پاکستان کے یوکرین کے شہر کیئو میں سفارتخانے کی طرف سے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 35 طلبا کو مغربی یوکرین کے شہر ٹرنوپل میں اکٹھا کر لیا گیا ہے۔
یہ پریس ریلیز پاکستان کے دفترِ خارجہ نے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ یوکرین میں پاکستان کا سفارتخانہ مکمل طور پر فعال ہے اور اب تک کئی طلبہ سے رابطے میں ہے۔
نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق انھوں نے بتایا ہے کہ تمام تر طلبہ مغربی یوکرین کے شہر ٹرنوپل میں استقبالیہ مراکز پہنچیں جہاں سے انھیں ملک سے باحفاظت نکالا جائے گا۔
مغربی شہر لویو میں ایک ریسیپشن بھی بنایا گیا ہے جہاں پہنچ کر طلبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔
اس سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے ایک والد منظور حسین کیریو نے بتایا کہ ان کا بیٹا پیروٹائن میں بطور انجینئیر کام کرتا ہے۔
’پاکستانی سفارتخانے سے بات کرنے پر اسے بہت اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا لیکن میں اس سے مسلسل رابطے میں ہوں تاکہ یہاں پاکستان میں جو بھی اپ ڈیٹ آئے میں اس تک پہنچا سکوں۔‘
اسی طرح یوکرین میں پڑھنے والے بہت سےطلبہ کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جن کے والدین بھی حکومت سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔
اس سے پہلے بی بی سی کو یوکرین سے ایک طالبعلم کامران شاہ نے بتایا تھا کہ کیئو میں حملہ ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی تقریباً پینتالیس طلبہ شہر چھوڑ کر ملک کے مغربی حصے کی جانب نکل چکے ہیں۔