میں مشرقی شہر دنیپرو سے شمال میں واقع دارالحکومت کیئو جانے والی ٹرین میں سوار ہوں۔ زیادہ تر لوگ کیئو جانے کے بجائے وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، چنانچہ کچھ بوگیاں بالکل خالی ہیں۔
کچھ مسافر مجھے بتاتے ہیں کہ وہ روسی فضائی حملوں کے باوجود کیئو جا رہے ہیں۔
ویلنٹینا نامی ایک سکول ٹیچر اپنی 12 سالہ پوتی اور بونیا نامی اپنی بلی کے ساتھ کیئو جا رہی ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ وہ دنیپرو سے 80 کلومیٹر دور پاولوگراد میں رہتی ہیں جہاں ایک بہت بڑا کیمیائی پلانٹ موجود ہے۔ اُنھیں خوف ہے کہ یہ روس کا اگلا ہدف ہو سکتا ہے۔
اس لیے اُن کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ بچی کو کیئو واپس پہنچا دیا جائے۔
بعد میں وہ کسی اور جگہ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پاس ہی ایک فلم ڈائریکٹر آئیوان کراوچیشین بیٹھے ہیں۔ وہ آودیویکا نامی شہر میں روسی فوجوں سے لڑنے والے یوکرینی فوجیوں کی فلم بندی کرتے رہے۔
یہ شہر مشرقی خطے دونباس میں واقع ہے جسے ماسکو نے رواں ہفتے آزاد قرار دے دیا ہے۔ اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: ’میں آپ کو ٹھیک سے سن نہیں سکتا۔ میں گولہ باری کی وجہ سے تقریباً بہرہ ہو چکا ہوں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ تاریخ ساز لمحات ہیں اور وہ کسی محفوظ مقام پر نہیں رہ سکتے۔
کیئو کے قریب جہاں انتونوو ایئرپورٹ پر لڑائی ہو رہی ہے، وہاں قریب ہی اُن کا خاندان رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ سوچیں گے کہ کہاں جانا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم فلم ڈائریکٹرز، رائٹرز، ہر طرح کے آرٹسٹ، ہم کہانی گو ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو یوکرینی لوگوں کے لیے حقیقت پیدا کریں گے جسے وہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور سینماز پر دیکھیں گے۔‘
’تو مستقبل میں یہ حقیقت کیسی نظر آئے گی، یہ ہم پر منحصر ہے۔‘