی کتاب میں انڈیا کی جانب سے ایک پیغام بھی لکھا۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سنیچر کے روز ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے دوران ہلاک ہوئے۔ انڈیا نے خامنہ ای کی موت کے پانچ دن بعد جمعرات کو پہلی بار تعزیت کا اظہار کیا۔
اگرچہ انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جنگ کے پہلے دن ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے فون پر بات کی تھی لیکن اس بات چیت کے بعد جاری ہونے والے پریس نوٹ میں انڈیا کی طرف سے امریکہ اسرائیل حملے پر اظہار تعزیت یا تنقید کا ذکر نہیں کیا گیا۔
خامنہ ای کی موت کے بعد انڈیا نے پانچ دن تک خاموشی اختیار کیے رکھی۔ انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے ایران کے معاملے پر حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔
سال 2024 میں جب ایران کے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر حادثے میں موت واقع ہوئی تو انڈیا نے یوم سوگ کا اعلان کیا۔
سال 2020 میں جب امریکہ نے ایران کے اعلیٰ ترین جنرل قاسم سلیمانی کو ایک فضائی حملے میں ہلاک کیا، تو انڈیا نے اس پر ایک بیان جاری کیا اور کشیدگی کو تشویشناک قرار دیا۔
تب حکومت ہند کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ہم نے نوٹ کیا ہے کہ ایک سینیئر ایرانی لیڈر کو امریکہ نے ہلاک کر دیا ہے۔‘
گزشتہ سال جون میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے جوہری اور میزائل اڈوں پر حملہ کیا تھا۔ اس کے فوراً بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے فون پر بات کی اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
یہی نہیں، ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد انڈیا نے شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس کے بیانات پر بھی دستخط کیے جس میں امریکہ اسرائیل فضائی حملوں پر تنقید کی گئی۔
جون 2025 میں 12 روزہ تنازعے کے دوران ایران نے انڈیا کی خصوصی مدد کی اور انڈین طلبا کو واپس لانے والے انڈین طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دی۔
،تصویر کا ذریعہXPD Division, MEA
ماہرین کی کیا رائے ہے؟
تجزیہ کار اسے عالمی سیاست اور بدلتے ہوئے منظر نامے سے جوڑ رہے ہیں۔ سابق انڈین سیکرٹری خارجہ کنول سبل نے اپنے ایک مضمون میں انڈیا کی خاموشی کی وجوہات بتاتے ہوئے لکھا کہ ’انڈیا نے حملوں پر تنقید نہیں کی جو کہ قابل فہم ہے کیونکہ ہم نے یوکرین میں روس کی فوجی مداخلت پر تنقید نہیں کی‘۔
کنول سبل نے دلیل دی کہ ’یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہندوستان کی سفارت کاری کو مزید جانچے گا، یہ تجویز کرتا ہے کہ جب اس کے بنیادی مفادات (جیسے کہ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات) داؤ پر ہوں تو یہ خاموشی بڑے طاقت کے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنے کی ہندوستان کی وسیع پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے۔‘
’دی ہندو‘ میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں سابق ہندوستانی سفیر راکیش سود نے ہندوستان کی خاموشی کی تین اہم وجوہات بتائی ہیں۔
سابق سفیر راکیش سود کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کی خاموشی کو موجودہ پیچیدہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق پہلی وجہ یہ ہے کہ آج کی بین الاقوامی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے اور انڈیا کو بہت سے مسابقتی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ دوسرا، چابہار بندرگاہ جیسے منصوبوں کے باوجود گذشتہ چند دہائیوں میں ایران کے ساتھ انڈیا کے تعلقات محدود ہو گئے ہیں۔
تیسرا، خامنہ ای نے حالیہ برسوں میں کشمیر اور انڈیا میں اقلیتوں کے معاملے پر عوامی تبصرے کیے ہیں، جنھیں نئی دہلی نے مثبت طور پر نہیں لیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images
راکیش سود کے مطابق ان تمام عوامل نے انڈیا کے لیے اس مسئلے پر عوامی سطح پر ردعمل دینا مشکل بنا دیا۔ دریں اثنا، جے این یو کے پروفیسر اور بین الاقوامی امور کے ماہر ہیپیمون جیکب نے ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی کو ’متوازن پیغام رسانی کا فن‘ قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اسرائیل اور ایران میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ بات چیت میں کشیدگی میں کمی کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ نے ’دونوں ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام‘ پر بھی زور دیا، ایک بیان جسے امریکہ یا اسرائیل کا نام لیے بغیر حملوں کی تنقید کے طور پر دیکھا گیا۔ جیکب کے مطابق، یہ مؤقف انڈیا کی طرف سے ایک عملی توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات، ہندوستانی تارکین وطن کی بڑی آبادی، اور تجارت اور رابطے سے متعلق اہم مفادات خطے میں داؤ پر ہیں۔
دی ویک میں شائع ایک مضمون میں جے این یو کے پروفیسر اور مشرق وسطیٰ کے ماہر پروفیسر پی آر کمارسوامی نے دلیل دی ہے کہ ہندوستان کی خاموشی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوابی حملوں میں خلیجی ممالک کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، ہندوستان کی توانائی، تجارت اور سفارتی شراکت داری کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان ممالک میں تقریباً 10 ملین ہندوستانی کام کرتے ہیں، اور ان کی حفاظت اور ان کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلات ہندوستان کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔
سنہ 1990 کے کویت بحران کی مثال دیتے ہوئے کمارسوامی کہتے ہیں کہ اس وقت علاقائی سیاست میں لیے گئے کچھ متعصبانہ موقف کے طویل مدتی نتائج تھے۔ ان کے بقول، اگر انڈیا سرعام خامنہ ای کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے، تو یہ اہم عرب شراکت داروں کو ناراض کر سکتا ہے۔
اپوزیشن نے بھی انڈیا کی خاموشی پر سوالات اٹھائے۔
کیا ایران کی بقا کی حکمتِ عملی اسے خطے میں مزید تنہا کر دے گی؟, بی بی سی فارسی کے عامر اعظمی کا تجزیہ
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع میں ایران کی فوجی حکمت عملی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ روایتی معنوں میں فتح کے لیے نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر۔
ایران کے رہنما اور فوج برسوں سے اس لمحے کی تیاری کر رہے تھے۔ غالباً انھیں اندازہ تھا کہ خطے کے حوالے سے ان کی خواہشات بالآخر اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کو جنم دے سکتی ہیں اور کسی ایک کے ساتھ جنگ لازمی طور پر دوسرے کو بھی شامل کر لے گی۔
یہ صورتحال گزشتہ سال موسمِ گرما کی 12 روزہ جنگ میں واضح ہو گئی تھی جب اسرائیل نےحملے میں پہل کی اور چند دن بعد امریکہ بھی اس میں شامل ہو گیا۔
موجودہ لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ نے بیک وقت ایران پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری، انٹیلیجنس صلاحیتوں اور جدید فوجی سازوسامان کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا سادہ لوحی ہوگی کہ ایرانی منصوبہ ساز براہِ راست میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنا رہے تھے۔
حالیہ لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ نے بیک وقت ایران پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل کی تکنیکی برتری، انٹیلیجنس صلاحیتوں اور جدید فوجی سازوسامان کو دیکھتے ہوئے یہ سوچنا کم عقلی ہو گی کہ ہ ایرانی منصوبہ ساز براہِ راست میدانِ جنگ میں فتح حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنا رہے تھے۔
اس کے بجائے ایران نے اپنی حکمتِ عملی میں روک تھام اور برداشت کو فوقیت دی۔ گزشتہ دہائی میں اس نے بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو بڑھایا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور خطے میں اتحادی مسلح گروہوں کے نیٹ ورک میں بھاری سرمایہ کاری کی۔
ایران اپنی حدود کو سمجھتا ہے، امریکی سرزمین اس کی پہنچ سے دور ہے لیکن خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، خاص طور پر پڑوسی عرب ممالک میں ایران کے نشانے پر ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے نشانے پر ہے اور حالیہ حملوں نے ظاہر کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام کو توڑا جا سکتا ہے۔ ایران کا ہر میزائل یا ڈرون جو ان نظاموں کو عبور کرتا ہے، محض فوجی نہیں بلکہ نفسیاتی اثر بھی رکھتا ہے۔
ایران کی حکمتِ عملی جزوی طور پر جنگی معیشت پر مبنی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کے تباہ کن ہتھیار ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والا تنازع امریکہ اور اسرائیل کو نسبتاً ارزاں خطرات کو روکنے کے لیے اپنے قیمتی اثاثے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے اور اس جنگ میں توانائی بھی جنگی معیشت کا ایک اہم ہتھیار ہے۔
ایران کو اس تنگ آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ محض سخت دھمکیاں اور محدود رکاوٹیں ہی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس میں کمی لانے کا بین الاقوامی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس تناظر میں، کشیدگی کو بڑھانا ایران کے مخالفین کو فوجی طور پر شکست دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانے کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔
یہ ہمیں پڑوسی ممالک پر حملوں کی طرف لے جاتا ہے۔
قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور عراق جیسے ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ امریکی افواج کے اڈوں کی میزبانی خطرات سے خالی نہیں ہے۔
تہران کو امید ہو سکتی ہے کہ یہ حکومتیں واشنگٹن پر کارروائیاں محدود یا بند کر نے کا دباؤ ڈال سکتی ہیں لیکن یہ ایک خطرناک جوا ہے۔ حملوں کو مزید وسعت دینا ان ممالک کی دشمنی کو مزید سخت کر سکتا ہے اور انہیں زیادہ مضبوطی سے امریکہ-اسرائیل کیمپ میں دھکیل سکتا ہے۔
طویل المدتی نتائج جنگ کے بعد بھی باقی رہ سکتے ہیں، اور خطے میں اتحاد و تعلقات کو اس طرح بدل سکتے ہیں کہ ایران مزید تنہا ہو جائے۔
اگر بقا ہی اصل مقصد ہے تو دشمنوں کا دائرہ بڑھانا ا ایک نہایت خطرناک قدم ہے۔ لیکن تہران کے نقطۂ نظر سے ضبط و تحمل ب اگر وہ کمزوری کا تاثر دے تو بھی اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہ اطلاعات کہ مقامی کمانڈر نسبتاً خودمختاری کے ساتھ اہداف منتخب کر رہے ہیں یا میزائل داغ رہے ہیں، مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
ایران کی فوجی حکمتِ عملی، خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے اندر، طویل عرصے سے غیرمرکزی عناصر کو شامل کرتی رہی ہے تاکہ شدید حملوں کے دوران تسلسل برقرار رہے۔
رابطے کے نیٹ ورک روکنے اور جام کرنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ سینیئر کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی فضائی برتری مرکزی نگرانی کو محدود کرتی ہے۔ ایسے حالات میں پہلے سے منظور شدہ اہداف اور حملے کا اختیار تفویض کرنا قیادت کے خاتمے کے خلاف ایک سوچا سمجھا حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہbbc
یہ ڈھانچہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ایرانی فورسز کس طرح سینیئر آئی آر جی سی شخصیات اور ایران کے سپریم لیڈر اور کمانڈر ان چیف علی خامنہ ای کے قتل کے بعد بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم غیرمرکزی نظام خطرات بھی رکھتا ہے۔ مقامی کمانڈر نامکمل معلومات کے ساتھ غیر ارادی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جن میں وہ پڑوسی ریاستیں بھی شامل ہیں جو غیرجانبدار رہنا چاہتی تھیں۔
ایک متحدہ آپریشنل تصویر کی عدم موجودگی غلط اندازوں کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا تو کمانڈ اور کنٹرول کے نقصان کا بھی خدشہ ہے۔
بالآخر ایران کا طریقۂ کار اس یقین پر مبنی دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک نقصان برداشت کر سکتا ہے تاہم اس کی بھی حدود ہیں۔ میزائل ذخائر محدود ہیں اور پیداواری لائنیں مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ موبائل لانچرز کو حرکت کے دوران نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی جگہ لینا وقت لیتا ہے۔
یہی منطق ایران کے مخالفین پر بھی لاگو ہوتی ہے۔اسرائیل اپنی فضائی دفاعی نظام پر مکمل انحصار نہیں کر سکا۔ ہر خلاف ورزی اضطراب کو بڑھاوا دیتی ہے۔ امریکہ کو خطے میں کشیدگی، توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مسلسل کارروائیوں کا بوجھ دیکھنا پڑتا ہے۔
دونوں فریق یہ فرض کیے ہوئے ہیں کہ وقت ان کے حق میں ہے۔ تاہم دونوں درست نہیں ہو سکتے۔ اس جنگ میں ایران کو فتح کی ضرورت نہیں بلکہ اسے صرف قائم رہنے کی ضرورت ہے۔
یہ مقصد حاصل ہو پائے گا یا نہیں، اور وہ بھی پڑوسی ممالک کو مستقل طور پر بدظن کیے بغیر، یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔
امریکی حملے کے ایک روز بعد سری لنکا نے ایک اور ایرانی بحری جہاز کا انتظام سنبھال لیا
سری لنکا نے ایک ایرانی بحری جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ کولمبو کا یہ اقدام ایک ایسے وقت پر لیا ہے جب ایک روز قبل امریکی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو ڈبو دیا تھا جس میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہوئے۔
ایک انجن میں خرابی پیدا ہونے کے بعد اس ایرنس بوشہر نامی جہاز نے بُدھ کو سری لنکا کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی درخواست کی۔ جہاز کے 208 ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سری لنکا نے کئی گھنٹوں کی مشاورت کے بعد اسے شمال مشرقی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی۔ صدر انورا کمارا دسانایکے نے کہا کہ وہ ’انسانیت کے تحفظ میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں دکھائیں گے‘۔
جنوبی ایشیائی ملک نے اپنی غیر جانبداری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی فریق کا ساتھ نہیں دے گا۔
،تصویر کا ذریعہReuters
صدر دسانایکے نے کہا کہ ’ہمارا مؤقف اپنی غیر جانبداری کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی اقدار کو اجاگر کرنا ہے۔‘
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب امریکی آبدوز نے بدھ کو ایرس دینا کو سری لنکا کے ساحل سے تقریباً 44 ناٹیکل میل دور ٹارپیڈو حملے میں ڈبو دیا۔ اس جہاز پر تقریباً 180 اہلکار موجود تھے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے ’سمندر میں کیا جانے والا ظلم قرار دیا اور کہا کہ امریکہ اس حملے پر ’سخت پچھتائے گا‘۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اسے امریکہ کی فوجی طاقت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ ’دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار امریکی آبدوز نے دشمن کا جہاز ٹارپیڈو سے ڈبویا ہے‘۔
سری لنکا نے اپنی غیر وابستگی کی پالیسی پر زور دیا ہے جو 1948 میں آزادی کے بعد سے جاری ہے۔
کولمبو کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ مضبوط اقتصادی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ ایران سے سری لنکا نے 250 ملین ڈالر کا خام تیل خریدا ہے جس کی ادائیگی وہ ماہانہ چائے کی برآمدات کی صورت میں کر رہا ہے، جبکہ امریکہ سری لنکن ملبوسات کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
چین اور ایران میں آبنائے ہرمز سے کچھ آئل ٹینکرز کو محفوظ راستہ دینے پر بات چیت جاری: خبر رساں ایجنسی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنآبنائے ہرمز
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے جمعرات کو ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ چین ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ خام تیل اور قطری گیس لے جانے والے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے۔
اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کو سات دن ہو گئے ہیں، جس کے باعث سیکڑوں جہاز اس اہم آبی گزرگاہ میں رکے ہوئے ہیں۔ یہ راستہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس تنازع کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
روئٹرز اور بلومبرگ نے جہازوں کی ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایک چینی ٹینکر جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرا۔ تاہم بی بی سی اس کی تصدیق نہیں کر سکا۔
چین ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے اور اس نے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے کی مذمت کی ہے۔
سرحدی علاقوں سے جلد انخلا یقینی بنائیں: حزب اللہ کا اسرائیلی شہریوں کو انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حزب اللہ نے اسرائیلی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ لبنان کی سرحد سے پانچ کلومیٹر کے اندر واقع قصبوں کو خالی کر دیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ انتباہ جمعے کی صبح حزب اللہ کے ٹیلیگرام چینل پر عبرانی زبان میں جاری کیا گیا۔
حزب اللہ نے کہا کہ ’آپ کی فوج کی جارحیت، لبنانی خودمختاری اور محفوظ شہریوں کے خلاف اقدامات، شہری انفراسٹرکچر کی تباہی اور جبری انخلا کی مہم کو چیلنج کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
جمعرات کی رات اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر فضائی حملوں کی لہر کا آغاز کیا۔ اس سے قبل شہریوں کو علاقے چھوڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
کچھ دیر پہلے اسرائیلی افواج نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے تہران میں ’ایرانی دہشت گرد نظام کے انفراسٹرکچر‘ پر بڑے پیمانے پر حملے شروع کر دیے ہیں۔
تیل کی عالمی مارکیٹ پر ’ایرانی دباؤ‘ کے پیش نظر امریکہ کی انڈیا کو روس سے تیل خریدنے کی 30 دن کی عارضی رعایت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کے توانائی ایجنڈے کے نتیجے میں امریکہ میں تیل اور گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر انھوں نے لکھا کہ تیل کی عالمی منڈی میں مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے امریکی محکمہ خزانہ نے انڈین ریفائنریوں کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے 30 دن کی عارضی رعایت جاری کی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ’یہ مختصر مدت کا اقدام صرف اُس تیل پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی سمندر میں پھنسا ہوا ہے، لہٰذا روسی حکومت کو اس سے کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا۔‘
امریکہ انڈیا کو ایک اہم شراکت دار قرار دیتا ہے اور توقع ہے کہ نئی دہلی امریکی تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ یہ عبوری اقدام اُس دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہے جو ایران نے عالمی توانائی کا بحران پیدان کرنے کی کوشش کی ہے۔
قطر کا امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندوحہ
قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے کامیابی کے ساتھ ایک ڈرون حملہ ناکام بنا دیا، جس کا ہدف دوحہ میں امریکی فوجی اڈہ العدید ایئر بیس تھا۔ واضح رہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب قطری حکومت نے ملک میں موبائل فونز پر سکیورٹی الرٹس بھیجے، جن میں شہریوں کو کھڑکیوں اور کھلے مقامات سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
بیروت کے جنوبی علاقے میں دھماکوں کی اطلاعات
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جو اسرائیلی فوج کی جانب سے بڑے پیمانے پر انخلا کے احکامات کے بعد سامنے آئی ہیں۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’افواج نے بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں میں حزب اللہ کے دہشت گرد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے فضائی حملوں کی لہر کا آغاز کر دیا ہے۔‘ یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق جمعرات کی رات بیروت کے جنوبی نواحی علاقوں پر حملے شروع کیے گئے۔ اس سے قبل آئی ڈی ایف نے لاکھوں افراد کو علاقے چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔