برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کا یوکرین پر حملہ
’ صدر پوتن کا اشتعال انگیز اور بربریت پر مبنی کھیل‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے اس کا
’نتیجہ ناکامی پر ہو گا۔‘
اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ روس کے صدر پوتن
نے یوکرین میں ’تشدد کی ایک بڑی لہر‘ کو جنم دیا ہے۔
روسی شہریوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا
کہ کہ انھیں یقین نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ ’آپ کے نام پر کیا جا رہا ہے‘ یا یہ
مانا جائے کہ روسی شہریوں اپنے ملک کو ’خارجی ملک‘ بنانا چاہتا ہے۔
یوکرین کو مخاطب کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ ’ہم
آپ کے ساتھ ہیں، ہم آپ کے اور آپ کے اہل خانہ کے لیے دعا گو ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں ’آزادی کی کرن‘ دوبارہ روشن
ہو گی، میں اس پر یقین نہیں رکھتا کہ روسی ڈکٹیٹر یوکرینی شہریوں کی قومی امنگوں
کو دبا نہیں سکتے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ یورپی ممالک میں سے وہ پہلا
ملک ہے جو یوکرین کو دفاعی مدد کے لیے ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر اتحادیوں نے بھی اس پر عمل کیا
ہے اور برطانیہ آنے والے دنوں میں مزید اقدامات کریں گا۔ تاہم انھوں نے اس بارے
میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
بورنس جانسن کا کہنا تھا کہ ’اتحادیوں کے ساتھ آج کے
اجلاس میں ہم نے روس کی لنگڑاتی معیشت پر مزید بھاری اقتصادی پابندیاں عائد کرنے
پر اتفاق کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یورپی مشترکہ طور پر تیل اور گیس پر
انحصار کم کریں گا جس نے پوتن کو یورپ پر اپنی گرفت بنانے کا موقع فراہم کیا۔