آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کیئو میں رہائشی عمارت راکٹ حملے سے متاثر

    کیئو سے ایک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں دارالحکومت کے ایئرپورٹ کے قریب موجود ایک رہائشی عمارت کو سنیچر کے روز راکٹ حملے میں نشانہ بنتا دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان مناظر میں اس عمارت میں ایک سوراخ دیکھا جا سکتا ہے جس کے باعث کم از کم پانچ فلور متاثر ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ہلاکتوں کی تعداد کا ’اندازہ لگایا جا رہا ہے جبکہ ریسکیو کی کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  2. بریکنگ, یوکرین کا روسی سپاہی بردار جہاز گرانے کا دعویٰ

    یوکرین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے روسی فوجیوں سے بھرے ایک جہاز کو کیئو کے قریب مار گرایا ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں روسی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے اور روسی وزارتِ دفاع نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    یوکرینی وزارتِ دفاع نے اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ دو یوکرینی سو 27 لڑاکا طیاروں نے ایک روسی آئی ایل 76 ایم ڈی جہاز کو سنیچر کو رات ساڑھے 12 بجے (عالمی وقت کے مطابق رات ساڑھے 10 بجے) مار گرایا جب وہ مبینہ طور پر کیئو خطے میں فوجیوں کو اتارنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    طیارہ ساز کمپنی کے مطابق اس طیارے میں 167 سپاہی اور چھ سے سات عملے کے ارکان سما سکتے ہیں۔ یوکرینی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ویلری زالوژنی نے فیس بک پر لکھا کہ ’یہ لوہانسک 2014 کا بدلہ ہے‘۔

    واضح رہے کہ آٹھ سال قبل یوکرین کے ایک طیارے کو گرا دیا گیا تھا جس میں 40 سپاہی اور عملے کے نو ارکان سوار تھے۔

    روسی فوج کے ترجمان میجر جنرل آئگور کوناشینکوف نے سنیچر کو دعویٰ کیا کہ ماسکو کو اس حملے میں اب تک کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا ہے۔

  3. یوکرین کے کن علاقوں پر روس کا کنٹرول ہے؟

    یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کا اب تیسرا دن ہے۔ روسی فورسز یوکرین کے دارالحکومت سمیت دیگر اہم شہروں پر قبضے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ یوکرینی فورسز ان کوششوں میں مزاحم ہیں۔

    دارالحکومت کیئو میں رات بھر میزائل حملے اور جھڑپیں جاری رہیں مگر یوکرینی فورسز کے پاس اب بھی شہر کا کنٹرول ہے

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ولادیمیر پوتن کی فورسز کیئو کے مرکز سے 30 کلومیٹر دور ہیں

    ’روسی‘ تھنک ٹینک میں عسکری ماہر جیک واٹلنگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کیئو کے اہم علاقوں پر قبضے میں ابتدائی ناکامی کے بعد روسی افواج شاید اپنی ترتیبِ نو کر رہی ہوں

    مشرقی شہر خارکیئو میں حکام کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے روسی حملے کو ناکام بنایا ہے۔ اُنھوں نے بمباری کا الرٹ بھی جاری کرتے ہوئے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ نقل و حرکت محدود رکھیں

    صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ جنوبی شہر اوڈیسا کے قریب بھی جھڑپیں ہوئی ہیں

    روس نے کہا ہے کہ اس نے جنوب مشرقی شہر ملیتوپول پر قبضہ کر لیا ہے مگر برطانیہ کو اس دعوے پر شک ہے

    زیلینسکی نے کہا ہے کہ لیئو سمیت مغربی اور وسطی شہروں پر میزائل حملے کیے گئے ہیں

  4. شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی صدر زیلینسکی اور یوکرینی عوام کی حمایت

    شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی شاہی جوڑے نے کہا کہ وہ اُن کے اور یوکرین کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  5. سابق روسی صدر: ماسکو کو مغرب کے ساتھ سفارتی تعلقات چاہییں بھی نہیں

    روس کے سابق صدر دمیتری میدویدیف نے کہا ہے کہ ماسکو کو مغرب کے ساتھ سفارتی تعلقات کی ضرورت نہیں ہے۔

    اُن کا یہ بیان مغربی ممالک کی جانب سے پابندیوں کے اعلانات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ولادیمیر پوتن نے اُنھیں سنہ 2020 میں وزیرِ اعظم کے عہدے سے معزول کر دیا تھا۔ اب وہ ماسکو کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین ہیں۔

    اُنھوں نے روسی سوشل میڈیا نیٹ ورک وی کے پر لکھا کہ ’سفارت خانوں پر تالے ڈالنے کا وقت‘ آ گیا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ماسکو یوکرین پر حملہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ صدر پوتن کے وضع کردہ مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے۔

    تاہم یہ غیر واضح ہے کہ پوتن کے حقیقی مقاصد کیا ہیں۔

    میدویدیف نے کونسل آف یورپ کی روس کی رکنیت معطل کرنے کی بھی مذمت کی مگر کہا کہ اس سے ماسکو کو روسی قانون میں سزائے موت واپس متعارف کروانے کا ایک منفرد موقع مل گیا ہے۔

  6. دنیا کو منقسم کرنے والی سرد جنگ کے پرانے دن لوٹ آئے ہیں؟

  7. فرانسیسی بحریہ نے روس کا مال بردار جہاز پکڑ لیا

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ فرانسیسی بحریہ نے انگلش چینل میں ایک ایسے بحری جہاز کو پکڑ لیا ہے جو روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ جا رہا تھا۔

    فرانسیسی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بحری جہاز کو یورپی یونین کی عائد کردہ نئی پابندیوں کی روشنی میں روکا گیا ہے۔

    ایک عہدیدار نے بتایا کہ 127 میٹر طویل اس روسی مال بردار جہاز ’بالٹک لیڈر‘ کو فرانسیسی بحریہ نے انگلش چینل میں رات گئے روکا ہے اور اب اسے شمالی فرانس کی ایک بندرگاہ بھیج دیا گیا ہے۔

    ’اسے فرانسیسی حکومت کی درخواست پر ایک فرانسیسی بندرگاہ کی جانب بھیجا جا رہا ہے کیونکہ یہ مبینہ طور پر ایسی کمپنی کا ہے جو ماسکو پر یورپی یونین کی پابندیوں کی زد میں آتی ہے۔ فرانسیسی سرحدی اہلکار اس وقت مال بردار جہاز کا جائزہ لے رہے ہیں اور ’بالٹک لیڈر‘ کا عملہ فرانسیسی حکام سے تعاون کر رہا ہے۔‘

    روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق فرانس میں روسی سفارت خانے نے فرانسیسی حکام سے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

  8. مجھے ہٹانے کا روسی منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے، زیلینسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ اُن کی افواج نے اُنھیں راتوں رات پکڑنے اور نئی حکومت قائم کرنے کے روسی منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔

    اُنھوں نے روس کے عوام سے کہا کہ وہ یوکرین پر حملے روکنے کے لیے صدر ولادیمیر پوتن پر دباؤ ڈالیں۔ زیلینسکی نے کہا: ’ہم نے اُن کا منصوبہ ناکام بنا دیا ہے۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ یوکرینی فورسز اب بھی کیئو اور اس کے ارد گرد اہم شہروں کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    زیلینسکی نے کہا کہ اُن کے ملک کو اب یورپی یونین میں شامل ہونے کا حق مل گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین اس وقت تک یورپی یونین کا رکن نہیں ہے مگر اس نے اپنے آئین میں یورپی بلاک کا حصہ بننے کے عزم کا اعادہ کر رکھا ہے۔

  9. یوکرین اور روس کی جنگ، تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    اگر تو آپ بی بی سی کی لائیو کوریج پر ابھی ابھی آئے ہیں تو خبروں کا خلاصہ پیشِ خدمت ہے

    • روس کے یوکرین پر حملے کو اب تیسرا دن ہو چکا ہے۔ گذشتہ رات دارالحکومت کیئو اور اس کے اردگرد لڑائی جاری رہی اور یوکرین کی فوج نے کہا کہ اس نے شہر کی ایک مرکزی سڑک کے قریب روسی فوجوں کے حملے کو پسپا کر دیا ہے
    • کیئو میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں جانی نقصان کا اندیشہ ہے
    • صبح کے وقت صدر ولادیمیر زیلینسکی نے شہر کے مشہور مقامات کے سامنے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی اور ان خبروں کی تردید کی کہ اُنھوں نے ہتھیار ڈالنے کا حکم دے دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یوکرین اپنا دفاع خود کرے گا
    • روس کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس کی فورسز نے جنوب مشرقی شہر ملیتوپول پر قبضہ کر لیا ہے تاہم ایک برطانوی وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھیں اس دعوے پر شک ہے
    • برطانیہ کے وزیر برائے مسلح افواج جیمز ہیپی نے کہا کہ برطانیہ اور 25 دیگر ممالک نے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے
    • یوکرینی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اب تک دو بچوں سمیت 198 یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 1000 سے زیادہ زخمی ہیں
    • پولینڈ نے مارچ میں روس کے خلاف ماسکو میں فٹ بال ورلڈ کپ کا کوالیفائنگ میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ پولش فٹ بال فیڈریشن نے کہا کہ یہ ’عمل کرنے کا وقت ہے‘
    • اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں ایک لاکھ افراد یوکرین چھوڑ چکے ہیں
  10. یوکرین پر روس کا حملہ: روسی عوام کیا سوچتے ہیں؟

    یوکرین پر روسی حملے سے متعلق روس کے عوام کی رائے منقسم ہے۔ کچھ لوگ صدر پوتن کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں اور اس پر تشویش و پریشانی کا شکار ہیں۔

  11. یوکرین کا روسی تیل پر پابندی کا مطالبہ: ’ روس کو مکمل طور پر تنہا کر دیں‘

    یوکرین کے وزیر خارجہ نے روسی خام تیل کی خریداری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    دیمترو کلیبا نے ٹویٹ کیا: ’میں دنیا سے مطالبہ کرتا ہوں کہ روس کو مکمل طور پر تنہا کر دیں، اس کے سفیروں کو نکال دیں، تیل کی برآمد پر پابندیاں لگائیں، ان کی معیشت کو تباہ کر دیں۔ روسی جنگی مجرموں کو روکیں۔‘

    مغربی ممالک نے اب تک روس کے توانائی کے شعبے کو پابندیوں کا نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔

  12. بریکنگ, پولینڈ نے روس کے خلاف ورلڈ کپ پلے آف کھیلنے سے انکار کر دیا

    یوکرین پر روسی حملے کی بعد پولینڈ فٹ بال فیڈریشن کے صدر نے کہا ہے کہ پولینڈ 24 مارچ کو ماسکو میں روس کے ساتھ 2022 ورلڈ کپ کا پلے آف نہیں کھیلے گا۔

    سیزری کولز نے کہا ’میرے پاس مزید الفاظ نہیں ہیں، یہ کچھ کرنے کا وقت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ پولینڈ، چیک اور سویڈش فٹ بال فیڈریشنوں سے بات کر رہا ہے تاکہ اس حوالے سے عالمی گورننگ باڈی فیفا کے سامنے ایک مشترکہ پوزیشن رکھی جا سکے۔

  13. یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبا: ’باہر نکلنے کی کوشش کی تو روسی فوجیوں نے مارا‘

  14. بریکنگ, روسی حملے میں اب تک 198 یوکرینی ہلاک ہو چکے ہیں: وزیر صحت

    یوکرین کے وزیر صحت وکٹر لیاشکو کے مطابق روس کے حملے میں تین بچوں سمیت کل 198 یوکرینی شہری مارے گئے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 1115 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 33 بچے بھی ہیں۔

  15. ولادیمیر زیلنسکی: ٹی وی پر اداکاری سے یوکرین کی صدارت تک کا سفر

    جب ولادیمیر زیلنسکی پہلی بار صدر کے طور پر ٹی وی سکرین پر نظر آئے تو اس وقت وہ ایک کامیڈی سیریز میں بطور اداکار صدر کا کردار نبھا رہے تھے۔ لیکن وہ 2019 میں حقیقی صدر بن گئے۔

    اب وہ چار کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کے لیڈر ہیں اور ان کے ملک پر روس نے کئی سمتوں سے حملہ کر رکھا ہے۔

    ولادیمیر زیلنسکی ٹی وی سیریز ’سرونٹ آف دی پیپل‘ میں ایک استاد کے کردار میں نظر آتے ہیں جس کی ایک ویڈیو وائرل ہو جاتی ہے۔ اس میں وہ ملک میں کرپشن کے خلاف ایک جذباتی تقریر کرتے ہیں جو لوگوں کو پسند آتی ہے اور وہ ملک کی صدارت تک پہنچ جاتے ہیں۔

  16. بریکنگ, کئیو میں درجنوں افراد زخمی

    کیئو شہر کے میئر وتالی کلِتسکو کا کہنا ہے کہ کیئو میں رات بھر ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا اشارہ صرف عام شہریوں کی طرف تھا یا نہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ فی الحال کیئو میں روسی فوج زیادہ تعداد میں داخل نہیں ہوئی، لیکن روسی تخریب کار گروپ سرگرم ہیں۔

  17. کیئو میں شہری عمارت پر میزائل حملوں کی تصاویر

    کیف کے زولیانی ہوائی اڈے کے قریب اپارٹمنٹ بلڈنگ پر میزائل حملے کی مزید تصاویر سامنے آئی ہیں۔

    تصاویر میں کم از کم پانچ منزلوں کو تباہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے اور انخلا کا عمل جاری ہے۔

  18. فرانس یوکرین کو ہتھیار بھیج رہا ہے

    یوکرین میں روسی فوجیوں کی پیش قدمی کے ساتھ جنگ بڑھتی جا رہی ہے مگر مغربی ممالک یوکرین کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ہتھیار اور سازوسامان فرانس سے یوکرین پہنچنے والے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے ٹویٹ کیا کہ انھوں نے سنیچر کی صبح فرانس کے صدر میخواں سے بات کی تھی کیونکہ ’سفارتی محاذ پر ایک نئے دن کا آغآز ہوا ہے ۔‘

    سنیچر کے روز فرانس کے صدر نے بھی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اعلان کیا گیا: ’جنگ جاری رہے گی اور ہمیں اس کی تیاری کرنی چاہیے۔‘

  19. میٹا کے پلیٹ فارم پر روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات چلانے پر پابندی عائد

    فیس بک کی پیرینٹ کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تینوں پلیٹ فارمز (فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ) پر روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات چلانے پر پابندی عائد کر رہی ہے۔

    فیس بک کی سیکورٹی پالیسی کے سربراہ ناتھانیئل گلیشر نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ’ہم روسی سرکاری میڈیا پر مزید لیبل لگانا جاری رکھیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ نئے اقدامات پہلے ہی لاگو ہو چکے ہیں اور ہفتے کے آخر تک ان پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

  20. بریکنگ, روسی وزارتِ دفاع کا یوکرین کے سب سے اہم شہر ملیتوپول پر قبضے کا دعویٰ

    روسی وزارت دفاع کا دعویٰ ہے کہ ان کے فوجیوں نے یوکرین کے جنوبی علاقے زاپوریزہیا کے شہر میلیتوپول پر قبضہ کر لیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد سے قبضے میں لیا جانے والا یہ پہلا اہم شہر ہے۔

    میلیتوپول یوکرین کی سب سے اہم بندرگاہ ماریوپول کا قریبی شہر ہے اور یہاں 150,000 شہری آباد ہیں۔