روس میں جنگ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر کیا بیت رہی ہے؟
گذشتہ ہفتے ماسکو میں جنگ کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شامل ایک شخص نے بتایا ہے کہ ’ہم روس کے یوکرین پر حملے سے دہشت زدہ ہیں۔‘
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کی تاہم ان کے تحفظ اور روسی پولیس کی جانب سے انھیں حراست میں لیے حانے کے خدشے کے پیشِ نظر ہم ان کی شناخت کو ظاہر نہیں کر رہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پوتن کی سکیورٹی فوسرز انھیں گرفتار کر لیں گی انھوں نے اس مظاہرے میں شرکت کی۔
مظاہرے میں شامل اس شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اکیلے اس مظاہرے میں شریک ہونے سے خوفزدہ تھے، انھوں نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اس مظاہرے میں شرکت کی تھی کیونکہ وہ دیکھ چکے تھے کہ کیسے پولیس کی جانب سے کارکنوں کو سے حراست میں لیا گیا۔
جب سے جنگ کے خلاف آن لائن لیٹر کو سائن کیا گیا ہے، مظاہرین کو کام کرنے کی جگہوں پر ان کے مالکان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ یا تو اس اقرار نامے پر دستخط کریں کہ مظاہرے میں شرکت غلطی میں کی یا پھر نوکری کھو دینے کا سامنا کریں۔
انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ صدر پوتن کسی جمہوری، قانونی عمل کے ذریعے اپنے دفتر سے ہٹائے جائیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ روس میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ان کا ملک یوکرین پر حملہ کر دے گا۔
لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ روس پر مغرب کی جانب سے پابندیاں لگانا، جیسے روس کو چیمپئین لیگ فائنل کی میزبانی نہ کرنے دینا ناانصافی ہے اور اس سے ملک میں اشرافیہ نہیں بلکہ عام روسی نشانہ بنتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاؤنسل آف یورپ جو کہ اس خطے کی سب سے پرانی پولیٹیکل باڈی ہے اور انسانی حقوق اور جمہوریت اور قانون کی پاسداری قائم رکھنے کے لیے ہے سے روس کی رکنیت کا معطل ہونا حکومت کی جانب سے عام روسیوں پر ایذا رسائی کا دروازہ کھولے گا۔
اس سے قبل سنیچر کو سابق صدر دمیتری نے سوشل میڈیا پر یہ تجویز دی تھی کہ روس کی رکنیت معطل ہونے اور اسے نکالے جانے کے بعد حکومت وہاں سزائے موت کو دوبارہ متعارف کروانے کی اجازت دے سکتی ہے۔