آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

یوکرین کے معاملے پر اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب

یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, یوکرین کا اب تک 4300 روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

    یوکرین کی نائب وزیر دفاع ہنا مالیار نے ایک فیس بک پوسٹ میں ملک کی افواج کی جانب سے روس کو پہنچائے جانے والے نقصانات کی فہرست جاری کی ہے۔

    بی بی سی ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا اور روس نے اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے متعلق اب تک کچھ نہیں کہا ہے۔

    یوکرین کی جانب سے روسی فوجیوں کو پہنچنے والے نقصانات:

    • 4300 ہلاکتیں
    • 27 طیارے
    • 26 ہیلی کاپٹر
    • 146 ٹینک
    • 706 بکتر بند گاڑیاں
    • 49 توپیں
    • ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم
    • مختلف اقسام کے چار راکٹ لانچنگ سسٹم
    • 30 گاڑیاں
    • 60 ٹینکرز
    • دو ڈرون
    • دو کشتیاں
  2. بینکوں میں رش بڑھنے کا خدشہ: روس کے مرکزی بینک کی شہریوں سے پرسکون رہنے کی اپیل

    روس کے مرکزی بینک کو خدشہ ہے کہ نئی مالیاتی پابندیوں کے تناظر میں لوگ پیسے نکالنے کے لیے بہت زیادہ تعداد میں بینکوں کا رخ کر سکتے ہیں۔

    انھوں نے شہریوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔

    بینک کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ: ’بینک آف روس کے پاس مالی استحکام کو برقرار رکھنے اور مالیاتی شعبے کے آپریشنل تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔‘

    یاد رہے یورپی یونین، امریکہ اور اتحادیوں نے یوکرین جنگ کے ردعمل کے طور پر روس کے چند بینکوں کو بین الاقوامی ادائیگی کے نظام سوئفٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نیٹو ممالک کی جانب سے روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے روزانہ کی بنیاد پر روس کے خلاف اقدامات سامنے آ رہے ہیں جن میں ایک فیصلہ یہ بھی ہے کہ روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمند کر دیے جائیں تاکہ روس بین الاقوامی مالیاتی ذخائر تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

    یہ اقدامات اب تک روس کے خلاف سخت ترین اقدامات تصور کیے جا رہے ہیں۔

  3. آمنہ مفتی کا کالم ’اڑیں گے پرزے‘: میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟

  4. خارخیو میں روسی بکتر بند گاڑی کو آگ لگ گئی

    یہ تصویر یوکرین کی فوج کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو سے لی گئی ہے جس میں خارخیو شہر میں ایک روسی بکتر بند گاڑی کو جلتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے شہر میں لڑائی کے دوران اس گاڑی کو تباہ کر دیا ہے۔

    روسی افواج حالیہ چند گھنٹوں کے دوران یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر خارخیو میں داخل ہوئی ہیں۔

    بی بی سی نے اس ویڈیو فوٹیج کی تصدیق کی ہے جس میں روسی ٹرک خارخیو میں داخل ہوتے دکھائے گئے ہیں۔

  5. بریکنگ, پوتن کا خطاب: سپیشل فورسز کا شکریہ ’میں دعاگو ہوں کہ آپ کامیاب ہوں‘

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ملک کی سپیشل فورسز کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے ان فوجیوں کی تعریف کی جو یوکرین میں ’بہادری سے اپنی ڈیوٹی پوری کر رہے ہیں۔‘

    ایک ٹیلیویژن خطاب جو کریملن کی ویب سائٹ پر بھی شائع ہوا ہے، اس میں پوتن نے ’روس اور عظیم مملکت کے لیے ان فوجیوں کی بے مثال خدمات‘ کو سراہا ہے۔

    مشرقی یوکرین میں باغیوں کے زیر قبضہ ان دو علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے جنھیں روس نے یوکرین پر حملے سے قبل آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کیا تھا، پوتن نے کہا کہ فوجیوں کو ’عوامی جمہوریہ دونباس‘ میں مدد فراہم کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ میں کمانڈ، سپیشل آپریشن فورسز کے اہلکاروں اور حلف سے وفاداری دکھانے والے سپیشل فورسز کے سابق فوجیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنھوں نے روس اور ہماری عظیم مملکت کے نام پر بے مثال خدمات انجام دی ہیں۔

    انھوں نے پیغام کا اختتام ان الفاظ میں کیا ’میں دعاگو ہوں کہ آپ اور آپ کے چاہنے والے کامیاب ہوں، میں آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔‘

    یہ خطاب روس کی سپیشل فورسز کے دن کے موقع پر دیا گیا تھا۔

  6. زیلنسکی: روس سے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے اہم اختیارات چھین لیں

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے مطالبہ کیا ہے کہ روس سے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے اہم اختیارات چھین لیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روس کی مجرمانہ کارروائیاں ’نسل کشی‘ کی زمرے میں آتی ہیں۔

    روس 1945 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ مستقل رکن کے طور پر اسے کسی بھی ’بنیاد‘ پر قراردادوں کو ویٹو کرنے کا حق حاصل ہے۔

    جمعہ کے روز روس نے اپنی اسی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں ماسکو کی جارحیت کی مذمت اور یوکرین سے انخلا کے مطالبے والی قرارداد کو ویٹو کیا۔

    اس کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور چین شامل ہیں۔

    اس کونسل کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد مستقبل میں تنازعات سے بچنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

  7. جوڈو فیڈریشن نے پوتن کو معطل کر دیا

    انٹرنیشنل جوڈو فیڈریشن نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو اعزازی صدر اور سفیر کی حیثیت سے معطل کر دیا ہے۔

    روسی صدر جوڈو بلیک بیلٹ ہیں۔

    حالیہ دنوں میں کھیلوں کے حوالے سے روس کے خلاف کئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے، یہ فیصلہ بھی انھی پابندیوں کا تسلسل ہے۔

    ستمبر میں سوچی میں منعقد ہونے والی روس کی فارمولا ون گرینڈ پرکس کو بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

    رواں ہفتے کے شروع میں اعلان کیا گیا تھا کہ 2022 چیمپئنز لیگ کا فائنل سینٹ پیٹرزبرگ کے بجائے پیرس میں کھیلا جائے گا۔

  8. یوکرین جنگ: کیئو کے عام شہری جو روسی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں

  9. خارخیو میں شدید لڑائی، ’روس کو ملک بھر میں سخت مزاحمت کا سامنا ہے‘

    برطانیہ کی وزارت دفاع کی تازہ ترین انٹیلی جنس میں بتایا گیا ہے کہ روس کئی جانب سے یوکرین کی جانب پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے مگر اسے یوکرینی فوج کی طرف سے ’سخت مزاحمت‘ کا سامنا ہے۔

  10. فن لینڈ اور آئرلینڈ نے روس سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی

    فن لینڈ اور آئرلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی روسی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں گے۔

    ابھی تک یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ اقدامات کب نافذ العمل ہوں گے۔

    فن لینڈ کی 1300 کلومیٹر سرحد روس کے ساتھ لگتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روس سے مغرب کی طرف جانے والا ایک اہم روٹ بند کر دیا جائے گا۔

    بلغاریہ، جمہوریہ چیک، ایستونیا، جرمنی، پولینڈ اور برطانیہ پہلے ہی ایسے ہی فیصلے کر چکے ہیں۔

    ماسکو نے بھی کئی ممالک کے طیاروں کو اپنی فضائی حدود سے پرواز کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

  11. کیئو کے مضافاتی علاقے پر میزائل حملے کی اطلاعات

    انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیئو کے مضافاتی علاقے ترائیشچینا پر میزائل حملہ کیا گیا ہے۔

    یوکرین کے وزیر داخلہ کے مشیر نے ٹیلی گرام ایپ پر ایک پوسٹ میں اسے ’کیئو کے رہائشی علاقے ترائیشچینا پر ’بے مقصد اور بے رحمانہ حملہ‘ قرار دیا۔

  12. یوکرین کی شہریوں کو بم بنانے، روڈ سائنز ہٹانے اور رات کو کام کرنے کی ہدایت

    یوکرینی فوج نے عام لوگوں کو شہری مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور ان کے لیے ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

    اس میں لکھا ہے کہ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے پاس اسلحہ ہے یا گولہ بارود، یا دونوں میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے۔۔۔ لڑائی کے تمام ممکنہ طریقے اور ذرائع استعمال کریں۔‘

    شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ:

    • سڑکوں پر لگے روڈ سائنز ہٹا دیں یا انھیں مٹا دیں
    • نقل و حرکت کو ناممکن بنانے کے لیے درخت گرا دیں
    • آگ لگانے کے لیے گھریلو ساختہ آلات کا بھرپور استعمال کریں
    • نقل و حمل کے مراکز کو تباہ کر دیں
    • رات یا شام کے وقت زیادہ کام کریں
  13. روس کے زیرِ قبضہ سومی شہر جہاں پاکستانی طلبا کا ایک گروہ محصور ہے

    ’ہم جو راشن 15 دن پہلے لائے تھے وہ بھی ختم ہو چکا ہے اور اب ہم صرف سیب کھا کر گزارا کر رہے ہیں کیونکہ صرف ایک یہی چیز دستیاب ہے۔‘

    یوکرین پر روسی حملے کے تیسرے دن پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے تعلق رکھنے والے ثنا اللہ اور ان کے 14 پاکستانی ساتھی روسی سرحد سے 40-50 کلومیٹر پر واقع سومی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ سب افراد سومی سٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔

    ان طلبا نے مدد کے لیے یوکرین میں واقع پاکستانی سفارتخانے فون کیا تو انھیں کہا گیا کہ وہ لییو یا ترنوپل شہر پہنچیں (یہ دونوں شہر سومی سے بالترتیب 900 اور 800 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہیں)۔

    دوسری جانب یوکرین میں موجود پاکستانی سفیر میجر جنرل (ریٹائرڈ) نوئیل اسرائیل کھوکھر کا کہنا ہے کہ انھوں نے سومی میں پھنسے ان طلبا سے بات کی ہے مگر سومی روسی فوجوں کے قبضے میں ہے اور ہم اپنے ذرائع سے انھیں وہاں سے نہیں نکال سکتے۔ تاہم طلبا ایسی کسی بھی گفتگو کی تردید کرتے ہیں۔ یہ طلبا کن حالات میں رہ رہے ہیں، مزید پڑھیے >>

  14. بریکنگ, یوکرین نے بیلاروس میں مذاکرات کی پیشکش مسترد کر دی

    روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کا ایک وفد بیلاروس پہنچا ہے۔

    مگر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے مذاکرات کی اس تازہ ترین پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا ہے کہ اگر روس بیلاروس کی سرزمین سے یوکرین پر حملہ نہ کرتا تو منسک میں بات چیت ہو سکتی تھی۔

    تاہم انھوں نے دوسری کسی بھی جگہ پر مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔

    زیلینسکی کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کی سرزمین سے کوئی جارحانہ کارروائی نہ ہوتی تو ہم منسک میں بات چیت کر سکتے تھے۔۔۔۔ اب کسی اور مقام پر مذاکرات ممکن ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے ’یقیناً ہم امن چاہتے ہیں، ہم ملنا چاہتے ہیں، ہم جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وارسو، بریتیسلاوا، بوداپیست، استنبول، باکو۔۔۔ ہم نے مذاکرات کے لیے روسیوں کے سامنے یہ تمام نام رکھے ہیں۔‘

    ہم کسی دوسرے شہر میں بھی مذاکرات کرنے کو راضی ہیں۔ کسی ایسے ملک میں جس کی سرزمین سے ہم پر میزائل نہیں داغے گئے۔‘

  15. یوکرین کا بیلاروس سے کیئو پر داغا جانے والا میزائل مار گرانے کا دعویٰ

    یوکرین کے وزیرِ خارجہ اولگ نکولینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فضائیہ نے دارالحکومت کیئو پر داغا جانے والا ایک میزائل مار گرایا ہے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل جس جہاز سے پھینکا گیا اس نے روس کے اتحادی بیلاروس سے اڑان بھری تھی۔

  16. خارخیو کہاں واقع ہے؟

    یوکرین کے شمال اور مشرق میں روسی پیش قدمی کا یہ نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ خارخیو روس کے بہت قریب واقع ہے۔

    یہ شہر جس کی آبادی تقریباً 1.5 ملین ہے، سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر اور روسی شہر بیلگوروڈ سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین کی افواج خارخیو کی سڑکوں پر روسیوں سے لڑ رہی ہیں۔

  17. کیئو کے مضافاتی علاقے بوچا میں لڑائی میں شدت آ گئی

    سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور میڈیا رپورٹس کے مطابق بوچا میں لڑائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

    یہ کیئو کے شمال مغرب میں ایک مضافاتی علاقہ ہے۔

    فوٹیج میں مبینہ طور پر ایک روسی بکتر بند گاڑی سے مشین گن کو فائرنگ کرتے دیکھا اور سنا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی روسی فوجیوں کو بوچا کی گلیوں سے گزرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    بی بی سی اس وقت اس تمام فوٹیج کی تصدیق نہیں کر سکتا تاہم ہم نے اس ٹیلی گرام ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں ایک رہائشی عمارت کو گولہ باری سے نقصان پہنچا ہے۔

    ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’ہمارے علاقے بوچا میں اس وقت ایسے حالات ہیں کہ کھڑکیاں ٹوٹ گئیں ہیں۔۔۔ یہاں پر ایک گولہ گرا ہے۔ مجھے نہیں پتا کتنے لوگ زخمی ہوئے یا مر گئے۔‘

  18. خارخیو سے پوسٹ کی گئی ویڈیو کی تصدیق: ’یہ روسی فوجی ہیں اور وہ گھروں کے درمیان رک گئے ہیں۔۔۔ اوہ خدا‘

    بی بی سی نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو کی تصدیق کر لی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ روسی ٹرک خارخیو میں گھس آئے ہیں۔

    ویڈیو بنانے والی خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’یہ روسی فوجی ہیں۔ ان کی وردی پر زیڈ لکھا ہوا ہے ۔ اور یہ سپرنایا سٹریٹ سے گزر رہے ہیں۔ وہ گھروں کے درمیان رک گئے ہیں۔ اوہ خدا۔‘

  19. ’دنیا کو یقین نہیں تھا کہ ہم اس طرح مزاحمت کر سکتے ہیں‘

    یوکرین پر روسی حملے کا آج چوتھا دن ہے اور یوکرین کے وزیِر دفاع دنیا بھر کے ممالک سے یوکرین کے لیے حمایت بڑھانے کا کہہ رہے ہیں۔

    اولیکسی ریزنیکوف کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ’72 گھنٹے تک مزاحمت‘ کرکے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ روسی جارحیت کو پسپا کرنا ممکن ہے۔

  20. بریکنگ, خارخیو کی گلیوں میں لڑائی کی اطلاعات

    خارخیو کی گلیوں میں لڑائی کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک گھنٹے کے دوران روسی فوجی شہر میں داخل ہوئے ہیں۔

    سوشل میڈیا فوٹیج میں شہر میں کچھ روسی گاڑیاں دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسی تصاویر بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں شہر میں کم از کم دو روسی ’ٹائیگر‘ گاڑیوں کو آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے۔

    بی بی سی اب تک ان تصاویر کی تصدیق نہیں کر سکا۔ خارخیوکے حکام نے آج صبح مقامی افراد کو پناہ گاہوں اور سڑکوں سے دور رہنے کی تنبیہ کی ہے۔