کیئو میں دھماکے اور سائرن کی آوازیں
کیئو شہر کے مرکز سے مغرب کی جانب ایک دھماکے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اسی دوران فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے جا رہے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ یورپی یونین ایسا اقدام کر رہا ہے۔ دوسری جانب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی افوج کو سٹریٹجک جوہری فورسز کو خصوصی الرٹ پر رکھنے کا حکم دیا ہے، جس پر امریکہ نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
کیئو شہر کے مرکز سے مغرب کی جانب ایک دھماکے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اسی دوران فضائی حملے کے سائرن بھی بجائے جا رہے ہیں۔
یوکرینی میڈیا کے مطابق روس نے یوکرین کے جنوب میں واقع ایک شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔
روسی فوجی اب نووا کاخوفکا یا نیو کاخوفکا پر قابض ہیں۔
یہ ایک چھوٹا شہر ہے لیکن دریائے ڈینیپر پر واقع ہے۔ یہ دریا کریمین کو پانی فراہم کرتا ہے۔
مبینہ طور پر یہاں کے میئر وولودیمیر کووالینکو نے کہا ہے کہ روسی فوجیوں نے شہر کی ایگزیکٹو کمیٹی پر قبضہ کر لیا ہے اور عمارتوں سے یوکرین کے جھنڈے اتار دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنوب سے روس کی پیش قدمی اب تک کی اس کی سب سے بڑی کامیابی رہی ہے، یہاں پر قبضے سے خيرسون، میکوالیواور میلیتوپول جیسے شہروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
مقامی حکام نے تصدیق کی ہے کہ روسی افواج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارخیو میں داخل ہو گئی ہیں۔
خارخیو کی علاقائی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ سینیگوبوف کا کہنا ہے کہ چھوٹی فوجی گاڑیاں ’شہر میں گھس آئی ہیں۔
ان کے بیان سے پہلے، ایسی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں روسی فوجی گاڑیوں کو شمال مشرقی شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
سینیگوبوف کا کہنا ہے کہ روسی فوجیں شہر کے مرکز میں ہیں اور انھوں نے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے کی تاکید کی ہے۔
’پناہ گاہوں سے مت نکلیں۔۔ یوکرین کی مسلح افواج دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں۔‘
یوکرین کی ایمرجنسی سروس نے تصدیق کی ہے کہ شمال مشرقی شہر خارخیو میں نو منزلہ عمارت پر ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں ایک خاتون ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔
چند گھنٹے پہلے اسی شہر میں ایک گیس پائپ لائن پر بھی راکٹ حملہ ہوا ہے۔
خارخیو یوکرین کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے اور 24 فروری سے یہاں روسی حملے جاری ہیں۔
اب سے کچھ دیر قبل بی بی سی یوکرین سروس نے بھی جنوب مشرقی شہر خارخیو اور خیرسن میں نئے دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
یوکرین میں سومی کے گورنر دمتری زیویتسکی کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز شمال مشرقی شہر اوختیرکا پر روسی حملے کے نتیجے میں ایک سات سالہ بچی سمیت کم از کم چھ یوکرینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں بچوں کے سکول اور ایک یتیم خانے کو نشانہ بنایا گیا۔ روس اس حملے کی تردید کرتا ہے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے روس پر ’جنگی جرائم‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس واقعے کی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کیئو میں اس وقت تقریباً صبح کے 7.30 بجے ہیں۔
گذشتہ رات دارالحکومت میں روسی میزائلوں کے کئی انتباہ جاری کیے گئے مگر ایسا لگتا ہے کہ کوئی فضائی حملہ نہیں ہوا ہے۔ تاہم شہر کے بالکل باہر دھماکے ہوئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ روس نے کیئو کے بالکل جنوب میں واقع شہر واسلکیو میں تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا، بتایاجا رہا ہے کہ یہاں پر ایک فوجی ایئربیس بھی ہے اور وہاں اب تک آگ لگی ہوئی ہے۔
حکام نے آس پاس کے علاقے کے ساتھ ساتھ کیئو کے رہائشیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ زہریلے دھوئیں سے بچیں اور اپنی کھڑکیاں بند کر لیں۔
کیئو کے ڈپٹی میئر میکولا پووروزنیک نے آج صبح کہا ہے کہ شہر کی صورتحال پرسکون ہے اور شہر یوکرینی افواج کے کنٹرول میں ہے۔
یوکرین کی حکومت روس کے خلاف مزاحمت سے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ایسا یورپ کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے کر رہی ہے۔
فیس بک پر ایک طویل پوسٹ میں وزیر دفاع اولیکسی ریزنکوف نے فوجیوں، پولیس، طبی عملے اور ہتھیار اٹھانے والے شہریوں کی تعریف کی۔
ریزنیکوف نے لکھا ’اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ بہت سے لوگوں نے اپنے خوف پر قابو پا کر کریملن کا مقابلہ کرنے کی ہمت کی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’کئیو پر دو گھنٹے میں قبضے کا دعویٰ کرنے والے کہاں ہیں؟ مجھے تو وہ کہیں نظر نہیں آ رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ ہمیں کافی چیلینجز کا سامنا ہے، ساری دنیا کے لوگوں کی نظریں یوکرین پر ہیں اور تین دن پہلے تک جس امداد کا حصول ناممکن نظر آ رہا تھا، اب وہ پہنچنے والی ہے۔‘
’انھوں نے مزید کہا ’اس فوج اور ہمارے لوگوں کے بغیر، یورپ کبھی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ہمارے بغیر یورپ کا وجود ہی نہیں رہے گا۔‘
آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے فنڈز فراہم کرے گا تاکہ اسے روسی افواج سے لڑنے میں مدد مل سکے۔
یاد رہے اس سے قبل کینبرا میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ آسٹریلیا صرف ’غیر مہلک‘ فوجی ساز و سامان ہی فراہم کرے گا۔
وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اس فیصلے کا اعلان کرنے سے پہلے اتوار کی صبح سڈنی میں یوکرین اور آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک چرچ سروس میں شرکت کی۔
انھوں نے کہا کہ جب یوکرین کی بات آتی ہے تو آسٹریلیائی حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے نیٹو شراکت داروں، خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مہلک ہتھیار فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘
ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ یوکرین کے کم از کم دو شہروں میں فضائی حملوں کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
یہ شہر مغرب میں ریون اور شمال مغرب میں لوتسک ہیں۔
یہاں موجود شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پناہ گاہوں کا رخ کریں اور وہیں رہیں۔
یوکرین کے وزیر اعظم نے روسی بینکوں کی سوئفٹ نظام سے بے دخلی اور مرکزی بینک کے بین الاقوامی اثاثے منجمند کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مغربی اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیر اعظم ڈینس شمیہل نے ٹویٹ کیا: ’میں یوکرین کے ان تمام حمایتیوں کا شکرگزار ہوں جن سے میری آج بات ہوئی۔‘
’ہم اس برے وقت میں آپ کی حمایت اور مدد کی قدر کرتے ہیں۔ یوکرین کے لوگ اسے کبھی نہیں بھولیں گے‘۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار یوکرینی شہری اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
ملک میں روسی ٹینک گھوم رہے ہیں اور شہروں پر میزائلوں کی بارش جاری ہے۔ بہت سے لوگ مغرب میں، لییو جیسے شہروں، یا سرحد پار پولینڈ کی جانب نکلے ہیں۔
کئیو شہر کے مضافات میں واقع واسلکیو میں تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کئیو کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ جلنے والے ڈپو سے زہریلا دھواں اٹھ رہا ہے۔
حکام نے رہائشیوں کو اپنی کھڑکیاں سختی سے بند کرنے کو کہا ہے۔
دارالحکومت میں بہت سے رہائشی پہلے ہی زیر زمین رہ رہے ہیں۔
مبینہ طور پر آئل ڈپو کی آن لائن پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں ہر جانب دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا ہے۔
یوکرین امریکہ کے پڑوس میں نہیں ہے۔ نہ اس کی کوئی سرحد امریکہ سے لگتی ہے اور نہ ہی یہاں کوئی امریکی فوجی اڈہ موجود ہے۔ اس ملک کے پاس تو تیل کے وسیع تر ذخائر بھی نہیں ہیں اور نہ ہی امریکہ اور یوکرین کے مابین بڑے پیمانے پر تجارت ہوتی ہے۔
لیکن اس سے قبل قومی مفادات کی غیر موجودگی نے امریکہ کے سابق صدور کو دوسرے ممالک پر حملوں اور مداخلت سے روکا نہیں۔۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر 1995 میں بل کلنٹن نے یوگوسلاویہ کے خاتمے کے لیے ہونے والی جنگ میں فوجی مداخلت کی اور 2011 میں براک اوباما نے لیبیا کی خانہ جنگی کے دوران بھی ایسا ہی کیا۔
1990 میں جارج ڈبلیو بش نے عراق کو کویت سے نکالنے کے لیے جب بین الاقوامی اتحاد بنایا تو اس کا جواز یہ دیا کہ وہ جنگل کے قانون کے خلاف قانون کی حکمرانی قائم کروانا چاہتے ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ میں شامل قومی سلامتی کے حکام نے بھی ایسی ہی زبان میں روس کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
فرق صرف یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ فوجی کارروائیوں کے بجائے روس پر اقتصادی پابندیوں کا پرچار کر رہی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ >>
امریکہ نے مغربی اتحادیوں کی جانب سے روس کے ساتھ سوئفٹ سسٹم کے تحت رابطے کو ختم کرنے کو ایران ماڈل جیسا قرار دیا ہے۔
ایران کو سنہ 2012 سے سوئفٹ سسٹم سے نکال دیا گیا تھا اور ایسا اس کی جانب سے جوہری پروگرام کے باعث لگی پابندیوں کی بنا پر کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس کے بہت سے بینک پھر اس نظام سے دوبارہ جڑ گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئیر افسر نے کہا ہے کہ روسی بینکوں کو اب سوئفٹ سے کٹنے کے بعد ٹیلی فون یا فیکس مشین کی ضرورت ہوتی۔
وہ کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ دنیا میں بہت سے بینک روسی بینکوں سے مکمل طور پر رقوم کی ترسیل روک دیں۔
جمعے کو سوئفٹ کے حوالے سے آنے والا فیصلہ تمام روسی بینکوں کے لیے نہیں بلکہ کچھ منتخب بینکوں کے لیے تھا اور وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ یورپی یونین اس لیسٹ کو فائنل کرے گی۔
امریکی افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ صرف صدر پوتن ہیں جنھوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس کی کتنی قیمت برداشت کرنا چاہتے ہیں۔
آذربائیجان کی سرکاری آئل کمپنی سوکار نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ وہ یوکرین میں آگ بھجانے والے عملے اور ایمبولینس سروس کو جنگ کے دوران مفت پیٹرول فراہم کرے گا۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے کے بعد اٹھایا جا رہا ہے۔
یوکرینی صدر سے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ادویات اور طبئ سازوسامان بھی دے گا۔
روس کے یوکرین پر حملے نے آذربائیجان کے صدر کو مشکل میں لا کھڑا کیا ہے۔ وہ روس کے حوالے سے احتیاط پسند ہیں انھوں نے پوتن سے اتحاد کے معاہدے پر اس روز دستخط کیے تھے جب روس نے یوکرین کے علیحدگی پسندوں کو گذشتہ ہفتے تسلیم کیا تھا۔
لیکن ان کے یورپی یونین اور ترکی سے بھی اچھے مراسم ہیں اور ان دونوں کی جانب سے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
ملک کے اندر صدر الہام علیوف کو صدر پوتن کے ساتھ معاہدہ کرنے اور کھل کر یوکرین کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
روس کے حملے سے قبل صدر الہام علیوف نے یورپی یونین کے ساتھ بھی اس کے بلاک میں گیس سپلائی بڑھانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
متعدد رپورٹس کے مطابق گذشتہ آدھے گھنٹے کے دوران کیئو میں واقع شہر واسلکو میں موجود آئل ڈپو میں روسی راکٹ حملہ ہوا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا گیا ہے حکومتی مشیر انتون گیراشینکو اور شہر کی میئر نتالیہ بلاسینوچ نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
سوشل میڈیا پر نظر آنے وای فوٹیج میں ٹرمنل سے اٹھتے شعلوں کو دیکھا جا سکتا ہے تاہم بی بی سی نے اس فوٹیج کی تصدیق نہیں کی۔
یورپی یونین، فرانس، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں روس کے یوکرین پر حملے کی مذمت کی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج نے جیسے یوکرین میں کیئو اور دیگر شہروں پر حملہ کیا ہے ہمارا عزم ہے کہ ہم روس سے اس کی قیمت لینا جاری رکھیں گے، جس سے روس بین الاقوامی مالیاتی سسٹم اور ہماری معیشتوں سے مزید الگ ہو جائے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ بینک انٹرنیشنل فنانشل سسٹم سے الگ کر دیے جائیں اور ان کی عالمی طور پر فعالیت کو نقصان پہنچے۔
سوسائٹی آف ورلڈ وائڈ انٹر بینک فائنینشل ٹیلی کمیونیکیشن ، سوفٹ کے ذریعے دنیا کے بہت سے ممالک بشمول روس میں رقوم کی ترسیل تیز ترین اور باآسانی ہوتی ہے۔
مغربی ممالک کے اس بیان میں صرف اس نظام کو ہی نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ان اتحادی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ پرعزم ہیں کہ وہ ایسی پابندیاں عائد کریں جن سے روس کا مرکزی بینک اپنے بین الاقوامی ذخائر کو ان طریقوں سےاستعمال نہ کر سکے جو ہماری پابندیوں کے اثرات کو کمزور کرے۔