آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس میں جنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر کیا بیت رہی ہے؟

    گذشتہ ہفتے ماسکو میں جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ ’ہم روس کے یوکرین پر حملے سے دہشت زدہ ہیں۔‘

    انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کی تاہم ان کے تحفظ اور روسی پولیس کی جانب سے انھیں حراست میں لیے حانے کے خدشے کے پیشِ نظر ہم ان کی شناخت کو ظاہر نہیں کر رہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پوتن کی سکیورٹی فوسرز انھیں گرفتار کر لیں گی انھوں نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔

    مظاہرے میں شامل اس شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اکیلے اس مظاہرے میں شریک ہونے سے خوفزدہ تھے، انھوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس مظاہرے میں شرکت کی تھی کیونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ کیسے پولیس کی جانب سے کارکنوں کو سے حراست میں لیا گیا۔

    جب سے جنگ کے خلاف آن لائن لیٹر کو سائن کیا گیا ہے، مظاہرین کو کام کرنے کی جگہوں پر ان کے مالکان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یا تو اس اقرار نامے پر دستخط کریں کہ مظاہرے میں شرکت غلطی میں کی یا پھر نوکری کھو دینے کا سامنا کریں۔

    انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ صدر پوتن کسی جمہوری، قانونی عمل کے ذریعے اپنے دفتر سے ہٹائے جائیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ان کا ملک یوکرین پر حملہ کر دے گا۔

    لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روس پر مغرب کی جانب سے پابندیاں لگانا، جیسے روس کو چیمپئین لیگ فائنل کی میزبانی نہ کرنے دینا ناانصافی ہے اور اس سے ملک میں اشرافیہ نہیں بلکہ عام روسی نشانہ بنتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کاؤنسل آف یورپ جو کہ اس خطے کی سب سے پرانی پولیٹیکل باڈی ہے اور انسانی حقوق اور جمہوریت اور قانون کی پاسداری قائم رکھنے کے لیے ہے سے روس کی رکنیت کا معطل ہونا حکومت کی جانب سے عام روسیوں پر ایذا رسائی کا دروازہ کھولے گا۔

    اس سے قبل سنیچر کو سابق صدر دمیتری نے سوشل میڈیا پر یہ تجویز دی تھی کہ روس کی رکنیت معطل ہونے اور اسے نکالے جانے کے بعد حکومت وہاں سزائے موت کو دوبارہ متعارف کروانے کی اجازت دے سکتی ہے۔

  2. بریکنگ, فرانس کا یوکرین کو مزید ہتھیار بھجوائے کا اعلان

    جرمنی اور نیدرلینڈ نے یوکرین کو ہتھیار بھجوانے کا اعلان کیا ہے اور اب ہم سن رہے ہیں کہ فرانس نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو مزید فوجی مدد دے گا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملک کے صدر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ فرانس دفاعی ہھتیار اور ایندھن یوکرین بھجوائے گا۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ روسی میڈیا اور ان انفلیوانسرز کے خلاف بھی ایکشن لے گا جو جنگ کے بارے میں غلط خبریں پھیلا رہے ہیں۔

    یورپی یونین کاؤنسل کے صدر چارلس میچل نے ٹوئٹر پر کیا ہے کہ یونین کے 27 ممبر ممالک یوکرین تک فوجی امداد پہنچانے کے لیے مدد کریں گے۔

    انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات تو فراہم نہیں کیں تاہم یورپی یونین کے وزرائے خارجہ یوکرین کی افواج کے لیے نئے پیکیج کے بارے میں بات چیت کے لیے کل ملیں گے۔

  3. لڑنے کے خواہش مند افراد کی لمبی قطاریں

    حالیہ ہفتوں میں کیئو اور یوکرین کے دیگر علاقوں میں نیٹو کی افواج کی جانب سے مسلسل بنیادوں پر ہتھیار، بارودی مواد اور سائبر اور مواصلاتی آلات بھجوائے جاتے رہے ہیں۔

    لیکن وہاں زمین پر نیٹو کے فوجی دستے موجود نہیں ہیں جس نے یہاں کچھ مایوسی پیدا کر دی ہے۔ یوکرین کے عوام یہ سب محسوس کر رہے ہیں اور وہاں کے صدر بھی کئی بار اس پر بات کر چکے ہیں کہ جب لڑنے کی بات آتی ہے تو یہ یوکرینی ہی ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔

    جب بھی ہم ایسے کسی دفتر کے قریب سے گزرے جہاں یوکرین کے لوگ رضاکارانہ طور پر اپنی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں تو ہمیں وہاں لوگوں کی ایک لمبی قطار دکھائی دی۔

    جمعے کی شام ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک کھلی جگہ پر مردوں کی لمبی قطار تھی۔ وہ وہاں اپنے پاسپورٹ دکھا رہے ہیں۔ ان کے پاس جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں، بس عزم ہے اپنی گلیوں، اپنے خاندانوں اور اپنے ملک کا دفاع کرنے کا۔

  4. کیا روس یوکرین لڑائی تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے؟

    یوکرین امریکہ کے پڑوس میں نہیں ہے۔ نہ اس کی کوئی سرحد امریکہ سے لگتی ہے اور نہ ہی یہاں کوئی امریکی فوجی اڈہ موجود ہے۔

    اس ملک کے پاس تو تیل کے وسیع تر ذخائر بھی نہیں ہیں اور نہ ہی امریکہ اور یوکرین کے مابین بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔

    پھر آخر کیا وجہ ہے روس اور یوکرین کا تنازع جنگی صورتحال تک آپہنچا اور کیا بات تیسری عالمی جنگ تک پہنچے گی۔

    آئیے اس ویڈیو میں ہم یہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    رپورٹر: فرحت جاوید ویڈیو اینڈ ایڈٹنگ: محمد ابرہیم

  5. یوکرین میں رات چھا گئی، آج کے دن کی اہم پیش رفتیں کیا رہیں؟

    یوکرین میں اس وقت رات ہو چکی ہے۔ آج کے دن کی صورتحال کچھ یوں رہی ہے:

    • پورے کیئو شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو پیر تک جاری رہے گا۔ شہر تازہ ترین روسی حملے کے لیے خود کو تیار کرنے میں مصروف ہے
    • کیئو کے میئر وتالی کلیتشکو نے کہا ہے کہ سڑکوں پر نظر آنے والے ہر شخص کو روس کا مددگار تصور کیا جائے گا
    • یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارخیو میں حکام کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوجیوں نے روسی حملہ ناکام بنایا ہے۔
    • اوختیئرکا نامی شہر کے رہائشی علاقے پر بھاری گولہ باری کی گئی ہے
    • روس کے خطہ چیچنیا کے رہنما رمضان قادروف نے کہا ہے کہ اُنھوں نے روسی فوجیوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے اپنے جنگجو تعینات کر دیے ہیں
    • ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کا ملک روس کے خلاف یورپی یونین کی تمام پابندیوں کی حمایت کرے گا
    • جرمنی نے دیگر ممالک کے ذریعے یوکرین کو جرمن ساختہ مہلک ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی ہٹا لی ہے
    • حملے کی شروعات سے اب تک ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد یوکرین سے نکل کر مغربی جانب دیگر ملکوں کی طرف بھاگ نکلے ہیں
  6. بریکنگ, جرمنی کا یوکرین کو سٹنگر میزائل اور توپ شکن ہتھیار فراہم کرنے کا فیصلہ

    جرمنی کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ یوکرین کو 1000 توپ شکن ہتھیار اور پانچ سو ’سٹنگر‘ میزائل فراہم کرے گا۔

    یہ اقدام جرمنی کی اس طویل عرصے سے موجود پالیسی میں واضح تبدیلی ہے جس کے مطابق وہ جنگ زدہ علاقوں میں ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی عائد رکھے گا۔

    چانسلر اولاف سکولز کا کہنا ہے کہ ’اس صورتحال میں یہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ہم یوکرین کی جس قدر ہو سکے مدد کریں تاکہ وہ ولادیمیر پوتن کی حملہ آور فوج کے خلاف مقابلہ کر سکیں۔

  7. یوکرین: روسی فوجیوں سے دفاع کے لیے خواتین پیٹرول بم بنانے میں مصروف, سارا رینسفورڈ، بی بی سی نامہ نگار برائے مشرقی یورپ، دنیپرو سے

    یوکرین کے اس بڑے شہر کے مرکز میں ہمیں کئی خواتین ملیں جو گھاس پر بیٹھی پیٹرول بم بنا رہی ہیں۔ یہ دنیپرو میں اپنے آپ اور اپنے گھروں کو بچانے کی ایک کوشش ہے۔

    ان خواتین میں اساتذہ، وکلا اور گھریلو خواتین ہیں جن کے گرد شیشے کی بوتلیں، کپڑے اور ایندھن پڑا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں زیادہ نہیں سوچنا چاہ رہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں، کیونکہ ایک خاتون نے مجھے بتایا کہ یہ سوچ ’بہت خوفناک‘ ہے۔

    مگر وہ پھر بھی کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہتی ہیں۔ یہ شہر اب بھی حملے کی زد میں نہیں آیا ہے مگر یہ اثرات جھیلنے شروع ہو گیا ہے۔ ملٹری ہسپتال میں 400 بستر ہیں اور وہ اب پورے مشرقی یوکرین سے زخمی فوجیوں سے بھر چکے ہیں۔

    ہسپتال کے دروازے پر مقامی لوگ دوائیں، پٹیاں، سرنجیں وغیرہ لا رہے ہیں اور کسی بھی چیز کو منع نہیں کیا جاتا۔

    دوسری جانب مرد رضاکارانہ طور جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنا نام لکھوا رہے ہیں۔

    اس شہر کے لوگ متحرک ہو رہے ہیں مگر ان سب کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے، بلکہ اُن کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔

  8. جرمنی نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق پابندی ہٹا دی, ڈیمیئن مکگنیز، بی بی سی نیوز برلن

    جرمنی کی جانب سے یوکرین کو تیسرے ملک سے جرمن ساختہ اسلحے کی فراہمی سے متعلق پابندی ہٹا دی گئی ہے۔

    اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ نیدرلینڈز جرمن ساختہ 400 راکٹ گرینیڈ لانچر یوکرین بھجوا سکے گا۔

    ’اس فیصلے سے جرمنی کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور اس سے یوکرین کے لیے یورپی فوجی امداد میں اضافہ بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے کیونکہ یورپ میں استعمال ہونے والا اکثر اسلحہ جرمن ساختہ ہے، اس لیے اس کے استعمال اور برآمد میں جرمنی کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔

    جرمنی کے چانسلر اولاف سکولز نے حالیہ ہفتوں میں متعدد مرتبہ اس پالیسی کے بارے میں بات کی ہے جب انھوں نے یوکرین کو اسلحہ بھیجنے سے انکار کیا تھا۔

  9. روس، یوکرین اور امریکہ اب تک کی صورتحال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کا آج تیسرا دن ہے اور آج اس تنازع سے منسلک مختلف ممالک نے اب تک کی صورتحال کے بارے میں کیا کہا ہے، اس کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    آپ کو یہ پڑھ کر بالکل بھی حیرت نہیں ہو گی کہ مختلف ممالک سے مختلف بیانیے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    • روس کی سرکاری خبررساں ایجنسی آر آئی اے کا کہنا ہے کہ اس کی یونٹس نے جمعے کو تعطل کے بعد تمام اطراف سے یوکرین کی جانب پیش قدمی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ ماسکو کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کرنے سے انکار کے بعد حملوں کے دوبارہ آغاز کا حکم دیا ہے۔
    • یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کا ملک کے تمام بڑے شہروں پر کنٹرول برقرار ہے اور اس کی فوجوں نے روسی حملے کو پسپا کیا ہے اور ان کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
    • ادھر واشنگٹن ڈی سی میں امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو میں اس حوالے سے اضطراب پایا جاتا ہے کہ یوکرین کی جانب سے ’سخت مزاحمت‘ کی گئی ہے جس سے روسی فوجوں کو تیزی سے اپنے اہداف حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئی ہیں۔ برطانیہ کا بھی یہی کہنا ہے کہ روس کی پیش قدمی کی رفتار سست ہو گئی ہے۔
  10. روس کو مبینہ طور پر توقعات سے زیادہ نقصان, مارک اربن، بی بی سی نیوز نائٹ

    ٹویٹس، ٹک ٹاک ویڈیوز اور فیس بک پوسٹس کو ایک طرف رکھ کر دیکھیں تو اس حوالے سے کافی ثبوت موجود ہیں کہ روسی فوج کو یوکرین پر حملے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

    قیدیوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور کچھ اپنے ساتھیوں کی قید یا موت کے صدمے میں ہیں۔ کچھ فوجیوں نے کہا کہ اُنھیں نہیں معلوم تھا کہ اُنھیں یوکرین بھیجا جا رہا تھا۔

    ایک نوجوان روسی فوجی اپنا سر اپنے ہاتھوں میں دیے بیٹھا تھا اور لوگ اس کے گرد صدر پوتن کو گالیاں دے رہے تھے۔ ایک اور فوجی سے جب پوچھا گیا کہ وہ اپنے گھر والوں سے کیا کہنا چاہتا ہے، تو اس نے کہا کہ ’میں آپ سب سے پیار کرتا ہوں۔‘

    قیدیوں کی ویڈیوز کے علاوہ جلی ہوئی گاڑیوں میں سوختہ لاشوں کے مناظر بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

    ہلاک و قید ہونے والے فوجیوں کی تعداد نامعلوم ہے مگر برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق سینکڑوں ہلاکتوں کا امکان ہے، خاص طور پر اگر جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب روسی فوجیوں سے بھرا ایک طیارہ مار گرائے جانے کی خبر کی تصدیق ہو جاتی ہے تو۔

    اور زیرِ گردش ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ قید فوجیوں کی تعداد درجنوں میں ہو گی۔ صدر پوتن کے لیے ان نقصانات کی خبر سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے کیونکہ افغان اور چیچن جنگوں کے دوران سپاہیوں کی مائیں احتجاج کرتی رہی تھیں۔

    چنانچہ اطلاعات ہیں کہ روس نے ٹوئٹر اور فیس بک تک رسائی محدود کر دی ہے۔ شاید ایسا تصویری ثبوتوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

  11. بریکنگ, کیئو میں پیر کی صبح تک کرفیو کے نفاذ کا اعلان

    یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں اب سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل کرفیو نافذ کیا گیا تھا جو اب پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔

    کیئو میں حکام نے اعلان کیا ہے کہ ’ایسے تمام شہری جو اس دوران گلیوں میں دکھائی دیے انھیں دشمن تصور کیا جائے گا۔‘

    کیئو کے میئر کے دفتر نے اس سے قبل کیے گئے اعلان کی وضاحت کی ہے جس میں اس کرفیو کے شام پانچ سے صبح آٹھ بجے تک جاری رہنے کی بات کی گئی تھی۔ اب یہ کرفیو پیر کی صبح آٹھ بجے سے پہلے نہیں اٹھایا جائے گا۔

  12. روس کی پیش قدمی سست پڑ گئی ہے: برطانوی وزارتِ دفاع

    برطانیہ کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی کیئو کی جانب پیش قدمی عارضی طور پر سست پڑ گئی ہے جس کی وجوہات ممکنہ طور پر ’تقل و حمل سے منسلک مشکلات اور یوکرین کی جانب سے سخت مزاحمت ہو سکتی ہیں۔‘

    ایک ٹویٹ میں وزارت کی جانب سے کہا گیا کہ ’روسی فوجی یوکرینی آبادیوں اور مراکز کو تیزی سے عبور کرتے جا رہے ہیں لیکن اس کی وجہ سے ان کا گھیراؤ کرنا اور انھیں تنہا کرنا ممکن ہو رہا ہے۔‘

    وزارت کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین کے دارالحکومت کیئو پر قبضہ کرنا اب بھی روس کا سب سے اہم ہدف ہے۔

  13. بریکنگ, رہائشی عمارت پر راکٹ حملے میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہوئے

    ہم آج صبح سے ہی کیئو میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے حملے کے بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں۔

    اب اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ اس حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ملک کی ایمرجنسی سروس کے مطابق اس حملے میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  14. یمنی طلبہ بھی یوکرین سے پولینڈ جانے والوں میں شامل, مراد شیشانی، نامہ نگار بی بی سی عربی، پولش یوکرین بارڈر سے

    ہم نے یوکرین اور پولینڈ کے درمیان میدیکا کی سرحد پر جسے بھی دیکھا وہ خوفزدہ نظر آیا اور جنگ کی ہولناکیاں بیان کرتا رہا۔

    یوکرین میں پڑھنے والے یمنی طلبہ کے ایک گروہ نے مجھے بتایا کہ اُنھیں پولینڈ پہنچنے کے لیے 40 کلومیٹر چلنا پڑا۔

    ’احمد عمر نے مجھے بتایا کہ ’یوکرین میں صورتحال بھیانک ہے۔ وہاں کسی پر رحم نہیں کیا جا رہا۔ خواتین اور بچے ایک خوفناک جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

    اُن کے دوست محمد عبدالعزیز نے کہا: ’یوکرینی لوگ بہت رحمدل ہیں مگر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ظالم قوت جیت جاتی ہے۔‘

    پاویل پولش شہری ہیں اور وہ گتے کا ایک بورڈ اٹھائے کھڑے نظر آئے جس پر لکھا تھا کہ وہ پناہ گزینوں کو مفت سواری فراہم کر رہے ہیں۔

    اُن کا کہنا ہے کہ مدد کے متلاشی لوگوں کی تعداد بہت بڑی ہے۔ اور وہ صحیح بھی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ پولینڈ میں 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین آنے کا امکان ہے اور 40 لاکھ کے قریب لوگ مجموعی طور پر یوکرین چھوڑ سکتے ہیں۔

  15. روس نے شہریوں کے لیے ٹوئٹر تک رسائی محدود کر دی

    یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں حملے کے بعد سامنے آنے والے تکلیف دہ مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    تاہم اب روس نے ملک میں ٹوئٹر تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق انٹرنیٹ کمپنی نیٹ بلاکس نے بی بی سی کو کی ہے۔

    سنیچر کی صبح سے ہی سروسز تعطل کا شکار تھیں تاہم اب ٹوئٹر تک رسائی مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔ روسی حکام اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمنز کے درمیان یوکرین کشیدگی سے متعلق مواد کے بارے میں قواعد پر تنازع جاری تھا۔

    نیٹ بلاکس کے ڈائریکٹر ایلپ ٹوکر نے کہا کہ ’روس کی جانب سے ٹوئٹر تک رسائی ختم کرنے کا اقدام معلومات کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے ایک ایسے وقت میں جب بحران کی کیفیت ہے اور لوگوں کا باخبر رہنا بہت ضروری ہے۔‘

  16. یوکرین کے خلاف روسی حملے میں چیچن جنگجوؤں کا شمولیت کا فیصلہ

    روس کے چیچنیا خطے کے رہنما نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے جنگجوؤں کو روسی کے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ایک آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیو میں رمضان قادروف کا کہنا تھا کہ چیچن فورسز ایک یوکرینی فوجی تنصیب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور اس دوران کوئی ہلاکت بھی نہیں ہوئی۔

    جنوبی روسی خطے کے رہنما روس کے صدر کے اہم اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے پوتن کی جانب سے اس حملے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے سے ماسکو کے دشمن اسے روس کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے سے پرہیز کریں گے۔

    چیچن جنگجو انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے باعث بھی خاصے بدنام ہیں۔

  17. یوکرین کا دارالحکومت کیئو جہاں کوئی جگہ محفوظ نہیں, نامہ نگار اورلا گوئیرن، کیئو

    یوکرین کا دارالحکومت کیئو آج ایک ایسا شہر ہے جو اگر سردیوں کی دھوپ میں نہایا ہوا ہے تو اس پر شدید گھٹن اور اضطراب کے سائے بھی منڈلا رہے ہیں۔

    کیئو میں رہائشی عمارت پر ہونے والا حملہ کسی المیے کے بارے میں بنائی گئی فلم جیسا تھا جس سے اس کا ایک حصہ تباہ ہو گیا۔ یہ یقیناً کسی معجزے سے کم نہیں ہے کہ اس کے نتیجے میں کوئی اموات رپورٹ نہیں ہوئیں۔

    ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ ’یہ بالکل بھی معجزہ نہیں ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’متعدد افراد یا تو پناہ گاہوں میں ہیں، یا شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

    اس عمارت سے گرنے والے ملبے میں پرسکون اور نارمل زندگیوں کی باقیات نظر آتی ہیں۔ کوئی کتاب، کہیں کسی بچے کی تصویر تو کہیں کی بورڈ۔

    ایک خاندان چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر میرے قریب سے تیزی سے گزرا۔ وہ بچوں کے سٹرولر اور دیگر سامان کو ایک ساتھ سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے جس کے بعد وہ ایک وین میں بیٹھے اور وہاں سے چل دیے۔

    اس یورپی داراحکومت میں یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ یہاں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

  18. ولادیمیر پوتن: یوکرین پر حملے کی اجازت دینے والے روس کے صدر کون ہیں؟

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے یوکرین پر حملے نے شاید بہت سے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ سنہ 2014 میں کریمیا کے روس سے الحاق کے بعد اُن کی خطے میں دوسری بڑی مہم جوئی ہے۔

    تاہم یہ بات اہم ہے کہ روس کے اثرورسوخ کو سامنے لانے کے اپنے عزم میں پوتن نے کبھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔

    ولادیمیر پوتن سنہ 2000 سے برسر اقتدار ہیں۔ اس عرصے کے دوران وہ روس کے صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے۔

    یوں سنہ 1953 میں سویت یونین کے آمر حکمران جوزف سٹالن کی موت کے بعد سے وہ روس کے دوسرے ایسے رہنما ہیں جنھیں سب سے طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔

    یوں تو ولادیمیر پوتن کی صدارت کی مدت سنہ 2024 تک ہے مگر سنہ 2020 میں متنازع آئینی اصلاحات پر رائے شماری کے بعد اب وہ اپنی چوتھی مدت پوری کرنے کے بعد بھی حکمران رہ سکتے ہیں۔

    ان آئینی اصلاحات کے بعد وہ سنہ 2036 تحت صدر کے منصب پر فائز رہ سکتے ہیں۔

  19. اردوغان اور زیلینسکی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ, ترکی کا جنگ بندی کی کوششوں کا اعادہ

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سنیچر کو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی سے گفتگو کی ہے جس میں اُنھوں نے کہا ہے کہ انقرہ کی جانب سے فوری جنگ بندی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق فون کال کے دوران صدر اردوغان نے کہا کہ ترکی جلد سے جلد جنگ بندی کے اعلان کے لیے کوشش کر رہا ہے تاکہ یوکرین کو مزید نقصان نہ پہنچے۔

    اردوغان نے ’روسی حملے‘ میں یوکرینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔

    اس سے قبل ترک وزیرِ خارجہ مولود چاؤشوگلو نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے فون پر بات چیت میں ماسکو پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ’فوجی آپریشنز‘ بند کر دیں۔

    واضح رہے کہ ترک صدر نے اس پورے تنازعے کے دوران ماسکو اور کیئو کے درمیان ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کے لیے یوکرین اور روس کسی کو بھی چھوڑنا ممکن نہیں ہے۔

  20. ’اردوغان اور ترکی کے عوام کا شکریہ، یوکرینی عوام یہ کبھی نہیں بھولیں گے‘

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے ترکی کی جانب سے روس کے جنگی بحری جہازوں کو بحیرہ اسود کا راستہ نہ دینے اور یوکرین کی عسکری اور انسانی امداد کرنے پر صدر رجب طیب اردوغان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    تاہم اس حوالے سے تاحال ترکی کی جانب سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

    ٹوئٹر پر اپنے بیان میں اُنھوں نے کہا کہ میں اپنے دوست اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، اور ترکی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    اُنھوں نے کہا کہ یوکرین کے لوگ یہ کبھی نہیں بھولیں گے۔