آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. چرنوبل پر قبضہ ’پورے یورپ میں اعلانِ جنگ ہے‘

    یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے جوہری پاور پلانٹ چرنوبل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    یوکرین کے صدارتی معاون نے اسے ’بے معنی حملہ‘ کہا ہے جو ’آج یورپ کو درپیش سب سے بڑے خطروں میں سے ہے۔‘

    1986 میں چرنوبل پر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جوہری حادثہ ہوا تھا۔

    یوکرین کے صدر نے متنبہ کیا ہے کہ اگر روس نے حملہ جاری رکھا تو ایسا حادثہ دوبارہ ہوسکتا ہے۔ ولادیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ہمارے محافظ اپنی جانیں دے رہے ہیں تاکہ 1986 کا سانحہ دہرایا نہ جائے۔‘

    ’یہ پورے یورپ میں اعلانِ جنگ ہے۔‘

    یوکرین کی وزارت خارجہ نے متنبہ کیا ہے کہ اس مقام پر ایک مزید جوہری حادثے کا امکان موجود ہے۔ گذشتہ 36 برسوں سے چرنوبل کے اردگرد 32 کلومیٹر کے علاقے میں شہری آبادی نہیں ہے۔

    36 سال قبل اس کے ری ایکٹر میں خرابی کی وجہ سے ایک بڑا دھماکہ ہوا تھا جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔

    سال 2000 کو اس کے تین بقیہ ری ایکٹرز بند کر دیے گئے تھے۔ 1986 کے واقعے کے بعد سے اس علاقے میں تابکاری کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

  2. روسی حملے کے پہلے روز یوکرین میں ’137 ہلاکتیں‘

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی فوجی حملے کے پہلے روز ان کے ملک میں 137 ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں فوجی اور سویلین دونوں شامل ہیں۔

    انھوں نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے ایک حکمنامے پر دستخط کیے ہیں جس کے ذریعے 90 دنوں کے لیے فوج میں نئے لوگوں کو بھرتی کیا جائے گا اور ریٹائرڈ یا ریزو فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا۔

    ادھر یوکرین میں سٹیٹ بارڈر گارڈ سروس نے کہا ہے کہ 18 سے 60 سال عمر کے مردوں پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہوگی۔

  3. یوکرین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کی عمران خان سے اپیل

    روسی حملے کے بعد یوکرین میں موجود کئی پاکستانی طلبہ وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں اور انھوں نے وزیر اعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کی ہے۔

    یوکرین کے ایک شہر میں پاکستانی طلبہ کے ایک گروہ نے بتایا ہے کہ وہ صبح سے ایک میٹرو سٹیشن میں پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں کھانا دستیاب ہے نہ پانی اور اس میٹرو سٹیشن میں کئی عورتیں اور بچے بھی موجود ہیں۔

    ایک پاکستانی طالب علم پرویز ہمایوں کا کہنا تھا کہ ’ہماری حالت بہت غیر ہے۔ ہم لوگ بالکل لاوارث ہوچکے ہیں۔‘

    ’تقریباً تمام ہی ممالک نے اپنے طلبہ کو آج اور گذشتہ روز نکال لیا تھا۔ (مگر) ہمیں پہلے کہا گیا کہ طلبہ تسلی سے تعلیم جاری رکھیں اور جب کہا گیا کہ ہم یوکرین چھوڑ دیں تو اس کے دوسرے دن جنگ شروع ہوگئی اور پاکستانی طالب علموں کے پاس ملک چھوڑنے کا کوئی موقع نہیں تھا۔‘

    اسی میڑو سٹیشن پر موجود ایک اور طالب علم کا کہنا تھا کہ یہاں صورتحال بہت زیادہ نازک ہے۔ ’طالب علموں کے پاس نقد پیسے بھی موجود نہیں ہیں۔ کریڈٹ کارڈ اور اے ٹی ایم بھی نہیں چل رہے۔ نظام زندگی تباہ حال ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’جنگ مزید تیز ہوگئی ہے۔ اس تیز ہوتی جنگ میں کئی پاکستانی طالب علموں کی زندگیاں خطرے کا شکار ہے۔‘

    اسی گروہ میں شامل ایک اور پاکستانی کا کہنا تھا کہ وہ ’عمران خان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ روس کو پاکستانی طلبہ کے بارے میں آگاہ کریں اور انھیں بتائیں کہ یوکرین میں عورتیں، بچے، بوڑھے اور بیمار بہت مشکلات کا شکار ہوچکے ہیں۔‘

  4. صدر بائیڈن: ہم نے سب سے بڑے روسی بینکوں پر پابندی لگائی ہے

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ روس کی جانب سے اپنی فوج کی مالی امداد اور پیداوار کو روکنے کی کوشش کرے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ 21ویں صدی کی جدید معیشت میں روس کی مقابلے کی صلاحیت کو ختم کیا جائے گا۔ ’ہم نے روسی بینکوں پر پابندی لگا دی ہے جن میں دس کھرب ڈالر کے اثاثوں کو منجمد کیا گیا ہے۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے روس کے سب سے بڑے بینکوں پر پابندی لگائی ہے جن میں ملکی بینکوں کے ایک تہائی اثاثے موجود ہیں۔‘

    اس موقع پر جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سخت پابندیوں سے روس کو طویل مدتی نقصان پہنچے گا اور اس طرح امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہونے والے نقصان کو کم سے کم کیا جائے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ جی سیون ممالک کے رہنما اجتماعی طور پر روس کے ساتھ ڈالر، یورو، پاؤنڈ اور ین جیسی کرنسیوں میں کاروبار بند کر دیں گے۔

  5. یوکرین میں 57 ہلاک، 169 زخمی

    یوکرین کے وزیر صحت نے تصدیق کی ہے کہ روسی حملے کے نتیجے میں یوکرین کے 57 شہری ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 169 بتائی گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ ملک میں صحت کا نظام اس وقت تک مستحکم ہے۔

    تاہم ان لوگوں کو ہسپتال نہ آنے کا کہا گیا ہے جن کا علاج ہسپتال سے باہرممکن ہے تاکہ بستروں کی کمی پیش نہ آئے۔

  6. روس نے یوکرین پر سوچا سمجھا حملہ کیا جس کی تیاری مہینوں سے جاری تھی: جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج نے بغیر کسی اشتعال کے یوکرین پر سنگین حملہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوچا سمجھا حملہ ہے جس کی مہینوں سے منصوبہ بندی کی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن نے ایک لاکھ 75 ہزار فوجیوں اور عسکری ساز و سامان کو یوکرین کی سرحدوں پر منتقل کیا، خون کا انتظام کیا اور فیلڈ ہسپتال بھی بنائے اس سے آپ کو اس کے تمام ارادوں کے پتا چلتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کشیدگی سے بچنے کے لیے مغرب کی جانب سے مذاکرات کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کو پوتن نے مسترد کیا ہے۔

  7. یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل پر روسی فوج کا شدید حملہ جاری

    یوکرین کے ساحلی شہر ماریوپل پر روسی فوج کا شدید حملہ جاری ہے اور وہاں اس وقت بھاری گولہ باری جاری ہے۔

    ایک سفارتی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے شہر میں شدید حملہ جاری ہے اور درجنوں دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

    ماریوپل میں یوکرین کی بڑی بندرگاہوں میں سے ایک ہے جو دریائے آزوف پر واقع ہے اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر انتظام خطے دونتسک کے قریب ہے جسے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

    روس اگر ماریوپل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے کریمیا تک براہ راست زمینی راستہ میسر ہو جائے گا۔

  8. چرنوبل پر قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری

    چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کے علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔

    یوکرینی صدر کے مشیر کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا چرنوبل پاور پلانٹ کا علاقہ محفوظ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شدید لڑائی کے بعد ہم نے چرنوبل کے مقام کا انتظام کھو دیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل یوکرینی صدر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی افواج چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    بی بی سی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں روسی ٹینک چرنوبل نیوکلیر پاور پلانٹ کے باہر کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔

    چرنوبل پاور پلانٹ ان چند نیوکلیر پلانٹس میں سے ایک ہیں جہاں دنیا کی بدترین نیوکلیئر تباہ کاری ہوئی تھی جب سنہ 1986 میں اس کے چار کیمیائی ریکٹرز پھٹ گئے تھے۔

  9. برطانیہ کی جانب سے روس پر کیا کیا پابندیاں لگائی گئی ہیں؟

    برطانیہ کی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس پر درج ذیل پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    • روس کے تمام بڑے بینکوں کے برطانیہ میں اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور انھیں برطانیہ کے معاشی نظام سے باہر رکھا جائے گا۔ اس سے یہ بینک سٹرلنگ پاؤنڈ حاصل نہیں کر سکیں گے اور ان کی ادائیگیاں برطانیہ کے ذریعے نہیں ہو سکے گیں۔ اس میں روس کے وی ٹی بی بینک کو مکمل طور پر منجمد کرنا بھی شامل ہے۔
    • قانون سازی کے ذریعے روسی کمپنیوں اور ریاست کو برطانیہ کی منڈیوں سے رقم ادھار لینے یا پیسے اکٹھا کرنے سے روکا جائے گا۔
    • بینکوں کے علاوہ دیگر 100 افراد اور کمپنیوں کے اثاثے بھی منجمد کیے جائیں گے۔
    • روسی فضائی کمپنی ایرولوفٹ پر برطانیہ میں اترتی پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
    • ایسے دوہرے برآمدی لائسینسوں کو معطل کر دیا جائے گا جن کے ذریعے عسکری نوعیت کی برآمدات کی جا سکتی ہیں۔
    • اگلے چند دنوں میں برطانیہ روس کو ہائی ٹیک آلات اور آئل ریفائنری میں استعمال ہونے والے سازو سامان کی برآمد بند کر دے گا۔
    • برطانیہ کے بینکوں میں روسی شہریوں کے پیسے جمع کروانے پر حد مقرر کی جائے گی۔
    • بورس جانسن کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر روس کو سوئفٹ ادائیگیوں کے نظام سے بھی نکال دیا جائے اور ’بہت کچھ بھی ممکن ہے۔‘
    • یوکرین پر روسی حملے میں ساتھ دینے پر بیلاروس پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
    • ایسٹر کی چھٹیوں سے قبل برطانیہ اس حوالے سے اکنامک کرائم بل کے کچھ حصوں پر بھی عملدرآمد کرے گا۔
  10. بریکنگ, برطانوی وزیر اعظم نے روس کے اہم بینکوں کے اثاثے منجمد کر دیے

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے روس پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے روس کے اہم بینکوں کے برطانیہ میں اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

    روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے بورس جانسن کا کہنا تھا کہ یوکرین ’بھرپور طریقے سے اپنا دفاع‘ کر رہا ہے اور انھوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کو ’خون آلود جارحیت پسند‘ قرار دیا۔

    برطانوی وزیر اعظم نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں یہ بھی اعادہ کیا کہ وہ اگلے ہفتے سے ایسی روسی کمپنیوں پر بھی پابندی لگانے کی قانون سازی کریں گے جو برطانیہ کی مارکیٹ سے پیسہ اکٹھا کرتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ برطانیہ میں روسی شہریوں کے پیسے جمع کروانے پر حد مقرر کی جائے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ روس کی فضائی کمپنی ایروفلوٹ پر بھی برطانیہ میں پابندی عائد کر دی جائے گی اور روس کو فروخت کی جانے والی ٹیکنالوجی کے لیے ’سخت برآمدی ضابطے‘ ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح کی پابندیاں بیلاروس پر بھی عائد کی جائیں گی۔

    بورس جانسن نے برطانیہ کے دارالعوام کو بتایا کہ برطانیہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر روسی سرمائے کو ہدف بنائے گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کے حصص تیزی سے گراوٹ کا شکار ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں۔

    برطانوی وزیر اعظم نے ’کریملن کے جھوٹے اور غلط خبروں کے طوفان‘ کا مقابلہ کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

  11. یوکرینی وزیر خارجہ کا اتحادیوں سے روس سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

    یوکرین کے وزیر خارجہ دمیترو کلابا نے اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس سے اپنے تعلقات ختم کر دیں۔

    انھوں نے انگریزی میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر دیے ہیں اور میں اپنے اتحادیوں سے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اس ٹھوس اقدام سے آپ یہ ثابت کریں گے کہ آپ یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں اور جنگ عظیم دوم کے بعد سے روس کی جانب سے کیے جانے والے اس جارحیت کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

    اس سے قبل یوکرین کے صدر نے کہا تھا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے انھوں نے روس سے تعلقات ختم کر لیے ہیں۔

  12. کیئو میں کرفیو نافذ

    اب سے کچھ دیر قبل ہی کیئو شہر کے میئر نے شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

    انھوں نے کرفیو کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’دوستو کیئو میں آج سے کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے۔ یہ کرفیو رات دس بجے سے صبح سات بجے تک لاگو رہے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ فوجی حملے کے باعث اور مارشل لا لگائے جانے کے بعد سے شہریوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔

    تاہم کرفیو کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی جبکہ میٹرو سٹیشنز بطور پناہ گاہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

  13. کیئو میں فضائی حملے کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی سائرن بجائے جا رہے ہیں

    بی بی سی یوکرینی سروس کے ہمارے ساتھی یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ کیئو شہر کے وسط میں روس کے فضائی حملے کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی سائرن بجائے جا رہے ہیں۔

    عوام سے محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونا کا کہنا گیا ہے اور جس وقت ہم یہ اطلاع آپ تک پہنچا رہے ہیں بہت سے افراد نے شہر کی میٹرو سٹیشنز میں پناہ لے رکھی ہے۔

    ماریا خشخوشکا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو اس سے قبل بتایا تھا کہ ’میں بمباری کی آواز سن کر اٹھی اور میں نے اپنا سامان باندھا اور وہاں سے بچ نکلنے کی کوشش کی۔ انھوں نے بھی ایک میٹرو سٹیشن میں پناہ لے رکھی ہے۔

  14. روسی فوج چرنوبل کے جوہری پلانٹ کے علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے: یوکرینی صدر

    یوکرینی صدر ولودیمر زیلنسکی نے روس پر الزام لگایا ہے کہ روسی فوج چرنوبل کے جوہری پلانٹ کے علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    صدر زیلنسکی نے انگریزی زبان میں اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’روسی افواج چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ہمارے دفاع کرنے والے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ 1986 والا افسوسناک واقعہ دوبارہ نہ رونما ہو جائے۔ سویڈن کے وزیر اعظم کو اطلاع دے دی ہے۔ یہ پورے یورپ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔‘

    اس سے قبل یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر انٹون ہیراشنکو نے اپنے فیس بک پر پیغام دیا کہ روسی افواج نے اس علاقے تک رسائی بیلاروس کے ذریعے حاصل کی۔

    ’اگر جوہری مواد کو محفوظ رکھنے والا مقام گولہ باری سے تباہ ہوا تو تابکار دھول اور مٹی نہ صرف یوکرین بلکہ بیلاروس اور یورپی یونین کے ممالک کے گھیر لے گی۔‘

  15. ’مغرب بین الاقوامی قوانین کا احترام نہیں کرتا‘: روسی وزیر خارجہ

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے باوجود روس مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    روس کی سرکاری نیوز ایجنسی آر آئی اے نوستی کے مطابق لاوروف کا کہنا ہے کہ ’بدقسمتی سے ہمارے مغربی ساتھی بین الاقوامی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ وہ اسے تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جسے وہ ’اصولوں پر مبنی احکامات‘ قرار دیتے ہیں اس کی ترویج کرتے ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہماری امریکی ساتھیوں اور دیگر نیٹو اتحاد میں شامل اراکین کے ساتھ جامع اور تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم امید کرتے ہیں کہ اب بھی بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو نبھانے کا ایک موقع موجود ہے۔‘

    لاوروف کا کہنا ہے کہ روس ’ہمیشہ ان مذاکرات کے لیے تیار ہے جو ہمیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت انصاف دلائے۔‘

  16. روس کا عسکری منصوبہ کیا ہو سکتا ہے؟, جوناتھن مارکس، ایکسٹر یونی ورسٹی

    یہ روسی آپریشن معمول کا نہیں ہے جس کا مقصد صرف روسی نواز باغیوں کے زیر انتظام مشرقی یوکرین کے علاقوں کو پھیلانا یا ان پر قبضہ کرنا نہیں ہے۔

    روسی صدر ولادیمر پوتن کہہ چکے ہیں کہ ان کا مقصد یوکرین کی ’عسکری صلاحیت کو ختم کرنا‘اور ’نازیوں کو ختم کرنا‘ ہے۔ واضح رہے کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی خود ایک یہودی ہیں اور انھوں نے پوتن کے اس بیان پر پوچھا کہ ’میں کیسے نازی ہو سکتا ہوں۔‘

    ابھی تک روس کی جانب سے جارحیت فضائی حملوں سے اور میزائلوں سے ہوئی ہے لیکن روس کی اصل طاقت ان کی زمینی فوج میں ہے جو بہت مضبوط اور جدید اسلحے سے لیس ہے۔

    روس کا مقصد شاید یہ ہو سکتا ہے کہ وہ یوکرینی دارالحکومت کیئو کو ملک سے کاٹ دیں اور مشرقی حصے میں موجود فوج کو تباہ کر دیں۔

    ممکنہ طور یہ وجہ ہو کہ یوکرین کے مختلف حصوں میں ائیرپورٹس پر حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مغربی ممالک اسلحہ نہ فراہم کر سکیں۔

    دوسری جانب روسی فوجی تربیت ٹراناسٹریا کے علاقے میں چل رہی ہیں جو کہ مولڈووا میں علحیدگی پسندوں کا علاقہ ہے۔ مولڈووا یوکرین اور رومانیہ کی سرحد سے منسلک ایک چھوٹا سا ملک ہے اور خدشات ہیں کہ روس ’نامکمل کام‘ کو وہاں بھی کرنا چاہے۔

  17. کیئو کے قریب روسی ہیلی کاپٹر تباہ

    کیئو کے قریب ہوسٹومل ایئر پورٹ پر لڑائی کے دوران ایک روسی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

    روسی ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جبکہ بی بی سی نے اس واقعے کی تصدیق کر لی ہے تاہم اس ویڈیو کو بنانے والا ذریعہ تاحال نامعلوم ہے۔

    روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق یوکرین کی فوج کے کمانڈر ان چیف لیفٹینٹ جنرل والیری ذولوخینی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرینی فوج کیئو کے علاقے میں ایئرپورٹ پر قبضے کے لیے روسی فوج کے خلاف لڑ رہی ہے۔

    ہوسٹومل یوکرین کا سب سے اہم بین الاقوامی کارگو ایئرپورٹ ہے اور یہاں ایک اہم فضائی اڈہ بھی موجود ہے۔

    یہ اڈہ دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز دی مریا کا بھی ٹھکانہ ہے۔

  18. جی سیون ممالک کے وزرا کی روس پر پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے گفتگو متوقع

    برطانیہ، امریکہ، جاپان، جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپی یونین کے ممالک کی مشترکہ تنظیم جی سیون کے وزرا کی جمعرات کو اگلے چند گھنٹوں میں گفتگو متوقع ہے جہاں وہ ممکنہ طور پر روس پر انتہائی کڑی پابندیوں کا اعلان کریں گے۔

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ’نہایت سخت‘ پابندیاں لاگو کرنے والے ہیں تاہم برطانیہ کی حکومت اپنے اتحادیوں کے ہمراہ یہ قدم اٹھانا چاہتی ہے۔

    توقع ہے کہ اس بار اعلان کی گئی نئی پابندیوں میں سفری پابندیاں، مزید افراد کے اثاثے منجمد کر دینا اور بینکوں پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ روس کی اہم صنعتوں جیسے ٹیکنالوجی، توانائی اور کیمیکلز وغیرہ پر پابندیاں لگ سکتی ہیں۔

  19. یوکرین: ’یہاں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے‘, مارتا شوکالو، ایڈیٹر بی بی سی یوکرین سروس

    بی بی سی یوکرین سروس کی ایڈیٹر مارتا شوکولو نے اپنے اس تجربے کے بارے میں تحریر کیا ہے جب کیئو پر صبح سویرے حملے اور دھماکوں کی آوازوں سے یوکرین کی فضا سہم گئی۔

    جمعرات کی صبح روس کی جانب سے حملے کے بعد یوکرین پر گھبراہٹ اور انتشار کے سائے منڈلانے لگے اور بہت سے شہری عجلت میں بینکوں کے باہر نقد رقم نکلوانے اور کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ کرتے چند محفوظ مقامات کا رخ کرتے دکھائی دیے۔

    مارتا کہتی ہیں کہ ’یوکرین میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔‘

    وہ بتاتی ہیں کہ رات میں اس وقت جاگ رہی تھی جب مجھے میری ایک دفتری ساتھی کا پیغام ملا جس میں پوتن کی حملہ کرنے کے حوالے سے تقریر کا بتایا گیا تھا۔

    پھر اچانک دھماکے شروع ہو گئے۔ میں انھیں اپنے گھر سے سن سکتی تھی اور پھر ہمارے واٹس ایپ گروپ میں شہر کے مختلف حصوں میں موجود لوگوں نے پیغامات بھیجنے شروع کر دیے کہ دھماکے ان کےقریبی علاقوں میں ہو رہے ہیں۔

    یہ جاننا کہ ملک کی مشرقی سرحد کے برعکس کیئو حملے کی زد میں تھا ایک بڑا دھچکہ تھا۔

    عام لوگوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ بجلی کی بندش ہے اور انٹرنیٹ کام نہیں کر رہا۔ ایسے میں ہم تنہا ہو جائیں گے۔ ایک اور خدشہ یہ ہے کہ دریائے نائپر پر موجود شہر کے مشرقی اور مغربی حصے کو آپس میں ملانے والے پلوں پر بم گرا دیے جائیں گے۔

    یہ دھماکے 30 منٹ تک ہوتے رہے۔

    میں نے اپنے دس سالہ بیٹے کو تیار کیا اور ہم نے کھڑکی سے جس حد تک ممکن تھا دور بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ لیکن میرا بیٹا بہت خوفزدہ تھا اور اس نے خوف کے باعث قے کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنے تہہ خانے میں جاتے ہوئے ایک موم بتی اور کچھ پانی ساتھ رکھ لیا۔ اگر حالات بدتر ہو جاتے تو ہماری آخری پناہ گاہ یہ ہی ہو گی۔

    میرے گھر کے قریب موجود سپر مارکیٹس اور بینکوں کے اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لمبی قطاریں تھیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن میں پیسے ختم ہو چکے تھے۔ بہت سے پٹرول پمپوں پر تیل ختم ہو چکا تھا اور انھیں بند کر دیا گیا تھا۔ فضا میں خوف تھا، اب ہم جانتے تھے کہ پورا ملک حملے کی زد میں ہے۔

    شہر سے باہر جانے والی شاہرائیں ٹریفک کے باعث بلاک تھیں۔ لیکن یہ ایک خطرناک سفر تھا، طویل وقت تک بیٹھنا، قطاروں میں سست روی سے چلنا۔ ایسی صورتحال میں گھر سے بہت دوری پر ہی آپ کی گاڑی کا پٹرول باآسانی ختم ہو سکتا ہے۔

    ملک میں ریل چل رہی ہیں لیکن سیٹ کے حصول کے لیے کوشش کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

    یوکرین میں صدر کی جانب سے لگائے جانے والے مارشل لا کے بعد فضائی حدود بند ہے۔

    روس کے حملوں میں صرف عسکری تنصیبات کو ہی تباہ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ہمارے پاس بہت سے شہروں کی رہائشی عمارات کی تصاویر ہیں جنھیں براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔

    روسی بمباری سے شہر کے تمام علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ حتٰی کہ پولینڈ کی سرحد کے قریب موجود لیویو نامی علاقے میں صبح سائرن بجائے گئے اور میرے ایک ساتھی کو بم سے محفوظ رہنے کے لیے بنائے گئے شیلٹرز میں پناہ لینی پڑی۔

    میرا ایک ساتھی اپنے خاندان کو کیئو سے باہر اس امید پر لے گیا کہ وہ شہر پر فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ دیہی علاقے شاید شہروں کی نسبت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں لیکن ایک ایسا ملک جو شمال، مشرق اور جنوب سے حملوں کی زد میں ہو وہاں مزید کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

  20. یورپی یونین کی بیلاروس کو تنبیہ، ’روسی حملے میں شرکت نہ کریں‘

    یورپی یونین کے سربراہ چارلس مائیکل نے بیلاروس پر زور دیا ہےکہ وہ روس کی جانب سے یوکرین پر کیے جانے والے حملوں میں ’شرکت نہ کرے۔‘

    نیٹو کے ہیڈ کوارٹر سے میڈیا سے بات چیت میں چارلس مائیکل نے بیلاروس سے اپیل کی کہ ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ روس کی جارحیت میں شرکت نہ کریں۔

    تاہم دوسری جانب، یوکرین کی فوج کے سربراہ والیری زالوژنی نے اپنے فیس بک پر دعوی کیا ہے کہ ان کے ملک پر جنوبی مغرب میں بیلاروس کی جانب سے چار بلیسٹک میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دشمن ملک کے ٹینک، بکتر بند گاڑیوں نے بیلاروس سے یوکرین میں داخل ہونے کی کوشش کی ہے۔

    بیلاروس روس کا اتحادی ملک ہے اور یوکرین نے دعوی کیا ہے کہ انھوں نے روس کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے ہزاروں فوجیوں کو یہاں تعینات کر دیں۔