بی
بی سی یوکرین سروس کی ایڈیٹر مارتا شوکولو نے اپنے اس تجربے کے بارے میں تحریر کیا
ہے جب کیئو پر صبح سویرے حملے اور دھماکوں کی آوازوں سے یوکرین کی فضا سہم گئی۔
جمعرات
کی صبح روس کی جانب سے حملے کے بعد یوکرین پر گھبراہٹ اور انتشار کے سائے منڈلانے
لگے اور بہت سے شہری عجلت میں بینکوں کے باہر نقد رقم نکلوانے اور کھانے پینے کی
اشیا کا ذخیرہ کرتے چند محفوظ مقامات کا رخ کرتے دکھائی دیے۔
مارتا
کہتی ہیں کہ ’یوکرین میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔‘
وہ
بتاتی ہیں کہ رات میں اس وقت جاگ رہی تھی جب مجھے میری ایک دفتری ساتھی کا پیغام ملا
جس میں پوتن کی حملہ کرنے کے حوالے سے تقریر کا بتایا گیا تھا۔
پھر
اچانک دھماکے شروع ہو گئے۔ میں انھیں اپنے گھر سے سن سکتی تھی اور پھر ہمارے واٹس ایپ
گروپ میں شہر کے مختلف حصوں میں موجود لوگوں نے پیغامات بھیجنے شروع کر دیے کہ دھماکے
ان کےقریبی علاقوں میں ہو رہے ہیں۔
یہ جاننا کہ ملک کی مشرقی سرحد کے برعکس کیئو حملے
کی زد میں تھا ایک بڑا دھچکہ تھا۔
عام
لوگوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ بجلی کی بندش ہے اور انٹرنیٹ کام نہیں کر
رہا۔ ایسے میں ہم تنہا ہو جائیں گے۔ ایک اور خدشہ یہ ہے کہ دریائے نائپر پر موجود شہر
کے مشرقی اور مغربی حصے کو آپس میں ملانے والے پلوں پر بم گرا دیے جائیں گے۔
یہ
دھماکے 30 منٹ تک ہوتے رہے۔
میں نے اپنے دس سالہ بیٹے کو تیار کیا اور ہم نے کھڑکی سے جس حد تک ممکن تھا دور بیٹھ کر ناشتہ کیا۔ لیکن میرا بیٹا بہت خوفزدہ تھا اور اس نے خوف کے باعث قے کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے اپنے تہہ خانے میں جاتے ہوئے ایک موم بتی اور کچھ پانی ساتھ رکھ لیا۔ اگر حالات بدتر ہو جاتے تو ہماری آخری پناہ گاہ یہ ہی ہو گی۔
میرے گھر کے قریب موجود سپر مارکیٹس اور بینکوں کے اے ٹی ایم مشینوں کے باہر لمبی قطاریں تھیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے تھے جن میں پیسے ختم ہو چکے تھے۔ بہت سے پٹرول پمپوں پر تیل ختم ہو چکا تھا اور انھیں بند کر دیا گیا تھا۔ فضا میں خوف تھا، اب ہم جانتے تھے کہ پورا ملک حملے کی زد میں ہے۔
شہر سے باہر جانے والی شاہرائیں ٹریفک کے باعث بلاک تھیں۔ لیکن یہ ایک خطرناک سفر تھا، طویل وقت تک بیٹھنا، قطاروں میں سست روی سے چلنا۔ ایسی صورتحال میں گھر سے بہت دوری پر ہی آپ کی گاڑی کا پٹرول باآسانی ختم ہو سکتا ہے۔
ملک میں ریل چل رہی ہیں لیکن سیٹ کے حصول کے لیے کوشش کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
یوکرین میں صدر کی جانب سے لگائے جانے والے مارشل لا کے بعد فضائی حدود بند ہے۔
روس کے حملوں میں صرف عسکری تنصیبات کو ہی تباہ نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ ہمارے پاس بہت سے شہروں کی رہائشی عمارات کی تصاویر ہیں جنھیں براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
روسی بمباری سے شہر کے تمام علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ حتٰی کہ پولینڈ کی سرحد کے قریب موجود لیویو نامی علاقے میں صبح سائرن بجائے گئے اور میرے ایک ساتھی کو بم سے محفوظ رہنے کے لیے بنائے گئے شیلٹرز میں پناہ لینی پڑی۔
میرا ایک ساتھی اپنے خاندان کو کیئو سے باہر اس امید پر لے گیا کہ وہ شہر پر فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔ دیہی علاقے شاید شہروں کی نسبت زیادہ محفوظ ہوتے ہیں لیکن ایک ایسا ملک جو شمال، مشرق اور جنوب سے حملوں کی زد میں ہو وہاں مزید کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔